خلیل الرحمان قمرنے ٹی وی پر براہ راست ماروی سرمد کو گالی دیدی

کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

جاسم محمد

محفلین
دوسرے ہوتے ہیں ہمارے اپنے مسلمان بھائی اور بہن، جو فکری گمراہی کے باعث فیمنسٹ، لبرل، سوشلسٹ، کمیونسٹ بن جاتے ہیں۔
اب چونکہ اسلام میں کسی 'ازم' (موجودہ 'ہیومن ازم' کے فتنے سمیت) کی گنجائش نہیں، اس لیے فکری گمراہی کے شکار مسلم اپنے اپنے 'ازموں' کے مبلغ ہونے کی وجہ سے اپنے اپنے ازموں کے اعتبار سے اینٹی اسلام بن جاتے ہیں۔
اگر اسلام میں کسی "ازم" کی سرے سے گنجائش ہی موجود نہیں ہے تو یہ ملک پاکستان "Muslim nationalism" کے نام پر کیسے وجود میں آگیا؟ اس دلیل کی رو سے تو پاکستان کا وجود بھی اینٹی اسلام ہو گیا!
 

ایم اے

معطل
اگر آپ کو سوشلسٹ بھی گمراہ کن نظریات والا اور کفار کا دست و بازو لگ رہا ہے تو کیا کہا جا سکتا ہے کہ ایسے خیالات بھی آپ کے نزدیک "اسلام" ہیں۔۔۔ :rolleyes:
اگر سوشلزم آپ کے نزدیک عین اسلام ہے تو پھر کیوں نہ اسلام کی وکالت کرلی جائے نہ کہ کوئی الگ ازم لاکر اسلام کو پس پشت کردیا جائے؟
 

ایم اے

معطل
اگر اسلام میں کسی "ازم" کی سرے سے گنجائش ہی موجود نہیں ہے تو یہ ملک پاکستان "Muslim nationalism" کے نام پر کیسے وجود میں آگیا؟ اس دلیل کی رو سے تو پاکستان کا وجود بھی اینٹی اسلام ہو گیا!
کیا آپ مسلمان قومیت کی اصطلاح کو نہیں سمجھتے؟
 

محمد سعد

محفلین
جی بالکل، آپ مجھ پر نہ جائیں، علمِ دین حاصل کریں اور پھر سوشلزم اور اسلام کا موازنہ کریں۔
حضرت۔ آپ کو پتہ تو ہے نا کہ سوشلزم ہے کیا چیز؟

سوشلزم کی ڈکشنری ڈیفینیشن:
socialism
/ˈsəʊʃəlɪz(ə)m/
noun: socialism
a political and economic theory of social organization which advocates that the means of production, distribution, and exchange should be owned or regulated by the community as a whole.

سوشلزم پر ویکیپیڈیا کے آرٹیکل کا تعارفی پیراگراف:
Socialism is a political, social and economic philosophy encompassing a range of economic and social systems characterised by social ownership of the means of production and workers' self-management of enterprises. It includes the political theories and movements associated with such systems. Social ownership can be public, collective, cooperative or of equity. While no single definition encapsulates many types of socialism, social ownership is the one common element. It aims to circumvent the inefficiencies and crises traditionally associated with capital accumulation and the profit system in capitalism.

مذہب کے ساتھ کوئی اختلاف نظر آیا؟

اگر اتنی بنیادی نوعیت کی معلومات کے بغیر بھی آپ اتنی آزادی اور اعتماد کے ساتھ کسی نظریے کو کافرانہ قرار دے سکتے ہیں تو اسلام جیسے اہم معاملے میں آپ کی رائے لینا تو انتہائی درجے کی بے وقوفی ہو گا۔
 

عدنان عمر

محفلین
حضرت۔ آپ کو پتہ تو ہے نا کہ سوشلزم ہے کیا چیز؟

سوشلزم کی ڈکشنری ڈیفینیشن:
socialism
/ˈsəʊʃəlɪz(ə)m/
noun: socialism
a political and economic theory of social organization which advocates that the means of production, distribution, and exchange should be owned or regulated by the community as a whole.

