یاسر شاہ

محفلین
معلومات کے لئے شکریہ - سندھی میں بھی یوں ہی رائج ہے-مگر اس طرز میں مشکل یہ ہے کہ صرف اہل زبان یا زبان دان ہی سمجھ سکتا ہے کہ کہاں غنہ کرنا ہے کہاں نہیں -
 

حسان خان

لائبریرین
معلومات کے لئے شکریہ - سندھی میں بھی یوں ہی رائج ہے-مگر اس طرز میں مشکل یہ ہے کہ صرف اہل زبان یا زبان دان ہی سمجھ سکتا ہے کہ کہاں غنہ کرنا ہے کہاں نہیں -
جس کو فارسی شاعری کی بحروں اور آہنگ سے ذرا بھی آشنائی ہے، اُس کو یہ سمجھنے میں مشکل نہ ہو گی۔
سندھی میں نُونِ غُنّہ کی آواز ہے، لیکن رسم الخط میں اُس کے لیے کوئی جداگانہ علامت نہیں ہے۔ جبکہ فارسی میں نُونِ غُنّہ کی آواز ہی نہیں ہے۔
 

یاسر شاہ

محفلین
آہنگ کے لحاظ سے تو یہ اصول مستحسن نہیں لگتا -

دل پکارے ہی چلا جاتا ہے جاناں جاناں

احمد فراز کے مصرع میں جاناں جاناں تو پھر یوں تلفظ ہوگا :

دل پکارے ہی چلا جاتا ہے جانن جانن
 

حسان خان

لائبریرین
آہنگ کے لحاظ سے تو یہ اصول مستحسن نہیں لگتا -

دل پکارے ہی چلا جاتا ہے جاناں جاناں

احمد فراز کے مصرع میں جاناں جاناں تو پھر یوں تلفظ ہوگا :

دل پکارے ہی چلا جاتا ہے جانن جانن
فارسی شاعری موردِ گفتگو ہے، جناب۔ اردو شاعری پر اِس اُصول کو بہ کار لانے کی ضرورت نہیں ہے۔
 

یاسر شاہ

محفلین
فارسی شاعری موردِ گفتگو ہے، جناب۔ اردو شاعری پر اِس اُصول کو بہ کار لانے کی ضرورت نہیں ہے۔

مقصود یہ ہے کہ "جاناں " چونکہ فارسی لفظ ہے -اکٹھے دو بار آکر مذکورہ قاعدے سے ملفوظ ہوا تو یوں ہی سنائی دے گا :"جانن جانن " ----"جاناں جاناں " اور "جانن جانن "کے آہنگ میں بڑا فرق ہے -پہلی آواز کانوں کو خوش آتی ہے دوسری نہیں -
 

حسان خان

لائبریرین
مقصود یہ ہے کہ "جاناں " چونکہ فارسی لفظ ہے -اکٹھے دو بار آکر مذکورہ قاعدے سے ملفوظ ہوا تو یوں ہی سنائی دے گا :"جانن جانن " ----"جاناں جاناں " اور "جانن جانن "کے آہنگ میں بڑا فرق ہے -پہلی آواز کانوں کو خوش آتی ہے دوسری نہیں -
کیونکہ آپ کے کان اردو کے نُونِ غُنّہ سے اُنس و خُو گرفتگی رکھتے ہیں، اِس لیے نُونِ غُنّہ کے بغیر اِن الفاظ کا تصوُّر آپ کو مُشکل اور ناخوشایند لگ رہا ہے، لیکن ذہن میں رہنا چاہیے کہ فارسی، تُرکی اور پشتو وغیرہ میں «جانان» نُونِ غُنّہ کے بغیر ہی تلفُّظ کیا جائے گا۔
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
ای صبا نَکهَتی از خاکِ رهِ یار بِیار
بِبَر اندوهِ دل و مُژدهٔ دل‌دار بِیار

(حافظ شیرازی)
اے صبا! خاکِ راہِ یار سے ذرا سی خوشبو لے آؤ۔۔۔ غمِ دل لے جاؤ اور دِل دار کی خوش خبری لے آؤ۔
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
خلیفۂ عُثمانی سُلطان سلیم خان اوّل کی ایک بیت:
شهِ ممالکِ دردم بلا پناهِ من است
غمی که بی حد و پایان بُوَد سپاهِ من است

