23 دسمبر، مینار پاکستان ،سیاست نہیں ریاست بچاؤ اور علامہ طاہرالقادری

لو جی ! کر لو بات ۔ انٹرنیٹ یوزر اوپر سے محفلین اور پھر موسیقی کی حرمت پر اعتقاد بھی نہیں ایمان !
o_O ارے کوئی تو روکو مجھے !!! ہنسی چھوٹی جا رہی ہے۔
کیا محفل میں لاگ ان ہوتے ہی موسیقی سنائی دیتی ہے ؟ یا انٹرنیٹ کنیکٹ کرتے ہی آرکسٹرا بجتا ہے ؟ میرے ساتھ آج تک ایسا نہیں ہوا ، اس لیے محفل میں آتی ہوں اور نیٹ بھی یوز کرتی ہوں ۔آپ غالبا عقل کہیں بھول آئے ہیں ۔
آپ کو حیرت ہو سکتی ہے لیکن سب نے آپ کے شیخ الاسلام طاہر القادری کی طرح موسیقی کو حلال نہیں کر رکھا ۔ سلسلہ نظامیہ میں موسیقی کی حلت کے متعلق میری معلومات صفر ہیں ۔ ورنہ آپ کو معذور سمجھ لیتی ۔
 

حسن نظامی

لائبریرین
کیا محفل میں لاگ ان ہوتے ہی موسیقی سنائی دیتی ہے ؟ یا انٹرنیٹ کنیکٹ کرتے ہی آرکسٹرا بجتا ہے ؟ میرے ساتھ آج تک ایسا نہیں ہوا ، اس لیے محفل میں آتی ہوں اور نیٹ بھی یوز کرتی ہوں ۔آپ غالبا عقل کہیں بھول آئے ہیں ۔آپ کو حیرت ہو سکتی ہے لیکن سب نے آپ کے شیخ الاسلام طاہر القادری کی طرح موسیقی کو حلال نہیں کر رکھا ۔ سلسلہ نظامیہ میں موسیقی کی حلت کے متعلق میری معلومات صفر ہیں ۔ ورنہ آپ کو معذور سمجھ لیتی ۔
خوب یعنی آرکسٹرا تک سے واقف ہیں۔ بھئی جواب نہیں آپ کا۔ کہیں دھاگہ کھولیے ۔ موسیقی کی حلت و حرمت پر بھی دو دو ہاتھ ہو جائیں۔ یہ دھاگہ تو سیاست کے لیے ہی رہنے دیں۔ اور اپنے سٹیٹس میں لگا دیں۔ میرے لیے موسیقی شجرِ ممنوعہ ہے۔ :LOL:
 
ش

شہزاد احمد

مہمان
طاہر القادری صاحب کا جلسہ کامیاب رہا ۔۔۔ اس میں دو آراء نہیں ہیں لیکن ہماری دانست میں اصل مرحلہ اب شروع ہو گا ۔۔۔ طاہر القادری صاحب کو چاہیے کہ وہ اپنے نام کے ساتھ الطاف حسین، چودھری شجاعت اور دیگر کا ٹچ نہ لگوائیں ۔۔۔ اور یہ بھی عرض کرتے چلیں کہ سٹیج پر ایم کیو ایم کی لیڈرشپ کو بٹھانا بہت بڑی سیاسی غلطی تھی ۔۔۔ معلوم نہیں، طاہر القادری صاحب کو "ایم کیو ایم" کی کیا ضرورت آن پڑی؟ ۔۔۔ خیر، چودہ جنوری زیادہ دور نہیں ہے ۔۔۔ دیکھتے ہیں ۔۔۔ اس وقت تک طاہر القادری صاحب "مومینٹم" برقرار رکھ پاتے ہیں یا نہیں ۔۔۔ اگر چودہ جنوری کو اسلام آباد میں "چالیس لاکھ" تو کیا، ایک دو لاکھ لوگ بھی جمع ہو گئے ۔۔۔ تو سیاسی منظرنامہ بدلنے کا امکان ہے ۔۔۔ ویسے ، فی الحال، کسی بڑی تبدیلی کا امکان نظر نہیں آ رہا ۔۔۔
 

