ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
عشق کی مے سے ہے لبریز مرا سارا وجود
بن پئے میرے رگ و پے میں بہکتی ہے غزل

اس شعر کے توسط سے ایک نئی ضمنی بحث کا آغاز کرنا چاہتا ہوں اور اس کی ابتدا کچھ سوالات سے کرتا ہوں۔
۔ سچا شعر کیا ہوتا ہے ؟
۔ سچا شعر کہنے کے لیےکسی احساس اور کیفیت کا ذاتی تجربہ ضروری ہونا ضروری ہے یا مروجہ شعری روایات کی تقلید سے کام چلایا جاسکتا ہے؟
- اگرچہ غالب کہہ گئے ہیں کہ بنتی نہیں ہے بادۂ و ساغر کہے بغیر لیکن کیا یہ بات ایک آفاقی کلیے کا درجہ رکھتی ہے؟
صابرہ امین کا محولہ بالا شعر ایک اچھا شعر ہے ۔ اس کا مضمون خالص غزل کا ہے اور اس میں مناسب روایتی تلازمات کے استعمال سے شاعرہ قاری تک ایک کیفیت کے موثر ابلاغ میں کامیاب ہوئی ہیں۔
سوال یہ اٹھایا گیا تھا کہ سچا شعر کیا ہوتا ہے؟ میری ناقص رائے میں تو سچے شعر کی اصطلاح ہی ٹھیک نہیں ۔ اس اصطلاح کے ماننے سے تو اس کی ضد یعنی "غیر سچے" یا جھوٹے شعر کا وجود بھی لازم آتا ہے۔ میری رائے میں شعر کو سچے یا جھوٹے کے زمروں میں بانٹنا نہ تو قاری کے لیے ہی مفید ہوگا اور نہ ہی شاعر کے لیے کسی قسم کی رہنمائی فراہم کرے گا۔ شعر یا تو ہوتا ہے یا نہیں ہوتا۔ اسی تصور یا concept کو شمس الرحمان فاروقی نے شعر اور غیر شعر کی اصطلاحات کے ذریعے واضح کیا ہے۔ شبلی نعمانی نے شعرالعجم میں شعر کی حقیقت اور ماہیئت پر مفصل بحث کی ہے۔ اس بحث کی تلخیص میں ذیل میں اپنے الفاظ میں واوین میں قیدکرتا ہوں:
"شاعری چونکہ وجدانی چیز ہے اس لئے اس کی جامع و مانع تعریف چند الفاظ ممکن نہیں۔ چنانچہ اسے مختلف مثالوں کے ذریعے سمجھانا مفید ہوگا۔ خدا نے انسان کو جو مختلف اعضا اور قوتیں بخشی ہیں ان میں دو قوتیں تمام افعال اور ارادوں کا سرچشمہ ہیں یعنی: ادراک اور احساس ۔
قوتِ ادراک کا کام اشیا کو معلوم کرنا اور استدلال و استنباط سے کام لینا ہے۔ چنانچہ ہر قسم کی ایجادات ، تحقیقات ، انکشافات اور تمام علوم و فنون اسی قوت ادراک کا نتیجہ ہیں۔ جبکہ احساس کا کام اشیا کا ادراک کرنا یا کسی مسئلہ کو حل کرنا یا کسی بات پر غور کرنا اور سوچنا نہیں ہے بلکہ اس کا کام صرف یہ ہے کہ جب کوئی مؤثر واقعہ پیش آتا ہے تو وہ متاثر ہو جاتا ہے ۔غم کی حالت میں صدمہ ہوتا ہے ، خوشی میں سرور ، حیرت انگیز بات پر تعجب اور اشتعال انگیز بات پر غصہ آتا ہے۔ یہی قوت جس کو احساس ، انفعال ، یا feeling سے تعبیر کر سکتے ہیں شاعری کا دوسرا نام ہے ۔ یعنی یہی احساس جب الفاظ کا جامہ پہن لیتا ہےتو شعر بن جاتا ہے۔
حیوانات پر جب کوئی جذبہ طاری ہوتا ہے تو اس کا اظہار مختلف قسم کی آوازوں یا حرکتوں کے ذریعہ سے ہوتا ہے مثلاً کوئل کا کوکنا ، طاؤس کا ناچنا وغیرہ۔ انسان کے جذبات بھی اگرچہ حرکات کے ذریعہ سے ادا ہوتے ہیں لیکن اسے ایک اور قوتِ اظہار بھی دی گئی ہے یعنی نطق اور گویائی۔ اس لئے جب اس پر کوئی قوی جذبہ طاری ہوتا ہے تو بے ساختہ اس کی زبان سے موزوں الفاظ نکلتے ہیں۔ اسی کا نام شعر ہے۔ اب منطقی پیرائے میں شعر کی تعریف یوں کی جاسکتی ہے کہ جو جذبات الفاظ کے ذریعہ سے ادا ہوں وہ شعر ہیں۔ اور چونکہ یہ الفاظ سامعین کے جذبات پر بھی اثر کرتے ہیں (یعنی سننے والے پر بھی وہی اثر طاری ہوتا ہے جو صاحبِ جذبہ کے دل پر طاری ہوا تھا) اس لئے شعر کی تعریف یوں بھی کی جاسکتی ہے کہ جو کلام انسانی جذبات کو برانگیختہ کرے اور ان کو تحریک میں لائے وہ شعر ہے۔ بہ الفاظِ دیگر شعر کا نمایاں وصف سامع کے جذبات کو برانگیختہ کرنا ہے یعنی اس کو سن کر دل میں رنج یا اداسی یا خوشی یا کیف و مستی یا جوش کا اثر پیدا ہوتا ہے۔
یوں تو دل پر اثر کرنے والی بہت سی چیزیں ہیں مثلاً موسیقی، مصوری ، مجسمہ سازی ، رقص وغیرہ لیکن شاعری کی اثر انگیزی سب سے زیادہ وسیع ہے۔ موسیقی سے محظوظ ہونے کے لیے سماعت اور مصوری سے متاثر ہونے کے لئے بینائی شرط ہے لیکن شاعری تمام حواس پر اثر ڈال سکتی ہے۔ شاعر کی مؤثر لفظی منظر کشی سے باصرہ ، ذائقہ ، شامہ ، لامسہ ، تمام حواس لطف اٹھا سکتے ہیں۔"