سوشلزم پر ویکیپیڈیا کے آرٹیکل کا تعارفی پیراگراف:
Socialism is a political, social and economic philosophy encompassing a range of economic and social systems characterised by social ownership of the means of production and workers' self-management of enterprises. It includes the political theories and movements associated with such systems. Social ownership can be public, collective, cooperative or of equity. While no single definition encapsulates many types of socialism, social ownership is the one common element. It aims to circumvent the inefficiencies and crises traditionally associated with capital accumulation and the profit system in capitalism.

مذہب کے ساتھ کوئی اختلاف نظر آیا؟

اگر اتنی بنیادی نوعیت کی معلومات کے بغیر بھی آپ اتنی آزادی اور اعتماد کے ساتھ کسی نظریے کو کافرانہ قرار دے سکتے ہیں تو اسلام جیسے اہم معاملے میں آپ کی رائے لینا تو انتہائی درجے کی بے وقوفی ہو گا۔
جی اپنے معاشی اور سیاسی نظریات کی وجہ سے ہی سوشلزم غیر اسلامی ہے۔
 

La Alma

لائبریرین
صرف ٹیگ لائن بدل دینے سے چیزوں کی ماہیت یا حقیقت نہیں بدلا کرتی۔ زیادہ پرانی بات نہیں ہے۔ جب ڈی چوک پر 126 دنوں تک ہزاروں، لاکھوں کی تعداد میں یہی خواتین تبدیلی کا نعرہ بلند کرتی رہی تھیں تو تب کسی کو خاندانی نظام کی تباہی کی فکر کیوں نہیں ستائی؟ آخر اس وقت وہ کس کے خلاف سڑکوں پر نکل کر احتجاج کر رہی تھیں۔ حتی کہ ایک مذہبی پلیٹ فارم سے بھی خواتین کی ایک اکثریت گھر کی چار دیواری سے نکل کر بیچ بازار میں کئی روز تلک سراپا احتجاج بنی رہی تھی۔ ان عورتوں کی آزادی کا نعرہ آخر کس کے خلاف تھا، باپ کے خلاف، بھائی کے خلاف یا شوہر کے خلاف؟ کیا تب اسلام نے انہیں تمام جائز حقوق نہیں دے رکھے تھے؟
لیکن نہیں، چونکہ تب پاکستان مدینہ جیسی اسلامی ریاست بننے جا رہا تھا، اس لیے ملک کی نصف آبادی کو اس تبدیلی میں اپنا کردار ادا کرنے سے کیسے روکا جا سکتا تھا۔ بلکہ الٹا انہیں اس مارچ میں شامل ہونے کے لیے گھروں سے باہر نکلنے کی ترغیب دی جاتی رہی تھی۔ اس وقت میوزک کنسرٹس، ناچ گانے، مخلوط محفلیں، سب کچھ جائز تھا۔ اس دھرنے میں دوپٹے سے بے نیاز، مغربی طرز کے لباس میں ملبوس یہی ایلیٹ کلاس کی خواتین شامل تھیں جو کچھ روز قبل عورت مارچ میں بھی پیش پیش تھیں۔ لیکن تب کسی کو بھی ان پر مغربی ایجنٹ ہونے کا گمان نہیں ہوا۔ ان پر کسی قسم کا کوئی پتھراؤ نہیں ہوا۔ اس مشرقی خاندانی نظام کو ان سے کوئی خطرہ محسوس نہیں ہوا۔ چونکہ اس وقت سب ایک ہی سیاسی بینر تلے موجود تھے، لہذا کوئی بھی کافر نہیں تھا۔سبھی پکے مومن تھے۔ اگر اسلام کو لے کر کوئی اعتراض آیا بھی، تو صرف ان اکا دکا مخالف مذہبی و سیاسی جماعتوں کی طرف سے، جو اس سیاسی گٹھ جوڑ کے خلاف تھیں۔ کیونکہ ہمارے ہاں زیادہ تر کافر کافر کا کھیل تبھی کھیلا جاتا ہے جب اسلام کے نام کو اپنے کسی سیاسی ،گروہی یا فرقہ ورانہ مقاصد کے لیے کیش کرا نا ہوتا ہے۔
وگرنہ حقیقت یہی ہے کہ چند گھنٹوں کی اس عورت مارچ میں، ایک آدھ متنازع بینرز کے علاوہ ایسا کچھ بھی نہیں ہوا جو 126 دنوں کے دھرنے میں نہیں ہوتا آیا۔ بلا ضرورت چند ایک واقعات کو لے کر رائی کا پہاڑ بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ دیہی اور پسماندہ علاقوں میں خواتین کو درپیش مسائل آج بھی وہی ہیں جو کئی دہائیوں بلکہ صدیوں قبل تھے۔ یہ انتہائی سنجیدہ اور فوری حل طلب نوعیت کے حامل ہیں۔ خواتین کی اکثریت کی یہی سوچ ہے کہ ان کا ٹارگٹ خاندانی رشتے یا اسلام ہر گز نہیں بلکہ افراط و تفریط پر مبنی غیر مساویانہ طبقاتی نظام ہے۔اب ان کا حل، چاہے کسی سیاسی جماعت کے بینر کے نیچے ڈھونڈا جائے یا عورت مارچ کے بینر تلے۔۔۔کیا فرق پڑتا ہے۔
 

