بہادر شاہ ظفر یا مجھے افسرِ شاہانہ بنایا ہوتا ۔ بہادر شاہ ظفر

باباجی

محفلین
:zabardast1:
بہت اچھی شراکت ہے فراز بھائی۔​
مجھے بہادر شاہ ظفر کی یہ غزل اور "دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں" بہت پسند ہیں:love:
کچھ ٹائپو کی نشان دہی کر رہا ہوں۔​
اپنا دیوانہ مجھے بنایا ہوتا تُونے​
اپنا دیوانہ بنایا مجھے ہوتا تُونے
کلیات بہادرشاہ ظفر میں ایسا ہے​
کاش!!!! سنگِ درِ جاناں بنایا ہوتا​
کاش!!!! سنگِ درِ جاناں نہ بنایا ہوتا​
یہاں "نہ" ہے
کلیات بہادرشاہ ظفر میں سنگ کی بجائے خاک ہے پر مجھے سنگ ہی یاد پڑتا ہے زمانہ طلب علمی سے

زلفِ مُشکیں کا تری، شانہ بنایا ہوتا​
کلیات بہادرشاہ ظفر میں تری کی بجائے ترے ہے​
تو چراغِ درِ جاناں بنایا ہوتا​
کلیات بہادرشاہ ظفر میں جاناں کی بجائے میخانہ ہے​
محسن بھائی مجھے تو جیسے پڑھنے کوملا میں نے لکھ دیا اور
آپ کی بات کو بھی مانتا ہوں :)
 

باباجی

محفلین
واہ باباجی! بہادر شاہ ظفر کی مشہورِ زمانہ غزل شئیر کرنے کا بہت شکریہ۔ بہت عرصہ قبل میں نے بھی یہ غزل یہاں پوسٹ کی تھی۔
بہت شکریہ سر جی
اصل میں یہاں بہادر شاہ ظفر کے کلام کا کوئی کیپشن نہیں ہے
اسلیئے میں یہاں مختلف شعراء کا کلام شیئر کردیتا ہوں
اگر وہ کلام پہلے سے موجود ہو تو منتظمین اسے ضم کردیتے ہیں :)
 

محمد وارث

لائبریرین
بہت شکریہ سر جی
اصل میں یہاں بہادر شاہ ظفر کے کلام کا کوئی کیپشن نہیں ہے
اسلیئے میں یہاں مختلف شعراء کا کلام شیئر کردیتا ہوں
اگر وہ کلام پہلے سے موجود ہو تو منتظمین اسے ضم کردیتے ہیں :)


قبلہ، ظفر کا پری فکس موجود ہے اور یہ بہادر شاہ ظفر ہی ہیں، کبھی وقت ملا تو اس کو بہادر شاہ ظفر کر دونگا کہ ظفر اقبال سے التباس نہ ہو :)
 

فرخ منظور

لائبریرین
یا مجھے افسرِ شاہانہ بنایا ہوتا
یا مرا تاج گدایانہ بنایا ہوتا

اپنا دیوانہ بنایا مجھے ہوتا تُو نے
کیوں خرد مند بنایا، نہ بنایا ہوتا

خاکساری کے لیے گرچہ بنایا تھا مجھے
کاش خاکِ درِ جانانہ بنایا ہوتا

نشّۂ عشق کا گر ظرف دیا تھا مجھ کو
عمر کا تنگ نہ پیمانہ بنایا ہوتا

دلِ صد چاک بنایا تو بلا سے لیکن
زلفِ مشکیں کا ترے شانہ بنایا ہوتا

صوفیوں کے جو نہ تھا لائقِ صحبت تو مجھے
قابلِ جلسۂ رندانہ بنایا ہوتا

تھا جلانا ہی اگر دوریِ ساقی سے مجھے
تو چراغِ درِ میخانہ بنایا ہوتا

شعلۂ حسن چمن میں نہ دکھایا اس نے
ورنہ بلبل کو بھی پروانہ بنایا ہوتا

روز معمورۂ دنیا میں خرابی ہے ظفرؔ
ایسی بستی کو تو ویرانہ بنایا ہوتا

(بہادر شاہ ظفرؔ)
 
Top