یا رب کوئی دن یوں بھی مدینے میں بسر ہو۔ برائے اصلاح

محمد عبدالرؤوف

لائبریرین
الف عین ، یاسر شاہ

یا رب یوں کوئی روز مدینے میں بسر ہو
میں ہوں، مری آہیں ہوں، مری دیدۂ تر ہو

نغمہ ہو مرے لب پہ فقط صلِ علیٰ کا
ہر دم ترے محبوب کے روضے پہ نظر ہو

انفاسِ نبی ﷺ سے جو معطر ہوئیں گلیاں
کچھ دن ہی سہی اُن میں کبھی میرا بھی گھر ہو

سانسوں میں یوں بھر لوں میں مدینے کی ہوائیں
تا عمر اُنہی سانسوں پہ ہی میری گزر ہو

جن کے قدمِ پاک سے یثرب ہوا طیبہ
آباد انہی سے مرے دل کا بھی نگر ہو

اے کاش وہی وقتِ قضا ہو مرے مولا
جس وقت مدینے سے مجھے اذنِ سفر ہو
 

یاسر شاہ

محفلین
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
واہ صاحب واہ ۔ماشاء اللہ بہت خوب ،بہت خوب ۔محبت میں ڈوبے ہوئے اشعار ۔اللہ تعالیٰ مجھے بھی ایسا کلام کہنے کی سعادت نصیب کرے ۔آمین کہ
:ایں سعادت بزور بازو نیست:۔
: مرا: کر دیں کہ دیدہ مذکر ہے۔
یہاں بھی مجھے لگتا ہے:میرا: ہونا چاہیے،آپ بھی دیکھ لیجیے گا۔
 

الف عین

لائبریرین
الف عین ، یاسر شاہ

یا رب یوں کوئی روز مدینے میں بسر ہو
میں ہوں، مری آہیں ہوں، مری دیدۂ تر ہو
یاسر شاہ درست ہیں کہ مرا دیدۂ تر درست ہو گا
لیکن پہلے مصرع میں یوں کی محض یُ تقطیع اچھی نہیں لگ رہی
نغمہ ہو مرے لب پہ فقط صلِ علیٰ کا
ہر دم ترے محبوب کے روضے پہ نظر ہو

انفاسِ نبی ﷺ سے جو معطر ہوئیں گلیاں
کچھ دن ہی سہی اُن میں کبھی میرا بھی گھر ہو
درست دونوں
سانسوں میں یوں بھر لوں میں مدینے کی ہوائیں
تا عمر اُنہی سانسوں پہ ہی میری گزر ہو
گزر کے دو مفاہیم ہوتے ہیں، پہلا گزر بسر، یا گزران کے معنی، اور دوسرے سفر میں گزرنا والے، یہاں گزران کے معنی ہیں اور اس مفہوم میں مؤنث درست ہے
یوں اور سانسوں میں حروف کا اسقاط یہاں بھی اچھا نہیں
جن کے قدمِ پاک سے یثرب ہوا طیبہ
آباد انہی سے مرے دل کا بھی نگر ہو

اے کاش وہی وقتِ قضا ہو مرے مولا
جس وقت مدینے سے مجھے اذنِ سفر ہو
درست
 
یا رب یوں کوئی روز مدینے میں بسر ہو
میں ہوں، مری آہیں ہوں، مری دیدۂ تر ہو

یارب کوئی دن یوں بھی مدینے میں بسر ہو
میں ہوں ، مری آہیں ہوں، مرا دیدۂ تر ہو

نغمہ ہو مرے لب پہ فقط صلِ علیٰ کا
ہر دم ترے محبوب کے روضے پہ نظر ہو


انفاسِ نبی ﷺ سے جو معطر ہوئیں گلیاں
کچھ دن ہی سہی اُن میں کبھی میرا بھی گھر ہو

کچھ دن کو سہی اُن میں کبھی میرا بھی گھر ہو

سانسوں میں یوں بھر لوں میں مدینے کی ہوائیں
تا عمر اُنہی سانسوں پہ ہی میری گزر ہو

تا عمر انہی سانسوں پہ پھر میری گزر ہو

جن کے قدمِ پاک سے یثرب ہوا طیبہ
آباد انہی سے مرے دل کا بھی نگر ہو
ماشاءاللہ !

اے کاش وہی وقتِ قضا ہو مرے مولا
جس وقت مدینے سے مجھے اذنِ سفر ہو
سبحان اللہ !
ماشاء اللہ رؤف بھائی بات دل سے نکلی اور دل میں اُتری ۔ اللہ تعالیٰ رب العزت آپ اور تمام مسلمانوں کی یہ تمنائیں پوری فرمائے ،آمین ثم آمین!
 

