کہتے ہیں کہ عدم اعتماد کے معاملے میں عمران خان نے اپنی حکمتِ عملی سے سب لوگوں بشمول اداروں کو بے نقاب کر دیا ہے۔
لیکن مجھے تو یہ لگتا ہے کہ عمران خان اور اُن کے حواری بھی بہت سے لوگوں کی نظر میں اپنی ساکھ کھو بیٹھے ہیں۔
ان پیشہ ور بھکاریوں اور مافیاز کی روک تھام کے لئے صوبائی یا بلدیاتی سرکار کو ضروری اقدامات کرنا چاہیے۔
تاکہ معاشرے میں ہمہ وقت "جھوٹے تاسف" کے ماحول کے بجائے ایک خوشگوار فضا دیکھنے کو ملے۔
اور عوام کی خیراتی رقوم بھی اصل حقداروں تک پہنچ سکیں۔
باقی اس میں تو دو رائے نہیں ہیں کہ مستحق افراد...
ڈاکٹر صاحب اکثر (ہرمجیدون) آرماگیڈن کا ذکر کرتے رہتے تھے کہ ایک جنگ لڑی جائے گی مستقبل میں۔ اور وہ مسلمانوں اور غیر مسلموں بالخصوص یہودیوں کے بیچ لڑی جائے گی۔
شاید اسی قسم کی کوئی بات اُن کی طبع نازک پر ناگوار گزری ہوگی۔
حالانکہ ہالی ووڈ ان موضوعات پر فلمیں تک بنا چکا ہے۔
اچھی بات ہے۔
لیکن اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اس عمل سے پیشہ ورانہ گداگری کو بہت فروغ مل رہا ہے۔
جبکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے انتہائی ضرورت کے علاوہ ہاتھ پھیلانے کو سخت ناپسند کیا ہے۔