23 دسمبر، مینار پاکستان ،سیاست نہیں ریاست بچاؤ اور علامہ طاہرالقادری

اسد عباسی

محفلین
جو چیز عملیاتی طور پر ناممکن ہے یعنی دین، سیاست اور ریاست کی شراکت تو اسکو آپ بحث برائے بحث کیسے کہہ سکتے ہیں؟ جیسا کہ 2 جمع 2 ہمیشہ 4 ہی آئے گا۔ 5 یا 6 نہیں ہو جائے گا!
جدا ھو دیں سیاست سے تو بن جاتی ھے چنگیزی !
 

arifkarim

معطل
دین اور ریاست الگ چیزیں اور جگہ ھوں گی مسلمانوں میں اور خصوصاّ پاکستان میں ایسا کبھی نہیں ھو سکتا کہ یہ ملک تو بنا ھی لاالہ اللہ پر ھے۔
جب خود قائد اعظم نے اسلامی شریعت کا پاکستان میں نفاذ نہیں کیا اور نہ ہی اپنی تقاریر میں کہیں اسکا اعلان کیا توآپ بعد میں آنے والے کون ہوتے ہیں پاکستان پر قبضہ کرنے والے؟
 

اسد عباسی

محفلین
موجودہ حالات میں یہ بحث برائے بحث ہے
انسانیت ، ملک اور قوم کو بچانا اولین فرض ہے چاہے وہ کسی بھی صورت میں ہو
تو آپ غور کریں کہ ڈاکٹر صاحب بھی ریاست بچانے کی ھی بات کر رھے ھیں وہ الگ بات ھے کہ لوگ اس بات کو بھی ایک ملا کی بات سمجھ رھے ھیں جبکہ وہ اس میں مغربی ممالک کے بھی حوالے دے رھے ھیں۔
 

اسد عباسی

محفلین
جب خود قائد اعظم نے اسلامی شریعت کا پاکستان میں نفاذ نہیں کیا اور نہ ہی اپنی تقاریر میں کہیں اسکا اعلان کیا توآپ بعد میں آنے والے کون ہوتے ہیں پاکستان پر قبضہ کرنے والے؟
جناب قائد اعظم نے ایک تقریر میں فرمایا تھا کہ پاکستان کا سپریم لا قرآن اور حدیث ھو گا میں اس کا لنک تلاش کر کے آپ کے لئے ضرور شیئر کروں گا۔
 

arifkarim

معطل
جناب قائد اعظم نے ایک تقریر میں فرمایا تھا کہ پاکستان کا سپریم لا قرآن اور حدیث ھو گا میں اس کا لنک تلاش کر کے آپ کے لئے ضرور شیئر کروں گا۔
یہ بالکل جھوٹ ہے۔ قائد اعظم نے کہیں بھی اسلامی شریعت کے نفاذ کے حق میں کہیں بھی بات نہیں کی۔ انہوں نے دیگر تقاریر میں یہ بھی فرمایا تھا کہ پاکستان میں تمام مسلمان اور اقلیتوں کو برابر سیاسی اور سماجی حقوق و فرائض دئے جائیں گے۔ اسکا عملی مظاہرہ آپنے پاکستان کی پہلی کابینہ میں تمام مذاہب کے وزراء کو رکھ کر کیا۔ جہاں ہندو، مسلمان، قادیانی، عیسائی سب برابر تھے۔ آجکل کی طرح کے حالات نہیں تھے اسوقت!
Wajahat Masood cited references from several books quoting from Jinnah’s speeches that promote a tolerant Pakistan where religious minorities had equal rights.​
He said the Quaid had objected to slogan Pakistan ka matlab kia, La ilaha illallah. Quoting from Malik Ghulam Nabi’s book Daghon ki Bahar he said during his last address to All India Muslim League in December, 1947, a man had asked the Quaid if the slogan was the foundation of Pakistan’s ideology. The Quaid had told him that was not what Pakistan stood for, Masood said.​
 

اسد عباسی

محفلین
یہ بالکل جھوٹ ہے۔ قائد اعظم نے کہیں بھی اسلامی شریعت کے نفاذ کے حق میں کہیں بھی بات نہیں کی۔ انہوں نے دیگر تقاریر میں یہ بھی فرمایا تھا کہ پاکستان میں تمام مسلمان اور اقلیتوں کو برابر سیاسی اور سماجی حقوق و فرائض دئے جائیں گے۔ اسکا عملی مظاہرہ آپنے پاکستان کی پہلی کابینہ میں تمام مذاہب کے وزراء کو رکھ کر کیا۔ جہاں ہندو، مسلمان، قادیانی، عیسائی سب برابر تھے۔ آجکل کی طرح کے حالات نہیں تھے اسوقت!


