غزل ۔ جاگے گی ایک دن مری تقدیر دیکھنا

سید عاطف علی

لائبریرین
کچھ اشعار پیش ہیں چند ایک روز سے زیر غور تھے ۔

غزل

جاگے گی ایک دن مری تقدیر دیکھنا
کام آئے گی تمہاری نہ تدبیر دیکھنا

پہلے تم اس کے دام کی تزویر دیکھنا
پھر کس سے کون ہوتا ہے تسخیر دیکھنا

اک دن مقابلے پہ صف آرا ملوں گا میں
ٹوٹے گی میرے پاؤں کی زنجیر دیکھنا

میرا حریف بن کے مرے سامنے ہے وہ
اب چُھوٹے کس کے ہاتھ سے شمشیر دیکھنا

مزدور جس کے قصر کی بنیاد میں ہوں دفن
چھن جاتی ہے پھر اس کی بھی جاگیر دیکھنا

دارو رسن سدا ہیں انالحق کے ساتھ ساتھ
کیا جرم ، کیا ہے اس کی یہ تعزیر دیکھنا

یوں نام وہ نہ لے گا مرا اپنی بزم میں
اس کی لکھی ہوئی کوئی تحریر دیکھنا

گر اس کی داستاں میں تمہیں کچھ کمی لگے
پھر تم بیاض میں رکھی تصویر دیکھنا

عاطف کا ایک شعر سنانا اسے ذرا
وہ جو کرے کلام کی تفسیر ، دیکھنا


-------------------------
سید عاطف علی
12 نومبر-2022
 
آخری تدوین:

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
واہ واہ! بہت خوب، عاطف بھائی! خوبصورت غزل ہے !

میرا حریف بن کے مرے سامنے ہے وہ
چُھوٹے گی کس کے ہاتھ سے شمشیر دیکھنا

واہ! کیا بات ہے ، کیا انداز ہے !
 

سیما علی

لائبریرین
یوں نام وہ نہ لے گا مرا اپنی بزم میں
اس کی لکھی ہوئی کوئی تحریر دیکھنا

گر اس کی داستاں میں تمہیں کچھ کمی لگے
پھر تم بیاض میں رکھی تصویر دیکھنا
بہت اعلیٰ
ایک ایک شعر لاجواب ۔
کیا کہنے ؀
پھر تم بیاض میں رکھی تصویر دیکھنا
 
کچھ اشعار پیش ہیں چند ایک روز سے زیر غور تھے ۔

غزل

جاگے گی ایک دن مری تقدیر دیکھنا
کام آئے گی تمہاری نہ تدبیر دیکھنا

پہلے تم اس کے دام کی تزویر دیکھنا
پھر کس سے کون ہوتا ہے تسخیر دیکھنا

اک دن مقابلے پہ صف آرا ملوں گا میں
ٹوٹے گی میرے پاؤں کی زنجیر دیکھنا

میرا حریف بن کے مرے سامنے ہے وہ
اب چُھوٹے کس کے ہاتھ سے شمشیر دیکھنا

مزدور جس کے قصر کی بنیاد میں ہوں دفن
چھن جاتی ہے پھر اس کی بھی جاگیر دیکھنا

دارو رسن سدا ہیں انالحق کے ساتھ ساتھ
کیا جرم ، کیا ہے اس کی یہ تعزیر دیکھنا

یوں نام وہ نہ لے گا مرا اپنی بزم میں
اس کی لکھی ہوئی کوئی تحریر دیکھنا

گر اس کی داستاں میں تمہیں کچھ کمی لگے
پھر تم بیاض میں رکھی تصویر دیکھنا

عاطف کا ایک شعر سنانا اسے ذرا
وہ جو کرے کلام کی تفسیر ، دیکھنا


-------------------------
سید عاطف علی
12 نومبر-2022
بہت خوب ، عاطف صاحب ! عمدہ غزل ہے .
 

سید عاطف علی

لائبریرین
واہ واہ! بہت خوب، عاطف بھائی! خوبصورت غزل ہے !

میرا حریف بن کے مرے سامنے ہے وہ
چُھوٹے گی کس کے ہاتھ سے شمشیر دیکھنا

واہ! کیا بات ہے ، کیا انداز ہے !
بہت بہت شکریہ و آداب ۔ ظہیر بھائی آپ کی پذیرائی مجھے خصوصاََ دلشاد کرتی ہے ۔ سلامت رہیے ۔
 

محمداحمد

لائبریرین
بہت خوب عاطف بھائی!

اچھے اشعار ہیں۔ ڈھیروں داد قبول کیجے۔

آپ کے دیگر کلام سے کچھ مختلف ہے یہ غزل۔

اک دن مقابلے پہ صف آرا ملوں گا میں
ٹوٹے گی میرے پاؤں کی زنجیر دیکھنا

گر اس کی داستاں میں تمہیں کچھ کمی لگے
پھر تم بیاض میں رکھی تصویر دیکھنا
بہت خوب!!!
 

ایس ایس ساگر

لائبریرین
جاگے گی ایک دن مری تقدیر دیکھنا
کام آئے گی تمہاری نہ تدبیر دیکھنا

پہلے تم اس کے دام کی تزویر دیکھنا
پھر کس سے کون ہوتا ہے تسخیر دیکھنا

اک دن مقابلے پہ صف آرا ملوں گا میں
ٹوٹے گی میرے پاؤں کی زنجیر دیکھنا

میرا حریف بن کے مرے سامنے ہے وہ
اب چُھوٹے کس کے ہاتھ سے شمشیر دیکھنا

مزدور جس کے قصر کی بنیاد میں ہوں دفن
چھن جاتی ہے پھر اس کی بھی جاگیر دیکھنا

دارو رسن سدا ہیں انالحق کے ساتھ ساتھ
کیا جرم ، کیا ہے اس کی یہ تعزیر دیکھنا

یوں نام وہ نہ لے گا مرا اپنی بزم میں
اس کی لکھی ہوئی کوئی تحریر دیکھنا

گر اس کی داستاں میں تمہیں کچھ کمی لگے
پھر تم بیاض میں رکھی تصویر دیکھنا

عاطف کا ایک شعر سنانا اسے ذرا
وہ جو کرے کلام کی تفسیر ، دیکھنا
واہ ! کیا بات ہے سید عاطف علی بھائی!
نہایت خوبصورت غزل ہے۔ ماشاءاللہ۔
اللہ آپ کو صحت و تندرستی والی لمبی عمر عطا فرمائے۔ آمین۔
 
Top