اس سے اگلا سوال یہ تھا کہ آیا شعر کہنے کے لیےکسی احساس اور کیفیت کا ذاتی تجربہ ضروری ہونا ضروری ہے یا اس کے بغیر بھی کام چلایا جاسکتا ہے؟

اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے ضروری ہے کہ دیکھا جائے کہ شعر گوئی کے پیچھے کون سے عوامل کارفرما ہیں اور ان کا آپس میں کیا تعلق اور تعامل ہے۔ شعر کے دو بنیادی عناصر تخیل اور محاکات ہیں۔ محاکات کا لفظ حکایت سے متعلق ہے ۔ محاکات کے معنی یہ ہیں کہ کسی چیز یا کسی حالت کو اس طرح بیان کرنا کہ اس شے کی تصویر آنکھوں میں پھر جائے۔ محاکات کے ذریعے مادی اشیا کے علاوہ اُن غیر مرئی چیزوں کی منظر کشی بھی کی جاسکتی ہے جو مصوری میں ممکن نہیں۔ مثلاً

ہمارے گھر کی دیواروں پہ ناصؔر
اداسی بال کھولے سو رہی ہے
۔ یا ۔
تم مرے پاس ہوتے ہو گویا
جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا
۔یا۔
سورج نے جاتے جاتے شامِ سیہ قبا کو
طشتِ افق سے لے کر لالے کے پھول مارے

ان اشعار میں جو لفظی تصویر کشی کی گئی ہے وہ مصور کے موئے قلم سے ممکن ہی نہیں۔

تخیل یا imagination دراصل قوتِ اختراع کا نام ہے۔ تمام علوم و فنون ، ایجادات اور اکتشافات کے پسِ پردہ یہی قوت کارفرما ہے۔ یہی تخیل شاعر کے ذہن میں شاعرانہ مضامین پیدا کرتا ہے۔ شاعر کے سامنے (قوتِ تخیل کی بدولت) تمام بے حس اشیا جاندار چیزیں بن جاتی ہیں۔ زمین ، آسمان، دریا ، چاند، ستارے، بلکہ اس کا تمام تر ماحول اس سے باتیں کرتا ہے۔ شاعر اپنے تخیل سے اپنا عالمِ خیال آباد کرتا ہے ۔ تخیل کے زور سے نئے دعوے کرتا ہے اور خیالی دلائل سے انہیں ثابت کرتا ہے۔ مثلاً وہ کسی تصویر کو دیکھ کر یہ کہتا ہے کہ یہ تصویر تصویر نہیں بلکہ ایک فریادی ہے۔

نقش فریادی ہے کس کی شوخیِ تحریر کا
کاغذی ہے پیرہن ہر پیکرِ تصویر کا

یا ہوا کے جھونکے سے یہ نتیجہ نکالتا ہے:

کچھ موجِ ہوا پیچاں اے میرؔ نظر آئی
شاید کہ بہار آئی ، زنجیر نظر آئی

یا گورستان اسے یوں نظر آتا ہے ۔

سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں
خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں ۔ ۔ ۔ ۔ (تخیل کی مزید مثالیں دیکھنا ہوں اور ان کا تجزیہ کرنا ہو تو غالب کی یہ غزل اپنے اندر ایک خزانہ لیے ہے)۔

