1. اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں فراخدلانہ تعاون پر احباب کا بے حد شکریہ نیز ہدف کی تکمیل پر مبارکباد۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    $500.00
    اعلان ختم کریں

آتش یہ قصہ ہے جب کا کہ آتشؔ جواں تھا ۔ خواجہ حیدر علی آتش

فرخ منظور نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اکتوبر 2, 2019

  1. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,647
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    شبِ وصل تھی چاندنی کا سماں تھا
    بغل میں صنم تھا خدا مہرباں تھا

    مبارک شبِ قدر سے بھی وہ شب تھی
    سحر تک مہ و مشتری کا قراں تھا

    وہ شب تھی کہ تھی روشنی جس میں دن کی
    زمیں پر سے اک نور تا آسماں تھا

    نکالے تھے دو چاند اس نے مقابل
    وہ شب صبحِ جنت کا جس پر گماں تھا

    عروسی کی شب کی حلاوت تھی حاصل
    فرح ناک تھی روح دل شادماں تھا

    مشاہد جمالِ پری کی تھی آنکھیں
    مکانِ وصال اک طلسمی مکاں تھا

    حضوری نگاہوں کو دیدار سے تھی
    کُھلا تھا وہ پردہ کہ جو درمیاں تھا

    کیا تھا اسے بوسہ بازی نے پیدا
    کمر کی طرح سے جو غائب دہاں تھا

    حقیقت دکھاتا تھا عشقِ مجازی
    نہاں جس کو سمجھے ہوئے تھے عیاں تھا

    بیاں خواب کی طرح جو کر رہا ہے
    یہ قصہ ہے جب کا کہ آتشؔ جواں تھا

    (خواجہ حیدر علی آتشؔ)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • زبردست زبردست × 2
  2. سید عاطف علی

    سید عاطف علی محفلین

    مراسلے:
    7,238
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Cheerful
    ابھی دو ایک روز گزرے آسمانی مشاہدات سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے یہ منظر پھر سے جلوہ فگن ہوا تھا (بلکہ شاید اب بھی باقی ہو ) کہ ماہ و مشتری قراں میں تھے ۔ :)
    ہماری طرح آتش لکھنوی کی شاعری اور سحر انگیز سٹارگیزنگ طبیعت کا ایک پہلو یہ بھی سامنے آیا ۔ :)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. بافقیہ

    بافقیہ محفلین

    مراسلے:
    325
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Volatile
    ہائے ہائے۔۔۔ہر مصرعہ قیامت۔۔۔:skywalker:
    آتش کی چنیدہ غزلوں میں ایک۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر