ہنس بیتی

چھوٹاغالبؔ

لائبریرین
السلام علیکم
آپ بیتی ، جگ بیتی اور ہڈ بیتی سے تو آپ واقف ہی ہوں گے، یہاں آپ کا واسطہ ہنس بیتی سے پڑنے والا ہے
کبھی کبھار ایسا ہوتا ہے کہ کسی مکالمے ، کسی کی معصومیت ، یا بدحواسی پر بے اختیار قہقہوں کا سیلاب سا آجاتا ہے، تقریباً سب کی زندگی میں کچھ نہ کچھ ایسے واقعات گزرے ہوتے ہیں جن کو جب بھی یاد کریں بے اختیار ہنسی آ جاتی ہے، بس پھر اکیلے اکیلے ہنسنا چھوڑئیے
مہنگائی اور لوڈ شیڈنگ کی ماری مظلوم عوام کے چہرے پر مسکراہٹیں بکھیر کر مفت میں ثواب کمائیے اور وہ بھی بغیر کسی قرعہ اندازی کے۔ پھر نہ کہنا کہ خبر نہ ہوئی

ادائے خاص سے چھوٹا غالبؔ ہوا نکتہ سرا ٭٭٭ صلائے عام ہے یارانِ نکتہ داں کیلئے

نوٹ:۔ کسی لطیفے کو توڑ مروڑ کر واقعہ بنانے کی کوشش نہ کی جائے

برگ حنا یہ دھاگہ بھی آپ کی توجہ کا مستحق ہے
 
محفل ادب کے "طنز و مزاح" اور "کھیل کھیل میں" زمروں میں تھوڑا سا فرق ہے اس کو ملحوظ رکھا جانا چاہئے۔ بہر کیف اس سیکشن کے ذمہ داران اس خط فاصل کا اندازہ بہتر لگا سکتے ہیں۔ :) :) :)
 

یوسف-2

محفلین
ذکرایک پوسٹ میرج پارٹی کا ہے۔ ہم اپنے ہم زلف کے گھر مدعو تھے۔ باتوں ہی باتوں میں ہم زلف کے والد صاحب نے فرمایا کہ بھئی میں ہر کام کرنے سے پہلے اپنی بیگم سے مشورہ ضرور کرتا ہوں۔ اور آج تک ان کے مشورہ سے مجھے کبھی کوئی نقصان نہیں ہوا۔ میں فورا" بول اٹھا۔ جی ہاں کامیابی کا یہ تو بہت آسان نسخہ ہے۔ بیگم سے مشورہ کریں، جو وہ مشورہ دے، اس کے اُلٹ عمل کریں۔ ان شاء اللہ آپ کامیاب ہوں گے۔:D بس پھر نہ پوچھئے کہ بزرگوار کا کیا حال ہوا اور تقریب میں موجود بیگمات، بشمول ذاتی بیگم نے مجھے کن نگاہوں سے گھورا :)
@@@​
یہ اسی ہم زلف کی شادی والے روز کا قصہ ہے۔ اتفاقا" شادی سے قبل ہونے والی کئی تقریبات میں، مَیں حاضر نہ تھا۔ لہٰذا مجھے گمان ہوا کہ کہیں دلہا میاں مجھے نہ پہچانیں۔ سو نکاح کے بعد اسٹیج پر دلہا میاں سے ملنے کی میری باری آئی تو مَِیں نے گلے ملتے ہوئے کہا: آپ مانو یا نہ مانو، لیکن یہ حقیقت ہے کہ میں آپ کا ہم زلف ہوں۔ لیکن دُلہا میاں نے مجھے پہچانتے ہوئے کہا: یوسف بھائی! یہ آپ کیسی بات کر رہے ہیں۔ میں نے کہا: میں یہ اس لئے کہہ رہا ہوں کہ کہیں آپ یہ نہ سوچیں کہ جس کے سر پہ زلف ہی نہیں وہ میرا ہم زلف کیسے ہوسکتا ہے ۔ بعد میں پتہ چلا کہ "پہلی ملاقات" میں موصوف نے موصوفہ کو بغیر زلف والے ہم زلف کا قصہ بھی سنایا۔:)
@@@​
اب یہ خود ہماری اپنی ذاتی شادی کا قصہ ہے۔ ہمارے دُلہا بنتے ہی ’’کارِ مشقت‘‘ کا آغاز ہوگیا۔ ایک لمبی قطار بن گئی ’’عید ملنے‘‘ والوں کی۔ جاننے نہ جاننے والے سبھی ایک چھوڑ تین تین مرتبہ گلے مل رہے تھے۔ پتہ ہی نہیں چل رہا تھا کہ کون آرہا ہے، کون گلے مل رہا ہے۔ ہم ایک روبوٹ کی طرح ہر آنے والے سے مصنوعی مسکراہٹ کے ساتھ مل رہے تھے کہ ایک صاحب نے بڑی گرم جوشی سے گلے ملتے ہوئے آہستگی سے ایک جملہ میرے کان میں انڈیل دیا۔ جملہ کی کاٹ کی تاب نہ لا کر جو غور سے موصوف کو دیکھا تو معلوم ہوا کہ وہ میرے ایک صحافی اور کالم نویس دوست ہیں۔ انہوں نے میرے کان میں کہا تھا: اب صبر کرو۔ اللہ کو یہی منظور تھا :mrgreen: اس جملے کو پھر میں نے بھی ایسے ہی مواقع پر بارہا استعمال کیا۔ اس فقرے کی کوئی کاپی رائٹ نہیں ہے۔ حسب موقع آپ بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ دُلہا بنے والے ساری عمر اس فقرے کی کاٹ کو نہیں بھولیں گے۔ جیسے میں نہیں بھولا :D
 