حسن نظامی

لائبریرین
اور یہ بھی عرض کرتے چلیں کہ سٹیج پر ایم کیو ایم کی لیڈرشپ کو بٹھانا بہت بڑی سیاسی غلطی تھی ۔۔۔ معلوم نہیں، طاہر القادری صاحب کو "ایم کیو ایم" کی کیا ضرورت آن پڑی؟
از راہ کرم ! اس پر تھوڑی سی بات اور کیجیے ۔ اگر یہ سیاسی غلطی ہے تو کیسے ؟
آپ کا تبصرہ فکر انگیز ہوتا ہے۔
 
ش

شہزاد احمد

مہمان
از راہ کرم ! اس پر تھوڑی سی بات اور کیجیے ۔ اگر یہ سیاسی غلطی ہے تو کیسے ؟
آپ کا تبصرہ فکر انگیز ہوتا ہے۔
ہماری دانست میں ڈاکٹر صاحب کے لیے زیادہ مناسب یہ ہوتا کہ وہ ایک ایسی جماعت کے لیڈران کو اپنے ساتھ نہ بٹھاتے جو عرصہ پانچ سال سے حکومتی اتحادی کی حیثیت سے اقتدار کے مزے لوٹنے میں مصروف رہی ہے ۔۔۔ اور ہمارے خیال میں ایم کیو ایم کی شراکت کے بغیر بھی یہ جلسہ کامیاب ہو جاتا ۔۔۔
 

حسن نظامی

لائبریرین
جلسہ تو یقینا کامیاب ہونا تھا اور جلسے کی کامیابی میں ایم کیو ایم کا کوئی ہاتھ نہیں۔ ڈاکٹر صاحب ویسے بھی کامیاب جلسے کر چکے ہیں۔ البتہ ایم کیو ایم کے کچھ مفادات نظر آتے ہیں۔ کیوں کہ وہ کافی عرصہ سے پنجاب کو کراچی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ شاید یہ اسی کا نتیجہ ہو۔ ویسے ڈاکٹر صاحب کو ایم کیو ایم کے الحاق سے جہاں نقصان ہوا وہاں فائدہ بھی ہوا۔ کیونکہ ایم کیو ایم بہرحال ایک بڑی جماعت ہے اور ساتھ ہی وہ بھائی لوگ بھی ہیں۔:rolleyes: یہ واقعی بہت اہم سوال ہے۔ اور اس پر مزید گفتگو بھی ہونی چاہیے؟
 

یوسف-2

محفلین
لو جی ! کر لو بات ۔ انٹرنیٹ یوزر اوپر سے محفلین اور پھر موسیقی کی حرمت پر اعتقاد بھی نہیں ایمان !
o_O ارے کوئی تو روکو مجھے !!! ہنسی چھوٹی جا رہی ہے۔
اگر آپ کا موسیقی کی حرمت پر ایمان نہیں ہے تو یہ اپنے اوپر ہنسنے بلکہ رونے کا مقام ہے۔ :( علما ئے کرام کی ایک بھاری اکثریت (ایک مخصوص اقلیت کے علاوہ) موسیقی کو حرام ہی سمجھتی ہے۔
(دخل در ”غیر معقولات“ کی معذرت :p )
 

متلاشی

محفلین
شکریہ حسن نظامی بھائی ۔۔۔! مجھے ٹیگ کرنے کا۔۔۔۔
میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں ۔۔۔! کہ باتیں تو ڈاکٹر صاحب نے اچھی کی ہیں۔۔۔۔ ! (چلو آپ کے کہنے پر میں ڈاکٹر صاحب کا ماضی کردار بھول جاتا ہوں۔۔۔ فیوچر میں دیکھتے ہیں کہ کیا ہوتا ہے ) مگران پر کتنا عمل ہوتا ہے ۔۔۔۔ اوران سب کا کیا رزلٹ نکلتا ہے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔۔۔۔

ابتدائے جہد ہے روتا ہے کیا
آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا
(ترمیم شدہ)
ویسے مجھے اس بات پر حیرت ہے کہ پرائے تو پرائے پر اپنے ہی کیوں ڈاکٹر صاحب کو چھوڑ گئے ۔۔۔؟ اور یہ بھی ایک ویلیڈ پوائنٹ ہے کہ ڈاکٹرصاحب نے ایم کیو ایم کو ساتھ ملا کر یقینا غلطی کی ہے۔۔۔! اگر ڈاکٹر صاحب ایم کیو ایم کی بجائے یہاں کی مذہبی سیاسی جماعتوں کو ساتھ ملا کر چلتے ۔۔۔ تو یقینا کچھ اچھا رزلٹ مل سکتا تھا۔۔۔۔ لیکن لاہور کے بڑے اجتماع کے باوجود بھی(بغیر یہاں کی مذہبی جماعتوں کی مشارکت کے) ڈاکٹر صاحب نے جو ایجنڈا دیاہے اس کا پورا ہونا بہت مشکل بلکہ ناممکن نظر آتا ہے ۔۔۔!
 

