ہم کسی سے کم نہیں ۔۔ نمبر 5۔۔۔ 22 جون

محمد عبدالرؤوف

لائبریرین
ہاں پر زیک کی بات بھی درست ہے ۔ ہماری ایک دوست امریکہ میں ہیں اور ان کی بڑی بہن ڈپریشن کا شکار ہیں ۔ ان کو شاٹس لگتے ہیں ۔ بہت تکلیف میں ہے ساری فیملی ۔
اب یہ تو کوئی نہیں کہہ رہا نا کہ سرے سے علاج ہی نہ کیا جائے
لیکن اس قسم کی کیفیات میں اطمینانِ قلب و نفس کی اشد ضرورت ہوتی ہے
اور خود اللہ پاک قرآن پاک میں اپنے ذکر کو دل کے اطمینان کا بہترین ذریعہ قرار دیتا ہے
 

صابرہ امین

لائبریرین
اب یہ تو کوئی نہیں کہہ رہا نا کہ سرے سے علاج ہی نہ کیا جائے
لیکن اس قسم کی کیفیات میں اطمینانِ قلب و نفس کی اشد ضرورت ہوتی ہے
اور خود اللہ پاک قرآن پاک میں اپنے ذکر کو دل کے اطمینان کا بہترین ذریعہ قرار دیتا ہے
جی بالکل متفق۔ قران بے شک شفا کا ذریعہ ہے ۔
 
ڈیپریشن ایک بیماری کا نام ہے۔ محض ڈاؤن یا “ڈیپریس” (عام زبان میں) کو نہیں کہتے
ڈپریشن کو عام آدمی کا فہم اور ایک سائیکائٹرسٹ کا فہم بہت مختلف چیزیں ہیں ۔ عام لوگ محض کسی پریشانی کو ڈپریشن سمجھتے ہیں جو غلط ہے ۔
 

گُلِ یاسمیں

لائبریرین
زیک آپ کی ریٹنگ "ڈپریشن" پیدا کر سکتی ہے ۔ کسی نے آپ کو نہیں بتایا ہو گا ۔:D
یہ ضرور ہے کہ کچھ عوامل سے ذہنی بیماریاں بھی ہوتی ہیں اور ان کا پراپر علاج بھی ہوتا ہے ۔ مگر گل ایک ایکٹو محفلین ہیں ۔ محنتی اور با صلاحیت تو مجھے ایسا لگا کہ وہ صرف ایک تسلی یا مثبت رویہ کی وجہ سے اس سے باہر آسکتی ہیں ۔ زیادہ جانتی نہیں ہوں ان کے بارے میں۔ ہو سکتا ہے میں غلط ہوں ۔
کیا مطلب؟ باہر آ سکتی ہیں؟
وہ ماضی بعید کی بات ہے۔ اور الحمد للہ اس نے ہمیں مزید مضبوط بنایا ہے۔
اللہ پاک کی رحمتوں کا شمار۔ اس کی اپنے بندوں سے محبت سے ہم تندرست ہیں۔
پہلے بھی اللہ پاک کی رحمتوں سے انکار نہ تھا۔۔۔ لیکن ہائی ڈپریشن کی صورت میں ہاسپٹلائیز ہوئے۔۔۔ سخت نگرانی۔۔۔سر پہ کھڑے ہو کر نرسوں کا دوائی کھلانا کہ پہلے کبھی پیناڈول بھی نہ کھائی تھی۔
وہاں دوسرے مریض دیکھے کسی نے خودکشی کے لئے نس کاٹی ہوئی بازو کی، کسی نے خود کو زخمی کیا ہوا۔ اس وقت ہم نے پابندی سے سورہ رحمٰن ترجمہ کے ساتھ سننا شروع کی۔ اور ہر بار فَبِأَیِّ آلَاءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ پہ سوچتے کہ کس نعمت کی کمی ہے جو ہم اس حال میں ہیں۔ جیسے سب اندھیرے چھٹ گئے۔ تب سے اب تک ماشاء اللہ" مردانہ وار "جی رہے ہیں۔ دراصل امی ابو اور پھر بھائی۔۔۔ ان کا بچھڑ جانا ۔۔تو انہی باتوں نے ذہن پر برا اثر ڈالا تھا۔ رو لینا اچھا ہوتا ہے مگر دوسروں سے چھپانے کے لئے جب آنسو دل میں اتار لئے جائیں تو ایک دن ذہن جواب دے جاتا ہے۔لیکن الحمد للہ کلام پاک نے سہارا بن کر ہمیں واپس زندگی میں لوٹایا ہفتوں نہیں بلکہ دنوں میں۔ اصل بات ول پاور کی ہوتی ہے جب اس بات کو جان لیا تو کوئی مشکل مشکل نہ رہی۔ " تو تم خدا کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے" ہر گھڑی دن کے ہر لمحے بس یہی آواز گونجتی ہے ذہن میں۔ کسی وقت کوئی ہلکی سی بات ذہن میں آئے بھی تو دماغ "کلک" کرتا ہے ۔
ہم نے تکلیف تو سہی مگر اس سے ہم نے کچھ اچھا ہی حاصل کیا ہے۔ خدمت خلق کو اوڑھنا بچھونا بنا لیا ہے۔
اللہ پاک کے کلام کی برکت اور یقین سے کوئی بیزاری بے قراری نہیں۔ شکر اللہ کہ بہت مطمئن ہیں اور مثبت سوچ کے ساتھ زندگی میں آگے بڑھ رہے ہیں۔
اللہ پاک اپنی رحمتوں کا سایہ برقرار رکھے اور اپنا اطاعت گزار بنائے رکھے۔۔۔ یہی سرمایہ ہے زندگی کا ۔ اور اسی کے سہارے آخرت سنوارنی ہے۔
 

