11 مئی 2014 ؛ پاکستان تحریک انصاف کے مطالبات

الف نظامی

لائبریرین
  • نیا الیکشن کمشن چاہیےکیونکہ موجود الیکشن کمشن پر سارا پاکستان اعتمادکھوبیٹھاہے۔الیکشن کمشن استعفی دے کیونکہ قوم کو ان پرکوئی اعتماد نہیں۔
  • 4 حلقوں کی فوری طورپرتھمب امپریشن ویریفیکیشن کرواناچاہتےہیں۔
  • 4 حلقوںمیں دھاندلی کےمرتکب لوگوں کی نشان دہی اور ان کو سزا دی جائے۔مینڈیٹ چوری کرنےوالوں کو سزا ملنی چاہیے۔
  • پاکستان کا انتخابی نظام درست کیاجائےاوربائیومیڑک سسٹم لایا جائے
  • اورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دیا جائے۔
  • نگران حکومت 35 پنکچر لگانے والی نہ ہو۔ جو بھی نگران حکومت میں آئے وہ دو سال تک کسی حکومتی عہدے کے لیے نااہل ہو۔
 

الف نظامی

لائبریرین
سونامی کا رخ 23 مئی کو فیصل آباد کی طرف ہوگا۔ہر جمعے الیکشن کمشن کے سامنے مظاہرہ ہوگا۔ اور سونامی رکے گی نہیں۔
 

زیک

تقریباً غائب
تھمب امپریشن ویریفیکیشن بیکار کام ہے جس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا جیسا کہ پہلے ہی ثابت ہو چکا ہے
 

الف نظامی

لائبریرین
  • نیا الیکشن کمشن چاہیےکیونکہ موجود الیکشن کمشن پر سارا پاکستان اعتمادکھوبیٹھاہے۔الیکشن کمشن استعفی دے کیونکہ قوم کو ان پرکوئی اعتماد نہیں۔
یہ وہی مطالبہ ہے جو ڈاکٹر طاہر القادری نے الیکشن سے قبل کیا تھا۔
 
الیکشن میں دھاندلی کا سب سے زیادہ شور تحریک انصاف نے مچایا۔ لیکن ضمنی الیکشن کے نتائج نے دھاندلی کے الزام کے غبارے سے ہوا نکال دی جب تحریک انصاف اپنی جیتی ہوئی سیٹیں ضمنی الیکشن میں ہار گئی ان میں سے دو عمران خان کی اپنی سیٹیں تھیں۔ ایک عمران کی اپنے گھر میانوالی کی سیٹ تھی اور مزے کی بات عمران نے اس سیٹ کی جیت کو اپنے لئے عزت کا مسئلہ بتایا تھا۔
 

الف نظامی

لائبریرین
الیکشن کمیشن کے وفاقی سیکرٹری اور چیئرمین انتخابی اصلاحات نے 11 مارچ 2009ء کو انتخابی تجاویز کی الیکشن کمیشن سے منظوری لے کر اس وقت کے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کو پیش کر دی تھیں، لیکن حکومت نے انہیں سرد خانے میں رکھ چھوڑا۔
الیکشن کمشن نے اپنے اختیارات کو جزوی طور پر بروئے کار لاتے ہوئے 11 مئی 2013ء کے انتخابات کے لیے بیلٹ پیپرز پر None of Above کے کالم کا اضافہ کر دیا اور چیف الیکشن کمشنر نے اس کی منظوری کا عندیہ بھی دے دیا تھا لیکن 18 اپریل 2013ء کو جب بیلٹ پیپرز کی چھپائی شروع ہونے لگی تو پُراسرار طریقے سے یہ کالم نکال دیا گیا۔

اس کے علاوہ الیکشن کمشن نے بیلٹ پیپرز کے لیے کاغذ جرمنی سے درآمد کرنے کا اعلان کیا لیکن اندرونی حقیقت یہ ہے کہ آخری لمحے پر حکومت کے پرنٹنگ پریس نے اس تجویز کو فنی بنیادوں پر نامنظور کر دیا اور عذر یہ پیش کیا کہ ان کی مشینری جرمنی سے درآمد کردہ کاغذ پر پرنٹنگ نہیں کر سکتی۔