جاسم محمد

محفلین
مسلم نیشنلزم کیا واقعی کوئی 'ازم' ہے؟
ہے تو بتائیے۔
دو قومی نظریہ مسلم نیشنل ازم نہیں ہے تو اور کیا ہے؟

جنگ آزادی 1857ء کے دس سال بعد علی گڑھ مکتب فکر کے بانی سرسید احمد خان نے ہندی اردو جھگڑے کے باعث 1867ء میں جو نظریہ پیش کیا، اسے ہم دو قومی نظریے کے نام سے جانتے ہیں۔ اس نظریے کی آسان تشریح یوں کی جاسکتی ہے کہ اس کے مطابق نہ صرف ہندوستان کے متحدہ قومیت کے نظریے کو مسترد کیا گیا بلکہ ہندوستان ہی کے ہندوؤں اور مسلمانوں کو دو علاحدہ اورکامل قومیں قراردیا گیا۔ انڈین نیشنل ازم پر یقین رکھنے والوں کے لیے دو قومی نظریہ صور اسرافیل بن کر گونجا۔ ہماری شاہراہ آزادی پر دو قومی نظریہ وہ پہلا سنگ میل ہے جسےمشعل راہ بنا کر مسلمانان ہند بالآخر 1947ء میں اپنی منزل مقصد کو پانے میں سرخرو ہوئے۔
دو قومی نظریہ - آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا

حیرت انگیز طور پر مسلمانان ہند کی قوم پرست تحریک پاکستان اور اہل مغرب کے قوم پرست یہودیوں کی تحریک صہیونیت میں زیادہ فرق نہیں۔ دونوں تحاریک اپنے سے غیر مذب کے لوگوں کے ساتھ ایک ہی ملک میں رہنے کی بجائے اس کا بٹوارہ کرنا چاہتی تھیں۔

صیہونیت (عبرانی: צִיּוֹנוּת‎‎ تصیہونت عبرانی تلفظ: [t͡sijo̞ˈnut] از ) قومی تحریک ہے جو یہودی لوگوں کی دوبارہ یہودی وطن یعنی ملک اسرائیل (جو کنعان، ارض مقدس اور فلسطین پر مشتمل ہے)۔ قیام کی حمایت کرتی ہے جدید صیہونیت انیسویں صدی کے اخائر میں وسطی اور مشرقی یورپ میں ایک یہودی قومی احیاء کی تحریک کے طور پر ابھر کر سامنے آئی، جس نے سام دشمنی کے رد عمل اور اخراجی قوم پرست تحریکوں کے جواب میں جنم لیا۔ اس کے بعد جلد ہی، اس کے زیادہ تر رہنماؤں نے اس تحریک کا مقصد مطلوبہ ریاست فلسطین اور بعد میں سلطنت عثمانیہ کے زیر حکومت علاقوں میں قائم کرنے سے وابستہ کر لیا
صہیونیت - آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا
 

