یہ ادائے قاتلانہ چھوڑ دے

عاطف ملک نے 'آپ کی شاعری (پابندِ بحور شاعری)' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مئی 9, 2020

  1. عاطف ملک

    عاطف ملک محفلین

    مراسلے:
    1,351
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Innocent
    استادِ محترم اور محفلین کی خدمت میں چند اشعار۔اس امید پر کہ شاید کوئی شعر پسند آجائے۔

    یہ ادائے قاتلانہ چھوڑ دے
    چھپ کے پردے میں ستانا چھوڑ دے

    مسکرا کر چوٹ کھانا چھوڑ دے
    اُس گلی میں آنا جانا چھوڑ دے

    رِیت اگر دنیا کی ہے کذب و دغا
    چھوڑ دے رسمِ زمانہ چھوڑ دے

    رکھ سکا ہے کون خوش ہر ایک کو
    بے سبب یوں دل جلانا چھوڑ دے

    ہو رہا ہو جس میں خودداری کا خون
    اس تعلق کو نبھانا چھوڑ دے

    اس سفر میں واپسی ممکن نہیں
    راہ میں پتھر گرانا چھوڑ دے

    درد کیسے نظم ہو اشعار میں
    ہجر گر تیرا ستانا چھوڑ دے

    ساتھ جس کے تُو، سبھی اس کے ہوئے
    تو جسے چھوڑے زمانہ چھوڑ دے

    دل پہ عاطفؔ زور چلتا ہے کہاں
    عاشقی کیسے دوانہ چھوڑ دے

    عاطفؔ ملک
    مئی ۲۰۲۰
     
    آخری تدوین: ‏مئی 9, 2020
    • پسندیدہ پسندیدہ × 5
    • زبردست زبردست × 4
  2. سید عاطف علی

    سید عاطف علی لائبریرین

    مراسلے:
    11,959
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Cheerful
    واہ وا۔ بہت خوب ۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  3. شکیب

    شکیب محفلین

    مراسلے:
    1,834
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Breezy
    بہت خوب عاطف بھائی۔ خوب اشعار نکالے ہیں۔ غزل پسند آئی، ماشاء اللہ۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  4. شکیل احمد خان23

    شکیل احمد خان23 محفلین

    مراسلے:
    238
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    بہت خوبصورت شعر اور میں نے اِسے یوں پڑھ کر بھی لطف اُٹھایا:
    چوٹ کھاکر مسکرانا چھوڑ دے
    اُس گلی میں آنا جانا چھوڑ دے
    ۔۔۔۔2۔۔۔۔۔۔
    شعر کادوسرا مصرع کافی دیر میں سمجھ آیا:
    درد کیسے نظم ہو اشعار میں
    ہجر گر تیرا ستانا چھوڑ دے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اِس مصرعے کےلیے رموز ِ اوقاف میں کوئی علامت تو ہوگی جو ابلاغ کی راہ آسان کردیتی؟نثر کرکے سمجھنے کی کوشش کی یعنی تیراہجر و فراق نہ تڑپائے تو۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔3۔۔۔۔۔۔۔
    اس سفر میں واپسی ممکن نہیں
    راہ میں پتھر گرانا چھوڑ دے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پتھر گرانا یا سفر میں پتھر گرانا چہ معنی ؟اور میرے پیارے بھائی کذب کے ساتھ افترااوردغا کے ساتھ فریب زیادہ عام ہے۔
    غزل بہت خوبصورت ،قوافی شاندار اور ردیف سہل اور رواں،
    بہت سی داد
     
    آخری تدوین: ‏مئی 9, 2020
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  5. شکیب

    شکیب محفلین

    مراسلے:
    1,834
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Breezy
    بھئی ہم تو آپ کی رائے سے اتفاق نہیں رکھتے۔ ہاں، غزل خوبصورت ہے، سو تو ہے۔
     