جس ادارے نے تکنیکی اور سائنسی بنیادوں پر انمٹ سیاہی تیار کی، اس کی کوششوں پر بھی پانی پھیر دیا گیا اور ریٹرننگ افسران کی ملی بھگت سے پولنگ تھیلوں میں جعلی سیاہی کے پیکٹ رکھوا دیے گئے جس کی وجہ سے نادرا جعلی انگوٹھوں کی تصدیق کرنے میں ناکام رہی۔
پولنگ کا عملہ، پولیس اور بیوروکریسی ان معاملات میں ملوث رہی۔
قوم کو ایسے انتخابی نتائج دیے گئے جن پر تمام سیاسی جماعتوں کو تحفظات رہے۔
 

الف نظامی

لائبریرین
عام انتخابات 2013ءکے دوران پنجاب بھر میں باقاعدہ منظم انداز میں دھاندلی کی گئی
مسلم لیگ (ن) کی جیت یقینی بنانے کے لئے دو سابق اعلیٰ ججز جسٹس (ر) خلیل الرحمان رمدے اور جسٹس (ر) خواجہ شریف پر مبنی ایک’ کمیٹی‘بنائی گئی تھی جو مسلسل ریٹرننگ افسروں کے ساتھ رابطے میں رہی اور ہدایات جاری کرتی رہی۔
یہ انکشاف ملک کے نامور وکیل اور پاکستان پیپلزپارٹی کے سرکردہ رہنما اعتزاز احسن نے روزنامہ ”پاکستان“ سے خصوصی گفتگو کے دوران کیا۔
اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ دھاندلی کے حوالے سے شکایات سننا ٹربیونلز کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے بھی الیکشن کمیشن میں شکایت درج کرائی تھی۔ الیکشن کمیشن کی اجازت سے ریٹرننگ افسر کی جانب سے مال خانے میں جمع کرائے جانیوالے نتائج کی جانچ پڑتال کی تو دھاندلی کا پول کھل گیا۔ ان کے مطابق ضابطے کے تحت ووٹوں کے تھیلے ”سیل“ کرکے محفوظ کئے جانے چاہیے لیکن انکشاف ہوا کہ متعدد تھیلوں کی ”سیلیں“ غائب ہیں۔ اسی طرح جن تھیلوں پر سیلیں موجود تھیں ان میں سے بھی بے شمار ووٹوں کے ”کاونٹر فوائلز“ موجود نہیں تھے اور ووٹوں کی گنتی میں بھی ہیرا پھیری سے کام لیا گیا۔ اعتزاز احسن کا موقف ہے کہ یہ کام دو ریٹائرڈ ججوں کی نگرانی میں کرایا گیا اور اگر پنجاب کے دیگر حلقوں کا ریکارڈ چیک کرایا جائےتو وہاں بھی یہی صورتحال نکلے گی۔
ان کا کہنا ہے کہ وہ اس بارے میں عنقریب ”وائٹ پیپر“ شائع کریں گے جس کے ذریعے ساری تفصیلات عوام کے سامنے رکھ دی جائیں گی۔
 
