ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
جو قاضی نے پوچھا کہ ’’ دلہن قبولن؟‘‘
تو فوراً سے گفتن ’’ قبولن قبولن‘‘
کئی سال بعداً جو پوچھے خیالن
تو گردن جھکا کر یہ بولے حضوراً
’’میں صبراً جمیلاً ، وہ شکراً قبولن‘‘

(نامعلوم)

:):):)
 

امان زرگر

محفلین
فعولن فعولن کی تکرار بھائی
بہت بہتریں ہے یوں گفتار بھائی
مگر شرط ہو قافیہ کی یہاں پر
ردیف اس پہ لانا ہو معیار بھائی
خلافِ ادب ہو اگر لفظ کوئی
مجھے بخش دیجے گا اک بار بھائی

محمد تابش صدیقی
 

شکیب

محفلین
ہوا یوں! مجھے اپنے ارسال کردہ مواد اک نظر دیکھنے کی تمنا ہوئی اور پھر اس بیش قیمت لڑی کی اچانک ہی یاد آگئی...
 

ام اویس

محفلین
فعولن فعولن کہے جا رہے ہیں
فعولن میں سب ہی بہے جا رہے ہیں
مجھے بھی فعولن کی ہے بات کرنی
فعولن میں کہنا فعولن میں لکھنا
 

ام اویس

محفلین
فعولن ہے کیا جی فعولن میں کیا ہے
سمجھنا ہے مشکل سمجھنا ہے آساں
ردہم ہے فعولن یہ اک دو ، نہ نا نا
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
 

ام اویس

محفلین
یہ محفل ہے اردو یہ اردو کی محفل
یہاں سب بڑے ہیں یہاں سب بھلے ہیں
خدایا بڑوں کو سلامت تو رکھنا
جو چھوٹے ہیں ان کو بڑا تو ہی کرنا
 

سید عاطف علی

لائبریرین
بہت وقت گزرا لڑی بند یہ تھی
بہن اک ہماری یہاں سے جو گزری
ستایا پرانی جو یادوں نے اس کو
چلا یاقلم ، جی اٹھایا لڑی کو
 
فعولن جو روٹھے نہیں یہ گوارا
فعولن کو لازم منانا پڑے گا
جسے شاعری سیکھنے کا ہے چسکا
فعولن کو دل میں بسانا پڑے گا
 
شفیق الرحمٰن نے اپنے ایک انشائیے میں، کسی زمانے میں اخبارات یا رسالوں کے مدیران سے بذریعہ خط سوال و جواب کئے جاتے تھے اس کی پیروڈی لکھی ہے۔ کوئی صاحب یا صاحبہ ایڈیٹر کو خط لکھ کر مندرجہ ذی اشعار کا مطلب پوچھتے ہیں۔

لیا جس نے مجھ سے عداوت کا پنجہ
سنلقی علیھم عذاباً ثقیلا
نکل اس کی زلفوں کے کوچہ سے اے دل
تو پڑھنا، قم اللّیلَ الّا قلیلا

ایڈیٹر صاحب جواب دیتے ہیں کہ ان اشعار کا مطلب ہے کہ شاعر کو عربی بھی آتی ہے :)
(ایسے ہی، فعولن فعولن کی گردان دیکھ کر یاد آگیا)
 
شفیق الرحمٰن نے اپنے ایک انشائیے میں، کسی زمانے میں اخبارات یا رسالوں کے مدیران سے بذریعہ خط سوال و جواب کئے جاتے تھے اس کی پیروڈی لکھی ہے۔ کوئی صاحب یا صاحبہ ایڈیٹر کو خط لکھ کر مندرجہ ذی اشعار کا مطلب پوچھتے ہیں۔

لیا جس نے مجھ سے عداوت کا پنجہ
سنلقی علیھم عذاباً ثقیلا
نکل اس کی زلفوں کے کوچہ سے اے دل
تو پڑھنا، قم اللّیلَ الّا قلیلا

ایڈیٹر صاحب جواب دیتے ہیں کہ ان اشعار کا مطلب ہے کہ شاعر کو عربی بھی آتی ہے :)
(ایسے ہی، فعولن فعولن کی گردان دیکھ کر یاد آگیا)
یا اس کا یہ مطلب بھی لیا جا سکتا ہے کہ قرآنی آیات کو بحور پر جانچا جا سکتا ہے؟
 
یا اس کا یہ مطلب بھی لیا جا سکتا ہے کہ قرآنی آیات کو بحور پر جانچا جا سکتا ہے؟
کسی قرآنی آیت یا اس کے کسی جزو کا موزوں ہونا محض اتفاق ہوتا ہے۔ قرآن میں اللہ پاک نے واضح فرما دیا ہے کہ یہ شعر نہیں ہے۔
واللہ اعلم۔
 

شکیب

محفلین
یا اس کا یہ مطلب بھی لیا جا سکتا ہے کہ قرآنی آیات کو بحور پر جانچا جا سکتا ہے؟
جانچا تو جا سکتا ہے، لیکن یہ اسے شاعری نہیں بناتا۔ شعر کی تعریف ہے کہ موزوں ہو اور قصداً (ارادہ کر کے) کہا گیا ہو۔ اسی وجہ سے اگر کسی ایسے شخص سے جو وزن نہیں جانتا، کوئی "جملہ" غلطی سے وزن میں بیٹھ جائے تو اسے شعر نہیں کہا جائے گا کیونکہ اس نے ارادہ نہیں کیا۔
 
Top