کلامِ موزوں میں اگر محاکات اور تخیل دونوں میں سے کوئی ایک بھی عنصر پایا جائے تو وہ شعر کہلانے کا مستحق ہوگا۔ دیگر اوصاف یعنی فصاحت ، سلاست ، صفائی ، حسنِ بندش وغیرہ وغیرہ شعر کے اجزائے اصلی نہیں بلکہ معایب و محاسن میں سے ہیں ۔ یعنی شعر میں تخیل یا محاکات دونوں میں سے کسی ایک بنیادی عنصر کا ہونا ضروری ہے۔ اگر دونوں عناصر ہوں تو شعر اور بلند ہوجاتا ہے۔ اکثر کہا جاتا ہے کہ خیال اپنے الفاظ اپنے ساتھ لے کر آتا ہے۔ اسی بات کو کچھ علمائے فن نے اس طرح کہا ہے کہ تخیل اور محاکات ایک ہی سلسلے کی دوکڑیاں ہیں۔ یعنی اصل چیز تخیل ہے۔ تخیل اگر نہیں تو محاکات (یعنی لفظی تصویر کشی) ناممکن نہیں تو محال ضرور ہوجاتی ہے۔ ( محاکات میں کمال حاصل کرنے کے لیے کچھ رہنما اصول ہیں جن کا تفصیل بیان یہاں ممکن نہیں۔ شبلی نعمانی نے شعرالعجم جلد چہارم میں " شعر کی حقیقت اور ماہئیت" کے تحت ان کا مفصل احوال لکھا ہے۔ مختصراً یہ کہ خیال کی مناسبت سے مناسب بحر کا چناؤ ، مناسب پیرائے کا انتخاب اور ان الفاظ کا استعمال جو لفظی تصویر کشی میں ممد و معاون ہوں ضروری ہے )۔
جس طرح ایک اچھا اداکار کسی کردار کی حقیقی زندگی کا ذاتی تجربہ کیے بغیر محض اپنے مشاہدے کی بدولت اس کردار کو بخوبی ادا کرسکتا ہے اسی طرح اپنی قوتِ تخیل کی بدولت شاعر کسی کیفیت یا حالت سے بذاتِ خود گزرے بغیر محض مشاہدے یا مطالعے کی مدد سے اچھا اور مؤثر شعر تخلیق کرسکتا ہے۔ ریاضؔ خیرآبادی اصل زندگی میں نیک اور پرہیزگار آدمی تھے ۔ عمر بھر کبھی شراب کو ہاتھ نہیں لگایا لیکن خمریات کے بارے میں ایسی اچھی اور بہ کثرت شاعری لکھی ہے کہ شاعرِ خمریات کے لقب سے جانے جاتے ہیں۔ اس سے یہ نکتہ بھی واضح ہوتا ہے کہ شاعر اپنے ماحول اور معاشرے کی آنکھ ہوتا ہے ۔
 
آخری تدوین:

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
فارسی شاعری اور شعرا کے بارے میں شبلی نعمانی کی کتاب شعرالعجم پانچ جلدوں پر مشتمل ہے ۔ اگرچہ یہ بنیادی طور پر تاریخ اور تذکرے کے زمرے میں آتی ہے لیکن علامہ کے جابجا تنقیدی تبصروں اور تجزیوں کے باعث اسے تنقیدی ادب میں بھی شمار کیا جاسکتا ہے ۔ خصوصاً جلد اول اور جلد چہارم کی ابتدا میں علامہ نے شاعری کی تعریف اور اس کے اجزا پر سیر حاصل بحث کی ہے جو پڑھنے کے لائق ہے ۔ شعر کی حقیقت اور جامع تعریف کے بارے میں جلد اول کے شروع میں کی گئی بحث خصوصاً بہت سارے دروازے کھولتی ہے ۔ یہ کتاب آرکائیو ڈاٹ آرگ پر موجود ہے ۔ قارئین کو وہاں سے ۔"نیچے لادنے" میں مشکل ہو تو اس خادم کو اشارہ کیجیے گا میں اپنی گوگل ڈرائیو کا ربط پانچ پراٹھے فی جلد کے حساب سے مہیا کردوں گا ۔
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
ظہیر بھائی اسی سے متعلق نیرنگ خیال بھائی کی ایک پوسٹ نظر سے گذری اس کا اقتباس دیکھییے
نیرنگ خیال کے مراسلے میں مذکور اشعار بالترتیب غالب چودھری ، اقبال مستری اور فراز گڑگانوی کے ہیں ۔ :)
اکمل ، جو دو اشعار میں نے اوپر اپنے مراسلے میں لکھے تھے ان کے شاعر نامعلوم ہیں ۔ اس طرح کے اشعار سینہ بہ سینہ چلتے ہیں ۔ اصل شاعر کا نام شاید ہی کسی کو معلوم ہوتا ہو۔
 

گُلِ یاسمیں

لائبریرین
محمد عبدالرؤوف صاحب کھلی اپورچونیٹی ہے پیش کر دیں اپنا کوئی شاہکار ۔۔ آپریشن کے لیے ۔۔۔سرجن ظہیر صاحب کی معاونت کے لیے عرفان علوی اور وقار صاحب موجود ہیں بقیہ نشتر زنی کے فرائض محترمہ صابرہ صاحبہ انجام دینگی اضافی اسٹاف کے لیے ایک ایکسپرٹ کو بھی طلب کیا جاسکتا ہے ۔۔۔
اضافی اسٹاف۔۔۔۔۔ ارے واہ یہ کیا بات ہوئی۔
یعنی کہ بارھویں کھلاڑی کی طرح ہماری باری نہ آئے کچھ بولنے کی۔
 