(سلطان سلیم خان اول)
میں ممالکِ درد کا شاہ ہوں، بلا میری پناہ ہے۔۔۔ جو غم بے حد و بے پایاں ہے، میری سِپاہ ہے۔
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
خلیفۂ عُثمانی سُلطان سلیم خان اوّل کی ایک بیت:
شبم ز رَوزن اگر ماهِ آسمان آید
جهَم ز جای تصوُّر کنم که ماهِ من است

(سلطان سلیم خان اول)
شب کے وقت میرے روشن دان [میں] سے اگر ماہِ آسمان آئے (یعنی اگر ماہِ آسمان نظر آئے) تو میں جگہ سے اُچھل پڑتا ہوں اور تصوُّر کرتا ہوں کہ میرا ماہ (یعنی میرا محبوب) ہے۔
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
می‌کند حافظ دُعایی بِشْنو آمینی بِگو
روزیِ ما باد لعلِ شکّرافشانِ شما

(حافظ شیرازی)
حافظ اِک دُعا کر رہا ہے، سُنو اور آمین کہو: آپ کا لعل جیسا لبِ شَکَر افشاں ہمارے نصیب میں آئے!
 

محمد وارث

لائبریرین
در رہِ ویرانِ دل، اقلیمِ دانش ساختن
در رہِ سیلِ قضا، بنیاد و بنیاں داشتن


پروین اعتصامی

ویران دل کی اُجاڑ راہوں میں، عقل و دانش و علم و ہنر کی سلطنت بنا لینا، اور تقدیر کے تُند و تیز سیلاب کے راستوں میں اساس و بنیاد رکھنا۔
 

حسان خان

لائبریرین
در رہِ ویرانِ دل، اقلیمِ دانش ساختن
در رہِ سیلِ قضا، بنیاد و بنیاں داشتن


پروین اعتصامی

ویران دل کی اُجاڑ راہوں میں، عقل و دانش و علم و ہنر کی سلطنت بنا لینا، اور تقدیر کے تُند و تیز سیلاب کے راستوں میں اساس و بنیاد رکھنا۔
جو دوستان فارسی زبان نہیں جانتے، اور اردو ترجمے کی مدد سے بیت کا مفہوم سمجھتے ہیں، اُن کی اطلاع کے لیے ایک چیز بتانا چاہتا ہوں: اردو میں مصدر (فعل کی جڑ + نا) مصدری معانی کے علاوہ امرِ مُستقبل و تأکیدی کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً، یہ دو جملے دیکھیے:
۱) یہ کام کرنا ہماری راحت کا باعث بنے گا۔
۲) تم یہ کام ضرور کرنا!
جُملۂ اوّل میں «کرنا» مصدری معنی میں استعمال ہوا ہے، جبکہ جُملۂ دوم میں کسی شخص کو امْر یا نصیحت کی جا رہی ہے کہ وہ آئندہ زمانے میں یہ کام کرے۔

لیکن، فارسی میں مصدر صرف جُملۂ اوّل کی طرح مصدری معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ لہٰذا «اقلیمِ دانش ساختن» کا اردو ترجمہ جو «عقل و دانش و علم و ہنر کی سلطنت بنا لینا» کیا گیا ہے، اُس سے یہ چیز ذہن میں نہیں آنی چاہیے کہ شاعرہ قاری کو ایسا کرنے کا حُکم یا نصیحت کر رہی ہے، بلکہ شاعرہ کسی غیر مُعیّن وقت میں اِس عمل کا ہونا بتا رہی ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
ایرانِ صغیر «کشمیر» کی سِتائش میں ایک بیت:
کشمیر می‌سِتانم از حق به جایِ جنّت
امّا نمی‌سِتانم جنّت به جایِ کشمیر

(طالب آمُلی)
میں حق تعالیٰ سے جنّت کی بجائے کشمیر لے لوں گا لیکن میں کشمیر کی بجائے جنّت نہ لوں گا!
 