Wajahat Masood cited references from several books quoting from Jinnah’s speeches that promote a tolerant Pakistan where religious minorities had equal rights.


He said the Quaid had objected to slogan Pakistan ka matlab kia, La ilaha illallah. Quoting from Malik Ghulam Nabi’s book Daghon ki Bahar he said during his last address to All India Muslim League in December, 1947, a man had asked the Quaid if the slogan was the foundation of Pakistan’s ideology. The Quaid had told him that was not what Pakistan stood for, Masood said.

http://tribune.com.pk/story/420973/...is-should-know-quaids-aug-11-speech-by-heart/
محترم بالکل آپ نے ٹھیک فرمایا پاکستان میں تمام اقلیتوں کو برابر حقوق حاصل ھیں اور سہی فرمایا کہ قائداعظم نے ایسا فرمایا ھے مگر آپ یقیناّ جانتے ھوں گے کہ یہ عین اسلامی اصول ھی ھیں اور آئندہ بھی تمام اقلیتوں کو برابر حقوق ملتے رھیں گے چاھے وہ ہندو ھو عیسائی ھو قادیانی ھو یا کوئی بھی اور اقلیت ھو۔اور کیا آج پارلیمنٹ میں تمام اقلیتوں کے نمائندے موجود نہیں ھیں ؟
 

اسد عباسی

محفلین
یہ بالکل جھوٹ ہے۔ قائد اعظم نے کہیں بھی اسلامی شریعت کے نفاذ کے حق میں کہیں بھی بات نہیں کی۔ انہوں نے دیگر تقاریر میں یہ بھی فرمایا تھا کہ پاکستان میں تمام مسلمان اور اقلیتوں کو برابر سیاسی اور سماجی حقوق و فرائض دئے جائیں گے۔ اسکا عملی مظاہرہ آپنے پاکستان کی پہلی کابینہ میں تمام مذاہب کے وزراء کو رکھ کر کیا۔ جہاں ہندو، مسلمان، قادیانی، عیسائی سب برابر تھے۔ آجکل کی طرح کے حالات نہیں تھے اسوقت!


Wajahat Masood cited references from several books quoting from Jinnah’s speeches that promote a tolerant Pakistan where religious minorities had equal rights.


He said the Quaid had objected to slogan Pakistan ka matlab kia, La ilaha illallah. Quoting from Malik Ghulam Nabi’s book Daghon ki Bahar he said during his last address to All India Muslim League in December, 1947, a man had asked the Quaid if the slogan was the foundation of Pakistan’s ideology. The Quaid had told him that was not what Pakistan stood for, Masood said.

http://tribune.com.pk/story/420973/...is-should-know-quaids-aug-11-speech-by-heart/
محترم آپ یہ تقریر خصوصاّ 2 منٹ سے ضرور سنیں۔
 

arifkarim

معطل
محترم بالکل آپ نے ٹھیک فرمایا پاکستان میں تمام اقلیتوں کو برابر حقوق حاصل ھیں اور سہی فرمایا کہ قائداعظم نے ایسا فرمایا ھے مگر آپ یقیناّ جانتے ھوں گے کہ یہ عین اسلامی اصول ھی ھیں اور آئندہ بھی تمام اقلیتوں کو برابر حقوق ملتے رھیں گے چاھے وہ ہندو ھو عیسائی ھو قادیانی ھو یا کوئی بھی اور اقلیت ھو۔اور کیا آج پارلیمنٹ میں تمام اقلیتوں کے نمائندے موجود نہیں ھیں ؟
کونسے برابر کے حقوق؟ 1947 سے لیکر ابتک کتنے ہی اقلیتوں کو پاکستان کے نام نہاد اسلامی قوانین کی آڑ میں قتل کیا جا چکا ہے اور انکی املاک کو تباہ کر دیا گیا ہے:
پاکستانی عیسائیوں کیساتھ ظلم و ستم:
http://en.wikipedia.org/wiki/Persecution_of_Christians#Pakistan
پاکستانی قادیانیوں کیساتھ ظلم و ستم:
http://en.wikipedia.org/wiki/Persecution_of_Ahmadis#Pakistan
پاکستانی ہندوؤں کیساتھ ظلم و ستم:
http://en.wikipedia.org/wiki/Persecution_of_Hindus#Pakistan
پاکستانی شیعوں پر ظلم:
http://en.wikipedia.org/wiki/Persecution_of_Shia_Muslims#Pakistan
 
