حسان خان

لائبریرین
زلفِ جانان دید تا پیرِ خرد بی‌تاب گفت
گر سلاسِل این بوَد، دیوانه می‌باید شدن
(نواب نظام‌الدوله ناصر جنگ)

جیسے ہی پیرِ خرد نے زلفِ جاناں دیکھی تو بے تاب ہو کر کہا کہ اگر زنجیریں یہ ہوں تو دیوانہ ہو جانا لازم ہے۔

فکرِ کشتی کردمی گر ساحلی می‌داشتم
رهبری می‌خواستم گر منزلی می‌داشتم
(نواب نظام‌الدوله ناصر جنگ)

میں کشتی کی فکر کرتا اگر میں کوئی ساحل رکھتا؛ میں کسی رہبر کی خواہش کرتا اگر میں کوئی منزل رکھتا۔
 
آخری تدوین:

محمد وارث

لائبریرین
رُباعی از شیخ ابوسعید ابوالخیر

عصیانِ خلائق ارچہ صحرا صحراست
درپیشِ عنایتِ تو یک برگِ گیاست
ہرچند گناہِ ماست کشتی کشتی
غم نیست کہ رحمتِ تو دریا دریاست


بندوں کے گناہ اگرچہ صحرا صحرا (بکھرے ہوئے) ہیں لیکن (اے خدا) تیری نظرِ عنایت کے سامنے وہ ایسے ہی ہیں جیسے کہ گھاس کا ایک تنکا، ہرچند کہ ہمارے گناہ کشتی کشتی ہیں لیکن غم نہیں کہ تیری رحمت بھی دریا دریا ہے۔
 

سید عاطف علی

لائبریرین
عصیانِ خلائق ارچہ صحرا صحراست
درپیشِ عنایتِ تو یک برگِ گیاست
ہرچند گناہِ ماست کشتی کشتی

غم نیست کہ رحمتِ تو دریا دریاست
۔
عصیاں بنی آدم کےہیں گرچہ صحرا
ہیں تیری عنایت کے لیےاک تنکا
رہتے ہیں گنہ گار سوار کشتی
کیا غم کہ ترا رحم ہے مثل ِدریا
ترجمانی ۔ سید عاطف علی۔
شیخ ابوالخیر کوایک خراج تحسین ۔کیا ہی خوب رباعی کہی ہے ماشاءاللہ
 

یاز

محفلین
صائب تبریزی کے کابل شہر کے بارے میں مشہور قصیدے سے اقتباس۔ معافی چاہتا ہوں اگر یہ پہلے بھی شیئر ہو چکا ہو

نظرگاه تماشائی است در وی ہر گذرگاہی
ہمیشه کاروان مصر می آید به بازارش
حساب مه جبینان لب بامش که می داند؟
دو صد خورشید رو افتاده در ہر پائے دیوارش​

مشہور ناول نگار خالد حسینی نے دی کائٹ رنر کے بعد جو دوسرا ناول لکھا تھا اس کا نام تھا "اے تھاؤزنڈ سپلینڈڈ سنز"۔۔ اس کا پس منظر یہ ہے کہ درج بالا اشعار کا ترجمہ جوزفین ڈیوس نامی انگریز شاعرہ نے کیا تھا، جو کچھ یوں تھا۔
Every street of Kabul is enthralling to the eye
Through the bazaars, caravans of Egypt pass
One could not count the moons that shimmer on her roofs
And the thousand splendid suns that hide behind her walls
 

حسان خان

لائبریرین
صائب تبریزی کے کابل شہر کے بارے میں مشہور قصیدے سے اقتباس۔ معافی چاہتا ہوں اگر یہ پہلے بھی شیئر ہو چکا ہو

نظرگاه تماشائی است در وی ہر گذرگاہی
ہمیشه کاروان مصر می آید به بازارش
حساب مه جبینان لب بامش که می داند؟
دو صد خورشید رو افتاده در ہر پائے دیوارش​

مشہور ناول نگار خالد حسینی نے دی کائٹ رنر کے بعد جو دوسرا ناول لکھا تھا اس کا نام تھا "اے تھاؤزنڈ سپلینڈڈ سنز"۔۔ اس کا پس منظر یہ ہے کہ درج بالا اشعار کا ترجمہ جوزفین ڈیوس نامی انگریز شاعرہ نے کیا تھا، جو کچھ یوں تھا۔
Every street of Kabul is enthralling to the eye
Through the bazaars, caravans of Egypt pass
One could not count the moons that shimmer on her roofs
And the thousand splendid suns that hide behind her walls
اِس قصیدے کا اولین شعر:
خوشا عشرت‌سرایِ کابُل و دامانِ کهسارش
که ناخن بر دلِ گل می‌زند مژگانِ هر خارش
(صائب تبریزی)

عشرت سرائے کابُل اور اُس کے دامنِ کوہسار کی کیا ہی بات ہے کہ جس کے ہر خار کی مژگاں گُل کے دل پر ناخن مارتی ہیں۔
(یعنی کابُل کے خاروں پر دیگر جگہوں کے گُل رشک کرتے ہیں۔)
 
آخری تدوین:
Ту гулӯи чашма бастӣ, худи ту зи ман бипурсӣ,
Ки чаро хушид дарё? Ту напурсу ман нагӯям
[FONT=helvetica, arial, sans-serif](Лоиқ Шералӣ[/FONT])

برگردان بہ خطِ فارسی:

تو گُلوئے چشمہ بستی، خودی تو زِ من پُرسی
کہ چرا خوشید دریا؟ تو نپرسو من نَگویم

(لایق شیرعلی)