یوسف-2

محفلین
(×) وعلیکم السلام میاں غالب بھتیجا ۔

آپ بیتی ، جگ بیتی اور ہڈ بیتی سے تو آپ واقف ہی ہوں گے،
(×) یہ ہڈ بیتی کیا بلا ہے بھتیجہ میاں۔ یہ کہیں ہڈ حرام لوگوں پر بیتنے والی روداد تو نہیں:D

یہاں آپ کا واسطہ ہنس بیتی سے پڑنے والا ہے
(×) پہلے تو ہم ہنس کو راج ہنس سمجھ کر ہنس دئے۔ اور ہنستے ہی اس کا درست مفہوم بھی معلوم ہوگیا :D

کبھی کبھار ایسا ہوتا ہے کہ کسی مکالمے ، کسی کی معصومیت ، یا بدحواسی پر بے اختیار قہقہوں کا سیلاب سا آجاتا ہے،
(×) کبھی کسی بات کے رد عمل میں کسی کی خاموشی، کسی کے غصہ اور کسی کی ہوشیاری دکھانے پر بھی لوگ مسکرا اٹھتے ہیں۔

تقریباً سب کی زندگی میں کچھ نہ کچھ ایسے واقعات گزرے ہوتے ہیں جن کو جب بھی یاد کریں بے اختیار ہنسی آ جاتی ہے، بس پھر اکیلے اکیلے ہنسنا چھوڑئیے
(×) جی ہاں! لیکن ایسے سارے واقعات سنائے بھی نہیں جاسکتے۔ کچھ بالکل پرسنل واقعات بھی تو ہوتے ہین نا!

مہنگائی اور لوڈ شیڈنگ کی ماری مظلوم عوام کے چہرے پر مسکراہٹیں بکھیر کر مفت میں ثواب کمائیے اور وہ بھی بغیر کسی قرعہ اندازی کے۔ پھر نہ کہنا کہ خبر نہ ہوئی

ادائے خاص سے چھوٹا غالبؔ ہوا نکتہ سرا ٭٭٭ صلائے عام ہے یارانِ نکتہ داں کیلئے
(×) واؤ کیا کہنے

نوٹ:۔ کسی لطیفے کو توڑ مروڑ کر واقعہ بنانے کی کوشش نہ کی جائے
(×) یہ نوٹ بھی کسی پانچ ہزار والے نوٹ کی ’’مالیت‘‘ سے کم نہیں۔ وہ والا نوٹ نہیں جو آپ کو کسی سے ملے، بلکہ وہ والا نوٹ جو آپ کے ہاتھ سے کوئی اُچک لے اور آپ سامنے والے کا منہ دیکھتے رہ جائیں۔:D
 

الف عین

لائبریرین
یوسف ثانی کے لطیفے پر خود پر گزرا ایک لطیفہ یاد آ گیا۔
میرے ماموں کی شادی تھی، عین نکاح سے قبل ہمارے ایک پر مزاح عزیز ، جو اب مرحوم ہو چکے، انہوں نے کان میں آ کر دولہا سے کہا ’میاں اب بھی موقع ہے، بھاگ لو‘
 