موضوع کچھ اور ہے لیکن یار لوگ اس گویّیے کی طرح۔۔۔ جسے صرف ایک ہی راگ میں کچھ شد بد حاصل ہوتی ہے، چنانچہ وہ ہر غزل، ٹھمری، دادرا، فلمی گیت یا لوگ گیت کی گائیکی میں اسی ایک راگ کو الاپنا شروع کردیتا ہے۔۔۔یہاں بھی اپنی اپنی پسند کا موضوع کھینچ تان کر لے آئے ہیں:D
 
ش

شہزاد احمد

مہمان
علامہ صاحب ماضی میں بھی بڑے بڑے جلسے کرتے رہے ہیں ۔۔۔ اُن کے لیے اس نوع کے عوامی اجتماعات کرنا چنداں دشوار نہیں ۔۔۔ لوگ ہزاروں بلکہ لاکھوں کی تعداد میں اُمڈے چلے آتے ہیں لیکن مسئلہ اتنا سیدھا نہیں ہے ۔۔۔ اس سے قبل وہ روایتی سیاست کے ذریعے بڑی تبدیلی کے خواہش مند تھے لیکن اب صورتِ حال کافی مختلف ہے ۔۔۔ اب جب کہ سبھی بڑی سیاسی جماعتیں ( جن میں مذہبی رجحان رکھنے والی سیاسی جماعتیں بھی شامل ہیں ) ۔۔۔ انتخابات میں حصہ لینے کے لیے آمادہ ہیں تو ایسے موقع پر ۔۔۔ صرف علامہ صاحب کو ہی ریاست کی فکر کیوں لاحق ہو گئی ہے؟ ریاستی اداروں کی بات کی جائے تو عدلیہ پہلے سے زیادہ مضبوط ہو گئی ہے ۔۔۔ بلکہ ضرورت سے بھی کچھ زیادہ ۔۔۔ صوبوں کے بڑے مطالبات کو مختلف آئینی ترامیم کے ذریعے ایڈریس کر لیا گیا ہے ۔۔ ملک ایک فطری انداز میں الیکشن پراسس کی طرف جا رہا ہے ۔۔۔ مارشل لاء کے لگنے کے امکانات بھی نہایت معدوم ہیں ۔۔۔ ایسے میں علامہ صاحب ملکی معاملات چلانے کے لیے موجودہ سیاسی عمل کو بھی بے کار تصور کر رہے ہیں ۔۔۔ سوال یہ ہے کہ اُن کے چاہنے والوں کے ذہن میں بھی آخر ریاست کی بقا کے لیے کوئی لائحہ عمل ہے یا وہ صرف تئیس دسمبر کی تقریر کا ہی انتظار کر رہے ہیں؟
 
ش

شہزاد احمد

مہمان
ہوسکتا ہے کہ ڈاکٹر طاہر القادری صاحب، سسٹم کی بہتری کیلئے کچھ مجوّزہ اصلاحات بھی پیش کریں۔۔۔ دیکھتے ہین 23 دسمبر کوکیا ہوتا ہے :)
کاش وہ ایک دو ماہ قبل یہ اصلاحات عوام کے سامنے رکھ دیتے تاکہ اُن کے جلسے میں وہی لوگ شریک ہوتے جو ان اصلاحات سے متفق ہوتے ۔۔۔ اب جو لوگ آئیں گے وہ تو اُن کے عقیدت مند ہی ہوں گے ۔۔۔
 
کاش وہ ایک دو ماہ قبل یہ اصلاحات عوام کے سامنے رکھ دیتے تاکہ اُن کے جلسے میں وہی لوگ شریک ہوتے جو ان اصلاحات سے متفق ہوتے ۔۔۔ اب جو لوگ آئیں گے وہ تو اُن کے عقیدت مند ہی ہوں گے ۔۔۔
لیکن یہ کوئی عقلمندی نہ ہوتی۔۔۔:)
 
Top