23 دسمبر، مینار پاکستان ،سیاست نہیں ریاست بچاؤ اور علامہ طاہرالقادری

یہ تو بعد کی باتیں ہیں حضرت! بات "تاثر" کی بھی ہوا کرتی ہے ۔۔۔ ایم کیو ایم سے ہمیں خدا واسطے کا بیر نہیں ہے لیکن اس جماعت کا شمار عمومی طور پر ایسی جماعتوں میں کیا جاتا ہے جن کی شہرت کوئی خاص اچھی نہیں ہے ۔۔۔ ڈاکٹر صاحب بہتر جانتے ہوں گے لیکن ہماری دانست میں ایسی جماعت کو ساتھ بٹھا کر، جو حکومتی اتحاد میں اب بھی شامل ہے، انقلاب کی بات کرنا، کچھ عجیب معلوم ہوتا ہے۔ بہرحال، یہ تو ایک رائے ہے اور ضروری نہیں ہے کہ درست بھی ہو ۔۔۔ دیکھتے ہیں چودہ جنوری تک کیا صورتِ حال بنتی ہے!
ایک تو میرا اوپر والا مراسلہ پڑھیں کچھ وضاحت ہو گی مزید یہ کہ اگر پی پی پی اور ن لیگ بھی ساتھ آ جائے تو اسے بھی ویلکم کیا جائے اور اس سے اصلاحات نافذ کرانے میں بہت آسانی ہو گی۔
 
ش

شہزاد احمد

مہمان
ایک تو میرا اوپر والا مراسلہ پڑھیں کچھ وضاحت ہو گی مزید یہ کہ اگر پی پی پی اور ن لیگ بھی ساتھ آ جائے تو اسے بھی ویلکم کیا جائے اور اس سے اصلاحات نافذ کرانے میں بہت آسانی ہو گی۔
بنیادی طور پر ڈاکٹر صاحب کے اس "خطبے" سے اختلاف کرنا میرے لیے مشکل ہے ۔۔۔ بلکہ سچ پوچھیے تو پوری قوم مدت سے کسی ایسے ہی "اصلاحاتی نظام" کی راہ تک رہی ہے ۔۔۔ لیکن ہمارے خیال میں عام انتخابات سے چھ ماہ قبل، جب کہ تمام سیاسی پارٹیاں بھی عام انتخابات کا انعقاد چاہتی ہیں، ایک ایسا "اصلاحاتی نظام" پیش کرنا کہ جس پر بحث ہی اب شروع ہو رہی ہو، اور اس پر بڑی سیاسی پارٹیوں کے بھی تحفظات ہوں، ملکی صورتِ حال کے تناظر میں، مناسب معلوم نہیں ہوتا ۔۔۔ بہرحال، ہر کسی کی اپنی رائے ہے ۔۔۔ امید ہے اس رائے کو رائے ہی سمجھا جائے گا ۔۔۔ یہ رائے اگر بحث برائے بحث کی ذیل میں آتی ہے تو درگزر سے کام لیجیے گا ۔۔۔ شکریہ
 
بنیادی طور پر ڈاکٹر صاحب کے اس "خطبے" سے اختلاف کرنا میرے لیے مشکل ہے ۔۔۔ بلکہ سچ پوچھیے تو پوری قوم مدت سے کسی ایسے ہی "اصلاحاتی نظام" کی راہ تک رہی ہے ۔۔۔ لیکن ہمارے خیال میں عام انتخابات سے چھ ماہ قبل، جب کہ تمام سیاسی پارٹیاں بھی عام انتخابات کا انعقاد چاہتی ہیں، ایک ایسا "اصلاحاتی نظام" پیش کرنا کہ جس پر بحث ہی اب شروع ہو رہی ہو، اور اس پر بڑی سیاسی پارٹیوں کے بھی تحفظات ہوں، ملکی صورتِ حال کے تناظر میں، مناسب معلوم نہیں ہوتا ۔۔۔ بہرحال، ہر کسی کی اپنی رائے ہے ۔۔۔ امید ہے اس رائے کو رائے ہی سمجھا جائے گا ۔۔۔ یہ رائے اگر بحث برائے بحث کی ذیل میں آتی ہے تو درگزر سے کام لیجیے گا ۔۔۔ شکریہ
یہی سوال جب ڈاکٹر صاحب سے پوچھا گیا کہ آپ کی ٹائمنگ ٹھیک نہیں عین الیکشن کے موقع پر آپ اصلاحات کی بات کر رہے ہیں اور نگران حکومت پر ساری ذمہ داری ڈال رہے ہیں تو ڈاکٹر صاحب نے فرمایا
کہ اگر میں دو تین سال پہلے یہی بات کرتا تو سیاسی پارٹیاں اورتجزیہ نگار کہتے کہ میں جمہوریت کو ختم کرنے آیا ہوں اور پی پی پی کو ان کا پانچ سال کا دورانیہ پورا نہیں کرنے دے رہا۔
لہذا ڈاکٹر صاحب کا موقف اس سلسلہ میں یہ ہے کہ انتخابات سے پہلے ہی انتخابی اصلاحات کرنا، یہ سب سے موزوں وقت ہے۔
 