گُلِ یاسمیں

لائبریرین
کوئی اللہ کا بندہ ہمیں یہ بتا دیں کہ یہ سنجیدہ قسم کی لڑی ہے یا لڑائی والی لڑی ہے ۔ کیوں کہ ہم تو کچھ دنوں سے غائب ہیں تو کہیں لینے کے دینے نہ پڑ جائیں۔
 

علی وقار

محفلین
کوئی اللہ کا بندہ ہمیں یہ بتا دیں کہ یہ سنجیدہ قسم کی لڑی ہے یا لڑائی والی لڑی ہے ۔ کیوں کہ ہم تو کچھ دنوں سے غائب ہیں تو کہیں لینے کے دینے نہ پڑ جائیں۔
ہم کچھ بولیں تو روفی بھائی ڈانٹ دیتے ہیں اور بجا طور پر کیونکہ یہ گپ شپ کی لڑی نہیں تاہم روفی بھائی کا جب جی چاہتا ہے گپ شپ بھی کر لیتے ہیں۔ :) ویسے میرا مشورہ ہے کہ روفی بھائی کو غزل پیش کرنے دیں، اس کے بعد ہم گن گن کر بدلے لیں گے چاہے اس کے لیے ہمیں پارٹ ٹائم نقاد ہی کیوں نہ بننا پڑے۔
 

گُلِ یاسمیں

لائبریرین
ہم کچھ بولیں تو روفی بھائی ڈانٹ دیتے ہیں اور بجا طور پر کیونکہ یہ گپ شپ کی لڑی نہیں تاہم روفی بھائی کا جب جی چاہتا ہے گپ شپ بھی کر لیتے ہیں۔ :) ویسے میرا مشورہ ہے کہ روفی بھائی کو غزل پیش کرنے دیں، اس کے بعد ہم گن گن کر بدلے لیں گے چاہے اس کے لیے ہمیں پارٹ ٹائم نقاد ہی کیوں نہ بننا پڑے۔
یہ ہوئی نا بات۔
بس آج سے آپ اور ہم ایک پرچم تلے آ گئے۔ گن گن کر روؤف بھائی سے بدلہ لیں گے۔ اور بار بار گنتی بھول کر پھر ایک سے شروع کر دیں گے۔
 

جاسمن

لائبریرین
سچا شعر کیا ہوتا ہے ؟
میں نے کافی غور کیا کہ سچا شعر بھلا کیا ہو گا؟ کیا سچا شعر اور اچھا/ خوبصورت/شاندار/زبردست شعر ایک ہی بات ہے یا دو مختلف اقسام ہیں؟
اچھا شعر تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ فلاں فلاں خصوصیات ہوں تو اچھا شعر ہو گا لیکن سچا شعر!!
یہ بات کافی مشکل سی لگ رہی ہے۔
سچا شعر کہنے کے لیےکسی احساس اور کیفیت کا ذاتی تجربہ ضروری ہونا ضروری ہے یا مروجہ شعری روایات کی تقلید سے کام چلایا جاسکتا ہے؟
میں سچے شعر کی تعریف کو سمجھنا چاہتی ہوں لیکن اچھے شعر کے لیے چند خصوصیات کا تذکرہ کرنا چاہوں گی جو میری "ناقص" رائے میں ایک اچھے شعر کو کہنے کے لیے ہو سکتی ہیں۔ تجربہ ایک ضروری عنصر تو ہے لیکن صابرہ سے اتفاق کرتے ہوئے کہ ہر چیز کا تجربہ ممکن ہی نہیں۔ تو پھر دوسری چیز ہے مطالعہ اور مشاہدہ۔ ہم نشہ خود نہیں کر سکتے لیکن نشہ کی کیفیت کا مشاہدہ کر سکتے ہیں۔ اور اسی طرح باقی سب چیزیں۔
لیکن یہ دونوں خصوصیات بھی ہوں تو بھی جب تک تخیل نہیں ہو گا تب تک ہم ان سے شاید فائدہ نہ اٹھا سکیں۔ تخیل بہت ہی لازمی خصوصیت ہے۔
اور اگر آپ کے پاس تجربہ و مشاہدہ کی دولت ہے، قوت -تخیل بھی ہے لیکن ذخیرہ الفاظ نہیں، لفظ برتنے کا فن نہیں تب بھی خوبصورت شعر وجود میں آنا مشکل ہے۔
فی الحال شرکا کی سوچ کو مہمیز دینے کے لیے کچھ سوالات پیش کیے ہیں ۔
جی بالکل مجھ جیسی بندی کی سوچ کو بھی مہمیز کر دیا ہے۔ :):):)
 

علی وقار

محفلین
سچا شعر بھلا کیا ہو گا؟
سچا شعر (شاعر کے لیے) وہی ہے جسے وہ خود سچا قرار دے، جو اس کے حقیقی جذبات و احساسات کا آئینہ دار ہو کیونکہ اسے یعنی شاعر کو اپنے دل کے حال کی حالت کا خوب اندازہ ہے۔ شاعر کی نظر میں جو شعر سچا ہے، وہ شاید ہماری نظر میں ایسا نہ ہو کہ ہمیں اسے اپنے تناظر میں سچا کہہ پائیں۔
 