صابرہ امین

لائبریرین
الف عین ، یاسر شاہ

یا رب یوں کوئی روز مدینے میں بسر ہو
میں ہوں، مری آہیں ہوں، مری دیدۂ تر ہو

نغمہ ہو مرے لب پہ فقط صلِ علیٰ کا
ہر دم ترے محبوب کے روضے پہ نظر ہو

انفاسِ نبی ﷺ سے جو معطر ہوئیں گلیاں
کچھ دن ہی سہی اُن میں کبھی میرا بھی گھر ہو

سانسوں میں یوں بھر لوں میں مدینے کی ہوائیں
تا عمر اُنہی سانسوں پہ ہی میری گزر ہو

جن کے قدمِ پاک سے یثرب ہوا طیبہ
آباد انہی سے مرے دل کا بھی نگر ہو

اے کاش وہی وقتِ قضا ہو مرے مولا
جس وقت مدینے سے مجھے اذنِ سفر ہو
ماشااللہ۔۔ سبحان اللہ۔۔ اللہ آپ کی مرادیں پوری فرمائے۔ روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نصیب فرمائے۔ آمین
 

محمد عبدالرؤوف

لائبریرین
یا رب کوئی دن یوں بھی مدینے میں بسر ہو
میں ہوں، مری آہیں ہوں، مرا دیدۂ تر ہو


نغمہ ہو مرے لب پہ فقط صلِ علیٰ کا
ہر دم ترے محبوب کے روضے پہ نظر ہو

انفاسِ نبی ﷺ سے جو معطر ہوئیں گلیاں
کچھ دن ہی سہی اُن میں کبھی میرا بھی گھر ہو

سانسوں میں مری بھر دے یوں طیبہ کی ہوائیں
یا
سانسوں میں مرے بھر دے مدینے کی ہوا یوں
تا عمر اُنہی/اُسی پر ہی فقط میری گزر ہو


جن کے قدمِ پاک سے یثرب ہوا طیبہ
آباد انہی سے مرے دل کا بھی نگر ہو

اے کاش وہی وقتِ قضا ہو مرے مولا
جس وقت مدینے سے مجھے اذنِ سفر ہو
 

سیما علی

لائبریرین
انفاسِ نبی ﷺ سے جو معطر ہوئیں گلیاں
کچھ دن ہی سہی اُن میں کبھی میرا بھی گھر ہو
اے کاش اے کاش
روفی بھیا جیتے رہیے ۔۔۔
اے کاش وہی وقتِ قضا ہو مرے مولا
جس وقت مدینے سے مجھے اذنِ سفر ہو
الہی آمین

اللهم صلّ على سيدنا محمد و على آل سيدنا محمد و بارك و سلم​

 

صابرہ امین

لائبریرین
یا رب کوئی دن یوں بھی مدینے میں بسر ہو
میں ہوں، مری آہیں ہوں، مرا دیدۂ تر ہو


نغمہ ہو مرے لب پہ فقط صلِ علیٰ کا
ہر دم ترے محبوب کے روضے پہ نظر ہو

انفاسِ نبی ﷺ سے جو معطر ہوئیں گلیاں
کچھ دن ہی سہی اُن میں کبھی میرا بھی گھر ہو

سانسوں میں مری بھر دے یوں طیبہ کی ہوائیں
یا
سانسوں میں مرے بھر دے مدینے کی ہوا یوں
تا عمر اُنہی/اُسی پر ہی فقط میری گزر ہو


جن کے قدمِ پاک سے یثرب ہوا طیبہ
آباد انہی سے مرے دل کا بھی نگر ہو

اے کاش وہی وقتِ قضا ہو مرے مولا
جس وقت مدینے سے مجھے اذنِ سفر ہو
بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر، یا قصہ مختصر
اللہ کریم تمام مسلمانوں کو بیت اللہ شریف اور روضہ رسول کی زیارت نصیب فرمائیں۔آمین
 

یاسر شاہ

محفلین
سانسوں میں مری بھر دے یوں طیبہ کی ہوائیں
یا
سانسوں میں مرے بھر دے مدینے کی ہوا یوں
تا عمر اُنہی/اُسی پر ہی فقط میری گزر ہو
بھئی سچی بات تو یہ ہے کہ پہلی صورت ہی پرکیف تھی :یوں: کو یک حرفی باندھ دینا میری رائے میں اس نئی بے کیف ترتیب سے تو پھر بہتر تھا ۔پھر :ہوا بھرنا: ایک الگ ہی محاورہ ہے۔خود دیکھیں:
سانسوں میں یوں بھر لوں میں مدینے کی ہوائیں
تا عمر اُنہی سانسوں پہ ہی میری گزر ہو
 

سید عاطف علی

لائبریرین
مطلع میں ۔ یوں ۔ کی نشست کمزور ہے۔
یارب کوئی دن یوں بھی ۔ ۔ ۔ اس طرح بہتر ہو گا۔

سانسوں والا شعر بھی دوبارہ کہنا چاہیئے۔
سانس میں سمانا استعمال ہو تو بہتر ہے۔ ۔ ۔ بھرنا اچھا نہیں لگ رہا ۔ جیسے
سانسوں میں سما جائیں مدینے کی فضائیں ۔
انہی اور ۔ہی۔ دونوں متصادم ہیں۔
 

یاسر شاہ

محفلین
روفی بھائی ماشاء اللہ اچھی تجاویز آگئیں ۔
مطلع تو آپ شکیل احمد خان23 کی تجویز پہ درست کر ہی چکے ہیں۔
انھی اور ہی کی تکرار واقعی میں نے نوٹ نہیں کی تھی اس ضمن میں بھی ان کی تجویز اچھی تھی۔
تا عمر انہی سانسوں پہ پھر میری گزر ہو
باقی سانسوں والا مصرع خود دیکھ لیں، البتہ ایک بات ہے فضاوں کا سانسوں میں سمانا کچھ عجیب لگتا ہے بجائے ہواؤں کے۔
 
Top