حسن نظامی

لائبریرین
اگر آپ کا موسیقی کی حرمت پر ایمان نہیں ہے تو یہ اپنے اوپر ہنسنے بلکہ رونے کا مقام ہے۔ :( علما ئے کرام کی ایک بھاری اکثریت (ایک مخصوص اقلیت کے علاوہ) موسیقی کو حرام ہی سمجھتی ہے۔(دخل در ”غیر معقولات“ کی معذرت :p )
لو جی کر لو گل ! متفق کا بٹن جنابِ متلاشی نے دبادیا ہے: (اب بزرگوں کو بندہ کیا کہے ؟ وہ بھی ایسے جو فنون لطیفہ کی آن، بان، شان، جان سب کچھ ہیں)
میرے یوسف ثانی !
آپ موسیقی کی حرمت کے ساتھ بھلے اور چیزیں بھی ایمانیات میں داخل کر لیں ہمیں کوئی اعتراض نہیں پر یہاں ذرا سیاست ہی رہنے دیں اور اگر موسیقی کی حرمت پر ایمان بہت زور مار رہا ہے۔ تو کہیں دھاگہ کھولیے۔ چار چار ہاتھ ہم بھی کی بورڈ پر مارنے کو بہت بے تاب ہیں۔
واقعی یہ دخل در معقولات تھااور انتہائی نامعقول قسم کا
 
ہماری دانست میں ڈاکٹر صاحب کے لیے زیادہ مناسب یہ ہوتا کہ وہ ایک ایسی جماعت کے لیڈران کو اپنے ساتھ نہ بٹھاتے جو عرصہ پانچ سال سے حکومتی اتحادی کی حیثیت سے اقتدار کے مزے لوٹنے میں مصروف رہی ہے ۔۔۔ اور ہمارے خیال میں ایم کیو ایم کی شراکت کے بغیر بھی یہ جلسہ کامیاب ہو جاتا ۔۔۔
شہزاد احمد بھائی!
بظاہر آپ کے موقف میں کافی جان نظر آتی ہے لیکن میں اسے ایک دوسرے اینگل سے لیتا ہوں اور کوشش کرتا ہوں کہ اپنا مدعا بیان کر سکوں۔

مثلاً ڈاکٹر صاحب نے انتخابی اصلاحات کی بات کی بالفرض وہ ساری کی ساری پوری ہو جاتی ہیں اور احتساب ِ بے لاگ شروع ہو جاتا ہے تو اتحاد کا یہ ہرگز مطلب نہیں ہو گا کہ ایم کیو ایم ہماری اتحادی ہے تو اسے چھوڑ دیں اور نون لیگ اور پی پی پی کو رگڑیں۔
اتحاد کا ہرگز ہرگز ایسا مطلب نہیں۔ جب انتخابی اصلاحات کے ذریعے جھوٹے، فریبی، لٹیرے، ٹیکس چور اور کرپٹ سیاستدانوں کو سیاست سے آئوٹ کیا جائے گا تو جس شخص میں درج بالا خصوصیات پائی جائیں اسے اٹھا کے سیاست سے باہر پھینکا جائے گا۔

میرے خیال میں کرپٹ لوگوں کو نااہل ہونا چاہیے۔
 

متلاشی

محفلین
اب تک کس کس سیاسی رہنما یا جماعت نے مولانا صاحب کی تائید کی ہے؟ معلومات کے لئے پوچھ رہا ہوں۔
محمد احمد بھائی سوائے ایم کیو ایم کے اور کسی بھی جماعت نے کھلم کھلا ڈاکٹر صاحب کی حمایت نہیں کی۔۔۔۔!
اور ایم کیوایم بس ۔۔۔ نام ہی کافی ہے ۔۔۔۔! کچھ کہنے کی حاجت نہیں ہے ۔۔۔۔!
 