تو نے خود چشمے کا حلق بند کیا، تو خود مجھ سے پرسش کرتا ہے کہ دریا کیوں خشک ہوا؟ تو مت پوچھ، میں نہیں بولتا۔

 

حسان خان

لائبریرین
چنان که آب فشانند و گَرد برخیزد
چو غم نشست کدورت ز خاطرم برخاست
(ابوطالب کلیم کاشانی)

جس طرح آب چھڑکنے سے گَرد و غبار اٹھ جاتا ہے (اُسی طرح) جب غم بیٹھ گیا تو میرے ذہن سے کُدورت (کی گَرد) اٹھ گئی۔

به پیری آنچنان گردیده‌ام از ناتوانی‌ها
که نتوانم گشودن چشمِ حسرت بر جوانی‌ها
(واعظ قزوینی)

پیری میں ناتوانیوں سے میرا ایسا حال ہو گیا ہے کہ (اب) میں جوانیوں پر چشمِ حسرت (بھی) نہیں کھول پاتا۔
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
این آسمان گر نیستی سرگشته و عاشق چو ما
زین گردش او سیر آمدی گفتی بسستم چند چند
(مولانا جلال‌الدین رومی)

اگر یہ آسمان ہماری طرح سرگشتہ و عاشق نہ ہوتا تو اِس گردش سے تنگ آ جاتا اور کہتا کہ "میرے لیے (اِتنا) کافی ہے؛ (مزید) کب تک؟ کب تک؟"
 

محمد وارث

لائبریرین
دلِ شکستہ دراں کوئے می کُنند درست
چنانکہ خود نشناسی کہ از کجا بشکست


نظیری نیشاپوری

اُس (محبوب کے) کوچے میں پارہ پارہ اور ٹوٹے پھوٹے دل کو جوڑتے ہیں اور اِسطرح بکمال و تمام جوڑتے ہیں کہ تو خود بھی نہ پہچان پائے کہ کہاں کہاں سے ٹوٹا ہوا تھا۔
 

حسان خان

لائبریرین
با اینکه آفتاب بخارم کرد با اینکه رود بودم و خشکیدم
امّا هنوز قسمتی از روحم شب‌ها اسیرِ جاذبهٔ ماه است
(شیرین خسروی)

با وجود اِس کے کہ آفتاب نے مجھے بھاپ کر دیا۔۔۔ با وجود اِس کے کہ میں دریا تھی اور خشک ہو گئی۔۔۔ لیکن تا حال میری روح کا ایک حصہ راتوں کو چاند کی کشش کا اسیر ہے۔
 

سید عاطف علی

لائبریرین
در کعبہ اگر دل سوئے غیرست ترا
طاعت ہمہ فسق و کعبہ دیرست ترا
ور دل بہ خدا و ساکن میکده‌ای
می نوش کہ عاقبت بخیرست ترا

ابوسعید ابوالخیر
اگر کعبے میں بھی تیرا دل غیر پر متوجہ ہے
تو تیری عبادتیں تمام تر گناہ ہیں
اور اگر میکدے میں تیرا دل خدا کی طرف متوجہ ہے
تو پیتا رہ کہ تیری آخرت بخیر ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
دور از نگاهِ گرمِ تو بی‌تاب گشته‌ام
بر من نگاه کن که تب و تابم آرزوست
(فریدون مشیری)

تمہاری گرم نگاہ سے دور میں بے تاب ہو گیا ہوں۔۔۔ مجھ پر نگاہ کرو کہ مجھے تب و تاب کی آرزو ہے۔
(یہاں 'بے تاب' بے حرارت اور بے سوز کے معانی بھی دے رہا ہے۔)
 

محمد وارث

لائبریرین
بروزِ حشر فغانی ز بازپرس مترس
تو بیکسے و غریبے ترا کہ می پرسد


بابا فغانی شیرازی

اے فغانی، حشر کے دن بازپرس سے مت ڈر کیونکہ تو بیکس اور غریب ہے، تجھے یہاں کون پوچھتا ہے جو وہاں پوچھے گا۔
 

محمد وارث

لائبریرین
وارث بھائی، یہاں میرے خیال سے یائے نکرہ نہیں، بلکہ یائے خطاب ہے۔
تو بیکسی و غریبی = تم بے کس ہو اور غریب ہو
جی آپ نے درست فرمایا، ترجمہ بھی میں نے اسی طرح کیا ہے، لکھنے میں میں عموما چھوٹی یے اور بڑی یے کا التزام نہیں کرتا، جو کہ کرنا چاہیے، شکریہ آپ کا :)
 

حسان خان

لائبریرین
تا وارهم ز وحشتِ شب‌های انتظار
چون خندهٔ تو مهرِ جهان‌تابم آرزوست
(فریدون مشیری)

تاکہ میں شب ہائے انتظار کی وحشت سے رہا ہو جاؤں، مجھے تمہارے تبسم جیسے خورشیدِ جہاں تاب کی آرزو ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
صبر است علاجِ هجر دانم
امّا چه کنم نمی‌توانم
(مشتاق اصفهانی)

صبر ہجر کا علاج ہے، میں جانتا ہوں؛ لیکن کیا کروں کہ میں نہیں کر سکتا۔
 
چوں سگِ درندہ گوشت یافت نپرسد
کیں شترِ صالح ست یا خرِ دجال
(استاذِ سخن شیخ سعدی شیرازی)

جب پھاڑدینے والے کتے کو گوشت مل گیا تو پھر وہ یہ نہیں پوچھتا کہ یہ حضرت صالح کی اونٹنی ہے یا دجال کا خر۔
 
Top