متلاشی

محفلین
ہاں یہ سوال موضوع سے مطابقت رکھتا ہے! یہی تو میں چاہ رہا ہوں۔ اس پر بات کریں۔ آپ کون سی مذہبی، سیاسی جماعتوں کو ساتھ ملا کر چلنے کی بات کر رہے ہیں۔ آخر ایم کیو ایم کو ساتھ ملانے میں نقصان کیا ہے؟
میرے محترم ۔۔۔! ایم کیو ایم کے بارے ہر محبِ وطن جانتا ہے کہ ان کا کردار پاکستان کی تاریخ ۔۔۔ میر جعفر اور میر صادق کا سا ہے ۔۔۔! غندہ گردی بھتہ خوری ۔۔۔ ٹارگٹ کلنگ ۔۔۔منشیات واسلحہ کی سمگلنگ ۔۔۔۔ غرض ہر طرح کی برائی اور غلاظت سے لتھڑی ہوئی ہے یہ جماعت۔۔۔! اس کے را (RAW) کے ساتھ بھی بڑے گہرے مراسم ہیں ۔۔۔ جس کی بدولت یہ پاکستان (خٌصوصا سندھ )میں تخریبی کاروائیاں کرتی رہتی ہے ۔۔۔!
ابھی اسی اعلٰی عدلیہ (جس کو ڈاکٹر صاحب نگران حکومت کے سیٹ اپ میں شامل کرنے کیلئے کہہ رہے ہیں ۔۔۔۔) نے بھی یہ ڈکلئیر کیا ہے کہ ایم کیو ایم بھتہ خوری ، اور ٹارگٹ کلنگ وغیرہ جیسے سنگین جرائم میں ملوث ہے ۔۔۔۔!
ان چشم کشا حقائق بعد آخر ڈاکٹر صاحب کو کیا ضرورت پڑی تھی کہ ایم کیو ایم ساتھ ملایا جاتا ۔۔۔۔؟ بہتر تو یہ تھا کہ ڈاکٹر صاحب پہلے اس ملک کی تمام مکاتبِ فکر کی مذہبی وسیاسی پارٹیوں سے مشاورت کرتے ۔۔۔ ان کے سامنے اپنا ایجنڈا پیش کرتے ۔۔۔ اس کے بعد اس ایجنڈے کو عوام کے سامنے پیش کیا جاتا ۔۔۔۔ !
محترم جس جمہوریت اور سیاست کا حوالہ (دورِ صدیقی، اور دورِ فاروقی) کی مثالیں انہوں نے دی ہیں ۔۔۔۔ اس جمہوریت اور موجودہ جمہوریت میں زمین آسمان کا فرق ہے ۔۔۔ موجودہ جمہوریت میں ہر شخص چاہے چاہے وہ جاہل ہو یا ایک بہت بڑا عالم (حالانکہ قرآن پاک میں ہے کہ جاہل اور عالم کبھی بھی برابر نہیں ہو سکتے )۔۔۔۔ برابر گردانا جاتا ہے ۔۔۔ جبکہ اسلامی جمہوریت میں صرف صاحب الرائے ( جنہیں قرآن و حدیث اور فقہ پر مکمل دسترس ہو ) افراد ہی اپنا ووٹ کاسٹ کرتے ہیں ۔۔۔!
جبکہ ڈاکٹر صاحب مغربی طرز کی جمہوریت ( جو پاکستان میں موجود ہے ) کی حمایت کرتے ہیں۔۔۔!
جب وہ(ڈاکٹر صاحب) پاکستان کے آئین کی بات کرتے ہیں۔۔۔۔ جب وہ لاء اینڈ انفورسمنٹ کی بات کرتے ہیں ۔۔۔ تو وہ یہ بات بھی بھول جاتے ہیں کہ خود پاکستان کا آئین ہی اصلاح طلب ہے ۔۔۔! اس میں بے شمار شقیں ایسی ڈالی گئیں ہیں جو حقیقی جمہوریت (اسلامی جمہوریت) کے متصادم ہیں ۔۔۔!
 