حسن نظامی

لائبریرین
(چلو آپ کے کہنے پر میں ڈاکٹر صاحب کا ماضی کردار بھول جاتا ہوں۔۔۔ فیوچر میں دیکھتے ہیں کہ کیا ہوتا ہے)

شکریہ! محترمی !ایک سچے اور سُچے تخلیق کار کو ایسا ہی ہونا چاہیے! کسی کے ذاتی کردار کو چند افواہوں کی بناء پر (خواہ اس میں حقیقت ہو یا نہ ہو۔ میں اس کی بات نہیں کررہا)
فقط زبان کے چٹخارے اور زیب داستان کے لیے موضوع بحث بنانا ، کھرے فن کار کو زیب ہی نہیں دیتا۔ اس سے لوگوں کے دلوں میں اس فن کار کا احترام گھٹتا ہی ہے بڑھتا کبھی نہیں۔
رہی بات مستقبل کی ! تو وہ تو سب دیکھ رہے ہیں۔ 23 دسمبر کے تھیلے سے ایک عدد بلی باہر آ چکی ہے ! دیکھیے اب 14 جنوری بھی آ رہا ہے۔


ویسے مجھے اس بات پر حیرت ہے کہ پرائے تو پرائے پر اپنے ہی کیوں ڈاکٹر صاحب کو چھوڑ گئے ۔۔۔ ؟
پھر ایک لا یعنی بات جو اپنے پرائے ڈاکٹر صاحب کو چھوڑ گئے پہلے تو ان کی لسٹ مرتب کرنی پڑے گی۔ پھر ان سب کے بیانات لینے پڑیں گے۔ پھر ان بیانات کی روشنی میں حالات و واقعات کو پرکھنا اور جانچنا پڑے گا کہ کون کون کیا کیا؟ کیوں اور کس سبب سے کہہ رہا ہے۔ کیا وہ واقعی سچ کہہ رہا ہے؟ پھر ڈاکٹر صاحب سے پوچھنا پڑے گا۔ میرے پاس ایک تجویز ہے! آپ کے لیے !
آپ لاہور سے بہت قریب ہیں۔ ایک مرتبہ تشریف لائیے اور مل لیجیے ! اور اکٹھے سارے سوالات کر لیجیے !
اور یہ بھی ایک ویلیڈ پوائنٹ ہے کہ ڈاکٹرصاحب نے ایم کیو ایم کو ساتھ ملا کر یقینا غلطی کی ہے۔۔۔ ! اگر ڈاکٹر صاحب ایم کیو ایم کی بجائے یہاں کی مذہبی سیاسی جماعتوں کو ساتھ ملا کر چلتے ۔۔۔ تو یقینا کچھ اچھا رزلٹ مل سکتا تھا۔۔۔ ۔ لیکن لاہور کے بڑے اجتماع کے باوجود بھی(بغیر یہاں کی مذہبی جماعتوں کی مشارکت کے) ڈاکٹر صاحب نے جو ایجنڈا دیاہے اس کا پورا ہونا بہت مشکل بلکہ ناممکن نظر آتا ہے ۔۔۔ !
ہاں یہ سوال موضوع سے مطابقت رکھتا ہے! یہی تو میں چاہ رہا ہوں۔ اس پر بات کریں۔ آپ کون سی مذہبی، سیاسی جماعتوں کو ساتھ ملا کر چلنے کی بات کر رہے ہیں۔ آخر ایم کیو ایم کو ساتھ ملانے میں نقصان کیا ہے؟
 

متلاشی

محفلین
شہزاد احمد بھائی!
بظاہر آپ کے موقف میں کافی جان نظر آتی ہے لیکن میں اسے ایک دوسرے اینگل سے لیتا ہوں اور کوشش کرتا ہوں کہ اپنا مدعا بیان کر سکوں۔

مثلاً ڈاکٹر صاحب نے انتخابی اصلاحات کی بات کی بالفرض وہ ساری کی ساری پوری ہو جاتی ہیں اور احتساب ِ بے لاگ شروع ہو جاتا ہے تو اتحاد کا یہ ہرگز مطلب نہیں ہو گا کہ ایم کیو ایم ہماری اتحادی ہے تو اسے چھوڑ دیں اور نون لیگ اور پی پی پی کو رگڑیں۔
اتحاد کا ہرگز ہرگز ایسا مطلب نہیں۔ جب انتخابی اصلاحات کے ذریعے جھوٹے، فریبی، لٹیرے، ٹیکس چور اور کرپٹ سیاستدانوں کو سیاست سے آئوٹ کیا جائے گا تو جس شخص میں درج بالا خصوصیات پائی جائیں اسے اٹھا کے سیاست سے باہر پھینکا جائے گا۔