ایم اے

معطل
صرف ٹیگ لائن بدل دینے سے چیزوں کی ماہیت یا حقیقت نہیں بدلا کرتی۔ زیادہ پرانی بات نہیں ہے۔ جب ڈی چوک پر 126 دنوں تک ہزاروں، لاکھوں کی تعداد میں یہی خواتین تبدیلی کا نعرہ بلند کرتی رہی تھیں تو تب کسی کو خاندانی نظام کی تباہی کی فکر کیوں نہیں ستائی؟ آخر اس وقت وہ کس کے خلاف سڑکوں پر نکل کر احتجاج کر رہی تھیں۔ حتی کہ ایک مذہبی پلیٹ فارم سے بھی خواتین کی ایک اکثریت گھر کی چار دیواری سے نکل کر بیچ بازار میں کئی روز تلک سراپا احتجاج بنی رہی تھی۔ ان عورتوں کی آزادی کا نعرہ آخر کس کے خلاف تھا، باپ کے خلاف، بھائی کے خلاف یا شوہر کے خلاف؟ کیا تب اسلام نے انہیں تمام جائز حقوق نہیں دے رکھے تھے؟
لیکن نہیں، چونکہ تب پاکستان مدینہ جیسی اسلامی ریاست بننے جا رہا تھا، اس لیے ملک کی نصف آبادی کو اس تبدیلی میں اپنا کردار ادا کرنے سے کیسے روکا جا سکتا تھا۔ بلکہ الٹا انہیں اس مارچ میں شامل ہونے کے لیے گھروں سے باہر نکلنے کی ترغیب دی جاتی رہی تھی۔ اس وقت میوزک کنسرٹس، ناچ گانے، مخلوط محفلیں، سب کچھ جائز تھا۔ اس دھرنے میں دوپٹے سے بے نیاز، مغربی طرز کے لباس میں ملبوس یہی ایلیٹ کلاس کی خواتین شامل تھیں جو کچھ روز قبل عورت مارچ میں بھی پیش پیش تھیں۔ لیکن تب کسی کو بھی ان پر مغربی ایجنٹ ہونے کا گمان نہیں ہوا۔ ان پر کسی قسم کا کوئی پتھراؤ نہیں ہوا۔ اس مشرقی خاندانی نظام کو ان سے کوئی خطرہ محسوس نہیں ہوا۔ چونکہ اس وقت سب ایک ہی سیاسی بینر تلے موجود تھے، لہذا کوئی بھی کافر نہیں تھا۔سبھی پکے مومن تھے۔ اگر اسلام کو لے کر کوئی اعتراض آیا بھی، تو صرف ان اکا دکا مخالف مذہبی و سیاسی جماعتوں کی طرف سے، جو اس سیاسی گٹھ جوڑ کے خلاف تھیں۔ کیونکہ ہمارے ہاں زیادہ تر کافر کافر کا کھیل تبھی کھیلا جاتا ہے جب اسلام کے نام کو اپنے کسی سیاسی ،گروہی یا فرقہ ورانہ مقاصد کے لیے کیش کرا نا ہوتا ہے۔
وگرنہ حقیقت یہی ہے کہ چند گھنٹوں کی اس عورت مارچ میں، ایک آدھ متنازع بینرز کے علاوہ ایسا کچھ بھی نہیں ہوا جو 126 دنوں کے دھرنے میں نہیں ہوتا آیا۔ بلا ضرورت چند ایک واقعات کو لے کر رائی کا پہاڑ بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ دیہی اور پسماندہ علاقوں میں خواتین کو درپیش مسائل آج بھی وہی ہیں جو کئی دہائیوں بلکہ صدیوں قبل تھے۔ یہ انتہائی سنجیدہ اور فوری حل طلب نوعیت کے حامل ہیں۔ خواتین کی اکثریت کی یہی سوچ ہے کہ ان کا ٹارگٹ خاندانی رشتے یا اسلام ہر گز نہیں بلکہ افراط و تفریط پر مبنی غیر مساویانہ طبقاتی نظام ہے۔اب ان کا حل، چاہے کسی سیاسی جماعت کے بینر کے نیچے ڈھونڈا جائے یا عورت مارچ کے بینر تلے۔۔۔کیا فرق پڑتا ہے۔
تو آپ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ آج جو عورت مارچ نامی اجتماعات کی مخالفت کررہے ہیں انہوں نے پی ٹی آئی کے طوفانِ بدتمیزی کو جائز قرار دیا تھا؟
 

