عبد الرحمن

لائبریرین
ہم کہ ٹھرے اجنبی اتنی ملاقاتوں کے بعد
پھر بنیں گے آشنا کتنی مداراتوں کے بعد

کب نظر میں آئے گی بے داغ سبزے کی بہار
خون کے دھبے دھلیں گے کتنی برساتوں کے بعد

تھے بہت بے درد لمحے ختم درد عشق کے
تھیں بہت بے مہر صبحیں مہرباں راتوں کے بعد

دل تو چاہا پر شکست دل نے مہلت ہی نہ دی
کچھ گلے شکوے بھی کر لیتے مناجاتوں کے بعد

ان سے جو کہنے گئے تھے فیض جاں صدقہ کیے
ان کہی ہی رہ گئی وہ بات سب باتوں کے بعد

(احمد فراز مرحوم)
 

طارق شاہ

محفلین

دِن کچھ ایسے گُزارتا ہے کوئی
جیسے احساں اُتارتا ہے کوئی

دِل میں کچھ یُوں سنبھالتا ہُوں غم
جیسے زیور سنبھالتا ہے کوئی

آئنہ دیکھ کر تسلّی ہُوئی
ہم کو اِس گھر میں جانتا ہے کوئی

پَک گیا ہے شجر پہ پھل شاید !
پِھر سے پتھر اُچھالتا ہے کوئی

دیر سے گوُنجتے ہیں سنّاٹے
جیسے ہم کو پُکارتا ہے کوئی

گلزار

(سمپورن سنگھ )
 

طارق شاہ

محفلین

کرنے گئے تھے اُن سے تغافل کا ہم گِلہ
کی ایک ہی نِگاہ کہ بس خاک ہو گئے

اِس رنگ سے اُٹھائی کل اُس نے اسد کی نعش
دُشمن بھی جس کو دیکھ کے غمناک ہو گئے

اسداللہ خاں غالب
 

طارق شاہ

محفلین

ذوُد پشیمان


گہری بھوُری آنکھوں والا اِک شہزادہ
دُور دیس سے
چمکیلے ہُشکی گھوڑے پر ہَوا سے باتیں کرتا
جگر جگر کرتی تلوار سے جنگل کاٹتا آیا
دروازوں سے لِپٹی بیلیں پَرے ہٹاتا
جنگل کی بانہوں میں جکڑے محل کے ہاتھ چُھڑاتا
جب اندر آیا تو دیکھا
شہزادی کے جسم کی ساری سوُئیاں زنگ آلوُدہ تھیں
رستہ دیکھنے والی آنکھیں
سارے شِکوے بُھلا چُکی تھیں


پروین شاکر
 

طارق شاہ

محفلین

کوئی صوُرت آشنا، اپنا نہ بیگانہ کوئی
کُچھ کہو یارو یہ بستی ہے کہ ویرانہ کوئی

صُبحدم دیکھا تو سارا باغ تھا گُل کی طرف
شمع کے تابوُت پر رویا نہ پروانہ کوئی

خلوتوں میں روئے گی چُھپ چُھپ کے لیلائے غزل
اِس بیاباں میں نہ اَب آئیگا دِیوانہ کوئی

ہمنشیں خاموش، دیواریں بھی سُنتی ہیں یہاں
رات ڈھل جائے تو پھر چھیڑیں گے افسانہ کوئی

ناصر کاظمی
 

طارق شاہ

محفلین

دستِ شب پر دِکھائی کیا دیں گی
سلوٹیں روشنی میں اُبھریں گی

گھر کی دیواریں میرے جانے پر
اپنی تنہائیوں کو سوچیں گی

اُنگلیوں کو تراش دوُں ، پھر بھی
عادتاً اُس کا نام لکھیں گی

رنگ و بُو سے کہیں پناہ نہیں !
خواہشیں بھی کہاں اماں دیں گی

ایک خوشبُو سے بچ بھی جاؤں اگر
دوُسری نکہتیں جکڑ لیں گی

خواب میں تِتلیاں پکڑنے کو
نیندیں بچوں کی طرح دوڑیں گی

کِھڑکیوں پر دبیز پردے ہوں
بارشیں پھر بھی دستکیں دیں گی

پروین شاکر
 

طارق شاہ

محفلین

کھُلی کتاب کے صفحے اُلٹتے رہتے ہیں
ہَوا چلے نہ چلے ، دِن پلٹتے رہتے ہیں

بس ایک وحشتِ منزل ہے اور کچھ بھی نہیں
کہ چند سیڑھیاں چڑھتے اُترتے رہتے ہیں

مُجھے تو روز کسوٹی پہ درد کَستا ہے
کہ جاں سے جسم کے بخیے اُدھڑتے رہتے ہیں

کبھی رُکا نہیں کوئی مقامِ صحرا میں
کہ ٹیلے پاؤں تلے سے سرکتے رہتے ہیں

یہ روٹیاں ہیں، یہ سکّے ہیں اور دائرے ہیں
یہ ایک دوُجے کو دِن بھر پکڑتے رہتے ہیں

بھرے ہیں رات کے ریزے کچھ ایسے آنکھوں میں
اُجالا ہو تو ہم آنکھیں جھپکتے رہتے ہیں

گُلزار
(سمپورن سنگھ)
 