میرے خیال میں کرپٹ لوگوں کو نااہل ہونا چاہیے۔
شعبان نظامی بھائی ۔۔۔ مجھے آپ کی بات سمجھ میں نہیں آئی ۔۔۔! ادھر آپ کہہ رہے ہیں کہ
جب انتخابی اصلاحات کے ذریعے جھوٹے، فریبی، لٹیرے، ٹیکس چور اور کرپٹ سیاستدانوں کو سیاست سے آئوٹ کیا جائے گا تو جس شخص میں درج بالا خصوصیات پائی جائیں اسے اٹھا کے سیاست سے باہر پھینکا جائے گا۔
اور دوسری طرف انہی خصائل کی حامل جماعت سے پہلے ہی سے کھلم کھلا گٹھ جوڑ ۔۔۔! کیا یہ قول و فعل کا کھلا تضاد نہیں ہے ۔۔۔۔؟
 

حسن نظامی

لائبریرین
ڈاکٹر صاحب کے الفاظ ! وہ کیا چاہتے ہیں؟
اس نظام سیاست میں اور نظام انتخاب میں آئینیت اور دستوریت کا فقدان ہو چکا ہے۔ اس کو بحال کرانا چاہتا ہوں۔ Constitutionality نہیں رہی۔ Law کی Enforcement نہیں رہی۔ ہم اس کو بحال کرانا چاہتے ہیں۔ اس ملک سے Rule of Law ختم ہو گیا ہے ہم اس کو بحال کرانا چاہتے ہیں۔ عدالتوں کے فیصلوں کا نفاذ ختم ہو گیا ہے ہم اس کی بحالی آئین کے مطابق کرانا چاہتے ہیں۔ اس ملک کا طرز حکمرانی کرپشن پر مبنی ہو گیا ہے گورنمنٹ مایوس کن حد تک معطل ہے۔ ہم اسے گڈ گورنمنٹس میں بدلنا چاہتے ہیں۔ ہماری معیشت پگھل رہی ہے۔ سٹیٹ آف اکنامک میلٹ ڈاون تک چلی گئی ہے۔ ہم معیشت کو سنبھالا دینا چاہتے ہیں ہر سطح سے کرپشن کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ میں نہیں چاہتا اس ملک میں کوئی تھانیدار اور کانسٹیبل اس ملک کے غریب سے پیسے مانگے۔ میں پولیس کی تنخواہوں کو دو گنا اور چار گنا بھی کرنا پڑے تو کرنا چاہتا ہوں کہ غریب کا کام رشوت کے بغیر ہوا کرے۔ میں اس ملک کے لاء اینڈ آرڈر کو بحال دیکھنا چاہتا ہوں۔ اس ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ دیکھنا چاہتا ہوں۔ ہم نہ صرف خود غیرمحفوظ ہو گئے بلکہ ہم دہشت گردی کے ایکسپوٹر بن گئے۔ دنیا کو ہم سے تھریٹ ہو گیا ہے۔ یہاں تک کہ انڈونیشیا کے پالی بمبر ، پالی بمبر وہ بھی پاکستان سے پکڑا جاتا ہے ۔ انتہاء ہے۔ چار دن پہلے پشاور ایئر بیس پر حملہ کرنے والے غیر ملکی نظر آتے ہیں ٹیٹوز بنے ہوئے ہیں۔ اور آپ کیا سمجھتے ہیں جو کھیل کراچی میں کھیلا جا رہا ہے اس میں غیر ملکی ہاتھ نہیں ہیں؟ جو اس ملک کو توڑنا چاہتے ہیں
 
جب خود قائد اعظم نے اسلامی شریعت کا پاکستان میں نفاذ نہیں کیا اور نہ ہی اپنی تقاریر میں کہیں اسکا اعلان کیا توآپ بعد میں آنے والے کون ہوتے ہیں پاکستان پر قبضہ کرنے والے؟
میرا دھاگہ پڑھ لیں آپ کی آنکھیں کھل جائینگی
 