چھوٹاغالبؔ

لائبریرین
یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب میں دسویں جماعت کا طالب علم تھا
ہمارے اردو کے استاد صاحب کا پہلا پہلا بچہ ہوا وہ بھی بیٹا
جب وہ ہماری کلاس میں آئے تو سب لڑکوں نے گھیر لیا، مبارک سلامت کے ساتھ ہی مٹھائی کا مطالبہ کہ "سر جی مسکینوں کا منہ میٹھا کرائیں، ہم بچے کی درازی عمر کی دعا کریں گے، اس سے آپ کو بھی ثواب ہوگا"
مقصود صاحب(ٹیچر) نے جان چھڑانے کیلئے مرزا صاحب کا شعر پڑھا "جانتا ہوں ثوابِ طاعت و زہد٭٭ پر طبیعت ادھر نہیں آتی"
ذکر غالبؔ ہو اور چھوٹے غالبؔ کے کان کھڑے نہ ہوں یہ بھلا کیسے ہو سکتا تھا، میں نے برجستہ کہا
"کعبے کس منہ سے جاؤ گے غالبؔ٭٭ شرم تم کو مگر نہیں آتی"
کلاس میں ہنسی کا جو سیلاب آیا وہ آپ اندازہ کر ہی سکتے ہیں، مگر یہ آپ کو میں بتاتا چلوں کہ مقصود صاحب 3 دن ہماری کلاس میں نہ آئے
 

یوسف-2

محفلین
بچپن سے پڑھتے آئے تھے کہ سکہ بند ادیب و شاعرکو پہننے اوڑھنے کی کوئی خاص تمیز نہیں ہوتی۔ چنانچہ ہم نے بھی اس کوچہ میں داخل ہونے کے لئے جو ملا، جیسا ملا، پہن لینے کی عادت ڈال لی تاکہ ہماری تحریروں سے نہ سہی، کم از کم لباس دیکھ کر ہی لوگ ہمیں ادیب ’’ماننے‘‘ لگ جائیں۔ چنانچہ بارہا یہ ہوا کہ جس لباس میں ہم رات کو سوئے، اسی لباس میں دفتر بھی چلے گئے۔ :D واضح رہے کہ ہم دفتر میں دفتری نہیں بلکہ چھوٹے موٹے افسر بھی رہے ہیں۔ قبل از شادی ہمارے گھر والے تو ہمارے اس ’’راز‘‘ سے بخوبی آگاہ تھے، لیکن نئی نویلی بیگم کو بھلا اس راز کی کیا خبر۔ چنانچہ شادی کے بعد جب ہم پہلی مرتبہ دفتر جانے کے لئے حسب معمول ’’تیار‘‘ ہوئے تو بیگم صاحبہ بولیں۔ کیا آپ اس غلیظ لباس میں دفتر جائیں گے۔ ہم نے سن رکھا تھا کہ بیگم صاحبہ نے بی اے میں اردو ایڈوانس کا مضمون پڑھ رکھا ہے۔ چنانچہ ہم نے اپنے لباس کو ذرا غور سے دیکھتے ہوئے کہا کہ لباس تو خیر جیسا بھی ہے، لیکن کیا تمہیں ’’غلیظ‘‘ سے زیادہ خراب لفظ نہیں آتا؟ یہ کہتے ہوئے دل ہی دل میں خوش بھی ہوئے کہ آج موصوفہ کی اردو دانی کا پول کھل ہی جائے گا۔ مگر وہ جھٹ سے بولیں کہ آتا ہے، کیوں نہیں آتا؟۔ ہم نے کہا حیرانی سے کہا بھلا لباس کے لئے غلیظ سے زیادہ خراب لفظ کون سا ہوسکتا ہے۔ وہ بولیں کہ ’’پلید‘‘ ۔ اور ہمارے سر پر گھڑوں پانی پھر گیا :D
 

