دو افسانچے ڈسکاونٹ اور ڈرٹی بوائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ از : محمد علم اللہ اصلاحی

ڈسکاونٹ
پروفیسر صاحب کے صاحبزادے مسابقہ جاتی امتحانات کے لئے تیاری کر رہے تھے۔​
ایک دن وہ صاحبزادے کے لئے کتابیں خریدنے ایک کتب فروش کے پاس گئے۔​
صاحب زادے نے من پسند کتابیں چن لیں۔ان کتابوں کے لئے دوکاندار نے دو ہزار روپے کا بل بنایا۔​
پروفیسر صاحب ضد کر رہے تھے :​
"بھئی ! کچھ تو ڈسکاونٹ دو یہ کیا بات ہوئی کتابیں بھی اتنی مہنگی "​
آخر کار پروفیسر صاحب کی بار بار ضداور عزت کا خیال کر دوکاندار 10 فیصد ڈسکاونٹ دینے کے لئے راضی ہو گیا۔​
ابھی اس بات کو کچھ دن ہی گزرے تھے کہ انہیں یونیورسٹی کی لائبریری کے لئے کتابیں خریدنے کا کام سونپا گیا جسے انہوں نے قبول کر لیا۔​
وہ اس کی دکان پر پہنچے تو دوکاندار انہیں دیکھتے ہی پہچان گیا۔​
انہوں نے کئی ہزا روپیوں کاانتخاب کیا اور وہ بل کاونٹر پر گئے۔​
پروفیسر صاحب کے کچھ عرض کرنےسے پہلے ہی دوکاندار بولا:​
" صاحب! اس بار رقم زیادہ ہے تو میں آپ کے کہے بغیر ہی بل میں 15 فیصد کی رعایت دے رہا ہوں"​
“روفیسر صاحب ہنستے ہوئے بولے:​
"ارے بھائی! ڈسکاونٹ رہنے دو جتنی رقم کی ڈسکاونٹ دینا چاہتے ہو، اتنے میں مجھےمسابقہ جاتی امتحانات کی نئی کتابیں دے دو"​
اب کی خریداری یونیورسٹی کی لائبریری کے لئے کی گئی تھی نا! بھلا اس میں چھوٹ کا کیا کام؟​
ڈرٹی بوائے
ایک خاتون اپنے بچے کے ساتھ ریلوے پلیٹ فارم پر کھڑی ہوکر ٹرین کا انتظار کر رہی تھی۔ اتنے میں اس کے بچے نے اپنی ماں سے کچھ کھانے کے لیے مانگا۔​
خاتون نے جھٹ سے اپنا پرس کھولااور اس میں سے بسکٹ کا پیکٹ نکال کر بچے کو کھانے کے لئے دے دیا۔بسکٹ کھاتے کھاتے بچے کی نگاہ ریلوے لائن پر پڑی ، جہاں ایک بھکاری کا بچہ لوگوں کے پھینکی ہوئی گندگی، کوڑے کرکٹ میں سے کھانے کے سامان سے اٹھا اٹھا کر کچھ کھا رہا تھا۔​
یہ دیکھ کر بچے سے رہا نہ گیا، فوری طور پر ماں سے بولا:​
"موم موم ! دیکھو ادھر ایک بچے کو دیکھو!"​
بچہ کے کہنے پر ماں نے اس بھکاری بچے پر سرسری نگاہ ڈالی اور بچے سے کہا:​
"ہاں! کیا ہے؟ کچھ کھا رہا ہے، تو بھی اپنا بسکٹ جلدی finish کرو، ٹرین آنے والی ہوگی"​
بچہ۔​
موم!وہ نیچے سے اٹھا کر کھا رہا ہے، چھی چھی کھا رہا ہے ۔۔۔بچے کے کہنے پر ماں نے پھر اس بھکاری بچے کیجانب دیکھا اور ایک دم نفرت سے نگاہ پھیرتے ہوئے کہا:​
"oh shit! اس کی طرف مت دیکھو، وہ dirty boy ہے، چلو یہاں سے! کہیں اور جا کر کھڑے ہوتے ہیں it ’s disgusting "​
میں سوچ رہا تھا اصل میں گندگی کہاں ہے ۔۔۔۔
 