حسن نظامی

لائبریرین
میرے خیال میں گفتگو کا اہم ترین حصہ یہ تھا:
قوم فوجی مارشل لاء کے خلاف لڑتی رہی ہےتو سیاسی مارشل لاء کے خلاف بھی لڑے گی۔ ہم چند لوگوں کے انڈر دو پارٹیوں کاآپس کا مک مکا قبول نہیں کریں گے جو بھی کیئر ٹیکر حکومت بنانی ہے وہ دو پارٹیاں بیٹھ کر فیصلہ نہیں کر سکتیں۔ آئین کی بیسویں ترمیم کے مطابق وہ بیٹھیں، ایگریمنٹ کریں، مگر آئین یکسر منع نہیں کرتا کہ اور نہ بیٹھیں۔
اس میں پاکستان کی عدلیہ بھی بیٹھے، فواج پاکستان بھی بیٹھیں (جنہوں نے عدل فراہم کرنا ہے جنہوں نے امن و امان کی ضمانت فراہم کرنی ہے) اور اندر اور باہر پارلیمنٹ کے سارے سٹیک ہولڈر بیٹھیں، اور مل کر
ایسے لوگوں کو مقرر کریں جو انتخابات صرف کروائیں ہی نہیں بلکہ پہلے نظام آئین کے مطابق درست کریں اور پھر آئین کے مطابق انتخابات کروائیں۔
 
شعبان نظامی بھائی ۔۔۔ مجھے آپ کی بات سمجھ میں نہیں آئی ۔۔۔ ! ادھر آپ کہہ رہے ہیں کہ

اور دوسری طرف انہی خصائل کی حامل جماعت سے پہلے ہی سے کھلم کھلا گٹھ جوڑ ۔۔۔ ! کیا یہ قول و فعل کا کھلا تضاد نہیں ہے ۔۔۔ ۔؟
دیکھیئے ڈاکٹر صاحب نے ایک ایجنڈا دیا اب اس کی کوئی حمایت کرے تو اسے کیا کہا جائے۔ اور ایک بات یاد رہے کہ ڈاکٹر صاحب نے بنیادی طور پر نظام کو غلط کہا ہے اور وہ نظام میں ایسی تبدیلی چاہتے ہیں جس سے کرپٹ لوگ نااہل ہو جائیں۔ جب نظام درست ہو گا تو کرپٹ آدمی جس بھی جماعت سے ہو وہ خود بخود باہر ہو جائے گا۔

دوسرا اتحاد کرنا ایسا بھی برا نہیں ہوا کرتا۔ خود حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مدینہ کے یہود اور قبائل سے اتحاد کیا۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جانتے بھی تھے کہ یہود نے ہی مدینہ کی معیشت کو سودی نظام میں جکڑ رکھا ہے لیکن پھر بھی ہجرت مدینہ کے بعد ان سے معاہدہ کیا۔صلح حدیبیہ کی مثال بھی آپ کے سامنے ہے۔

لہذا میں پھر یہی کہوں گا کہ جب سسٹم درست ہو گا اور قانون بالا ہو گا تو پھر ہر چیز الگ الگ ہو جائے گی۔ ذات، برادری، پارٹی کی بنا پر کسی کو رعایت نہیں ملے گ۔
 
ش

شہزاد احمد

مہمان
شہزاد احمد بھائی!
ڈاکٹر صاحب نے انتخابی اصلاحات کی بات کی بالفرض وہ ساری کی ساری پوری ہو جاتی ہیں اور احتساب ِ بے لاگ شروع ہو جاتا ہے تو اتحاد کا یہ ہرگز مطلب نہیں ہو گا کہ ایم کیو ایم ہماری اتحادی ہے تو اسے چھوڑ دیں اور نون لیگ اور پی پی پی کو رگڑیں۔
یہ تو بعد کی باتیں ہیں حضرت! بات "تاثر" کی بھی ہوا کرتی ہے ۔۔۔ ایم کیو ایم سے ہمیں خدا واسطے کا بیر نہیں ہے لیکن اس جماعت کا شمار عمومی طور پر ایسی جماعتوں میں کیا جاتا ہے جن کی شہرت کوئی خاص اچھی نہیں ہے ۔۔۔ ڈاکٹر صاحب بہتر جانتے ہوں گے لیکن ہماری دانست میں ایسی جماعت کو ساتھ بٹھا کر، جو حکومتی اتحاد میں اب بھی شامل ہے، انقلاب کی بات کرنا، کچھ عجیب معلوم ہوتا ہے۔ بہرحال، یہ تو ایک رائے ہے اور ضروری نہیں ہے کہ درست بھی ہو ۔۔۔ دیکھتے ہیں چودہ جنوری تک کیا صورتِ حال بنتی ہے!
 
Top