نتائج تلاش

  1. محمد عدنان اکبری نقیبی

    افتخار عارف آسمانوں پر نظر کر انجم و مہتاب دیکھ۔

    آسمانوں پر نظر کر انجم و مہتاب دیکھ صبح کی بنیاد رکھنی ہے تو پہلے خواب دیکھ ہم بھی سوچیں گے دعائے بے اثر کے باب میں اک نظر تو بھی تضاد منبر و محراب دیکھ دوش پر ترکش پڑا رہنے دے، پہلے دل سنبھال دل سنبھل جائے تو سوئے سینہٴ احباب دیکھ موجہٴ سرکش کناروں سے چھلک جائے تو پھر کیسی کیسی بستیاں آتی...
  2. محمد عدنان اکبری نقیبی

    سرکار ﷺناموس پر سودا نہیں ہو گا۔بنت اسلام

    یہ ممکن ہےمومن کا کبھی روزہ نہیں ہو گا کوئی پابند بھی مانا نمازوں کا نہیں ہو گا کوئی تو باوجود فرض، حج کرتا نہیں ہو گا مگر سرکارﷺ ِ ناموس پر سودا نہیں ہو گا یہ مانا ہم واقف ہیں بس نامِ شریعت سے ہمارے دل لبریز نہیں پیغام شریعت سے یقینا ہم بھی غافل ہیں احکامِ شریعت سے مگر سرکارﷺ ِ ناموس پر سودا...
  3. محمد عدنان اکبری نقیبی

    نہ اگرہو رہبر کامل ، سفر کامل نہیں ہوتا- حضرت مولانا سید صدیق احمد باندوی رحمۃُ اللہ علیہ

    نبی کی سنتوں پر جو کوئی عامل نہیں ہوتا وہ کچھ بھی کہہ رہا ہو اس سے کچھ حاصل نہیں ہوتا کرشمے کچھ دکھائے یا ولی اس کو کہے کوئی گروہ اولیاء میں وہ کبھی شامل نہیں ہوتا سفر ناقص ہی رہتا ہے کبھی منزل نہیں ملتی نہ گر ہو رہبر کامل ، سفر کامل نہیں ہوتا عمل پیہم ہو پھر اللہ کی مرضی بھی حاصل ہو تو ایسے...
  4. محمد عدنان اکبری نقیبی

    نبوت ختم ہے تجھ پر، رسالت ختم ہے تجھ پر-ضیاء رسول امینی

    نبوت ختم ہے تجھ پر، رسالت ختم ہے تجھ پر ترا دیں ارفع و اعلی، شریعت ختم ہے تجھ پر ہے تری مرتبہ دانی میں پوشیدہ خدادانی تو مظہر ہے خدا کا، نور وحدت ختم ہے تجھ پر ترے ہی دم سے بزم ِ انبیاء کی رونق و زینت تو صدرِ انجمن، شانِ صدارت ختم ہے تجھ پر تری خاطر ہوئے تخلیق یہ ارض و سماء سارے یہی وجہء ضرورت...
  5. محمد عدنان اکبری نقیبی

    ہم ایسے سوئے بھی کب تھے ہمیں جگا لاتے۔ابھیشیک شکلا

    ہم ایسے سوئے بھی کب تھے ہمیں جگا لاتے کچھ ایک خواب تو شب خون سے بچا لاتے زیاں تو دونوں طرح سے ہے اپنی مٹی کا ہم آب لاتے کہ اپنے لیے ہوا لاتے پتہ جو ہوتا کہ نکلے گا چاند جیسا کچھ ہم اپنے ساتھ ستاروں کو بھی اٹھا لاتے ہمیں یقین نہیں تھا خود اپنی رنگت پر ہم اس زمیں کی ہتھیلی پہ رنگ کیا...
  6. محمد عدنان اکبری نقیبی