نایاب

لائبریرین
واہہہہہہہہہہ
بہت خوب لکھے ہیں افسانچے محترم اصلاحی بھائی
ڈرٹی بوائے کا فسوں زیادہ ہیے بہ نسبت ڈسکاونٹ کے
بہت شکریہ بہت دعائیں ۔۔ اللہ تعالی آپ کے قلم کو حقیقت نگاری کی توفیق سے نوازے آمین
 

شمشاد

لائبریرین
مختصر لیکن بہت ہی اچھوتا خیال۔​
بہت شکریہ شریک محفل کرنے کا۔​
 
واہہہہہہہہہہ
بہت خوب لکھے ہیں افسانچے محترم اصلاحی بھائی
ڈرٹی بوائے کا فسوں زیادہ ہیے بہ نسبت ڈسکاونٹ کے
بہت شکریہ بہت دعائیں ۔۔ اللہ تعالی آپ کے قلم کو حقیقت نگاری کی توفیق سے نوازے آمین


پسند آوری کا شکریہ
جزاک اللہ بھائی جان
 
ڈسکاونٹ
پروفیسر صاحب کے صاحبزادے مسابقہ جاتی امتحانات کے لئے تیاری کر رہے تھے۔​
ایک دن وہ صاحبزادے کے لئے کتابیں خریدنے ایک کتب فروش کے پاس گئے۔​
صاحب زادے نے من پسند کتابیں چن لیں۔ان کتابوں کے لئے دوکاندار نے دو ہزار روپے کا بل بنایا۔​
پروفیسر صاحب ضد کر رہے تھے :​
"بھئی ! کچھ تو ڈسکاونٹ دو یہ کیا بات ہوئی کتابیں بھی اتنی مہنگی "​
آخر کار پروفیسر صاحب کی بار بار ضداور عزت کا خیال کر دوکاندار 10 فیصد ڈسکاونٹ دینے کے لئے راضی ہو گیا۔​
ابھی اس بات کو کچھ دن ہی گزرے تھے کہ انہیں یونیورسٹی کی لائبریری کے لئے کتابیں خریدنے کا کام سونپا گیا جسے انہوں نے قبول کر لیا۔​
وہ اس کی دکان پر پہنچے تو دوکاندار انہیں دیکھتے ہی پہچان گیا۔​
انہوں نے کئی ہزا روپیوں کاانتخاب کیا اور وہ بل کاونٹر پر گئے۔​
پروفیسر صاحب کے کچھ عرض کرنےسے پہلے ہی دوکاندار بولا:​
" صاحب! اس بار رقم زیادہ ہے تو میں آپ کے کہے بغیر ہی بل میں 15 فیصد کی رعایت دے رہا ہوں"​
“روفیسر صاحب ہنستے ہوئے بولے:​
"ارے بھائی! ڈسکاونٹ رہنے دو جتنی رقم کی ڈسکاونٹ دینا چاہتے ہو، اتنے میں مجھےمسابقہ جاتی امتحانات کی نئی کتابیں دے دو"​
اب کی خریداری یونیورسٹی کی لائبریری کے لئے کی گئی تھی نا! بھلا اس میں چھوٹ کا کیا کام؟​
ڈرٹی بوائے
ایک خاتون اپنے بچے کے ساتھ ریلوے پلیٹ فارم پر کھڑی ہوکر ٹرین کا انتظار کر رہی تھی۔ اتنے میں اس کے بچے نے اپنی ماں سے کچھ کھانے کے لیے مانگا۔​
خاتون نے جھٹ سے اپنا پرس کھولااور اس میں سے بسکٹ کا پیکٹ نکال کر بچے کو کھانے کے لئے دے دیا۔بسکٹ کھاتے کھاتے بچے کی نگاہ ریلوے لائن پر پڑی ، جہاں ایک بھکاری کا بچہ لوگوں کے پھینکی ہوئی گندگی، کوڑے کرکٹ میں سے کھانے کے سامان سے اٹھا اٹھا کر کچھ کھا رہا تھا۔​
یہ دیکھ کر بچے سے رہا نہ گیا، فوری طور پر ماں سے بولا:​
"موم موم ! دیکھو ادھر ایک بچے کو دیکھو!"​
بچہ کے کہنے پر ماں نے اس بھکاری بچے پر سرسری نگاہ ڈالی اور بچے سے کہا:​
"ہاں! کیا ہے؟ کچھ کھا رہا ہے، تو بھی اپنا بسکٹ جلدی finish کرو، ٹرین آنے والی ہوگی"​
بچہ۔​
موم!وہ نیچے سے اٹھا کر کھا رہا ہے، چھی چھی کھا رہا ہے ۔۔۔ بچے کے کہنے پر ماں نے پھر اس بھکاری بچے کیجانب دیکھا اور ایک دم نفرت سے نگاہ پھیرتے ہوئے کہا:​
"oh shit! اس کی طرف مت دیکھو، وہ dirty boy ہے، چلو یہاں سے! کہیں اور جا کر کھڑے ہوتے ہیں it ’s disgusting "​
میں سوچ رہا تھا اصل میں گندگی کہاں ہے ۔۔۔ ۔
دونوں تحریریں بہت عمدہ ہیں لیکن ڈسکاؤنٹ والی بہت پسند آئی۔
اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ۔
 