جاسمن

لائبریرین
اور جو شعر اکثریت کے جذبات و احساسات کا ترجمان ہو۔۔۔؟
اسے سچا شعر کہنا زیادہ مناسب نہ ہو گا؟
جیسے بہت سے اشعار ضرب الامثال بن چکے اور ہم روزمرہ میں انھیں استعمال کرتے ہیں۔
 
آخری تدوین:

علی وقار

محفلین
اور جو شعر اکثریت کے احساسات کا ترجمان ہو۔۔۔؟
اسے سچا شعر کہنا زیادہ مناسب نہ ہو گا؟
جیسے بہت سے اشعار ضرب الامثال بن چکے اور ہم روزمرہ میں انھیں استعمال کرتے ہیں۔
میں تو اسے ظہیر بھائی کی طرح شعر ہی کہوں گا۔ حتمی سچائی کیا ہے؟ اس کی تعبیر اپنی اپنی اس لیے سچا شعر بھی اپنا اپنا۔ :)
 
صابرہ امین کا محولہ بالا شعر ایک اچھا شعر ہے ۔ اس کا مضمون خالص غزل کا ہے اور اس میں مناسب روایتی تلازمات کے استعمال سے شاعرہ قاری تک ایک کیفیت کے موثر ابلاغ میں کامیاب ہوئی ہیں۔
سوال یہ اٹھایا گیا تھا کہ سچا شعر کیا ہوتا ہے؟ میری ناقص رائے میں تو سچے شعر کی اصطلاح ہی ٹھیک نہیں ۔ اس اصطلاح کے ماننے سے تو اس کی ضد یعنی "غیر سچے" یا جھوٹے شعر کا وجود بھی لازم آتا ہے۔ میری رائے میں شعر کو سچے یا جھوٹے کے زمروں میں بانٹنا نہ تو قاری کے لیے ہی مفید ہوگا اور نہ ہی شاعر کے لیے کسی قسم کی رہنمائی فراہم کرے گا۔ شعر یا تو ہوتا ہے یا نہیں ہوتا۔ اسی تصور یا concept کو شمس الرحمان فاروقی نے شعر اور غیر شعر کی اصطلاحات کے ذریعے واضح کیا ہے۔ شبلی نعمانی نے شعرالعجم میں شعر کی حقیقت اور ماہیئت پر مفصل بحث کی ہے۔ اس بحث کی تلخیص میں ذیل میں اپنے الفاظ میں واوین میں قیدکرتا ہوں:
"شاعری چونکہ وجدانی چیز ہے اس لئے اس کی جامع و مانع تعریف چند الفاظ ممکن نہیں۔ چنانچہ اسے مختلف مثالوں کے ذریعے سمجھانا مفید ہوگا۔ خدا نے انسان کو جو مختلف اعضا اور قوتیں بخشی ہیں ان میں دو قوتیں تمام افعال اور ارادوں کا سرچشمہ ہیں یعنی: ادراک اور احساس ۔
قوتِ ادراک کا کام اشیا کو معلوم کرنا اور استدلال و استنباط سے کام لینا ہے۔ چنانچہ ہر قسم کی ایجادات ، تحقیقات ، انکشافات اور تمام علوم و فنون اسی قوت ادراک کا نتیجہ ہیں۔ جبکہ احساس کا کام اشیا کا ادراک کرنا یا کسی مسئلہ کو حل کرنا یا کسی بات پر غور کرنا اور سوچنا نہیں ہے بلکہ اس کا کام صرف یہ ہے کہ جب کوئی مؤثر واقعہ پیش آتا ہے تو وہ متاثر ہو جاتا ہے ۔غم کی حالت میں صدمہ ہوتا ہے ، خوشی میں سرور ، حیرت انگیز بات پر تعجب اور اشتعال انگیز بات پر غصہ آتا ہے۔ یہی قوت جس کو احساس ، انفعال ، یا feeling سے تعبیر کر سکتے ہیں شاعری کا دوسرا نام ہے ۔ یعنی یہی احساس جب الفاظ کا جامہ پہن لیتا ہےتو شعر بن جاتا ہے۔
حیوانات پر جب کوئی جذبہ طاری ہوتا ہے تو اس کا اظہار مختلف قسم کی آوازوں یا حرکتوں کے ذریعہ سے ہوتا ہے مثلاً کوئل کا کوکنا ، طاؤس کا ناچنا وغیرہ۔ انسان کے جذبات بھی اگرچہ حرکات کے ذریعہ سے ادا ہوتے ہیں لیکن اسے ایک اور قوتِ اظہار بھی دی گئی ہے یعنی نطق اور گویائی۔ اس لئے جب اس پر کوئی قوی جذبہ طاری ہوتا ہے تو بے ساختہ اس کی زبان سے موزوں الفاظ نکلتے ہیں۔ اسی کا نام شعر ہے۔ اب منطقی پیرائے میں شعر کی تعریف یوں کی جاسکتی ہے کہ جو جذبات الفاظ کے ذریعہ سے ادا ہوں وہ شعر ہیں۔ اور چونکہ یہ الفاظ سامعین کے جذبات پر بھی اثر کرتے ہیں (یعنی سننے والے پر بھی وہی اثر طاری ہوتا ہے جو صاحبِ جذبہ کے دل پر طاری ہوا تھا) اس لئے شعر کی تعریف یوں بھی کی جاسکتی ہے کہ جو کلام انسانی جذبات کو برانگیختہ کرے اور ان کو تحریک میں لائے وہ شعر ہے۔ بہ الفاظِ دیگر شعر کا نمایاں وصف سامع کے جذبات کو برانگیختہ کرنا ہے یعنی اس کو سن کر دل میں رنج یا اداسی یا خوشی یا کیف و مستی یا جوش کا اثر پیدا ہوتا ہے۔
یوں تو دل پر اثر کرنے والی بہت سی چیزیں ہیں مثلاً موسیقی، مصوری ، مجسمہ سازی ، رقص وغیرہ لیکن شاعری کی اثر انگیزی سب سے زیادہ وسیع ہے۔ موسیقی سے محظوظ ہونے کے لیے سماعت اور مصوری سے متاثر ہونے کے لئے بینائی شرط ہے لیکن شاعری تمام حواس پر اثر ڈال سکتی ہے۔ شاعر کی مؤثر لفظی منظر کشی سے باصرہ ، ذائقہ ، شامہ ، لامسہ ، تمام حواس لطف اٹھا سکتے ہیں۔"