حسن نظامی

لائبریرین
لہذا ڈاکٹر صاحب کا موقف اس سلسلہ میں یہ ہے کہ انتخابات سے پہلے ہی انتخابی اصلاحات کرنا، یہ سب سے موزوں وقت ہے۔
موزونیت اور غیر موزونیت ایک طرف !
اصل معاملہ یہ ہے کہ اصلاحات کیسے اور کیوں کر ہوں گی ! اور کس کس جگہ کیا کیا تبدیلی کی جائے گی۔
موصوف نے کہا ! میں بھتہ اور برادری ازم ختم کرنا چاہتا ہوں! میں چاہتا ہوں کہ سیاسی جلسوں پر پابندی لگا دی جائے، میں چاہتا ہوں کہ ہر کوئی الیکشن میں حصہ لے سکے۔
یہ بہت حسین خواب ہیں۔ ان پر عمل درآمد کیسے ہوگا۔ لائحہ عمل کیا ہے۔
کیا عدلیہ اور فوجی ادارے یہ کام کر سکتے ہیں؟ کیا پارلیمنٹ میں بیٹھی دو بڑی سیاسی جماعتیں اور دیگر طاقتیں جو اسی لگے بندھے نظام کی عادی ہیں اور اس میں اپنی مضبوط جڑیں رکھتی ہیں ایسا ہونے دیں گی؟
اور کیا یہ راستہ محفوظ ہے ؟ کیئر ٹیکر حکومت کون بنائے گا۔ اگر کیئر ٹیکر حکومت بنانے والوں میں عدلیہ اور فوجی ادارے بھی شامل ہوں تو بھی کیا وہ کیئر ٹیکر حکومت واقعی اتنی باصلاحیت ہوگی کہ فوری اصلاحات کے تحت الیکشن کروا سکے۔
سیاسی جماعتوں کے ووٹرز اور سپورٹرز تو وہی رہیں گے اور وہ ووٹ کے لیے منتخب بھی انہی لوگوں کو کریں گے۔ انہیں کک آؤٹ کیسے کیا جائے گا؟
 
حسن نظامی بھیا! شاید آپ نے مجھے مخاطب کیا تو میرا جواب سیدھا سا ہے۔
عدلیہ آزاد ہے اور آزادی سے فیصلے کر رہی ہے انتظامیہ ان کے فیصلوں پر عمل درآمد کرائے۔
نیب اگر کرپشن کی رپورٹ دے سکتا ہے تو کرپشن کرنے والے لوگوں کے نام بھی بتا سکتا ہے انہیں فورا جا لیا جائے۔
الیکشن کمشنر کو اختیارات دیئے جائیں تاکہ وہ فیصلے کرنے میں آزاد ہے۔


ان چیزوں پر عمل درآمد کرانے کے لیے کیئر ٹیکر گورنمنٹ باصلاحیت بنائی جائے۔ اسے بنانے کے لیے ڈاکٹر صاحب نے اشارہ دیا کہ ملک کے تمام سٹیک ہولڈرز کو اس میں شامل کیا جائے۔ قدرے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ہر ہر طبقہ کی نمائندگی ممکن بنائی جائے۔ اگر سرمایہ دار ملک کی آبادی کا ایک فیصد ہیں تو حکومت میں بھی ان کی ایک فی صد ہی نمائندگی ہو۔ علی ھذا القیاس
 

متلاشی

محفلین
محمود احمد غزنوی بھائی ۔۔۔ آپ تو ہر دفعہ بس ‘‘پر مزاح ’’ کی ریٹنگ دے کر موضوع سے کنارہ کش ہوجاتے ہیں۔۔۔! اگر میرے کسی مندرجات سے آپ کو اتفاق نہ ہو تو آپ اس کو نشان زد کر سکتے ہیں۔۔۔!
جب مثبت اور تعمیری بحث ہو رہی ہو تو کسی کی بھی پوسٹ کر ‘‘پر مزاح’’ کی ریٹنگ دینا میرے نزدیک تو غیر شائستہ حرکت ہے ۔۔۔!
 
محمود احمد غزنوی بھائی ۔۔۔ آپ تو ہر دفعہ بس ‘‘پر مزاح ’’ کی ریٹنگ دے کر موضوع سے کنارہ کش ہوجاتے ہیں۔۔۔ ! اگر میرے کسی مندرجات سے آپ کو اتفاق نہ ہو تو آپ اس کو نشان زد کر سکتے ہیں۔۔۔ !
جب مثبت اور تعمیری بحث ہو رہی ہو تو کسی کی بھی پوسٹ کر ‘‘پر مزاح’’ کی ریٹنگ دینا میرے نزدیک تو غیر شائستہ حرکت ہے ۔۔۔ !
متلاشی بھائی آپ ناراض نہ ہوں ۔ مجھے کچھ پرمزاح لگتا ہے تو میں یہ ریٹنگ دیتا ہوں ورنہ نہیں۔ آپ اس سے یہ قطعاّ نہ سمجھئے گا کہ آپکی پوسٹس پرمزاح ہوتی ہیں، آپ یقیناّ بہت سنجیدگی سے کسی بھی موضوع پر اظہارِ خیال کر رہے ہوتے ہیں۔ لیکن اگر مجھے ان میں کبھی کبھی کوئی مزاح کا پہلو نظر آجاتا ہے تو اسے میرا ہی قصور سمجھئے۔ حسن تو دیکھنے والے کی نظر میں ہوتا ہے۔ جیسا کہ ایک شعر ہے:
یہ اپنی مستی ہے جس نے مچائی ہے ہلچل
نشہ شراب میں ہوتا تو ناچتی بوتل۔۔۔
بس یہی سمجھ لیجئے کہ آجکل میری رگِ مزاح کچھ درست طور پر کام نہیں کر رہی، موقع بے موقع پھڑکتی رہتی ہے۔۔۔براہِ کرم آپ اسے استہزاء یا طنز ہرگز مت سمجھئے گا۔ بہرحال اگر آپ کو برا لگا ہو تو معذرت۔:bighug:
 

