نتائج تلاش

  1. جاسم محمد

    اکیسویں صدی کی ایسٹ انڈیا کمپنی

    عام آدمی کی زندگی پر سب سے بڑا اثر مہنگائی کا ہوتا ہے۔ اور ناقابل برداشت مہنگائی تب ہوتی ہے جب ملکی معیشت غیر پائیدار بنیادوں پر قائم ہو۔ ذیل میں آپ دو معیشتوں بنگلہ دیش و پاکستان کا موازنہ دیکھ سکتے ہیں۔ یہ ثابت کر رہا ہے کہ جب بنگلہ دیش کی معیشت بڑھتی ہے تو اس کے زرمبادلہ کے ذخائر میں مسلسل...
  2. جاسم محمد

    پاکستان کا بھارت سے چینی اور کپاس درآمد کرنے کا فیصلہ

    پاکستان کا بھارت سے چینی اور کپاس درآمد کرنے کا فیصلہ نمائندہ ایکسپریس بدھ 31 مارچ 2021 بھارت سے پانچ لاکھ میٹرک ٹن چینی درآمد کی جا سکے گی اسلام آباد: اقتصادی رابطہ کمیٹی نے بھارت سے چینی اور کاٹن درآمد کرنے کی اجازت دے دی۔ وزیر خزانہ حماد اظہر کی زیر صدارت ای سی سی کا اہم اجلاس ہوا جس...
  3. جاسم محمد

    اکیسویں صدی کی ایسٹ انڈیا کمپنی

    ماہرین معیشت کے مطابق ۱۵۰ تک جائے گا۔ پھر شاید کم نہ ہو یا اسٹیٹ بینک ہونے نہیں دے گا ۔
  4. جاسم محمد

    اکیسویں صدی کی ایسٹ انڈیا کمپنی

    آئی ایم ایف کی تمام پالیسیز عقل کل نہیں۔ سرکاری محصولات بڑھانے کیلئے جو بجلی و گیس کے بل بڑھائے جا رہے ہیں اس سے حکومت کی آمدن میں مزید کمی کا امکان ہے۔ کیونکہ جب عام استعمال کی چیزوں کی قیمتیں اتنا بڑھ جاتی ہیں کہ عوام اسے افورڈ نہیں کرسکتی۔ تو وہ بجائے بل بھرنے کے اس کا متبادل تلاش کرنا شروع...
  5. جاسم محمد

    اکیسویں صدی کی ایسٹ انڈیا کمپنی

    یہی بات سمجھانے کیلئے ۵ صفحے کالے ہو چکے ہیں لیکن پھر بھی پوری ڈھٹائی سے آئی ایم ایف کو ولن ثابت کیا جا رہا ہے۔ جبکہ اصل ولن وہ نااہل، کرپٹ حکمران ہیں جن کی معاشی و مالی پالیسیوں کی وجہ سے یہ ملک ۲۲ بار آئی ایم ایف کے پاس بھیک مانگنے گیا ہے۔ اب یہ حکومت اس حوالہ سے کچھ سخت اقدامات کر رہی ہے تو...
  6. جاسم محمد

    اکیسویں صدی کی ایسٹ انڈیا کمپنی

    قرضہ لینے کی ایک شرط یہ ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام کے دوران اسٹیٹ بینک کا گورنر ان کا اپنا ہوگا۔ اس میں اتنا پریشان ہونے والی کیا بات ہے؟ کاش اس وقت پریشان ہوتے جب پچھلی حکومت ملک کو ریکارڈ قرضوں اور خساروں میں ڈبو رہی تھی جس کی وجہ سے موجودہ حکومت کو پھر آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا۔
  7. جاسم محمد

    اکیسویں صدی کی ایسٹ انڈیا کمپنی

    معاشی ماہر بھی وہی لیا ہے جو ماضی کی حکومتوں کی غلط پالیسیوں میں ساتھ دیتا رہا ہے۔ اسٹیٹ بینک کا خود مختار ہونا کیوں ضروری ہے ذیل میں پڑھ لیں: In defence of SBP bill - Opinion - Business Recorder
  8. جاسم محمد

    اکیسویں صدی کی ایسٹ انڈیا کمپنی

    اسٹیٹ بینک آئی ایم ایف کے حوالہ کر دیا اپوزیشن کا الزام ہے۔ اسی اپوزیشن کا جو ماضی میں اسٹیٹ بینک کو بطور گھر کی لونڈی استعمال کرتی رہی ہے۔ اس کا حوالہ خود آپ نے اوپر محمد زبیر کی ویڈیو میں دیا ہے جو شریف فیملی کا ترجمان ہے۔
  9. جاسم محمد