الف عین

لائبریرین
یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب میں دسویں جماعت کا طالب علم تھا
ہمارے اردو کے استاد صاحب کا پہلا پہلا بچہ ہوا وہ بھی بیٹا
جب وہ ہماری کلاس میں آئے تو سب لڑکوں نے گھیر لیا، مبارک سلامت کے ساتھ ہی مٹھائی کا مطالبہ کہ "سر جی مسکینوں کا منہ میٹھا کرائیں، ہم بچے کی درازی عمر کی دعا کریں گے، اس سے آپ کو بھی ثواب ہوگا"
مقصود صاحب(ٹیچر) نے جان چھڑانے کیلئے مرزا صاحب کا شعر پڑھا "جانتا ہوں ثوابِ طاعت و زہد٭٭ پر طبیعت ادھر نہیں آتی"
ذکر غالبؔ ہو اور چھوٹے غالبؔ کے کان کھڑے نہ ہوں یہ بھلا کیسے ہو سکتا تھا، میں نے برجستہ کہا
"کعبے کس منہ سے جاؤ گے غالبؔ٭٭ شرم تم کو مگر نہیں آتی"
کلاس میں ہنسی کا جو سیلاب آیا وہ آپ اندازہ کر ہی سکتے ہیں، مگر یہ آپ کو میں بتاتا چلوں کہ مقصود صاحب 3 دن ہماری کلاس میں نہ آئے
یعنی گویا۔
مرا مزاج لڑکپن سے غالبانہ ہے۔
 

چھوٹاغالبؔ

لائبریرین
ایک بار ہم کچھ دوست فلم دیکھنے گئے
فلم تھی "سرکار" اور ہیرو تو آپ کو پتہ ہے شان ہی ہوتا ہے
فلم کے ایک سین میں شان کا بھائی (ببرک شاہ) جو کہ فلم میں پولیس آفیسر کا کردار کر رہا تھا قتل کر دیا گیا اور شان کو پیرول پر بھائی کے جنازے پر لایا گیا۔ اب جب شان ہتھکڑیوں میں بھائی کے جنازے کے قریب آیا تو ٹریجڈی بیک گراؤنڈ میوزک بجنے لگا، اور جیسے ہی شان میت کے قریب پہنچا میوزک بند اور سینما حال میں سناٹا چھا گیا، بالکل چپ، شاید فلم بین بھی شان کو دیکھ کے غمگین ہوئے بیٹھے تھے، میری زبان ایسے مواقع پر خوب پھسلتی ہے
جونہی شان رونی صورت بنائے میت کے قریب پہنچا میں نے زور سے کہا "کلمہ ءِ شہادت"
اور سینما ہال قہقہوں سے گونج اٹھا،
 

یوسف-2

محفلین
جو جا کے نہ آئے، اُس دورِ جوانی کا ذکر ہے (جوانی کا نہیں، دور کا ذکر ہے :D) ہم نے تازہ تازہ ملازمت کا آغاز کیا تھا اور کمپنی کی کالونی کے بیچلز ایریا میں رہائش پذیر تھے۔ ہماری رہائش کے سامنے ہی ایک لان سا تھا جو پردہ کی غرض سے باڑھ سے گھرا ہوا تھا اور عموما" اس کے سامنے سے ہم بیچلر ہی گزرا کرتے تھے۔ شادی شدہ معزز خواتین و حضرات اور ان کے معزز بچے :D یہاں سے احتیاطا" نہیں گزرا کرتے تھے۔ غالبا" کوئی چھٹی کا دن تھا ہم دو لڑکے (اللہ بخشے، تب ہم لڑکے ہی تھے) تیار شیار ہوکر ایک ساتھ باہر نکلے تو کیا دیکھتے ہیں کہ دو تین لڑکے ( جی ہاں لڑکے) ٹاول باندھے لان میں ٹہل ٹہل کر برش وغیرہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے ہمیں اپنی طرف آتا دیکھا تو جھینپتے ہوئےاور ہمیں اپنی طرف آنے سے روکتے ہوئے کہا: یہاں سے خواتین کا گزرنا منع ہے۔ میں جھٹ اپنے ساتھی کی طرف مڑا اور بولا: پھر آپ دوسری طرف سے آجائیں، میں آگے آپ کو ملتا ہوں۔ :D ایک قہقہہ بلند ہوا اور میرا ساتھی اپنی جگہ کھڑے کا کھڑا رہ گیا
 