arifkarim

معطل
میرا دھاگہ پڑھ لیں آپ کی آنکھیں کھل جائینگی
چنیدہ من پسند جملوں کے حوالے دے دینے سے آپکی بات میں وزن نہیں پڑھ جائے گا۔ قائد اعظم ایک لبرل شخصیت تھے اور انکے تمام مسلمین و غیر مسلمین جنہوں نے تحریک پاکستان میں اپنا رول ادا کیا کیساتھ مثبت تعلقات رکھے۔ چاہے وہ قادیانیوں کے لیڈران ہوں یا عیسائیوں کے پادری، آپنے سب کو پاکستانی شہری تسلیم کیا اور برابری کے حقوق و فرائض پیش کرتے ہوئے پاکستان کی پہلی کابینہ میں ایک ایک وزیر ان اقلیتی کمیونیٹیز سے منتخب کیا!
 

حسن نظامی

لائبریرین
میرے محترم ۔۔۔ ! ایم کیو ایم کے بارے ہر محبِ وطن جانتا ہے کہ ان کا کردار پاکستان کی تاریخ ۔۔۔ میر جعفر اور میر صادق کا سا ہے ۔۔۔ ! غندہ گردی بھتہ خوری ۔۔۔ ٹارگٹ کلنگ ۔۔۔ منشیات واسلحہ کی سمگلنگ ۔۔۔ ۔ غرض ہر طرح کی برائی اور غلاظت سے لتھڑی ہوئی ہے یہ جماعت۔۔۔ ! اس کے را (RAW) کے ساتھ بھی بڑے گہرے مراسم ہیں ۔۔۔ جس کی بدولت یہ پاکستان (خٌصوصا سندھ )میں تخریبی کاروائیاں کرتی رہتی ہے ۔۔۔ !
ابھی اسی اعلٰی عدلیہ (جس کو ڈاکٹر صاحب نگران حکومت کے سیٹ اپ میں شامل کرنے کیلئے کہہ رہے ہیں ۔۔۔ ۔) نے بھی یہ ڈکلئیر کیا ہے کہ ایم کیو ایم بھتہ خوری ، اور ٹارگٹ کلنگ وغیرہ جیسے سنگین جرائم میں ملوث ہے ۔۔۔ ۔!


بالکل درست!
ان چشم کشا حقائق بعد آخر ڈاکٹر صاحب کو کیا ضرورت پڑی تھی کہ ایم کیو ایم ساتھ ملایا جاتا ۔۔۔ ۔؟

جہاں تک میرا خیال ہے ڈاکٹر صاحب نے ایم کیو ایم کو ساتھ نہیں ملایا ! میں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں۔ یہ محبت کی "جپھی" انہوں نے خود ہی ڈالی ہے۔اب اگر کوئی ڈاکٹر صاحب کے موقف سے بالکل اتفاق کرتے ہوئے اپنے 50 ارکان پر مشتمل وفد کو ان کے جلسے میں بھیجے ان کی باضابطہ حمایت کا اعلان کرے تمام کارکنان کو ان کے جلسے میں شریک ہونے کا کہے۔ تو ڈاکٹر صاحب کو کیا کرنا چاہیے؟ ہاں 23 دسمبر کا ایجنڈا سننے کے بعد ایم کیو ایم کے ہاتھوں کے توتے ضرور اڑے ہوں گے۔
بہتر تو یہ تھا کہ ڈاکٹر صاحب پہلے اس ملک کی تمام مکاتبِ فکر کی مذہبی وسیاسی پارٹیوں سے مشاورت کرتے ۔۔۔ ان کے سامنے اپنا ایجنڈا پیش کرتے ۔۔۔ اس کے بعد اس ایجنڈے کو عوام کے سامنے پیش کیا جاتا ۔۔۔ ۔ !
کن مکاتب فکر کی کن مذہبی و سیاسی پارٹیوں کی بات کر رہے ہیں! کچھ چلے ہوئے کارتوس ہیں اور کچھ سڑے ہوئے انڈے۔ جن کو اپنے مامے چاچے سے فرصت نہیں وہ ایسے شخص کا ایجنڈا سننے کو تیار ہو جاتے جس کو اپنے تئیں وہ معقول بندہ ہی نہیں سمجھتے! اس کا ایجنڈا کیا خاک سنتے اور کیا خاک سمجھتے ۔
اور یہ بھی زیر غور رہے کہ انتخابی نظام کی اس خرابی اور 23 دسمبر کے ایجنڈے کا چرچا بہرحال ہورہا تھا۔ اور بہت سارے مشائخ ، علماء اور مختلف مکاتب فکر کے رہنماؤں کی جلسے میں موجودگی ان کی حمایت نہیں تو اور کیا ہے۔ ؟
اور پھر !
پہلے تمام لوگوں کے آگے انفرادی طور پر پیش کرنے کا کیا فائدہ ہوجانا تھا؟
اب ایجنڈا سامنے ہے۔ جس نے موافقت یا مخالفت کرنی ہے کھل کے کرے گا۔
محترم جس جمہوریت اور سیاست کا حوالہ (دورِ صدیقی، اور دورِ فاروقی) کی مثالیں انہوں نے دی ہیں ۔۔۔ ۔ اس جمہوریت اور موجودہ جمہوریت میں زمین آسمان کا فرق ہے ۔۔۔ موجودہ جمہوریت میں ہر شخص چاہے چاہے وہ جاہل ہو یا ایک بہت بڑا عالم (حالانکہ قرآن پاک میں ہے کہ جاہل اور عالم کبھی بھی برابر نہیں ہو سکتے )۔۔۔ ۔ برابر گردانا جاتا ہے ۔۔۔ جبکہ اسلامی جمہوریت میں صرف صاحب الرائے ( جنہیں قرآن و حدیث اور فقہ پر مکمل دسترس ہو ) افراد ہی اپنا ووٹ کاسٹ کرتے ہیں ۔۔۔ !


