نظیر ہم نے پوچھا آپ کا آنا ہوا یاں کس روش ۔ نظیر اکبر آبادی

فرخ منظور

لائبریرین
ہم نے پوچھا آپ کا آنا ہوا یاں کس روش
ہنس کے فرمایا لے آئی آپ کے دل کی کشش

دل جونہی تڑپا وہیں دلدار آ پہونچا شتاب
اپنے دل کی اس قدر تاثیر رکھتی ہے طپش

سیر کو آیا تھا جس گلشن میں کل وہ نازنیں
تھی عجب نازاں بخود اس باٹ* کی اِک اِک روش

ڈالتی ہے زلفِ پیچاں گردنِ دل میں کمند
اور رگِ جاں سے کرے ہے نشترِ مژگاں خلش

بھول کر اس کی جفا کا شکوہ مت کیجو نظیر
تو پریشاں گو ہے سخت اور یار ہے نازک منش

(نظیر اکبر آبادی)

*باٹ = راستہ
 
Top