ایم اے

معطل
دو قومی نظریہ مسلم نیشنل ازم نہیں ہے تو اور کیا ہے؟

جنگ آزادی 1857ء کے دس سال بعد علی گڑھ مکتب فکر کے بانی سرسید احمد خان نے ہندی اردو جھگڑے کے باعث 1867ء میں جو نظریہ پیش کیا، اسے ہم دو قومی نظریے کے نام سے جانتے ہیں۔ اس نظریے کی آسان تشریح یوں کی جاسکتی ہے کہ اس کے مطابق نہ صرف ہندوستان کے متحدہ قومیت کے نظریے کو مسترد کیا گیا بلکہ ہندوستان ہی کے ہندوؤں اور مسلمانوں کو دو علاحدہ اورکامل قومیں قراردیا گیا۔ انڈین نیشنل ازم پر یقین رکھنے والوں کے لیے دو قومی نظریہ صور اسرافیل بن کر گونجا۔ ہماری شاہراہ آزادی پر دو قومی نظریہ وہ پہلا سنگ میل ہے جسےمشعل راہ بنا کر مسلمانان ہند بالآخر 1947ء میں اپنی منزل مقصد کو پانے میں سرخرو ہوئے۔
دو قومی نظریہ - آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا

حیرت انگیز طور پر مسلمانان ہند کی قوم پرست تحریک پاکستان اور اہل مغرب کے قوم پرست یہودیوں کی تحریک صہیونیت میں زیادہ فرق نہیں۔ دونوں تحاریک اپنے سے غیر مذب کے لوگوں کے ساتھ ایک ہی ملک میں رہنے کی بجائے اس کا بٹوارہ کرنا چاہتی تھیں۔

صیہونیت (عبرانی: צִיּוֹנוּת‎‎ تصیہونت عبرانی تلفظ: [t͡sijo̞ˈnut] از ) قومی تحریک ہے جو یہودی لوگوں کی دوبارہ یہودی وطن یعنی ملک اسرائیل (جو کنعان، ارض مقدس اور فلسطین پر مشتمل ہے)۔ قیام کی حمایت کرتی ہے جدید صیہونیت انیسویں صدی کے اخائر میں وسطی اور مشرقی یورپ میں ایک یہودی قومی احیاء کی تحریک کے طور پر ابھر کر سامنے آئی، جس نے سام دشمنی کے رد عمل اور اخراجی قوم پرست تحریکوں کے جواب میں جنم لیا۔ اس کے بعد جلد ہی، اس کے زیادہ تر رہنماؤں نے اس تحریک کا مقصد مطلوبہ ریاست فلسطین اور بعد میں سلطنت عثمانیہ کے زیر حکومت علاقوں میں قائم کرنے سے وابستہ کر لیا
صہیونیت - آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا
یعنی مسلم نیشنل ازم اگر اسلام ہے تو بھی صرف اس وجہ سے غلط ہے کہ اس میں ازم کیوں استعمال ہوا ہے؟
 