    یوسفی ہوئے مر کے جو ہم رسوا۔

    اب تو معمول سا بن گیا ہے کہ کہیں تعزیت یا تجہیزوتکفین میں شریک ہونا پڑے تو مرزا کوضرورساتھ لیتا ہوں۔ ایسے موقعوں پرہرشخص اظہارِہمدردی کے طور پر کچھ نہ کچھ ضرور کہتا ہے۔ قطۂ تاریخِ وفات ہی سہی۔ مگر مجھے نہ جانے کیوں چُپ لگ جاتی ہے، جس سے بعض اوقات نہ صِرف پس ماندگان کوبلکہ خُود مجھے بھی بڑا دکھ...
  7. محمد عدنان اکبری نقیبی

    سرخ سحر سے ہے تو بس اتنا سا گلہ ہم لوگوں کا۔ابھیشیک شکلا

    سرخ سحر سے ہے تو بس اتنا سا گلہ ہم لوگوں کا ہجر چراغوں میں پھر شب بھر خون جلا ہم لوگوں کا ہم وحشی تھے وحشت میں بھی گھر سے کبھی باہر نہ رہے جنگل جنگل پھر بھی کتنا نام ہوا ہم لوگوں کا اور تو کچھ نقصان ہوا ہو خواب میں یاد نہیں ہے مگر ایک ستارہ ضرب سحر سے ٹوٹ گیا ہم لوگوں کا یہ جو ہم تخلیق...
  8. محمد عدنان اکبری نقیبی

    ابھی تو آپ ہی حائل ہے راستہ شب کا۔ابھیشیک شکلا

    ابھی تو آپ ہی حائل ہے راستہ شب کا قریب آئے تو دیکھیں گے حوصلہ شب کا چلی تو آئی تھی کچھ دور ساتھ ساتھ مرے پھر اس کے بعد خدا جانے کیا ہوا شب کا مرے خیال کے وحشت کدے میں آتے ہی جنوں کی نوک سے پھوٹا ہے آبلہ شب کا سحر کی پہلی کرن نے اسے بکھیر دیا مجھے سمیٹ نے آیا تھا جب خدا شب کا زمیں پہ...
  9. محمد عدنان اکبری نقیبی

    چلتے ہوئے مجھ میں کہیں ٹھہرا ہوا تو ہے۔ابھیشیک شکلا

    چلتےہوئے مجھ میں کہیں ٹھہرا ہوا تو ہے رستہ نہیں منزل نہیں اچھا ہوا تو ہے تعبیر تک آتے ہی تجھے چھونا پڑے گا لگتا ہے کہ ہر خواب میں دیکھا ہوا تو ہے مجھ جسم کی مٹی پہ ترے نقش کف پا اور میں بھی بڑا خوش کہ ارے کیا ہوا تو ہے میں یوں ہی نہیں اپنی حفاظت میں لگا ہوں مجھ میں کہیں لگتا ہے کہ رکھا...
  10. محمد عدنان اکبری نقیبی

    اب اختیار میں موجیں نہ یہ روانی ہے۔ابھیشیک شکلا

    اب اختیار میں موجیں نہ یہ روانی ہے میں بہہ رہا ہوں کہ میرا وجود پانی ہے میں اور میری طرح تو بھی اک حقیقت ہے پھر اس کے بعد جو بچتا ہے وہ کہانی ہے ترے وجود میں کچھ ہے جو اس زمیں کا نہیں ترے خیال کی رنگت بھی آسمانی ہے ذرا بھی دخل نہیں اس میں ان ہواؤں کا ہمیں تو مصلحتااپنی خاک اڑانی ہے یہ...
  11. محمد عدنان اکبری نقیبی

    رموز مصلحت کو ذہن پر طاری نہیں کرتا۔عاصی کرنالی

    رموز مصلحت کو ذہن پر طاری نہیں کرتا ضمیر آدمیت سے میں غداری نہیں کرتا قلم شاخ صداقت ہے زباں برگ امانت ہے جو دل میں ہے وہ کہتا ہوں اداکاری نہیں کرتا میں آخر آدمی ہوں کوئی لغزش ہو ہی جاتی ہے مگر اک وصف ہے مجھ میں دل آزاری نہیں کرتا میں دامان نظر میں کس لیے سارا چمن بھر لوں مرا ذوق تماشا...
Top