جبکہ ڈاکٹر صاحب مغربی طرز کی جمہوریت ( جو پاکستان میں موجود ہے ) کی حمایت کرتے ہیں۔۔۔ !
یہ بھی ایک کھلا الزام ہے ! کہ ڈاکٹر صاحب اسلامی جمہوریت کی بجائے مغربی جمہوریت کی حمایت کرتے ہیں۔ یہ موضوع فی الوقت اس بحث کامتحمل نہیں ہے۔ ورنہ میں آپ سے اس موقف پر دلائل مانگتااور پھر بات ہوتی۔
جب وہ(ڈاکٹر صاحب) پاکستان کے آئین کی بات کرتے ہیں۔۔۔ ۔ جب وہ لاء اینڈ انفورسمنٹ کی بات کرتے ہیں ۔۔۔ تو وہ یہ بات بھی بھول جاتے ہیں کہ خود پاکستان کا آئین ہی اصلاح طلب ہے ۔۔۔ ! اس میں بے شمار شقیں ایسی ڈالی گئیں ہیں جو حقیقی جمہوریت (اسلامی جمہوریت) کے متصادم ہیں ۔۔۔ !
اب آپ آئین پر چڑھ دوڑے ہیں۔ میں کیا کروں؟ آئین پر تو فی الوقت بحث رہنے ہی دیں۔ کم از کم پارلیمنٹ کے منتخب نمائندوں کے متعلق جو آئین کی روشنی میں ڈاکٹر صاحب نے پڑھا وہ ۔۔ کم از کم غلط نہیں ہے اگر آپ کو اس پر اعتراض ہے۔ یعنی آرٹیکل 62، 62 وغیرہ پر تو ضرور تبصرہ کیجیے۔ اگر کہیں تو آرٹیکل بھی یہاں لا کر سامنے رکھ دیتا ہوں۔
 

حسن نظامی

لائبریرین
لو جی سرکار آئین کی آرٹیکل نمبر 62 : مجلس شوری یعنی پارلیمنٹ ممبر کے متعلق بحث کرتی ہے اور یہ کہتی ہے:​
[62. Qualifications for membership of Majlis-e-Shoora (Parliament):
(1) A person shall not be qualified to be elected or chosen as a member of Majlis-e-Shoora (Parliament) unless-
(a) he is a citizen of Pakistan;
(b) he is, in the case of the National Assembly, not less than twenty -five years of age and is enroled as a voter in any electoral roll in-
(i) any part of Pakistan, for election to a general seat or a seat reserved for non-Muslims; and
(ii) any area in a Province from which she seeks membership for election to a seat reserved for women.
(c) he is, in the case of Senate, not less than thirty years of age and is enrolled as a voter in any area in a Province or, as the case may be, the Federal Capital or the Federally Administered Tribal Areas, from where he seeks membership;
(d) he is of good character and is not commonly known as one who violates Islamic Injunctions;
(e) he has adequate knowledge of Islamic teachings and practises obligatory duties prescribed by Islam as well as abstains from major sins ;
(f) he is sagacious, righteous and non-profligate, honest and ameen, there being no declaration to the contrary by a court of law;
(g) he has not, after the establishment of Pakistan, worked against the integrity of the country or opposed the ideology of Pakistan.

