نوشی گیلانی ہوا کو لکھنا جو آگیا ہے ۔۔۔

عمر سیف

محفلین
ہوا کو لکھنا جو آ گیا ہے
اب اس کی مرضی
کہ وہ خزاں کو بہار لکھ دے
بہار کو انتظار لکھ دے
سفر کی خواہش کو واہموں کے عذاب سے ہمکنار لکھ دے
وفا کے رستوں پہ چلنے والوں
کی قسمتوں میں غبار لکھ دے
ہوا کو لکھنا جو آ گیا ہے
ہوا کی مرضی کہ وصل موسم میں
ہجر کو حصہ دار لکھ دے
محبتوں میں گزرنے والی رُتوں کو ناپائیدار لکھ دے
شجر کو کم سایہ دار لکھ دے
ہوا کو لکھنا سکھانے والوں
ہوا کو لکھنا جو آگیا ہے ۔۔۔!!!
 

فاتح

لائبریرین
ضبط! سب سے پہلے تو شکریہ یہ خوبصورت نظم شیئر کرنے پر۔

اس خوبصورت نظم کی خالق نوشی گیلانی ہے۔

اور دو مصرعوں میں ٹائپنگ کی غلطی ہو گئی آپ سے وہ بھی تبدیل کر لیجیے:

سفر کی خواہش کو واہموں کے عذاب سے ہمکنار لکھ دے
وفا کے رستوں پہ چلنے والوں
کی قسمتوں میں غبار لکھ دے
 

یاقوت

محفلین
ایک عرصہ پہلے نوشی گیلانی صاحبہ کی ایک اور نظم بھی پڑھی تھی ""ہوا"" کے عنوان سے حافظہ ساتھ نہیں دے رہا اگر کسی کو معلوم ہو تو شریک محفل کر دیں بہت خوبصورت نظم تھی وہ بھی۔
 

حسرت جاوید

محفلین
سفر کی خواہش کو واہموں کے عذاب سے ہمکنار لکھ دے
وفا کے رستوں پہ چلنے والوں
کی قسمتوں میں غبار لکھ دے
ہوا کو لکھنا جو آ گیا ہے
ہوا کی مرضی کہ وصل موسم میں
ہجر کو حصہ دار لکھ دے
محبتوں میں گزرنے والی رُتوں کو ناپائیدار لکھ دے
واہ۔
 
Top