یوسف-2

محفلین
ہمارے لکھنے پڑھنے کی صلاحیت میں(اگر کچھ ہے تو:D ) ہماری امی جان کا بڑا ہاتھ ہے۔ ہماری پہلی کتاب کا انتساب بھی امی جان ہی کے نام ہے۔ معمولی پڑھی لکھی ہونے کے باوجود انہوں نے گھریلو اخراجات میں ہماری تعلیم کو ہمیشہ اولیت دی۔ وہ خود بھی کتب و رسائل بڑے شوق سے پڑھتی تھیں، بلکہ اب بھی پڑھتی ہیں۔ جب ہمارے برسر روزگار ہونے کو چند برس ہوگئے اور انہیں یہ معلوم ہوا کہ ہمارے پاس کچھ رقم جمع ہوگئی ہے تو ایک دن انہوں نے کہا کہ بیٹے کچھ پیسے ہوں تو دے دو تاکہ آنے والی بہو کے لئے کچھ زیورات وغیرہ پیشگی خرید لوں۔ لیکن جب میں نے یہ کہا کہ میں تو پیسے اپنی کتاب چھپوانے کے لئے جمع کر رہا ہوں تو وہ خاموش ہوگئیں۔ القصہ مختصر شادی کے دن قریب آگئے اور والدین نے ہمارے متوقع سسرال آنا جانا شروع کر دیا اور جب سب کچھ فائنل ہوگیا تو امی نے مجھے نکاح وغیرہ کی تاریخ سے آگاہ کیا۔ میں نے کہا کہ ابھی اتنی جلدی کیا ہے۔ اس پر انہوں نے کہا کہ جب ہم شادی کی تاریخ لینے جارہے تھے تو تمہارے ابو تم سے پوچھ کر تو گئے تھے۔ اس پر میرے منہ سے نکل گیا: وہ پوچھ کر کب گئے تھے۔ وہ تو بتا کر گئے تھے۔ امی یہ لطیف فقرہ سنتے ہی اتنی زور سے ہنسیں کہ میں امی کے سینس آف ہیومر کا قائل ہوگیا۔
 

چھوٹاغالبؔ

لائبریرین
میری شروع دن سے یہ عادت ہے کہ جب کوئی شعر طاری ہو جائے تو پھر بندے بندے کو پکڑ کر سناتا پھرتا ہوں، چاہے کوئی سنے، یا نہ سنے
اور یہ الگ بات کہ مجھ پر ہمیشہ دیوانَ غالبؔ کا ہی قبضہ رہا، ایک بار میر تقی میرؔ کے شعر پر وجد آیا ہوا تھا، اور سب کو سناتے سناتے اماں محترمہ کو بھی سنا دیا، وہ ہمیشہ سے اشعار میں غالبؔ (لفظ) سننے کی عادی تھیں ، اس دن اچانک جو شعر میں میرؔ کا لفظ آیا اور ساتھ ہی میں نے وضاحت بھی کر دی کہ یہ میرؔ صاحب کا شعر ہے تو
اماں نے بڑی حیرانی سے مجھے دیکھا اور کہا "اے کوئی نواں شاعری اے" (یہ کوئی نیا شاعر ہے؟)
اور مجھے جو ہنسی آئی مت پوچھیے، پھر جب انہیں بتایا کہ میرؔ تو استادوں کے استاد ہیں اور غالبؔ سے بھی پہلے کے شاعر ہیں، تو وہ بھی بہت ہنسیں
 
ش

شہزاد احمد

مہمان
سنیے ایک واقعہ ہم سے بھی ۔۔۔ ہم بغرض عیادت ہسپتال گئے کسی کو دیکھنے ۔۔۔ وہاں ان کے ایک اور دوست ان سے ملنے آئے ہوئے تھے ۔۔۔ عمر اٹھارہ برس ہو گی ۔۔۔ ہماری ان سے بھی سلام دعا ہو گئی ۔۔۔ تذکرہ پسند نا پسند تک پہنچا تو ہم نے ان سے پوچھ لیا کہ آپ کے پسندیدہ شاعر کون ہیں؟ کہنے لگے، غالب ۔۔۔ ہم حیران تو ہوئے کہ اتنی سی عمر میں کافی صاحبِ ذوق معلوم ہوتے ہیں ۔۔۔ غالب کو پسند کرنے کی وجہ پوچھی تو گویا ہوئے ۔۔۔ دراصل وہ آسان شاعر ہے ۔۔۔ پہلے تو ہم حیران تھے، اب پریشان بھی ہو گئے ۔۔۔ تجسس مزید بڑھا تو ان سے سوال کیا، محترم! اور بھی شعراء ہیں، غالب کے علاوہ کس کو پڑھ رکھا ہے ۔۔۔ انہوں نے جواب دیا، اقبال کو ۔۔۔ وجہ پوچھی تو کہنے لگے وہ "قومی" شاعری کرتے ہیں ۔۔۔ اچھا جناب، غالب اور اقبال کے علاوہ بھی کسی شاعر کا کلام پسند ہے ۔۔۔ کہنے لگے جی ہاں ۔۔۔ قائداعظم بہت اچھے شاعر تھے ۔۔۔ مجھے ان کی شاعری بہت پسند ہے ۔۔۔ مریض کے ساتھ ساتھ ہم بھی، اور وہ تمام افراد جو وہاں موجود تھے، شاید کسی ایک کو بھی ان کے "صاحبِ ذوق" ہونے میں کوئی شبہ نہ رہا ۔۔۔!!!
 