عام انتخابات 2013ءکے دوران پنجاب بھر میں باقاعدہ منظم انداز میں دھاندلی کی گئی
مسلم لیگ (ن) کی جیت یقینی بنانے کے لئے دو سابق اعلیٰ ججز جسٹس (ر) خلیل الرحمان رمدے اور جسٹس (ر) خواجہ شریف پر مبنی ایک’ کمیٹی‘بنائی گئی تھی جو مسلسل ریٹرننگ افسروں کے ساتھ رابطے میں رہی اور ہدایات جاری کرتی رہی۔
یہ انکشاف ملک کے نامور وکیل اور پاکستان پیپلزپارٹی کے سرکردہ رہنما اعتزاز احسن نے روزنامہ ”پاکستان“ سے خصوصی گفتگو کے دوران کیا۔
اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ دھاندلی کے حوالے سے شکایات سننا ٹربیونلز کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے بھی الیکشن کمیشن میں شکایت درج کرائی تھی۔ الیکشن کمیشن کی اجازت سے ریٹرننگ افسر کی جانب سے مال خانے میں جمع کرائے جانیوالے نتائج کی جانچ پڑتال کی تو دھاندلی کا پول کھل گیا۔ ان کے مطابق ضابطے کے تحت ووٹوں کے تھیلے ”سیل“ کرکے محفوظ کئے جانے چاہیے لیکن انکشاف ہوا کہ متعدد تھیلوں کی ”سیلیں“ غائب ہیں۔ اسی طرح جن تھیلوں پر سیلیں موجود تھیں ان میں سے بھی بے شمار ووٹوں کے ”کاونٹر فوائلز“ موجود نہیں تھے اور ووٹوں کی گنتی میں بھی ہیرا پھیری سے کام لیا گیا۔ اعتزاز احسن کا موقف ہے کہ یہ کام دو ریٹائرڈ ججوں کی نگرانی میں کرایا گیا اور اگر پنجاب کے دیگر حلقوں کا ریکارڈ چیک کرایا جائےتو وہاں بھی یہی صورتحال نکلے گی۔
ان کا کہنا ہے کہ وہ اس بارے میں عنقریب ”وائٹ پیپر“ شائع کریں گے جس کے ذریعے ساری تفصیلات عوام کے سامنے رکھ دی جائیں گی۔
ان الزامات کا ثبوت بھی اعتزاز احسن کو دینا چاہئے تھا۔
 

الف نظامی

لائبریرین
1973ء کے آئین کے تحت جمہوریت کی تلاش میں ہونے والے9انتخابات کے ذریعے پانچ جمہوری جماعتیں مکمل شخصی وراثت بن گئی ہیں۔ یہ نو کی نو خالص جمہوری حکومتیں قوم کو پریشانی، مہنگائی‘ بے روزگاری‘ انصاف کی عدم فراہمی اور دہشت گردی سے نجات دلانے میں مکمل نااہل ثابت ہوئیں۔ آئین کے 32 آرٹیکلز پاکستان کے عوام کے حقوق کی ضمانت دیتے ہیں۔ ان سب سے انحراف کیا گیا۔ 1973ء کا آئین صرف حاکمیت کے قوانین پر مبنی ہے جو کسی نظام کو وضع کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے۔