عثمان

محفلین
"ڈسکاؤنٹ" میں پروفیسر صاحب اتنے بدیانت بھی نہیں۔ وہ چاہتے تو ڈسکاؤنٹ سے ہونے والی نقدی جیب میں رکھ سکتے تھے۔ لیکن انہوں نے بھلے ذاتی استعمال کے لیے ہی سہی لیکن کتب ہی لینا گوارا کیا۔ :)
 

بھلکڑ

لائبریرین
بہت خوب ۔۔۔۔! دونوں ہی کمال کے لکھے ہیں بھیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گندگی کہاں ہے۔۔۔۔۔! یہ سطرتو بینر پر چھپوا نے کی ضرورت ہے۔۔۔۔یا شاید کم از کم اپنے دل کے کسی کونے میں فکس کرنے کی۔۔۔۔ کہ ایک نگاہ پڑتی ہی رہے ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔ پراؤڈ ریڈر آف دیز لائنز۔۔۔۔۔۔۔۔
 

بھلکڑ

لائبریرین
"ڈسکاؤنٹ" میں پروفیسر صاحب اتنے بدیانت بھی نہیں۔ وہ چاہتے تو ڈسکاؤنٹ سے ہونے والی نقدی جیب میں رکھ سکتے تھے۔ لیکن انہوں نے بھلے ذاتی استعمال کے لیے ہی سہی لیکن کتب ہی لینا گوارا کیا۔ :)
یہ بھی لکھنے والے کا کمال ہے ہے بھیا۔۔۔!
 
اس کو ایک نظر دیکھ لیجئے گا۔

ڈسکاونٹ

صاحبزادے مسابقہ جاتی امتحانات کے لئے تیاری کر رہے تھے۔ پروفیسر صاحب ایک کتب فروش کے پاس گئے۔ صاحب زادے نے من پسند کتابیں چن لیں۔ دو ہزار روپے کا بل بنا۔ پروفیسر صاحب گویا ہوئے : "بھئی ! کچھ تو ڈسکاونٹ بھی تو دیجئے، دو ہزار کی خریداری پر تین سو روپے کم کر دیجئے۔ کتب فروش نے کچھ کاروباری نکتہ نظر سے اور کچھ پروفیسر صاحب کے احترام میں دو سو روپے کی چھوٹ دے دی۔
کچھ دن ہی گزرے تھے کہ انہیں یونیورسٹی کی لائبریری کے لئے کتابیں خریدنے کا کام سونپا گیا۔ کتب فروش نے پہچان لیا۔ پروفیسر صاحب نے کئی ہزار روپے کی کتابیں منتخب کیں۔ کتب فروش نے خود ہی ۱۵ فیصد چھوٹ کی پیش کش کر دی۔ پروفیسر صاحب ہنستے ہوئے بولے: "یوں کرو بھائی کہ جتنا ڈسکاونٹ بنتا ہے اس کے برار مسابقہ جاتی امتحانات کی نئی کتابیں دے دو، بل پورا بنا دو، یونیورسٹی کے نام"۔