(2) The disqualifications specified in paragraphs (d) and (e) shall not apply to a person who is a non-Muslim, but such a person shall have good moral reputation.]

[63. Disqualifications for membership of Majlis-e-Shoora (Parliament):
(1) A person shall be disqualified from being elected or chosen as, and from being, a member of the Majlis-e-Shoora (Parliament), if:-
(a) he is of unsound mind and has been so declared by a competent court; or
(b) he is an undischarged insolvent; or
(c) he ceases to be a citizen of Pakistan, or acquires the citizenship of a foreign State; or
(d) he holds an office of profit in the service of Pakistan other than an office declared by law not to disqualify its holder; or
(e) he is in the service of any statutory body or any body which is owned or controlled by the Government or in which the Government has a controlling share or interest; or
(f) being a citizen of Pakistan by virtue of section 14B of the Pakistan Citizenship Act, 1951 (II of 1951), he is for the time being disqualified under any law in force in Azad Jammu and Kashmir from being elected as a member of the Legislative Assembly of Azad Jammu and Kashmir; or
(g) he has been convicted by a court of competent jurisdiction for propagating any opinion, or acting in any manner, prejudicial to the ideology of Pakistan, or the sovereignty, integrity or security of Pakistan, or morality, or the maintenance of public order, or the integrity or independence of the judiciary of Pakistan, or which defames or brings into ridicule the judiciary or the Armed Forces of Pakistan, unless a period of five years has elapsed since his release; or
(h) he has been, on conviction for any offence involving moral turpitude, senteced to imprisonment for a term of not less than two years, unless a period of five years has elapsed since his release; or
(i) he has been dismissed from the service of Pakistan or service of a corporation or office set up or, controlled, by the Federal Government, Provincial Government or a Local Government on the grounds of misconduct, unless a period of five years has elapsed since his dismissal; or
(j) he has been removed or compulsorily retired from the service of Pakistan or service of a corporation or office set up or controlled by the Federal Government, Provincial Government or a Local Government on the ground of misconduct, unless a period of three years has elapsed since his removal or compulsory retirement; or
(k) he has been in the service of Pakistan or of any statutory body or any body which is owned or controlled by the Government or in which the Government has a controlling share or interest, unless a period of two years has elapsed since he ceased to be in such service; or
(l) he, whether by himself or by any person or body of persons in trust for him or for his benefit or on his account or as a member of a Hindu undivided family, has any share or interest in a contract, not being a contract between a cooperative society and Government, for the supply of goods to, or for the execution of any contract or for the performance of any service undertaken by, Government:
Provided that the disqualification under this paragraph shall not apply to a person-
(i) where the share or interest in the contract devolves on him by inheritance or succession or as a legatee, executor or administrator, until the expiration of six months after it has so devolved on him;
(ii) where the contract has been entered into by or on behalf of a public company as defined in the Companies Ordinance, 1984 (XLVII of 1984), of which he is a share-holder but is not a director holding an office of profit under the company; or
(iii) where he is a member of a Hindu undivided family and the contract has been entered into by any other member of that family in the course of carrying on a separate business in which he has no share or interest; or
Explanation.- In this Article "goods" does not include agricultural produce or commodity grown or produced by him or such goods as he is, under any directive of Government or any law for the time being in force, under a duty or obligation to supply.
(m) he holds any office of profit in the service of Pakistan other than the following offices, namely :-
(i) an office which is not whole time office remunerated either by salary or by fee;
(ii) the office of Lumbardar, whether called by this or any other title;
(iii) the Qaumi Razakars;
(iv) any office the holder whereof, by virtue of such office, is liable to be called up for military training or military service under any law providing for the constitution or raising of a Force; or
(n) he has obtained a loan for an amount of two million rupees or more, from any bank, financial institution, cooperative society or cooperative body in his own name or in the name of his spouse or any of his dependents, which remains unpaid for more than one year from the due date, or has got such loan written off; or
(o) he or his spouse or any of his dependents has defaulted in payment of government dues and utility expenses, including telephone, electricity, gas and water charges in excess of ten thousand rupees, for over six months, at the time of filing his nomination papers; or
(p) he is for the time being disqualified from being elected or chosen as a member of the Majlis-e-Shoora (Parliament) or of a Provincial Assembly under any law for the time being in force.
For the purposes of this paragraph "law" shall not include an Ordinance promulgated under Article 89 or Article 128.
(2) If any question arises whether a member of Majlis-e-Shoora (Parliament) has become disqualified from being a member, the Speaker or, as the case may be, the Chairman shall, unless he decides that no such question has arisen, refer the question to the Election Commission within thirty days and should he fail to do so within the aforesaid period it shall be deemed to have been referred to the Election Comission.

(3) The Election Commission shall decide the question within ninety days from its receipt or deemed to have been received and if it is of the opinion that the member has become disqualified, he shall cease to be a member and his seat shall become vacant.]
 