انتہا

محفلین
وہ جو ایک لطیفہ ہے اگر کسی کو یاد ہو تو شیئر کرے کہ جس میں چند شعراء (مجھے صرف نواب شیفتہ کا نام یاد رہ گیا) مل کر میر تقی میر کے مقابلے کا ایک شعر لکھنے کی کوشش کر رہے تھے لیکن کچھ بن نہیں پڑ رہا تھا شعر یہ تھا،
اب کے جنوں میں فاصلہ شاید نہ کچھ رہے
دامن کے چاک اور گریباں کے چاک میں
سب اسی سوچ وفکر میں غلطاں تھے کہ اچانک ایک اور شاعر وارد ہوئے اور سب کو فکر مند دیکھ کر پوچھا:
بھئی کس سوچ میں گم ہیں؟
تو بے اختیار شیفتہ کے منہ سے نکلا:
قل ھواللہ کا جواب لکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
 

چھوٹاغالبؔ

لائبریرین
وہ جو ایک لطیفہ ہے اگر کسی کو یاد ہو تو شیئر کرے کہ جس میں چند شعراء (مجھے صرف نواب شیفتہ کا نام یاد رہ گیا) مل کر میر تقی میر کے مقابلے کا ایک شعر لکھنے کی کوشش کر رہے تھے لیکن کچھ بن نہیں پڑ رہا تھا شعر یہ تھا،
اب کے جنوں میں فاصلہ شاید نہ کچھ رہے
دامن کے چاک اور گریباں کے چاک میں
سب اسی سوچ وفکر میں غلطاں تھے کہ اچانک ایک اور شاعر وارد ہوئے اور سب کو فکر مند دیکھ کر پوچھا:
بھئی کس سوچ میں گم ہیں؟
تو بے اختیار شیفتہ کے منہ سے نکلا:
قل ھواللہ کا جواب لکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
:):):)انتہا برادر
یہ لطیفوں والا دھاگہ نہیں، یہ آنکھوں دیکھے قہقہہ آور واقعات کی شیئرنگ والا دھاگہ ہے، آپ کے ساتھ بھی کچھ مزاحیہ سا واقعہ ہوا ہو تو شیئر کیجئے اور درویش کی دعا لیجئے
 

چھوٹاغالبؔ

لائبریرین
آج کل ہمارے معاشرے میں ایک عجیب سی وبا پھیلی ہوئی ہے، خوامخواہ انگلش یا کم از کم اردو بولنے اور بچوں کو بھی زبردستی بلوانے کی
ہماری ایک عزیزہ ہیں جو کہ ہیں تو چٹ صفا ان پڑھ مگر باقی دیورانیوں کی دیکھا دیکھا وہ بھی اپنے بچوں کو اردو بلوانے پر تلی نظر آتی ہیں
ایک بار دستر خوان پر ان کی "اردوئے محلےٰ" اپنے کانوں سننے کا اتفاق ہوا، آپ بھی سنیے
بچے نے چمچ اٹھا کر ڈونگے سے سالن نکالنا چاہا تو ، تو محترمہ نے فرمایا:۔ "ٹھہرو بیٹا، ٹھہرو، میں آپ کو خود پہن کے دیتی ہوں"(سرائیکی میں دراصل کہنا تھا:۔ کھڑ پتر کھڑ، میں تیکوں آپ پا ڈینی آں۔ مگر بدقسمتی سے "پا" کیلئے اردو میں دو لفظ ہیں ، "ڈالنا" اور "پہننا" یہیں وہ کنفیوز ہوگئیں) اور دستر خوان پر موجود کوئی بھی اپنی ہنسی نہ روک پایا۔ الٹا انہوں نے مجھے گھورنا شروع کر دیا کہ اس کے دانت کچھ زیادہ ہی نکل رہے ہیں

مقدس ، ناعمہ عزیز کی تحریر کوا چلا ہنس کی چال پڑھ کر مجھے بھی یاد آ گیا
 
Top