    سیاسی چٹکلے اور لطائف

  10. جاسم محمد

    اکیسویں صدی کی ایسٹ انڈیا کمپنی

    یہ ایسے ہی ہے کہ آپ اپنے کسی دوست یار سے ۲۱ بار اپنی شرائط پر قرض لیں اور جب وہ ۲۲ ویں بار قرض آپکی شرائط پر دینے سے انکار کرے تو اسی دوست کو دشمن کا درجہ عطا کر دیں۔ آپ آئی ایم ایف کیساتھ اسوقت یہی کر رہے ہیں۔
  11. جاسم محمد

    اکیسویں صدی کی ایسٹ انڈیا کمپنی

    بات طرفداری کی نہیں اس فرسودہ سوچ کی ہے کہ جو ہمیں قرض دے رہا ہے اور دیے چلا جا رہا ہے۔ وہ ہماری شرائط پر قرض دے اور آئیندہ بھی دیتا چلا جائے۔ عالمی مالیاتی اداروں کیساتھ یہ مذاق آپ کچھ سال تو کر سکتے ہیں ہمیشہ کیلئے نہیں۔
  12. جاسم محمد

    اکیسویں صدی کی ایسٹ انڈیا کمپنی

    جس قسم کا نظام آپ چاہ رہے ہیں وہ ایران میں موجود ہے۔ وہاں ایک علما کونسل صدارت کے امیدواروں کا چناؤ کرتی ہے اور صرف وہی امیدوار الیکشن لڑ سکتے ہیں جنہیں علما کرام کلین چٹ دیں۔ اس کے باوجود ایران میں کرپشن عام ہے۔ اور ہر سطح پر ہے۔ Corruption in Iran - Wikipedia
  13. جاسم محمد

    اکیسویں صدی کی ایسٹ انڈیا کمپنی

    آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل نہیں کرنا تو ان سے ہر ۵ سال بعد بھیک نہ مانگیں۔ یہ کیا منطق ہے کہ قرضہ بھی لینا ہے اور جو قرض دے رہا ہے اس کی شرائط بھی نہیں ماننی۔ اس ڈھٹائی پر غور کریں۔
  14. جاسم محمد

    اکیسویں صدی کی ایسٹ انڈیا کمپنی

    اس آرٹیکل کے بارہ میں معزز جج فرما چکے ہیں کہ اگر اس کا اطلاق سب پر ہو تو اسمبلی خالی ہو جائے۔ پھر آپ فرشتے لا کر ملک چلا لیں۔
  15. جاسم محمد

    اکیسویں صدی کی ایسٹ انڈیا کمپنی

    Whataboutism :)
  16. جاسم محمد

    اکیسویں صدی کی ایسٹ انڈیا کمپنی

    جب تک آئی ایم ایف پروگرام ہے۔ پروگرام کے اختتام پر حکومت اپنی مرضی کا گورنر لگا سکتی ہے۔
  17. جاسم محمد

    اکیسویں صدی کی ایسٹ انڈیا کمپنی

    ظاہر ہے جس سے بار بار قرض لیں گے وہ مزید قرضہ دینے کیلیے شرائط سخت کرتا جائے گا کیونکہ اس نے یہ قرضہ بمع سود واپس وصول کرنا ہے۔ ایسے میں آئی ایم ایف کو ولن بنانے کی بجائے ان سیاست دانوں کو پکڑیں جن کی بدولت ملک کو ہر ۵ سال بعد آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑتا ہے۔ بجائے ان کو کوسنے کے جو آئی ایم ایف...
  18. جاسم محمد

    اکیسویں صدی کی ایسٹ انڈیا کمپنی

    یہ فلٹریشن بھٹو نے ۱۹۷۷ کے الیکشن میں کی تھی۔ بہت سے حلقوں سے اپوزیشن کا کوئی امیدوار کھڑا ہی نہیں ہونے دیا۔ اس کا نتیجہ آپ کو معلوم ہے۔
  19. جاسم محمد

    اکیسویں صدی کی ایسٹ انڈیا کمپنی

    ملک نے ۲۱ بار قریبا دیوالیہ ہونے کے بعد آئی ایم ایف سے بھیک مانگی۔ تباہ نہیں ہوا۔ ۲۲ ویں بار بھیک مانگنے کے بعد تباہ ہو گیا کیونکہ اب ڈکٹیشن لے رہا تھا۔ حد ہے جہالت کی۔
Top