وزیرستان پاکستان کا حصہ ہے لیکن محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے حکمرانوں نے کبھی اسے پاکستان کا حصہ نہیں سمجھا۔ وہاں نہ پہلے آئین پاکستان کا اطلاق ہوتا تھا اور نہ اب ہو رہا ہے۔ پاکستانی کی پہلی دستور ساز اسمبلی نے 9سال کی کاوشوں کے بعد وحدانی طرز کی بنیاد پر 23مارچ1956ء کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کا آئین نافذ کیا۔ اس طرح8 جون1962 ء کوآئین نافذ کیا گیا تو قبائلی علاقے سرزمین بے آئین تھے۔ اس ملک کے ہر شہری کے بنیادی حقوق کا تحفظ کیا گیا لیکن قبائلی علاقوں کے عوام کے بنیادی حقوق کی یہ آئین ضمانت نہیں دیتا۔
پاکستان میں انتخابات آئین کے آرٹیکل 63, 62, 38, 3, 2.Aکی روح کے مطابق کبھی بھی نہیں ہوئے۔ حکومتیں انتخابات کو آئین کی روح کے مطابق منعقد نہ کروا کر آئین سے انحراف کرتی رہی ہیں۔ الیکشن کمیشن کے اختیارات کے تعین کے بارے میں 1973ء کے دستور میں واضح حکمت عملی طے نہیں ہوئی۔ اسے بڑی رازداری سے تہہ در تہہ آئینی دفعات اور قوانین میں جکڑکے رکھا گیا ہے۔ اس کے تمام فیصلے الیکشن ٹربیونلز ، الیکشن اسٹیبلشمنٹ، ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران، ریٹرننگ افسران، عدالت عالیہ اور عدالت عظمیٰ کے ذریعے کیے جاتے ہیں۔ الیکشن کمیشن کسی حلقے کا انتخاب کالعدم قرار دینے، بعض پولنگ اسٹیشنوں پر ازسرنو پولنگ کرانے، الیکشن عملے کا تقرر کرنے، پولنگ اسٹیشنوں کے لیے جگہ کا تعین کرنے، ضابطہ اخلاق پر عمل درآمد کرانے، کاغذات ِ نامزدگی منظور یا نا منظور کرنے کے تمام مراحل، الیکشن کا رزلٹ تیار کرنے، یا کسی حلقے میں از سر نو گنتی کرانے کا فیصلہ کرنے کا از خود مجاز نہیں ہے۔ اسے الیکشن کے ہر مرحلے پر ریٹرننگ افسران کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ عدلیہ کے ریٹرننگ افسران الیکشن کمیشن کی طرف دیکھنے کے بجائے متعلقہ ہائی کورٹس کے اشارے کے منتظر رہتے ہیں۔
سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ کے دور میں الیکشن کمیشن کے معاملات میں مداخلت کی گئی جو کہ بادی النظر میں آرٹیکل 219کی خلاف ورزی ہے۔ الیکشن کمیشن کو دباو میں رکھا اور سیکرٹری اشتیاق احمد خاں کو بلا وجہ ہراساں کیا گیا۔ اسی بناء پر انہیں اپنے عہدے سے مستعفی ہونا پڑا۔ 18ویں ترمیم کے تحت الیکشن کمیشن پارلیمانی کمیٹی اور پارلیمانی سیاسی جماعتوں کے نرغے میں آگیا۔ انتخابات میں دھاندلی کے شاکی سیاستدانوں اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کو چاہیے کہ 18ویں ترمیم اور آئین کے آرٹیکل 213میں مزید ترامیم کر کے اور آئین کے آرٹیکل 213میں قومی مفادات میں ترمیم کر کے الیکشن کمیشن کی آئندہ انتخابات کے لئے تشکیل نو کرائیں اور اس آئینی اِدارے کو پارلیمانی سیاسی جماعتوں کے اثرو رسوخ سے آزاد کروائیں۔
الیکشن کمیشن کو مالی طور پر خود مختار اور انتظامی طور پر فعال، بااثر اور آزاد بنانے کے لئے صدر پرویز مشرف نے 10مئی 2000ء کو الیکشن آرڈر2000ء کے تحت مکمل آزادی سے ہمکنار کر دیا تھا اور اس سے پہلے کسی جمہوری حکومت نے پاکستان کے الیکشن کمیشن کو بااختیار بنانے کی سعی نہیں کی تھی۔


جمہوری دور میں18ویں ترمیم کے تحت پارلیمانی کمیٹی کے ارکان‘ جنہوں نے آئندہ انتخابات میں حصہ لینا ہوتا ہے‘ الیکشن کمیشن کے ارکان اور چیف الیکشن کمشنر کا تقرر کرتے ہیں اور ان سب کے اپنے اپنے مفادات ہوتے ہیں۔ عمران خان اور ان کے ہمنوا اپوزیشن ارکان کو چاہیے کہ وہ زمینی حقائق کے مطابق آئین میں ترامیم کرائیں اور حکومت سے مطالبہ کریں کہ وہ آئین کے آرٹیکل 213پر نظر ثانی کرتے ہوئے پارلیمانی کمیٹی کے بجائے چیف جسٹس اور چاروں صوبائی ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان پر مشتمل اعلیٰ سطح کا کمیشن بنائے جو چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے ارکان کا تقرر کرے‘ تاکہ الیکشن کمیشن حقیقی معنوں میں خود مختار، آزاد اور بااختیار ہو کر فرائض سر انجام دے سکے۔ اس طرح الیکشن کمیشن پارلیمانی سیاست کے اثر سے آزاد ہو گا اور درست سمت کی طرف گامزن ہو جائے گا۔ عوامی نمائندگی ایکٹ 76کے تحت انتخابات میں ریٹرننگ افسران پر مکمل کنٹرول نہیں ہوتا۔11مئی2013ء کے انتخابات سے پیشتر بھی جسٹس فخرالدین جی ابراہیم پر دبائو رکھا گیا اور ریٹرننگ افسران کی نگاہیں سابق چیف جسٹس کی طرف لگی رہیں اور ان کے خطبات سے الیکشن کمیشن کے ریٹرننگ افسران متاثر ہوتے رہے۔
میرے خیال میں سابق چیف جسٹس کے ریٹرننگ افسران سے خطاب اور بعدازاں انہیں لکھے گئے خطوط سے الیکشن کمیشن اپنی پالیسی کو بروئے کار لانے سے قاصر رہا۔ الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال کے لئے آئین کے آرٹیکل 224میں ترمیم ضروری ہے۔ بھارت میں یہ تجربہ 20سال بعد کامیابی سے ہمکنار ہوا۔ پاکستان میں یہ کام چار پانچ سال میں مکمل ہو سکتا ہے۔ اس سے الیکشن میں دھاندلی کے امکانات ختم ہو سکتے ہیں اور الیکشن میں ووٹنگ کی شرح کا تناسب مزید بڑھ جائے گا۔
 