اس سے اگلا سوال یہ تھا کہ آیا شعر کہنے کے لیےکسی احساس اور کیفیت کا ذاتی تجربہ ضروری ہونا ضروری ہے یا اس کے بغیر بھی کام چلایا جاسکتا ہے؟

اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے ضروری ہے کہ دیکھا جائے کہ شعر گوئی کے پیچھے کون سے عوامل کارفرما ہیں اور ان کا آپس میں کیا تعلق اور تعامل ہے۔ شعر کے دو بنیادی عناصر تخیل اور محاکات ہیں۔ محاکات کا لفظ حکایت سے متعلق ہے ۔ محاکات کے معنی یہ ہیں کہ کسی چیز یا کسی حالت کو اس طرح بیان کرنا کہ اس شے کی تصویر آنکھوں میں پھر جائے۔ محاکات کے ذریعے مادی اشیا کے علاوہ اُن غیر مرئی چیزوں کی منظر کشی بھی کی جاسکتی ہے جو مصوری میں ممکن نہیں۔ مثلاً

ہمارے گھر کی دیواروں پہ ناصؔر
اداسی بال کھولے سو رہی ہے
۔ یا ۔
تم مرے پاس ہوتے ہو گویا
جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا
۔یا۔
سورج نے جاتے جاتے شامِ سیہ قبا کو
طشتِ افق سے لے کر لالے کے پھول مارے

ان اشعار میں جو لفظی تصویر کشی کی گئی ہے وہ مصور کے موئے قلم سے ممکن ہی نہیں۔

تخیل یا imagination دراصل قوتِ اختراع کا نام ہے۔ تمام علوم و فنون ، ایجادات اور اکتشافات کے پسِ پردہ یہی قوت کارفرما ہے۔ یہی تخیل شاعر کے ذہن میں شاعرانہ مضامین پیدا کرتا ہے۔ شاعر کے سامنے (قوتِ تخیل کی بدولت) تمام بے حس اشیا جاندار چیزیں بن جاتی ہیں۔ زمین ، آسمان، دریا ، چاند، ستارے، بلکہ اس کا تمام تر ماحول اس سے باتیں کرتا ہے۔ شاعر اپنے تخیل سے اپنا عالمِ خیال آباد کرتا ہے ۔ تخیل کے زور سے نئے دعوے کرتا ہے اور خیالی دلائل سے انہیں ثابت کرتا ہے۔ مثلاً وہ کسی تصویر کو دیکھ کر یہ کہتا ہے کہ یہ تصویر تصویر نہیں بلکہ ایک فریادی ہے۔

نقش فریادی ہے کس کی شوخیِ تحریر کا
کاغذی ہے پیرہن ہر پیکرِ تصویر کا

یا ہوا کے جھونکے سے یہ نتیجہ نکالتا ہے:

کچھ موجِ ہوا پیچاں اے میرؔ نظر آئی
شاید کہ بہار آئی ، زنجیر نظر آئی

یا گورستان اسے یوں نظر آتا ہے ۔

سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں
خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں ۔ ۔ ۔ ۔ (تخیل کی مزید مثالیں دیکھنا ہوں اور ان کا تجزیہ کرنا ہو تو غالب کی یہ غزل اپنے اندر ایک خزانہ لیے ہے)۔

