ابن رضا

لائبریرین
اسامہ نے کھولا ہے دھاگہ پیارا
چلو ہم بھی کر لیں تجربہ اسی میں
ہے ناکام ساقی یہ کوشش ابھی تک
کہ پیارا فعولن نہیں باندھا جاتا
نہ هی تجربہ هے فعولن پہ شاید
ہے تقطیع پیارے کی فعْلن
ہے یہ تجربہ فاعلن پر
تلفظ کو آپ اور بہتر بنائیں
ذرا پھر سے کوشش یہ کر کے دکھائیں
 
آخری تدوین:

ابن رضا

لائبریرین
اجی ہار مانیں گے نہ ہم کبھی بھی
سدا مشق ہم بھی تو جاری رکھیں گے
ہے کس نے کہا آپ کو ہار مانیں
مگر یاد رکھیں یہ باتیں ہماری
'نہ' کوتاہ ہے مانا جاتا
یہ 'رکھیں گے' ہوتا نہیں ہے فعولن
مشدد ہے رکھیں کی بھی کاف ساقی
 

ابن رضا

لائبریرین
ذرا چیک کرنا یہ مصرع ہمارا
کیا ہم نے غلطی یہاں پھر سے کی ہے؟
حضور آپ کا پہلا مصرع
تو اچھا بھلا ہے
نہیں کوئی غلطی ملی ہم کو اس میں
مگر دوسرا ہے جو مصرع
کجی اس میں ہم کو ملی ہے
کہ' کیا' آپ نے باندھا ہے یاں فعو پر
مگر یہ فقط اک سبب ہے
 
ہے کس نے کہا آپ کو ہار مانیں
مگر یاد رکھیں یہ باتیں ہماری
'نہ' کوتاہ ہے مانا جاتا
یہ 'رکھیں گے' ہوتا نہیں ہے فعولن
مشدد ہے رکھیں کی بھی کاف ساقی
ارے آپ یہ کیا بتانے لگے ہیں
رکھیں گے فعولن بھی باندھا ہے جاتا :)

مزید ایک بات اور کہنی ہے مجھ کو
فعولن کی تعداد رکھا کریں چار
یہی اس لڑی کا ہے عنوان بھائی!
فعولن فعولن فعولن فعولن
 

ابن رضا

لائبریرین
ارے آپ یہ کیا بتانے لگے ہیں
رکھیں گے فعولن بھی باندھا ہے جاتا :)

مزید ایک بات اور کہنی ہے مجھ کو
فعولن کی تعداد رکھا کریں چار
یہی اس لڑی کا ہے عنوان بھائی!
فعولن فعولن فعولن فعولن
'رکھیں گے' فعولن ہے گر میرے بھائی
تو اس کی وضاحت بھی پھر ہے ضروری؟؟؟
فعولن کی تعداد ہے چار رکھنی
تو بہتر ہے اس کو تقارب کہیں ہم؟؟؟
 
آخری تدوین:
اجی بڑکیں تو خوب ماریں تھی ساقی
اکھڑ کیوں گئے ہیں قدم آپ کے اب
نہ ہمت یوں ہاریں، اور مشق کریں
ہے سردرد تو ڈسپریں ایک لے لیں
جواب اس کا لازم ہے ہم پر تو دیں گے
ہیں غالب کے شعروں میں کچھ رہنمائی
  1. یہ کیا وحشت ہے! اے دیوانے، پس از مرگ واویلا۔۔۔۔رکھی بے جا بنائے خانۂ زنجیر شیون پر
  2. کیوں کر اس بت سے رکھوں جان عزیز!۔۔۔۔ کیا نہیں ہے مجھے ایمان عزیز!
  3. کب سے ہُوں کیا بتاؤں جہانِ خراب میں۔۔۔۔ شب ہائے ہجر کو بھی رکھوں گر حساب میں
  4. قاصد کے آتے آتے خط اک اور لکھ رکھوں۔۔۔۔ میں جانتا ہوں جو وہ لکھیں گے جواب میں
  5. حیراں ہوں، دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو مَیں۔۔۔۔ مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو مَیں
  6. مزا ملے کہو کیا خاک ساتھ سونے کا۔۔۔۔ رکھے جو بیچ میں وہ شوخِ سیم تن تکیہ
  7. ہوا ہے کاٹ کے چادر کو ناگہاں غائب۔۔۔۔ اگر چہ زانوئے نل پر رکھے دمن تکیہ
  8. یہ رات بھر کا ہے ہنگامہ صبح ہونے تک۔۔۔۔ رکھو نہ شمع پر اے اہلِ انجمن تکیہ
  9. روا رکھو نہ رکھو، تھا جو لفظ تکیہ کلام۔۔۔۔ اب اس کو کہتے ہیں اہلِ سخن "سخن تکیہ"
  10. منتشر ہو کے بھی دل جمع رکھیں گے یعنی۔۔۔۔ ہم بھی اب پیروئے گیسو ئے پریشاں ہوں گے
 

