خان صاحب کو اقتدار کا ہوکا اور ہوس اس قدر تھی کہ انہوں نے یہ بھی نہ سوچا کہ یہ اقتدار جو انہیں پلیٹ میں رکھ کر پیش کیا جارہا ہے پاپولر ووٹ کے ذریعے نہیں ہے بلکہ انہیں سیلیکٹ کیا جارہا ہے۔ ان کے گرد لوٹوں کی بساط سجائی جارہی ہے۔ حکومت چلانے کے لیے انہیں اپنے پسندیدہ لوٹوں کی کابینہ بنائی جارہی...