قہر ہے موت ہے قضا ہے عشق
سچ تو يہ ہے بری بلا ہے عشق
اثر غم ذرا بتا دينا
وہ بہت پوچھتے ہيں کيا ہے عشق
آفت جاں ہے کوئی پردہ نشيں
مرے دل ميں آ چھپا ہے عشق
کس ملاحت سرشت کو چاہا
تلخ کلامی پہ با مزا ہے عشق
ہم کو ترجيح تم پہ ہے يعني
دل رہا حسن و جاں رہا عشق
ديکھ حالت مری کہيں کافر
نام دوزخ کا...