اسد عباسی

محفلین

متلاشی

محفلین
["حسن نظامی, post: 1150415, member: 555"]


جہاں تک میرا خیال ہے ڈاکٹر صاحب نے ایم کیو ایم کو ساتھ نہیں ملایا ! میں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں۔ یہ محبت کی "جپھی" انہوں نے خود ہی ڈالی ہے۔اب اگر کوئی ڈاکٹر صاحب کے موقف سے بالکل اتفاق کرتے ہوئے اپنے 50 ارکان پر مشتمل وفد کو ان کے جلسے میں بھیجے ان کی باضابطہ حمایت کا اعلان کرے تمام کارکنان کو ان کے جلسے میں شریک ہونے کا کہے۔ تو ڈاکٹر صاحب کو کیا کرنا چاہیے؟ ہاں 23 دسمبر کا ایجنڈا سننے کے بعد ایم کیو ایم کے ہاتھوں کے توتے ضرور اڑے ہوں گے۔
زبردستی جھپی والی بات کہاں سے نکال لی آپ نے ۔۔۔!
جناب تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے ۔۔۔!
طاہر القادری صاحب نے تو کھلم کھلا ایم کیو ایم کا شکریہ ادا کیا ہے اور الطاف بھائی سے خاص گفتگو بھی کی ہے ۔۔ اور ایک دوسرے کی مکمل مدد کرنے کی یقین دہانی بھی کروائی گئی ہے ۔۔۔ حوالے کیلئے آج کا ایکسپریس اخبار دیکھیں ۔۔۔
اور دوسرے ایم کیو ایم کے ہاتھوں کے طوطے نہیں اُڑے بلکہ وہ تو 14 جنوری کی کال کے منتظر ہیں ۔۔۔ کبھی اخبارات بھی ملاحظہ فرما لیا کریں۔۔۔!
کن مکاتب فکر کی کن مذہبی و سیاسی پارٹیوں کی بات کر رہے ہیں! کچھ چلے ہوئے کارتوس ہیں اور کچھ سڑے ہوئے انڈے۔ جن کو اپنے مامے چاچے سے فرصت نہیں وہ ایسے شخص کا ایجنڈا سننے کو تیار ہو جاتے جس کو اپنے تئیں وہ معقول بندہ ہی نہیں سمجھتے! اس کا ایجنڈا کیا خاک سنتے اور کیا خاک سمجھتے ۔
یار میں آپ کی زبان سے یہی سننا چاہتا تھا۔۔۔ معقول بندہ نہ سمجھنے کی کچھ وجوہات بھی ہوتی ہیں۔۔۔! صرف نظریاتی اختلاف وجہ نہیں ہو سکتی ۔۔۔
اب نظریاتی اختلاف تو آپ کا اور میرا بھی ہے ۔۔۔ لیکن میں بھی آپ کی بات تحمل سے سنتا ہوں اور آپ بھی میری تحمل سے سن کر اس پر اپنی رائے سے نوازتے ہیں۔۔۔! میں وہی وجوہات جاننا چاہتا ہوں ۔۔۔؟
اور یہ بھی زیر غور رہے کہ انتخابی نظام کی اس خرابی اور 23 دسمبر کے ایجنڈے کا چرچا بہرحال ہورہا تھا۔ اور بہت سارے مشائخ ، علماء اور مختلف مکاتب فکر کے رہنماؤں کی جلسے میں موجودگی ان کی حمایت نہیں تو اور کیا ہے۔ ؟
یار ذرا منہاج کے اپنے مشائخ کے علاوہ چند بااثر اور مشہور مذہبی علماء و مشائخ کانام باثبوت پیش کردیں تو فقیر آپ کا شکر گذار ہو گا۔۔۔!

اور پھر !
پہلے تمام لوگوں کے آگے انفرادی طور پر پیش کرنے کا کیا فائدہ ہوجانا تھا؟
اب ایجنڈا سامنے ہے۔ جس نے موافقت یا مخالفت کرنی ہے کھل کے کرے گا۔

انفرادی طور پر پیش کرنے کا فائدہ یہ ہوتا کہ ڈاکٹر صاحب کچھ اچھے مشورے مل جاتے ۔۔۔! ویسے بھی سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم بلکہ قرآنِ مجید میں بھی مسلمانوں کو اہم معاملات میں باہمی مشاورت کا حکم دیا ہے ۔۔۔!
اب آپ آئین پر چڑھ دوڑے ہیں۔ میں کیا کروں؟ آئین پر تو فی الوقت بحث رہنے ہی دیں۔ کم از کم پارلیمنٹ کے منتخب نمائندوں کے متعلق جو آئین کی روشنی میں ڈاکٹر صاحب نے پڑھا وہ ۔۔ کم از کم غلط نہیں ہے اگر آپ کو اس پر اعتراض ہے۔ یعنی آرٹیکل 62، 62 وغیرہ پر تو ضرور تبصرہ کیجیے۔ اگر کہیں تو آرٹیکل بھی یہاں لا کر سامنے رکھ دیتا ہوں۔
جناب کیا آپ اس بات سے متفق نہیں ہیں کہ آئینِ پاکستان میں بے شمار غیر اسلامی ، اسلامی اصولوں سے متصادم شقیں ڈالی ہوئی ہیں۔۔۔؟
 