طارق شاہ

محفلین

توُ دوست کسی کا بھی سِتم گر نہ ہُوا تھا
اوروں پہ ہے وہ ظُلم کہ مُجھ پرنہ ہُوا تھا

مِرزا اسد االلہ خاں غالب
 

طارق شاہ

محفلین

جب تِری یاد کے جُگنو چمکے
دیر تک آنکھ میں آنسُو چمکے

سخت تاریک ہے دِل کی دُنیا
ایسے عالم میں اگر تُو چمکے

ہم نے دیکھا سرِ بازارِ وفا
کبھی موتی کبھی آنسُو چمکے

شرط ہے شدّتِ احساسِ جمال
رنگ تو رنگ ہے خوشبوُ چمکے

آنکھ مجبورِ تماشا ہے فراز
ایک صوُرت ہے کہ ہر سوُ چمکے

احمد فراز
 

طارق شاہ

محفلین

یہ عالَم شوق کا دیکھا نہ جائے
وہ بُت ہے یا خدا دیکھا نہ جائے

یہ کن نظروں سے توُ نے آج دیکھا
کہ تیرا دیکھنا دیکھا نہ جائے

ہمیشہ کے لیے مجھ سے بچھڑ جا
یہ منظر بارہا دیکھا نہ جائے

غلط ہے جو سُنا، پر آزما کر
تُجھے اے بےوفا دیکھا نہ جائے

یہ محروُمی نہیں پاسِ وفا ہے
کوئی تیرے سِوا دیکھا نہ جائے

یہی تو آشنا بنتے ہیں آخر
کوئی نا آشنا دیکھا نہ جائے

یہ میرے ساتھ کیسی روشنی ہے
کہ مجھ سے راستہ دیکھا نہ جائے

فراز اپنے سِوا ہے کون تیرا
تُجھے، تُجھ سے جُدا دیکھا نہ جائے

احمد فراز
 

طارق شاہ

محفلین

حالات سے پنجہ آزما ہو
حالات کو سازگار کر لے

اے لذّتِ زندگی کے مُنکر
اِک بار کسی سے پیار کر لے

احمد ندیم قاسمی
 

طارق شاہ

محفلین

بولنے دو

بولنے سے مجھے کیوں روکتے ہو؟
بولنے دو، کہ میرا بولنا دراصل گواہی ہے مِرے ہونے کی
تم نہیں بولنے دو گے تو میں سناٹے کی بولی ہی میں بول اُٹھوں گا
میں تو بولوں گا
نہ بولوں گا تو مر جاؤں گا
بولنا ہی تو شرف ہے میرا
کبھی اس نکتے پہ بھی غور کیا ہے تم نے
کہ فرشتے بھی نہیں بولتے
میں بولتا ہُوں
حق سے گُفتار کی نعمت فقط اِنساں کو مِلی
صرف وہ بولتا ہے
صرف میں بولتا ہوں
بولنے مجھ کو نہ دو گے تو مِرے جسم کا ایک ایک مسام بول اُٹھے گا
کہ جب بولنا ، منصب ہی فقط میرا ہے
میں نہ بولوں گا تو ، کوئی بھی نہیں بولے گا


احمد ندیم قاسمی
 

طارق شاہ

محفلین

دل کی تائید، نہ اِقرارِ زباں باقی ہے
اب جو ایمان کی پوُچھو تو گُماں باقی ہے

لوگ اِس بزم میں کیا دیکھنے آئے ہیں ، جہاں !
کچھ جو باقی ہے تو، شمعوں کا دُھواں باقی ہے

احمد ندیم قاسمی
 

طارق شاہ

محفلین

اِس دُنیا میں اپنا کیا ہے
کہنے کو سب کچھ اپنا ہے

مُنہ دیکھے کی باتیں ہیں سب
کِس نے کِس کو یاد کیا ہے

تیرے ساتھ گئی وہ رونق
اب اِس شہر میں کیا رکھا ہے

دھیان کے آتش دان میں ناصر
بُجھے دِنوں کا ڈھیر پڑا ہے

ناصر کاظمی
 
Top