گُلِ یاسمیں

لائبریرین
ڈیپریشن ایک بیماری کا نام ہے۔ محض ڈاؤن یا “ڈیپریس” (عام زبان میں) کو نہیں کہتے۔ اس کے لئے علاج لازم ہے۔ خدا کو مانتے ہیں تو اس پر توکل وغیرہ تو ہر حال میں ہو گا۔
متفق ہیں آپ کی بات سے۔۔۔ بیماری ہے ڈپریشن ۔ لیکن شکست دی جا سکتی ہے اللہ پاک پر توکل کر کے۔
 

گُلِ یاسمیں

لائبریرین
ڈپریشن کو عام آدمی کا فہم اور ایک سائیکائٹرسٹ کا فہم بہت مختلف چیزیں ہیں ۔ عام لوگ محض کسی پریشانی کو ڈپریشن سمجھتے ہیں جو غلط ہے ۔
اس کے لئے مختصر یہ

وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثے یونہی رونما نہیں ہوتے
 

گُلِ یاسمیں

لائبریرین
ہاں پر زیک کی بات بھی درست ہے ۔ ہماری ایک دوست امریکہ میں ہیں اور ان کی بڑی بہن ڈپریشن کا شکار ہیں ۔ ان کو شاٹس لگتے ہیں ۔ بہت تکلیف میں ہے ساری فیملی ۔
واقعی قابل رحم حالت ہے ان کی۔ اللہ پاک انھیں مشکل سے نکالیں۔ آمین

اللہ پاک کی مدد اور اپنی قوت ارادی کے بغیر اس سے نکلنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ دوائیاں تو بس وقتی سکون کے لئے ہوتی ہیں جن کے سائیڈ ایفکٹس ہی ایسے ظالم ہیں کہ توبہ۔
 

