11 مئی 2014 ؛ پاکستان تحریک انصاف کے مطالبات

اگر آپ یہ assume کرتے ہیں کہ سسٹم ہی کرپٹ ہے تو یہ چھانٹی اپنے مخالفین کو نکالنے کے کام آئے گی نہ کہ کرپٹ لوگوں سے بچنے کے۔
ایک مثال ہمارے سامنے ہے کہ مشرف نے رکن پارلیمنٹ بننے کے لئے گریجوایٹ ہونے کی شرط لگائی لیکن بعد میں اپنی کتاب میں اقرار کیا کہ یہ شرط اس نے اپنے ناپسندیدہ سیاستدانوں کو اسمبلی سے باہر رکھنے کے لئے لگائی تھی۔ لیکن اس مثال کے باوجود اگر غیر جانبدارانہ چھانٹی ہو تو چھانٹی کا عمل صرف مخالفین کو باہر رکھنے کے کام نہیں آسکے گا۔
جب تک عوامی سطح پر جمہوریت مستحکم نہیں ہوتی تب تک اس طرح کی چھانٹیوں کا عمل کرنا پڑے گا۔
ہمارے ہاں ہوتا یہ ہے کہ عوام نا اہل اور کرپٹ لوگوں کو ووٹ دے کر اسمبلیوں میں پہنچا دیتے ہیں۔ اور جب یہ لوگ اچھی کارکردگی دکھانے کی بجائے کرپشن میں مبتلاء ہوجاتے ہیں تو عوام بیزار ہوکر فوج کی طرف دیکھنے لگتے ہیں کہ فوجی حکمران ان کو سیاستدانوں کی کرپشن سے نجات دے۔
اس کا بہتر حل یہی ہے کہ نا اہل لوگوں کو پارلیمان تک پہنچنے ہی نا دیا جائے۔
 
عمران خان کی حالیہ تحریک پر تجزیہ کرتے ہوئے نجم سیٹھی نے کہا کہ عمران خان نے پچھلے ایک دو ماہ میں سمرسالٹس کیے ہیں، عمران خان پہلے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری، چیف الیکشن کمشنر فخر الدین جی ابراہیم ، پرویز مشرف اور جیو کو ہیرو کہتے تھے لیکن آج ان سب کو زیرو بنادیا ہے۔ پرویز مشرف جب دبئی میں جلا و طن تھے تو عمران خان کے انہیں فون آتے تھے، مشورے ہوتے تھے، میں ان چیزوں کا گواہ ہوں۔ پرویز مشرف کے خلاف کیس پر عمران خان بہت محتاط اور بالکل چپ ہیں۔ ایک زمانے میں عمران خان میری بھی بڑی تعریف کرتے تھے لیکن اب ایک بہت بڑا پنکچر کا زیرو بنادیا ہے۔ سینئر تجزیہ کارکا کہنا تھا کہ یہ جو عمران خان نے ہیروز کو زیرو بنادیا ہے اس کا تعلق ان کی سیاسی شکست کے ساتھ ہے، سیاست کا تقاضا ہے کہ انتخابی دھاندلی پر اسی وقت مہم چلائی جائے، سوال پیدا ہوتا ہے کہ عمران خان نے ایک سال بعد کیوں اتنا بڑا جلسہ کرنے اور ایک آئٹم کو ایجنڈا پر لانے کی کوشش کی ہے۔ اگر عمران خان کو احتجاج کرنا ہے تو الیکشن کمیشن کے خلاف کریں۔گیارہ مئی کے جلسہ میں حکومت کو ٹارگٹ کیا گیا ہے۔ نجم سیٹھی نے کہا کہ اس بات کے شواہد نہیں ہیں کہ الیکشن ٹریبونلز جان بوجھ کر آہستہ کام کررہے ہیں، چارسو پٹیشنوں کو سننے کے لیے صرف پچیس ٹریبونلز موجود ہیں۔ چار حلقوں میں انگوٹھوں کے نشانات کی تصدیق کرنا آسان نہیں ہے۔ اگر سب ہی انگوٹھوں کی تصدیق چاہیں گے تو پھر یہ بات کہاں جاکر رُکے گی۔ خیبر پختونخوا میں عمران خان کہتے ہیں کہ وہاں انگوٹھوں کی تصدیق کی ضرورت نہیں صرف دوبارہ گنتی کرلیں ۔انہوں نے کہا کہ جب بھی کوئی سویلین سبق نہیں سیکھتا تو اسے سبق سکھایا جاتا، آئی جے آئی فرشتوں نے ہی بنائی تھی، وز یر اعظم نواز شریف نے اقتدار میں آتے ہی اپنا فارمولا پیش کردیا ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی ، جیو اسٹریٹجی میں بنائوں گا، انڈیا کے ساتھ امن بھی کروں گا اور افغانستان میں مداخلت بھی نہ کروں گا جو اسٹیبلشمنٹ کے نکتہ نظر کے بالکل خلاف ہے ، اس کے بعد ناراضی تو ہونی تھی، اب وزیراعظم کو رولز پڑھائے جارہے ہیں، اس دوران ایک طرف میڈیا کا استعمال ہوتا ہے تو دوسری طرف سیاسی جماعتوں کو بھی ساتھ لے کر چلا جاتا ہے۔سینئر تجزیہ کار نے کہا کہ عمران خان کے فرشتوں کے ساتھ شروع سے اچھے تعلقات رہے ہیں، تحریک انصاف پر پہلے بھی الزام لگا تھا کہ ان کی فرشتوں نے مدد کی تھی، چوہدری شجاعت اور چوہدری نثار ان پر الزام لگاچکے ہیں کہ ہمارے لوگوں کو پیغام آتے ہیں کہ آپ تحریک انصاف جوائن کریں، پھر یہ بھی کہا جاتا ہے کہ آرمی چیف نے ان جنرل صاحب کو بھی ہاتھ ہلکا رکھنے کو کہا تھا جو یہ سب کررہے تھے۔ عمران خان اور فرشتوں کا ایک رشتہ ہے، جو پہلے بھی تھا اور اب بھی ہے۔اب دوسری طرف سے یہ ہے کہ تحریک انصاف کو سپورٹ کیا جائے کیونکہ اس وقت تحریک انصاف ہی ابھرتی ہوئی پارٹی ہے۔نجم سیٹھی نے کہا کہ عمران خان کے ساتھ جو لوگ ہیں ان میں شاہ محمود قریشی کے فوج کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں، جہانگیر ترین بھی پرویز مشرف کے قریبی ساتھی تھے، اسد عمر کی ساری فیملی ہی فوجی فیملی ہے، شفقت محمود مشرف کی پہلی حکومت میں پنجاب میں منسٹر رہے جبکہ خورشید قصوری بھی پرویز مشرف کے وزیر خارجہ تھے۔
 