قیصرانی

لائبریرین
الیکشن کمیشن کے وفاقی سیکرٹری اور چیئرمین انتخابی اصلاحات نے 11 مارچ 2009ء کو انتخابی تجاویز کی الیکشن کمیشن سے منظوری لے کر اس وقت کے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کو پیش کر دی تھیں، لیکن حکومت نے انہیں سرد خانے میں رکھ چھوڑا۔
الیکشن کمشن نے اپنے اختیارات کو جزوی طور پر بروئے کار لاتے ہوئے 11 مئی 2013ء کے انتخابات کے لیے بیلٹ پیپرز پر None of Above کے کالم کا اضافہ کر دیا اور چیف الیکشن کمشنر نے اس کی منظوری کا عندیہ بھی دے دیا تھا لیکن 18 اپریل 2013ء کو جب بیلٹ پیپرز کی چھپائی شروع ہونے لگی تو پُراسرار طریقے سے یہ کالم نکال دیا گیا۔

اس کے علاوہ الیکشن کمشن نے بیلٹ پیپرز کے لیے کاغذ جرمنی سے درآمد کرنے کا اعلان کیا لیکن اندرونی حقیقت یہ ہے کہ آخری لمحے پر حکومت کے پرنٹنگ پریس نے اس تجویز کو فنی بنیادوں پر نامنظور کر دیا اور عذر یہ پیش کیا کہ ان کی مشینری جرمنی سے درآمد کردہ کاغذ پر پرنٹنگ نہیں کر سکتی۔

جس ادارے نے تکنیکی اور سائنسی بنیادوں پر انمٹ سیاہی تیار کی، اس کی کوششوں پر بھی پانی پھیر دیا گیا اور ریٹرننگ افسران کی ملی بھگت سے پولنگ تھیلوں میں جعلی سیاہی کے پیکٹ رکھوا دیے گئے جس کی وجہ سے نادرا جعلی انگوٹھوں کی تصدیق کرنے میں ناکام رہی۔
پولنگ کا عملہ، پولیس اور بیوروکریسی ان معاملات میں ملوث رہی۔
قوم کو ایسے انتخابی نتائج دیے گئے جن پر تمام سیاسی جماعتوں کو تحفظات رہے۔
ان اعتراضات کی بنیاد پر تو پورے الیکشن ہی جعلی نکل رہے ہیں کہ یہ پری پول رگنگ یعنی الیکشن سے قبل ہی دھاندلی ہوئی ہے
 

قیصرانی

لائبریرین
مجھے آج تک یہ بات سمجھ نہیں آ سکی کہ چپراسی بھرتی ہونے کے لئے نہ صرف تعلیم یافتہ بلکہ مزید شرائط کا بھی پابند ہونا پڑتا ہے، قانون سازی کا کام وہ لوگ کیسے کر رہے ہیں جو یا تو انگوٹھا چھاپ ہیں یا جن کی اہلیت ہی نہیں؟
 

الف نظامی

لائبریرین
ان اعتراضات کی بنیاد پر تو پورے الیکشن ہی جعلی نکل رہے ہیں کہ یہ پری پول رگنگ یعنی الیکشن سے قبل ہی دھاندلی ہوئی ہے
آپ الیکشن کی بات کرتے ہیں؟ الیکشن کمشن کی تشکیل ہی غیر آئینی طریقے سے ہوئی تھی جس کی نشان دہی ڈاکٹر طاہر القادری بار بار کرتے رہے لیکن ۔۔۔
 