حسان خان

لائبریرین
دیارِ ہند کی نکوہِش (مذمّت) اور دیارِ کشمیر کی سِتائش میں ایک بیت:
کرده‌ست هوایِ هند دل‌گیر مرا
ای بخت رسان به باغِ کشمیر مرا

(غنی کشمیری)
ہِند کی آب و ہوا نے مجھ کو دل گیر کر دیا ہے۔۔۔ اے بخت! مجھ کو باغِ کشمیر میں پہنچا دو۔
 

حسان خان

لائبریرین
چرا غنی صِلهٔ شعر از کسی گیرد
همین بس است که شعرش گرفته عالَم را

(غنی کشمیری)
'غنی' کسی شخص سے شاعری کا صِلہ کیوں لے؟۔۔۔ یہی کافی ہے کہ اُس کی شاعری نے عالَم کو تسخیر کر لیا ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
دیارِ ہند کی نکوہِش (مذمّت) اور دیارِ کشمیر کی سِتائش میں ایک بیت:
کرده‌ست هوایِ هند دل‌گیر مرا
ای بخت رسان به باغِ کشمیر مرا

(غنی کشمیری)
ہِند کی آب و ہوا نے مجھ کو دل گیر کر دیا ہے۔۔۔ اے بخت! مجھ کو باغِ کشمیر میں پہنچا دو۔
(رباعی)
کرده‌ست هوایِ هند دل‌گیر مرا
ای بخت رسان به باغِ کشمیر مرا
گشتم ز حرارتِ غریبی بی‌تاب
از صُبحِ وطن بِدِه تباشیر مرا

(غنی کشمیری)
ہِند کی آب و ہوا نے مجھ کو دل گیر کر دیا ہے۔۔۔ اے بخت! مجھ کو باغِ کشمیر میں پہنچا دو۔۔۔ میں غریب الوطنی کی حرارت سے بے تاب ہو گیا۔۔۔ مجھ کو صُبحِ وطن کی بشارتیں دو۔

× «تباشیر» کا ایک معنی «اوّلِ صُبح» یا «روشناییِ اوّلِ صُبح» بھی ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
خَلق سرگردان همه از قحطِ آب و دانه‌اند
هر کِرا دیدیم غیر از آسیا در گردش است

(غنی کشمیری)
قحطِ آب و دانہ کے باعث تمام مردُم سرگرداں ہیں۔۔۔ ہم نے چکّی کے سوا جس کو بھی دیکھا وہ گردش میں ہے۔
(یعنی چکّی کو گھومنا چاہیے، لیکن وہ اِس زمانۂ قحط میں گھوم نہیں رہی، جبکہ اُس کی بجائے دیگر تمام مردُم تلاشِ آب و دانہ میں یہاں وہاں گُھوم رہے ہیں۔ گُھومنے کا جو کام چکّی کا تھا، وہ اب انسان کر رہے ہیں۔)
 

حسان خان

لائبریرین
ایک روایت کے مُطابق ظفر خان احسن نے یہ مصرع کہہ کر غنی کشمیری کو بھیجا تھا:
"ای لاله دل بر ابرِ بهاران چه می‌نِهی"
(اے گُلِ لالہ! تم ابرِ بہاراں کے دل بستہ کیوں ہوتے ہو؟)
غنی کشمیری نے فی البدیہہ اُس پر ایک دیگر مصرعے کا اضافہ کر دیا:

"داغی که بر دل است ز شُستن ‌‌نمی‌رود"
(جو داغ دل پر ہے وہ دھونے سے نہیں جائے گا۔)
 

حسان خان

لائبریرین
حمدیہ بیت:
حمدِ بی‌حد را سزد ذاتی که بی‌همتاستی
واحد و یکتاستی هم خالقِ اشیاستی

(قاآنی شیرازی)
وہ ذات حمدِ بے حد کی سزاوار ہے کہ جو بے ہمتا ہے، واحد و یکتا ہے، اور خالقِ اشیا بھی ہے۔
 

محمد وارث

لائبریرین
گرامی خُم نشینی دیگر است و خُم کشی دیگر
تو اسرارِ خُم از من پُرس، افلاطوں چہ می داند

شیخ غلام قادر گرامی

گرامی، خُم نشینی (گوشہ نشینی) اور چیز ہے اور خُم کشی (مے پینا) اور چیز، تُو خُم کے اسرار و رموز مجھ سے پوچھ، افلاطون اس بارے میں کیا بھی جانتا ہے۔

خُم نشین۔ قدیم یونانی فلاسفر دیو جانس کلبی (Diogenes the Cynic) کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ ایک بڑے سے مٹکے (خُم) میں رہتا تھا۔ کلاسیکی فارسی شعرا (حافط وغیرہ) میں یہی بات (غلط طور پر) افلاطون (Plato) کے بارے میں بھی مشہور ہے۔ (بحوالہ لُغت نامہ دھخدا)۔ اس شعر میں اسی بات کا ذکر ہے۔
 
Top