کلامِ موزوں میں اگر محاکات اور تخیل دونوں میں سے کوئی ایک بھی عنصر پایا جائے تو وہ شعر کہلانے کا مستحق ہوگا۔ دیگر اوصاف یعنی فصاحت ، سلاست ، صفائی ، حسنِ بندش وغیرہ وغیرہ شعر کے اجزائے اصلی نہیں بلکہ معایب و محاسن میں سے ہیں ۔ یعنی شعر میں تخیل یا محاکات دونوں میں سے کسی ایک بنیادی عنصر کا ہونا ضروری ہے۔ اگر دونوں عناصر ہوں تو شعر اور بلند ہوجاتا ہے۔ اکثر کہا جاتا ہے کہ خیال اپنے الفاظ اپنے ساتھ لے کر آتا ہے۔ اسی بات کو کچھ علمائے فن نے اس طرح کہا ہے کہ تخیل اور محاکات ایک ہی سلسلے کی دوکڑیاں ہیں۔ یعنی اصل چیز تخیل ہے۔ تخیل اگر نہیں تو محاکات (یعنی لفظی تصویر کشی) ناممکن نہیں تو محال ضرور ہوجاتی ہے۔ ( محاکات میں کمال حاصل کرنے کے لیے کچھ رہنما اصول ہیں جن کا تفصیل بیان یہاں ممکن نہیں۔ شبلی نعمانی نے شعرالعجم جلد چہارم میں " شعر کی حقیقت اور ماہئیت" کے تحت ان کا مفصل احوال لکھا ہے۔ مختصراً یہ کہ خیال کی مناسبت سے مناسب بحر کا چناؤ ، مناسب پیرائے کا انتخاب اور ان الفاظ کا استعمال جو لفظی تصویر کشی میں ممد و معاون ہوں ضروری ہے )۔
جس طرح ایک اچھا اداکار کسی کردار کی حقیقی زندگی کا ذاتی تجربہ کیے بغیر محض اپنے مشاہدے کی بدولت اس کردار کو بخوبی ادا کرسکتا ہے اسی طرح اپنی قوتِ تخیل کی بدولت شاعر کسی کیفیت یا حالت سے بذاتِ خود گزرے بغیر محض مشاہدے یا مطالعے کی مدد سے اچھا اور مؤثر شعر تخلیق کرسکتا ہے۔ ریاضؔ خیرآبادی اصل زندگی میں نیک اور پرہیزگار آدمی تھے ۔ عمر بھر کبھی شراب کو ہاتھ نہیں لگایا لیکن خمریات کے بارے میں ایسی اچھی اور بہ کثرت شاعری لکھی ہے کہ شاعرِ خمریات کے لقب سے جانے جاتے ہیں۔ اس سے یہ نکتہ بھی واضح ہوتا ہے کہ شاعر اپنے ماحول اور معاشرے کی آنکھ ہوتا ہے ۔
ظہیر بھائی ، نہایت اعلیٰ اور علم افزا تحریر ہے . آپ کی محنت پر داد نہ دینا بے حد نا انصافی ہوگی سو قبول فرمائیے . سال ۲۰۰۲ء میں چند احباب کی فرمائش پر میں نے ایک ناچیز مضمون تخیل اور تَغَزُّل پر تحریر کیا تھا . اس میں کوئی خاص بات نہیں تھی . بس چند اشعار کی مدد سے تخیل اور تَغَزُّل کی اہمیت پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی تھی . آپ کی تحریر دیکھ کر بے ساختہ اس مضمون کی یاد آ گئی .
 
یہ ہوئی نا بات۔
بس آج سے آپ اور ہم ایک پرچم تلے آ گئے۔ گن گن کر روؤف بھائی سے بدلہ لیں گے۔ اور بار بار گنتی بھول کر پھر ایک سے شروع کر دیں گے۔
اب اِس كے بعد بھی اگر روفی بھائی میدان میں آنے کی جسارت کریں تو بزم کی جانب سے اُنہیں ایک تمغہ پیش کیا جانا چاہیے . :)
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
تجربہ ایک ضروری عنصر تو ہے لیکن صابرہ سے اتفاق کرتے ہوئے کہ ہر چیز کا تجربہ ممکن ہی نہیں۔ تو پھر دوسری چیز ہے مطالعہ اور مشاہدہ۔ ہم نشہ خود نہیں کر سکتے لیکن نشہ کی کیفیت کا مشاہدہ کر سکتے ہیں۔ اور اسی طرح باقی سب چیزیں۔
لیکن یہ دونوں خصوصیات بھی ہوں تو بھی جب تک تخیل نہیں ہو گا تب تک ہم ان سے شاید فائدہ نہ اٹھا سکیں۔ تخیل بہت ہی لازمی خصوصیت ہے۔
اور اگر آپ کے پاس تجربہ و مشاہدہ کی دولت ہے، قوت -تخیل بھی ہے لیکن ذخیرہ الفاظ نہیں، لفظ برتنے کا فن نہیں تب بھی خوبصورت شعر وجود میں آنا مشکل ہے۔
متفق۔
محض تخیل کسی کام کا نہیں ہوتا۔ ااس تخیل کو کسی روپ میں ڈھالنے کا فن آنا ضروری ہے ۔ تخیل تو مصور ، مجسمہ ساز ، موسیقار وغیرہم کے پاس بھی ہوتا ہے لیکن جب تک انہیں اپنے فن میں مہارت نہ ہو وہ اس تخیل کو دوسروں تک نہیں پہنچاسکتے۔ شاعر کو قوتِ تخیل تو قدرت کی طرف سے فطری طور پر ودیعت ہوتی ہے لیکن شعر گوئی کا فن ( وزن ، تقطیع ، زبان کا استعمال وغیرہ) تو اسے کچھ نہ کچھ سیکھنا پڑتا ہے ۔ کچھ تربیت تو لینا پڑتی ہے ۔
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
سچا شعر (شاعر کے لیے) وہی ہے جسے وہ خود سچا قرار دے، جو اس کے حقیقی جذبات و احساسات کا آئینہ دار ہو کیونکہ اسے یعنی شاعر کو اپنے دل کے حال کی حالت کا خوب اندازہ ہے۔ شاعر کی نظر میں جو شعر سچا ہے، وہ شاید ہماری نظر میں ایسا نہ ہو کہ ہمیں اسے اپنے تناظر میں سچا کہہ پائیں۔