    • زبردست زبردست × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  6. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    11,198
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    ایک پھڑکتی ہوئی غزل۔ خوبصورت۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  7. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    مجھے بھی کذب و دغا بے میل ترکیب لگی، باقی اشعار تو سب درست ہیں، اچھی ہے غزل اگرچہ اتنی عمدہ بھی نہیں جیسی تم سے امید کی جاتی ہے
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  8. عاطف ملک

    عاطف ملک محفلین

    مراسلے:
    1,351
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Innocent
    بہت شکریہ محترمی:)
    شکریہ شکیب بھائی:)
    حسنِ نظر ہے آپ کا۔
    :redheart:
    ہمارے ایک اہلِ علم دوست کہتے ہیں کہ شعر میں رموزِ اوقاف کی علامتوں کا کم سے کم دخل ہونا چاہیے۔ویسے لکھتے وقت کم از کم مجھے تو نہیں لگا کہ ابہام ہو گا۔اگر واقعی ایسا ہے تو کوئی علامت لگائی جاسکتی ہے:unsure:
    بچپن میں ایک کہانی پڑھی تھی جس میں ایک بچہ جنگل سے گزرتے وقت راستے میں نشانی کے لیے پتھر گراتا جاتا ہے کہ واپسی پر راہ نہ بھولے۔اپنی دانست میں اس طرف اشارہ کیا ہے۔کذب والی بات بھی اچھی کہی آپ نے۔
    تفصیلی تبصرے کیلیے ممنون ہوں جناب:)
    اور تعریف کیلیے بھی خصوصی شکریہ:)
    آپ کا حسنِ نظر ہے محترمی:)
    استادِ محترم،
    آپ کی توجہ کیلیے مشکور ہوں۔
    یہ حکم کیجیے گا کہ متبادل کے طور پر "کذب و ریا" کی ترکیب کیسی رہے گی؟
    اور دعا ہے آپ مجھ ناچیز سے جو اچھی امیدیں رکھتے ہیں اللہ مجھے ان پر پورا اترنے کی توفیق دے۔اپنی طرف سے پوری کوشش کروں گا۔ان شاء اللہ:)
     
    • دوستانہ دوستانہ × 3
  9. شکیل احمد خان23

    شکیل احمد خان23 محفلین

    مراسلے:
    238
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    بہت شکریہ ملک صاحب بہت بہت شکریہ ،مجھے گمان سا تھا کہ آپ میری باتوں کا بُرا منائیں گے مگر آپ نے جس کشادہ دلی کا مظاہرہ فرمایا اُس پر ایک بار پھر بہت بہت شکریہ۔شاعری میں رموزِ اوقاف ، آپ کے قابلِ احترام دوست نے بالکل دُرست فرمایا،کم سے کم ہونا چاہئیں ۔الفاظ کی ترتیب میں معمولی سا ردو بدل کم ازکم اِس شعر میں وہی کام کرتا جو کسی علامت یا نشان نے کرنا تھا یعنی ہجر گر تیرا ستانا چھوڑدے کو ہجر تیرا گر ستانا چھوڑ دے کیا جاسکتا تھا،بہرحال آپ نے میری کج مج رائے کو اہمیت دی میں آ پ کا دل کی گہرائیوں سے شکرگزار ہوں۔پوری غزل اور خاص طور پر مطلع واقعی بہت خوبصورت ہے ، اللہ تعالیٰ آپ کو ترقی و کمال کی بلندیوں پر لیجائے،پتھر والا شعر آپ کی وضاحت کے بعد سمجھ میں آگیا :اِس سفر میں واپسی ممکن نہیں (آپ کےاس شعر میں؛ آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ۔۔۔۔والی بات تھی اور یہ بات یقیناًایک آفاقی حقیقت ہی توہے مگر اِسے راہ میں پتھر گرانا چھوڑ دے۔۔۔۔ نے محدود کردیا تھا سو اب یہ مشکل بھی آسان ہوگئی )
    خدا آپ کو خوش رکھے ،والسلام ۔
     
    آخری تدوین: ‏مئی 11, 2020
  10. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,970
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    مزا نہیں آیا
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1

اس صفحے کی تشہیر