دروازہ کُھلا رکھا تھا، بَرسات سے پہلے
ہم، تُم سے شناسا تھے، ملاقات سے پہلے
یہ سوچ بھی اِک سلسلہ ء خواب نُما ہے
ہر بات پہنچ جاتی ہے، ہربات سے پہلے
یہ کیسا کرشمہ ہے کہ وہ سَر و سُخن بھی
اب ہاتھ بڑھاتاہے ، مِرے ہاتھ سے پہلے
یہ گُل ہے، وہ نغمہ، یہ صدف ہے، وہ ستارا
مژدہ یہ مِلا، وصل کی سوغات...
اُن کو پرچھائیں بھی سورج ہے ، گہن آئینہ
حیرتِ نور ہے، وہ ماہ شِکن آئینہ
نقش ایسا کہ ازل تا ابد، مہر فشاں
عکس ایسا کہ زمین تا بہ زمن، آئینہ
ہم ستم خوردہء ظلمت ہیں، سراپائے غبار
اے سحر تابِ کرم! اے ہمہ تن آئینہ!
ان کے گنبد کا کلس، پرورشِ طبع کرے
ان کا دَر ہے تو یہ خاکسترِ تن آئینہ
کیا عجب...
فیصل آباد سے ناعمہ بہنا اورعائشہ بہنا آپس میں بہنیں ہیں ۔ ان کے بڑے بھائی دوست (شاکر بھائی) بھی محفل کے ممبر ہیں۔
مہ جبین آپی کے فرزند محمد امین بھائی بھی رکن محفل ہیں
خرم بھائی اور بنت شبیر بہن بھائی ہیں
مزید شمشاد بھائی بتائیں گے