ڈرٹی بوائے


ایک خاتون اپنے بچے کے ساتھ ٹرین کا انتظار کر رہی تھی۔ بچے نے کچھ کھانے کے لیے مانگا۔ خاتون نے اپنے پرس خستہ اور لذیذ بسکٹ کا پیکٹ نکال کر بچے کو دے دیا۔ بسکٹ کھاتے کھاتے بچے کی نگاہ ریلوے لائن کے اُس پار ایک بھکاری بچے پر پڑی جو لوگوں کے پھینک ہوئے کچرے اور کوڑا کرکٹ میں سے کچھ اٹھا اٹھا کر کھا رہا تھا۔ بولا: "موم موم! دیکھو ادھر ایک بچے کو دیکھو!" ماں نے ایک سرسری سی نگاہ اس بھکاری بچے پر ڈالی اور کہا: "ہاں! کیا ہے؟ کچھ کھا رہا ہے، تپ بھی اپنا بسکٹ جلدی finish کرو، ٹرین آنے والی ہے"۔ بچہ معصومیت سے بولا: ’’موم! وہ نیچے سے اٹھا کر کھا رہا ہے، چھی چھی!‘‘
ماں نے پھر سے بھکاری بچے کی جانب دیکھا اور نگاہ پھیرتے ہوئے بولی: "oh shit! اس کی طرف مت دیکھو، وہ dirty boy ہے، چلو یہاں سے! کہیں اور جا کر کھڑے ہوتے ہیں it ’s disgusting "
موم کا بچہ سوچ تو رہا ہو گا کہ اصل میں shit ہے کہاں! ۔
 

صرف علی

محفلین
"ڈسکاؤنٹ" میں پروفیسر صاحب اتنے بدیانت بھی نہیں۔ وہ چاہتے تو ڈسکاؤنٹ سے ہونے والی نقدی جیب میں رکھ سکتے تھے۔ لیکن انہوں نے بھلے ذاتی استعمال کے لیے ہی سہی لیکن کتب ہی لینا گوارا کیا۔ :)
ھھم بھائی جب وہ خود بے ایمانی کرے تو دوسروں کو کس طرح نصیحت کرسکتا ہے
 
اس کو ایک نظر دیکھ لیجئے گا۔

ڈسکاونٹ

صاحبزادے مسابقہ جاتی امتحانات کے لئے تیاری کر رہے تھے۔ پروفیسر صاحب ایک کتب فروش کے پاس گئے۔ صاحب زادے نے من پسند کتابیں چن لیں۔ دو ہزار روپے کا بل بنا۔ پروفیسر صاحب گویا ہوئے : "بھئی ! کچھ تو ڈسکاونٹ بھی تو دیجئے، دو ہزار کی خریداری پر تین سو روپے کم کر دیجئے۔ کتب فروش نے کچھ کاروباری نکتہ نظر سے اور کچھ پروفیسر صاحب کے احترام میں دو سو روپے کی چھوٹ دے دی۔
کچھ دن ہی گزرے تھے کہ انہیں یونیورسٹی کی لائبریری کے لئے کتابیں خریدنے کا کام سونپا گیا۔ کتب فروش نے پہچان لیا۔ پروفیسر صاحب نے کئی ہزار روپے کی کتابیں منتخب کیں۔ کتب فروش نے خود ہی ۱۵ فیصد چھوٹ کی پیش کش کر دی۔ پروفیسر صاحب ہنستے ہوئے بولے: "یوں کرو بھائی کہ جتنا ڈسکاونٹ بنتا ہے اس کے برار مسابقہ جاتی امتحانات کی نئی کتابیں دے دو، بل پورا بنا دو، یونیورسٹی کے نام"۔




