ص۔ 94
کیا لکھتے ہیں۔ ‘‘ اسی کشمکش میں بڑھتے بڑھتے میں تو اپنی بگھی تک جا پہنچا۔ سائیس پٹ کھولے کھڑا ہی تھا کہ پائیدان پر پاؤں رکھ‘ غڑپ بھگی کے اندر ۔ سائیس نے کھت سے پٹ بھیڑ دیا اور گھوڑا تھا کہ آہٹ پاتے ہی چل نکلا۔ میں نے کوچبان سے لے کر کاغذ کے پرزے میں ایک روپیہ رکھ ‘ پڑیا بنا‘ اُردلیوں کو...