عدنان عمر

محفلین
مذہب کے ساتھ کوئی اختلاف نظر آیا؟

اگر اتنی بنیادی نوعیت کی معلومات کے بغیر بھی آپ اتنی آزادی اور اعتماد کے ساتھ کسی نظریے کو کافرانہ قرار دے سکتے ہیں تو اسلام جیسے اہم معاملے میں آپ کی رائے لینا تو انتہائی درجے کی بے وقوفی ہو گا۔
واقعی میری رائے لینا بے وقوفی ہوگی۔

سرمایہ دارانہ اور اشتراکی نظام کا اسلام سے موازنہ
اسلام اور جدید معاشی نظریات

ان کتب کا کھلے ذہن سے مطالعہ ان شاء اللہ مفید ہوگا۔
 

عدنان عمر

محفلین
اسے ہم دو قومی نظریے کے نام سے جانتے ہیں۔ اس نظریے کی آسان تشریح یوں کی جاسکتی ہے کہ اس کے مطابق نہ صرف ہندوستان کے متحدہ قومیت کے نظریے کو مسترد کیا گیا بلکہ ہندوستان ہی کے ہندوؤں اور مسلمانوں کو دو علاحدہ اورکامل قومیں قراردیا گیا۔
آپ بات 'ازم' کی کر رہے ہیں، مثال نظریے (تھیوری) کی دے رہے۔ براہِ مہربانی اپنا موقف صحیح دلیل کے ساتھ بیان کیجیے۔
 

La Alma

لائبریرین
تو آپ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ آج جو عورت مارچ نامی اجتماعات کی مخالفت کررہے ہیں انہوں نے پی ٹی آئی کے طوفانِ بدتمیزی کو جائز قرار دیا تھا؟
پی ٹی آئی ہو، نون لیگ ہو، یا اور کوئی بھی سیاسی یا مذہبی تنظیم ۔۔۔ بات ڈبل سٹینڈرڈ ، منافقت اور دوغلے پن کی ہے۔
 

جاسم محمد

محفلین
یعنی مسلم نیشنل ازم اگر اسلام ہے تو بھی صرف اس وجہ سے غلط ہے کہ اس میں ازم کیوں استعمال ہوا ہے؟
آپ بات 'ازم' کی کر رہے ہیں، مثال نظریے (تھیوری) کی دے رہے۔ براہِ مہربانی اپنا موقف صحیح دلیل کے ساتھ بیان کیجیے۔
ہر نظریہ کے ساتھ ازم لگتا ہے جیسے نیشنل ازم، کمیون ازم، سوشل ازم، فیمین ازم وغیرہ
نیز اگر مسلم نیشنل ازم دو قومی نظریہ حق ہے تو پھر ہندو نیشنل ازم آر ایس ایس اور یہودی نیشنل ازم صہیونیت باطل کیسے ہو سکتے ہیں؟
 

عدنان عمر

محفلین
ہر نظریہ کے ساتھ ازم لگتا ہے جیسے نیشنل ازم، کمیون ازم، سوشل ازم، فیمین ازم وغیرہ
نیز اگر مسلم نیشنل از نظریہ حق ہے تو پھر ہندو نیشنل ازم آر ایس ایس اور یہودی نیشنل ازم صہیونیت باطل کیسے ہو سکتے ہیں؟
آپ سمجھاتے کیوں نہیں کہ مسلم نیشنل ازم کیا ہے؟
 

La Alma

لائبریرین
آپ کے پہلے مراسلے میں ہمیں مذہبی تنظیموں کا ڈبل اسٹینڈر نظر نہیں آرہا ماسوائے آپ کے اعتراض کے۔
کیا منہاج القرآن ایک مذہبی جماعت نہیں ہے۔ اس کے بینر تلے عورتوں کا گھر سے نکل کر سژکوں پر احتجاج کرنا، اور ایک ایسی سیاسی جماعت کے ساتھ الحاق کرنا جہاں کھلے عام ناچ گانا یا دوسرے الفاظ میں بے حیائی ہوتی تھی، بالکل جائز تھا؟ ایسے کونسے حقوق تھے جو اسلام نے انُکو نہیں دے رکھے تھے۔
 
کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
Top