زیک

تقریباً غائب
ایک مثال ہمارے سامنے ہے کہ مشرف نے رکن پارلیمنٹ بننے کے لئے گریجوایٹ ہونے کی شرط لگائی لیکن بعد میں اپنی کتاب میں اقرار کیا کہ یہ شرط اس نے اپنے ناپسندیدہ سیاستدانوں کو اسمبلی سے باہر رکھنے کے لئے لگائی تھی۔ لیکن اس مثال کے باوجود اگر غیر جانبدارانہ چھانٹی ہو تو چھانٹی کا عمل صرف مخالفین کو باہر رکھنے کے کام نہیں آسکے گا۔
جب تک عوامی سطح پر جمہوریت مستحکم نہیں ہوتی تب تک اس طرح کی چھانٹیوں کا عمل کرنا پڑے گا۔
ہمارے ہاں ہوتا یہ ہے کہ عوام نا اہل اور کرپٹ لوگوں کو ووٹ دے کر اسمبلیوں میں پہنچا دیتے ہیں۔ اور جب یہ لوگ اچھی کارکردگی دکھانے کی بجائے کرپشن میں مبتلاء ہوجاتے ہیں تو عوام بیزار ہوکر فوج کی طرف دیکھنے لگتے ہیں کہ فوجی حکمران ان کو سیاستدانوں کی کرپشن سے نجات دے۔
اس کا بہتر حل یہی ہے کہ نا اہل لوگوں کو پارلیمان تک پہنچنے ہی نا دیا جائے۔
اس کا بہتر حل عوام اور فوج کی سوچ بدلنا ہے
 

الف نظامی

لائبریرین
جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سراج الحق نے کہا کے جماعت اسلامی کبھی کسی ایسی تحریک کا حصہ نہیں بنے گی جس سے ملک میں جمہوریت اور جمہوری اداروں کا وجود خطرے میں پڑھنے کا اندیشہ ہو۔ ملک صاف و شفاف انتخابات اور ایک آزاد الیکشن کمیشن کے لئے انتخابی اصلاحات کے ایجنڈے پر تحریک انصاف سے تعاون کرے۔ جماعت اسلامی مشاورت کے بعد انتخابی اصلاحات کے لئے پی ٹی آئی کی طرف سے تجویز کردہ ملٹی پارٹی کمیٹی میں اپنے دو نمائندوں کا تقرر کرے گی۔
تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے اس موقع پر کہا کہ امیر جماعت اسلامی نے انتخابی اصلاحات کے لئے ملٹی پارٹی کمیٹی میں اپنے دو نمائندے بھیجنے کی پی ٹی آئی کی تجویز قبول کر لی ہے جس کے لئے ہم ان کے مشکور ہیں۔ انہوں نے واضح کیا ہمارا ایجنڈا جمہوریت کو کمزور کرنا یا حکومت گرانا نہیں بلکہ شفاف انتخابات کا انعقاد ہے۔
 
Top