الف نظامی

لائبریرین
قوم کے مجرم 5 ادارے

میں قوم کو بتانا چاہوں کہ پانچ ادارے قوم کے مجرم ہیں:

  1. قوم کا سب سے بڑا مجرم الیکشن کمیشن آف پاکستان ہے جس میں چیف الیکشن کمشنر کے ماتحت چار اراکین کرپٹ ہیں۔ یہ اراکین سیاسی جماعتوں کے نمائندے ہیں۔ اس ادارے سے یہ سب کام کروانے کے لئے منصوبہ بندی کے تحت اس کی غیر آئینی تشکیل کی گئی اور ناجائز تحفظ دیا گیا۔
  2. قوم کا دوسرا بڑا مجرم نیب NAB (قومی احتساب بیورو) ہے۔ NAB کے پاس ان تمام وزرائے اعظم، وزرائے اعلیٰ، صدر، گورنرز، ایم این اے، ایم پی اے، سینیٹرز اور بیوروکریٹس کی کرپشن کا سارا ریکارڈ موجود ہے جو اس نے سکروٹنی کے عمل کے دوران الیکشن کمیشن کو پیش ہی نہیں کیا۔
  3. قوم کا تیسرا بڑا مجرم FIA ہے۔ جس کے پاس جرائم کا مکمل ریکارڈ موجود ہے اور اس نے بھی یہ ریکارڈ سکروٹنی کے دوران الیکشن کمیشن کو پیش ہی نہیں کیا۔
  4. اس قوم کا چوتھا بڑا مجرم FBR (فیڈرل بورڈ آف ریونیو) ہے۔ اس نے بھی کمیشن میں اپنا مکمل ریکارڈ پیش نہیں کیا۔
  5. قوم کا پانچواں بڑا مجرم سٹیٹ بینک آف پاکستان ہے۔ انہوں نے ڈیفالٹرز کی لسٹ سے پاکستانی قوم کو بروقت آگاہ نہیں کیا اور ان معلومات تک کمیشن کو براہ راست رسائی نہیں دی۔
 

الف نظامی

لائبریرین
الیکشن کمیشن کے پاس 139 حلقوں کے بیلٹ پیپرز کا ریکارڈ موجود نہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے ۔
ایک سال گزرنے کے بعد بھی ریٹرننگ افسران نے تفصیلات الیکشن کمیشن کو ارسال نہیں کیں ۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن کے ایک سینئر عہدیدار نے انکشاف کیا ہے کہ ریٹرننگ افسران کی جانب سے 139 حلقوں کے فارم 15 الیکشن کمیشن کو بھجوائے ہی نہیں گئے، فارم 15میں ہر پولنگ اسٹیشن پر استعمال، ضائع اور بچ جانے والے بیلٹ پیپرز کی تفصیل ہوتی ہے۔ان میں پنجاب کے 70، سندھ کے 32 ، خیبر پختونخوا کے 19اور بلوچستان کے 8حلقے شامل ہیں۔ سابق چیف الیکشن کمشنر فخر الدین جی ابراہیم نے متعلقہ فارمز ویب سائٹ پر ڈالنے کا وعدہ کیا تھا، تاہم ایک سال بعد بھی فارم ویب سائٹ ہی نہیں امیدواروں کی پہنچ سے بھی دور ہیں۔
انتخابات کی مشاہدہ کار تنظیم فافن کے مطابق مذکورہ حلقوں میں وزیراعظم نواز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف، مولانا فضل الرحمن، سردار ایاز صادق، جاوید ہاشمی، شاہ محمود قریشی، عارف علوی، زاہد حامد، خواجہ سعد رفیق، عابد شیرعلی، فاروق ستار، نبیل گبول، شیخ روحیل اصغر، وزیر اعظم نواز شریف کے داماد کیپٹن صفدر سمیت کئی دیگر اہم نام شامل ہیں-
 
Top