سنجیدہ جواب: بات شدت کی نہیں ہوتی آپا، بات دراصل یہ ہے کہ جب پردیسی بے چارے پردیس میں وقت گزار رہے ہوتے ہیں تو بس وقت گزر رہا ہوتا ہے اور جب وطن واپسی کا ایک مرتبہ ارادہ کر لیتے ہیں پھر دن گزارنا بہت مشکل ہو جاتے ہیں۔ اور اس میں کوئی اڑچن آ جائے تو انتہا درجے کی کوفت ہوتی ہے۔
اس مرتبہ آپ نے مضمون کا نام بھی اچھا چُنا ہے 🙂
باقی تجسس بھری باتیں آپ کو عاطف بھائی ہی بتائیں تو بتائیں مگر اس کا میں آپ کو بتا دیتا ہوں۔
دراصل عاطف بھائی نے باس سے چھٹی کی درخواست کر رکھی تھی اور باس نے تیرہویں دن جواب دینے کے لیے کہا ہوا تھا اور جب تیرہویں دن بھی باس نے جواب نہ دیا تو ایک...
مجھے سموسے کبھی بھی اچھے نہیں لگے۔ لوگوں کو کتنے شوق سے کھاتا دیکھتا ہوں لیکن مجھے کبھی رغبت نہ ہوئی۔اور پکوڑوں کے بھی تلنے کی خوشبو صرف اچھی لگتی ہے۔ 😉
اور تلی جانی چیزوں میں صرف مچھلی اچھی لگتی ہے 😊