متلاشی

محفلین
علامہ قادری صاحب ان شاء اللہ اہل پاکستان کے لیے امام خمینی کی طرح نوید انقلاب ثابت ہوں گے
محترمہ آپ بھی اب گڑھے مردے اکھاڑنے آ گئی ہیں۔۔۔!
خمینی صاحب نے تو خلفائے راشدین اور ازواجِ مطہرات تک کو نہیں بخشا۔۔۔!
اہلسنت کے وہ تو ہرگز امام نہیں البتہ اہلِ تشیع ضرور انہیں اپنا امام مانتے ہیں۔۔۔!
اگر آپ اہلِ تشیع ہیں پھر آپ کا موقف آپ کیلئے مناسب ہے ۔۔! البتہ طاہر القادری صاحب تو خود کو حنفی المذہب سنی کہتے ہیں۔۔۔!
اگر آپ اہلِ سنت ہیں تو پھر خمینی صاحب کو امام کہنا آپ کو زیب نہیں دیتا۔۔۔!
 
ش

شہزاد احمد

مہمان
یہی سوال جب ڈاکٹر صاحب سے پوچھا گیا کہ آپ کی ٹائمنگ ٹھیک نہیں عین الیکشن کے موقع پر آپ اصلاحات کی بات کر رہے ہیں اور نگران حکومت پر ساری ذمہ داری ڈال رہے ہیں تو ڈاکٹر صاحب نے فرمایا
کہ اگر میں دو تین سال پہلے یہی بات کرتا تو سیاسی پارٹیاں اورتجزیہ نگار کہتے کہ میں جمہوریت کو ختم کرنے آیا ہوں اور پی پی پی کو ان کا پانچ سال کا دورانیہ پورا نہیں کرنے دے رہا۔
لہذا ڈاکٹر صاحب کا موقف اس سلسلہ میں یہ ہے کہ انتخابات سے پہلے ہی انتخابی اصلاحات کرنا، یہ سب سے موزوں وقت ہے۔
دیکھ لیتے ہیں سرکار! ویسے ان دنوں طاہرالقادری صاحب پر سیاسی جماعتوں کی طرف سے تابڑ توڑ حملے کیے جا رہے ہیں ۔۔۔ اور سبھی جماعتیں بشمول تحریکِ انصاف عام انتخابات کا بروقت انعقاد چاہتی ہیں ۔۔۔اب دیکھنا یہ ہے کہ جنوری کے سرد مہینے میں علامہ صاحب لاکھوں لوگوں کو اسلام آباد لے جانے میں کامیاب ہو پائیں گے یا نہیں؟ وہ اس یخ بستہ موسم میں لوگوں کے دلوں کو گرما پائیں گے یا نہیں؟
 

سویدا

محفلین
محترمہ آپ بھی اب گڑھے مردے اکھاڑنے آ گئی ہیں۔۔۔ !
خمینی صاحب نے تو خلفائے راشدین اور ازواجِ مطہرات تک کو نہیں بخشا۔۔۔ !
اہلسنت کے وہ تو ہرگز امام نہیں البتہ اہلِ تشیع ضرور انہیں اپنا امام مانتے ہیں۔۔۔ !
اگر آپ اہلِ تشیع ہیں پھر آپ کا موقف آپ کیلئے مناسب ہے ۔۔! البتہ طاہر القادری صاحب تو خود کو حنفی المذہب سنی کہتے ہیں۔۔۔ !
اگر آپ اہلِ سنت ہیں تو پھر خمینی صاحب کو امام کہنا آپ کو زیب نہیں دیتا۔۔۔ !

بھائی میں آئی نہیں ہوں ، آیا ہوں :battingeyelashes:
آیا سے پھر آپ تانیث نہ سمجھ بیٹھیں کہیں
باقی
امام کا لفظ عرف عام میں استعمال کیا ہے کیونکہ انہیں عرف عام میں امام خمینی ہی کہا جاتا ہے
اگر آپ کو امام کے لفظ سے اختلاف ہے تو میں نے علامہ قادری بھی لکھا تھا آپ نے اس پر تنقید نہ کی
لہذا اس کو مذہبی یا فرقہ وارانہ تناظر میں نہ لیا جائے
اب موضوع کی طرف آیے
یہ میری رائے ہے جس سے آپ کو اختلاف کا مکمل حق ہے
کہ علامہ قادری صاحب کی آمد امام خمینی کا جدید ورژن لگتا ہے
 
Top