آتش یہ قصہ ہے جب کا کہ آتشؔ جواں تھا ۔ خواجہ حیدر علی آتش

فرخ منظور

لائبریرین
شبِ وصل تھی چاندنی کا سماں تھا
بغل میں صنم تھا خدا مہرباں تھا

مبارک شبِ قدر سے بھی وہ شب تھی
سحر تک مہ و مشتری کا قراں تھا

وہ شب تھی کہ تھی روشنی جس میں دن کی
زمیں پر سے اک نور تا آسماں تھا

نکالے تھے دو چاند اس نے مقابل
وہ شب صبحِ جنت کا جس پر گماں تھا

عروسی کی شب کی حلاوت تھی حاصل
فرح ناک تھی روح دل شادماں تھا

مشاہد جمالِ پری کی تھی آنکھیں
مکانِ وصال اک طلسمی مکاں تھا

حضوری نگاہوں کو دیدار سے تھی
کُھلا تھا وہ پردہ کہ جو درمیاں تھا

کیا تھا اسے بوسہ بازی نے پیدا
کمر کی طرح سے جو غائب دہاں تھا

حقیقت دکھاتا تھا عشقِ مجازی
نہاں جس کو سمجھے ہوئے تھے عیاں تھا

بیاں خواب کی طرح جو کر رہا ہے
یہ قصہ ہے جب کا کہ آتشؔ جواں تھا

(خواجہ حیدر علی آتشؔ)
 
سحر تک مہ و مشتری کا قراں تھا
ابھی دو ایک روز گزرے آسمانی مشاہدات سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے یہ منظر پھر سے جلوہ فگن ہوا تھا (بلکہ شاید اب بھی باقی ہو ) کہ ماہ و مشتری قراں میں تھے ۔ :)
ہماری طرح آتش لکھنوی کی شاعری اور سحر انگیز سٹارگیزنگ طبیعت کا ایک پہلو یہ بھی سامنے آیا ۔ :)
 
Top