ڈرٹی بوائے


ایک خاتون اپنے بچے کے ساتھ ٹرین کا انتظار کر رہی تھی۔ بچے نے کچھ کھانے کے لیے مانگا۔ خاتون نے اپنے پرس خستہ اور لذیذ بسکٹ کا پیکٹ نکال کر بچے کو دے دیا۔ بسکٹ کھاتے کھاتے بچے کی نگاہ ریلوے لائن کے اُس پار ایک بھکاری بچے پر پڑی جو لوگوں کے پھینک ہوئے کچرے اور کوڑا کرکٹ میں سے کچھ اٹھا اٹھا کر کھا رہا تھا۔ بولا: "موم موم! دیکھو ادھر ایک بچے کو دیکھو!" ماں نے ایک سرسری سی نگاہ اس بھکاری بچے پر ڈالی اور کہا: "ہاں! کیا ہے؟ کچھ کھا رہا ہے، تپ بھی اپنا بسکٹ جلدی finish کرو، ٹرین آنے والی ہے"۔ بچہ معصومیت سے بولا: ’’موم! وہ نیچے سے اٹھا کر کھا رہا ہے، چھی چھی!‘‘
ماں نے پھر سے بھکاری بچے کی جانب دیکھا اور نگاہ پھیرتے ہوئے بولی: "oh shit! اس کی طرف مت دیکھو، وہ dirty boy ہے، چلو یہاں سے! کہیں اور جا کر کھڑے ہوتے ہیں it ’s disgusting "
موم کا بچہ سوچ تو رہا ہو گا کہ اصل میں shit ہے کہاں! ۔


اوہ واو
بہت اچھا پہلے سے زیادہ مبسوط ،کامپیکٹ اور خوبصورت یہی تو فرق ہے استاد محترم گرو اور چیلے کا ۔
 
بہت خوب ۔۔۔ ۔! دونوں ہی کمال کے لکھے ہیں بھیا۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔
گندگی کہاں ہے۔۔۔ ۔۔! یہ سطرتو بینر پر چھپوا نے کی ضرورت ہے۔۔۔ ۔یا شاید کم از کم اپنے دل کے کسی کونے میں فکس کرنے کی۔۔۔ ۔ کہ ایک نگاہ پڑتی ہی رہے ۔۔۔ ۔۔
۔۔۔ ۔۔۔ پراؤڈ ریڈر آف دیز لائنز۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔


بہت شکریہ بھلکڑ بھیا آپ کو پسند آیا ۔جزاک اللہ۔
 
"ڈسکاؤنٹ" میں پروفیسر صاحب اتنے بدیانت بھی نہیں۔ وہ چاہتے تو ڈسکاؤنٹ سے ہونے والی نقدی جیب میں رکھ سکتے تھے۔ لیکن انہوں نے بھلے ذاتی استعمال کے لیے ہی سہی لیکن کتب ہی لینا گوارا کیا۔ :)


بھائی بے ایمانی تو بے ایمانی ہے خواہ وہ کتاب کے لئے ہو یا رقم یا کسی اور کے لئے۔
 

فارقلیط رحمانی

لائبریرین
آپ کے دو افسانچےپڑھے تو ہمیں بھی یاد آیا کہ ہم نے بھی کسی زمانے میں اس طرح کی کچھ چیزیں لکھی تھیں۔
جو ماہنامہ گلبن اور ماہنامہ ذخیرہ کی زینت بنی تھیں۔
صحیح سے حرف بحرف تو یا د نہیں لیکن ایک افسانچہ کچھ اس طرح تھا:

کتوں کے صدر نے ایک خصوصی میٹنگ طلب کی۔
سیکریٹری نے صدر کے حسب منشاء تمام کتوں کو میٹنگ کا دعوت نامہ جاری کیا۔
تمام کتے مقررہ دن اور متعین وقت پر میٹنگ کے لیے جمع ہوئے۔
سیکریٹری نے کھڑے ہوکر اپنے مخصوص انداز میں باجازتِ صدرمیٹنگ کا آغاز کرتے ہوئے کہا۔
حاضرین ہماری آج کی میٹنگ کا ایجنڈایہ ہے کہ
ہم اپنی ٹیڑھی دُموں کو سیدھا کیسے کریں؟
 
Top