ابن رضا

لائبریرین
جواب اس کا لازم ہے ہم پر تو دیں گے
ہیں غالب کے شعروں میں کچھ رہنمائی
  1. یہ کیا وحشت ہے! اے دیوانے، پس از مرگ واویلا۔۔۔ ۔رکھی بے جا بنائے خانۂ زنجیر شیون پر
  2. کیوں کر اس بت سے رکھوں جان عزیز!۔۔۔ ۔ کیا نہیں ہے مجھے ایمان عزیز!
  3. کب سے ہُوں کیا بتاؤں جہانِ خراب میں۔۔۔ ۔ شب ہائے ہجر کو بھی رکھوں گر حساب میں
  4. قاصد کے آتے آتے خط اک اور لکھ رکھوں۔۔۔ ۔ میں جانتا ہوں جو وہ لکھیں گے جواب میں
  5. حیراں ہوں، دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو مَیں۔۔۔ ۔ مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو مَیں
  6. مزا ملے کہو کیا خاک ساتھ سونے کا۔۔۔ ۔ رکھے جو بیچ میں وہ شوخِ سیم تن تکیہ
  7. ہوا ہے کاٹ کے چادر کو ناگہاں غائب۔۔۔ ۔ اگر چہ زانوئے نل پر رکھے دمن تکیہ
  8. یہ رات بھر کا ہے ہنگامہ صبح ہونے تک۔۔۔ ۔ رکھو نہ شمع پر اے اہلِ انجمن تکیہ
  9. روا رکھو نہ رکھو، تھا جو لفظ تکیہ کلام۔۔۔ ۔ اب اس کو کہتے ہیں اہلِ سخن "سخن تکیہ"
  10. منتشر ہو کے بھی دل جمع رکھیں گے یعنی۔۔۔ ۔ ہم بھی اب پیروئے گیسو ئے پریشاں ہوں گے
توجه مطلوب. استاد محترم
 
ادھر ادھر سے ۔۔۔۔۔۔۔۔

بھول بھی جاؤ بیتی باتیں
ان باتوں میں کیا رکھا ہے
چپ چپ کیوں رہتے ہو ناصر
یہ کیا روگ لگا رکھا ہے​
دیوان ناصر کاظمی​

مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ
میں نے سمجھا تھا کہ تو ہے تو درخشاں ہے حیات
تیرا غم ہے تو غمِ دہر کا جھگڑا کیا ہے
تیری صورت سے ہے عالم میں بہاروں کو ثبات
تیری آنکھوں کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہے؟
تو جو مل جائے تو تقدیر نگوں ہو جائے
یوں نہ تھا، میں نے فقط چاہا تھا یوں ہو جائے
اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا
راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا​
فیض احمد فیض​
 
زبانِ فعولن میں یوں ہم کہیں گے
کہ دونوں ہیں جائز ، ”رکھیں“ ہوں کہ ”رکھیں“
ہے استادوں سے میری درخواست یہ اب
ہیں ”رکھیں“ کی مانند الفاظ کیا کیا؟
بتادیں ہمیں گر تو ہوگی نوازش
 
زبانِ فعولن میں یوں ہم کہیں گے
کہ دونوں ہیں جائز ، ”رکھیں“ ہوں کہ ”رکھیں“
ہے استادوں سے میری درخواست یہ اب
ہیں ”رکھیں“ کی مانند الفاظ کیا کیا؟
بتادیں ہمیں گر تو ہوگی نوازش
پہلے کوئی استاد تلاش کیجئے، اور وہ بھی ایسا کہ جسے لغاتوں کے لغات حفظ ہوں۔ اس سے پوچھیں گے۔
 

ساقی۔

محفلین
ملا ہے اسامہ اتا لیق کو ئی؟
جو سب جانتا ہوہمیں بھی بتا دے
جو پوچھیں تو فر فر ہمیں وہ بتا دے
جو سیکھیں تو سب کچھ ہمیں وہ سکھا دے
 

ابن رضا

لائبریرین
اجی سیکھنا اتنا آساں نهیں هے
بس اتنا سمجھ لیں اک آتش کا دریا
هے اور آپ نے تیر کے جانا هو بس
 
Top