گُلِ یاسمیں

لائبریرین
اس قسم کی کیفیات میں اطمینانِ قلب و نفس کی اشد ضرورت ہوتی ہے
اور خود اللہ پاک قرآن پاک میں اپنے ذکر کو دل کے اطمینان کا بہترین ذریعہ قرار دیتا ہے
بالکل بھائی۔۔۔ اللہ پاک نے خود ہی راہ بھی دکھائی۔ اور خاص طور پر سورۃ رحمٰن سے ہمیں اطمینانِ قلب حاصل ہوا۔
اور ساتھ ہی خود کو مصروف رکھنے کے لئے وہ راہ مل گئی جو اللہ پاک کی خوشنودی حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ خدمت خلق میں ہم ہمیشہ سے ہی کسی نہ کسی طرح لگے رہے ہیں مگراب اسے ایک فرض کے طور پر ادا کر رہے ہیں۔ دعائیں بھی ملتی ہیں اور اللہ بھی راضی۔ دعا کیجئیے گا کہ یونہی ثابت قدم رہیں۔
 

زیک

تکنیکی معاون
دوائیاں تو بس وقتی سکون کے لئے ہوتی ہیں جن کے سائیڈ ایفکٹس ہی ایسے ظالم ہیں کہ توبہ۔
ایسے لوگوں کو جانتا ہوں جو تھیراپی سے صحتیاب ہوئے اور ایسے بھی جن کے لئے دوائی زندگی کا پیغام لے کر آئی۔ کچھ کے لئے تھیراپی یا دوائی کچھ عرصہ کے کئے لینا بہت تھا اور کچھ عرصہ دراز سے علاج کروا رہے ہیں۔ بہرحال ڈپریشن کافی مشکل بیماری ہے۔

اس میں شک نہیں کہ کچھ لوگوں کو قرآن سے سکون ملتا ہے۔ لیکن میں اس بات کو اچھا نہیں سمجھتا کہ ہم قرآن یا مذہبی rituals کو علاج کے طور پر پروموٹ کریں کیونکہ ان کی افادیت دوسری ہے چاہے وہ مرض ٹھیک کریں یا نہ کریں۔

اس میں اکثر آپ کے مراسلے کا جواب نہیں بلکہ مکمل گفتگو کے تناظر میں کہا ہے
 

گُلِ یاسمیں

لائبریرین
ایسے لوگوں کو جانتا ہوں جو تھیراپی سے صحتیاب ہوئے اور ایسے بھی جن کے لئے دوائی زندگی کا پیغام لے کر آئی۔ کچھ کے لئے تھیراپی یا دوائی کچھ عرصہ کے کئے لینا بہت تھا اور کچھ عرصہ دراز سے علاج کروا رہے ہیں۔ بہرحال ڈپریشن کافی مشکل بیماری ہے۔

اس میں شک نہیں کہ کچھ لوگوں کو قرآن سے سکون ملتا ہے۔ لیکن میں اس بات کو اچھا نہیں سمجھتا کہ ہم قرآن یا مذہبی rituals کو علاج کے طور پر پروموٹ کریں کیونکہ ان کی افادیت دوسری ہے چاہے وہ مرض ٹھیک کریں یا نہ کریں۔

اس میں اکثر آپ کے مراسلے کا جواب نہیں بلکہ مکمل گفتگو کے تناظر میں کہا ہے
جی بھائی ہم سمجھ سکتے ہیں کہ اکثر کا ہمارے مراسلے کے جواب سے تعلق نہیں۔
کافی مشکل صرف اس وقت تک ہی ہے جب تک آپ اسے سمجھ نہیں جاتے۔ میڈیسن ریلکس کرنے میں واقعی مدد کرتی ہے لیکن یہ علاج نہیں ہے۔ بس انسان وقتی سکون میں ہوتا ہے اور پھر واپس۔ ہر چیز سے لا تعلق بنا دیتی ہیں۔ اگر صرف دوائی کے سہارے انسان رہے تو صحت پانا بہت مشکل ہے۔
ہاں جب آپ قوت ارادی کے سہارے اٹھ کھڑے ہو تو پیچھا چھوڑ دیتی ہے۔ سکونِ قلب ہو تو قوت ارادی مضبوط ہوتی ہے۔ اور سکونِ قلب اللہ پاک کے ذکر میں ہے۔ ہم نے چونکہ آزمایا ہے اور شفا پائی ہے اس لئے ہمارا اس پر یقین کامل ہے۔ میڈیسن بھی لے کر دیکھی لیکن رتی برابر فائدہ نہیں ہوا۔
 
Top