علی بھائی ، تنقیدی ادب میں شعر یا کلام کو قاری کے نقطۂ نظر سے دیکھا اور پرکھا جاتا ہے۔ نتیجتاً کلام کی درجہ بندی بھی اسی زاویے سے کی جاتی ہے اور اس درجہ بندی میں ابلاغ کا بنیادی دخل ہوتا ہے۔ سو قاری کو اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ شاعر اپنے کسی شعر کو سچا کہہ رہا ہے یا نہیں۔ شاعر اپنے شعر کے بارے میں جو چاہے دعویٰ کرسکتا ہے لیکن اس شعر کے مؤثر یا کامیاب ہونے کا دارومدار شاعر کے دعوے پر نہیں بلکہ قاری کے اپنے معروضی تجزیے پر منحصر ہوتا ہے۔ شاعر نے کیا کہا وہ اہم نہیں بلکہ قاری تک کیا پہنچتا ہے وہ اہم ہے یعنی ابلاغ۔
اس فرق کو یوں سمجھ لیجیے کہ ایک مصور آؤٹ ڈور میں جاکر براہِ راست ایک منظر کی تصویر اپنے کینوس پر بناتا ہے جبکہ دوسرا مصور اسی منظر کا ایک فوٹو دیکھ کر اس کی پینٹنگ اپنے اسٹوڈیو میں بیٹھ کر بناتا ہے۔ یعنی دونوں مصور ایک ہی تصویر بناتے ہوئے بظاہر دو مختلف "تجربات اور کیفیات" سے گزرے ہیں لیکن جب یہ دونوں تصاویر نگارخانے میں نمائش کے لیے لگائی جاتی ہیں تو دیکھنے والوں کو اس سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ کس مصور نے تصویر کیسے بنائی بلکہ وہ تو ان تصاویر کو ان کی خامیوں اور خوبیوں کی بنیاد پر پرکھتے ہیں۔ کون سی تصویر دیکھنے والے پر کیا تاثر چھوڑتی ہے اور کن احساسات کو جگاتی ہے یہ مصور کی مہارتِ فن پر منحصر ہے (اس کو بصری ابلاغ کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا)۔
سو اسی بنا پر میں سمجھتا ہوں کہ شعر کو سچا یا "غیر سچا" کے زمروں میں بانٹنا نہ تو قاری کے لیے فائدہ مند ہے اور نہ ہی اس تقسیم سے شاعر کو کوئی فیض پہنچتا ہے۔ میری ناقص رائے میں یہ اصطلاح کچھ غیر ادبی سی ہے اور نجانے کیوں ماضی میں کچھ حلقوں میں اس پر بہت بحث و مباحثہ رہا اور اسے غیر ضروری اہمیت دی گئی۔ میری رائے میں اس کے بدلے شعر کومؤثر یا غیر مؤثر ، کامیاب یا ناکامیاب ، معمولی یا غیر معمولی وغیرہ کہنا زیادہ مناسب ہے۔
عام طور پر تو یہ بات درست ہے کہ جو کلام شاعر کے حقیقی جذبات و احساسات کا آئینہ دار ہو وہ اکثر پُر اثر اور کامیاب ہوتا ہے لیکن اس کے برخلاف یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی شعر شاعر کے حقیقی جذبات و احساسات کا آئینہ دار نہ ہو لیکن اس کا مضمون اس مہارت سے ادا کیا گیا ہو کہ قاری کو جھنجھوڑ کر رکھ دے۔ بحیثیت ایک شاعر میں اس صورتحال سے بارہا گزرا ہوں۔
 

سید عاطف علی

لائبریرین

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
ظہیر بھائی ، نہایت اعلیٰ اور علم افزا تحریر ہے . آپ کی محنت پر داد نہ دینا بے حد نا انصافی ہوگی سو قبول فرمائیے . سال ۲۰۰۲ء میں چند احباب کی فرمائش پر میں نے ایک ناچیز مضمون تخیل اور تَغَزُّل پر تحریر کیا تھا . اس میں کوئی خاص بات نہیں تھی . بس چند اشعار کی مدد سے تخیل اور تَغَزُّل کی اہمیت پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی تھی . آپ کی تحریر دیکھ کر بے ساختہ اس مضمون کی یاد آ گئی .
عرفان بھائی ، اگر مناسب سمجھیں تو تنقید کے زمرے میں یا پھر اسی لڑی میں کسی مناسب مقام پر وہ مضمون عطا کیجیے گا ۔ اس طرح کے مفید سلسلے چلتے رہنا چاہئیں ۔
 
Top