ہم جیتیں گے۔

جاسمن نے 'ہمارا معاشرہ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اکتوبر 19, 2018

  1. جاسمن

    جاسمن مدیر

    مراسلے:
    12,659
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    ہم جیتیں گے۔
    زندہ رہنے اور زندگی سے لطف اندوز ہونے کا حق سب کو حاصل ہے چاہے وہ صحت مند ہو یا کوئی معذور فرد (انھیں ہم خاص افراد کہیں گے)۔کوئی بھی انسانیت سے پیار کرنے والا یہی چاہے گا کہ معاشرے کے تمام خاص افراد زندگی کے دھارے میں ضرور شامل ہوں۔
    اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو ڈھیروں صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ جب ایک چیز کم یا ختم ہوتی ہے تو اللہ کی طرف سے کسی اور صلاحیت یا طاقت میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ زندہ رہنے اور جِدّ وجُہد کرتے رہنے کا جذبہ خاص افراد میں ایسی تحریک پیدا کرتا ہے کہ وہ معذوری کو اپنی مجبوری نہیں بننے دیتے۔اِن خاص افراد میں سے بہت سے لوگ خاص الخاص بن جاتے ہیں- عام افراد کے لیے ہیرو ۔
    ایسے ہی ہیرو اور اُن کی کہانیاں ہمارےاِس دھاگے میں شامل ہوں گی۔
    اِن کہانیوں میں ویڈیوز اور تصاویر بھی ہوسکتی ہیں لیکن ہم کوشش کریں گے کہ مکمل کہانی شامل کر سکیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. جاسمن

    جاسمن مدیر

    مراسلے:
    12,659
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    فلسطینی صابر الاشقر
    18 اکتوبر 2018
    وہ کئی سال قبل اسرائیلی گولہ باری کے نتیجے میں دونوں ٹانگوں سے معذور ہوگیا تھا مگر اس کے باوجود اس نے محاذ جنگ نہیں چھوڑا ۔بالآخر بزدل صہیونی درندروں‌ نے اسے گولیاں مار کر شہید کردیا۔
    [​IMG]
    فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی میں محاذ پر موجود ایک معذور فلسطینی کی وہیل چیئر پر لی گئی تصویرنے پیرس میں ہونے والے ایک تصویری مقابلے میں عالمی ایواڈ جیت لیا۔

    مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق فرانس میں محاذ جنگ کی کوریج کرنے والے نامہ نگاروں کی لی گئی تصاویر کا مقابلہ منعقد کرایا گیا۔ "بایو کالفاڈوس" نامی اس انعامی مقابلے میں فلسطینی فوٹو گرافر محمود الھمص کی لی گئی تصویر کو بہترین تصویر قرار دیا گیا۔ اس تصویر میں غزہ کی مشرقی سرحد پر موجود ایک مظاہرے کے دوران معذور فلسطینی صابر الاشقر کوغلیل کی مدد سے قابض صہیونی فوج پر سنگ باری کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔
    معذور فلسطینی کی تصویر نے عالمی ایوارڈ جیت لیا
     
    • زبردست زبردست × 3
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. جاسمن

    جاسمن مدیر

    مراسلے:
    12,659
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    17 مئی 2018
    پاکستان کے پہلے نابینا جج
    images — Postimage.org
    اکستان کی عدالتی تاریخ کے پہلے قوت بینائی سے محروم سول جج سلیم یوسف نے تربیتی ڈیوٹی کا آغاز کر دیا ہے۔

    ان کی پہلی تعینات جوڈیشل کمپلیکس راولپنڈی میں ہوئی ہے جہاں انہوں نے سینئر جج کی عدالت میں ان کی سرپرستی میں مختلف مقدمات سنے۔ سول جج سلیم یوسف آئندہ ماہ آزاد حیثیت سے سول عدالت میں مقدمات کی سماعت شروع کریں گے موجودہ کیسوں کی سماعت عملی تربیت کا حصہ ہے۔سلیم یوسف نے لاہور کے رہائشی ہیں اور پیدائشی طور پر بصارت سے محروم ہیں۔

    سلیم یوسف نے پنجاب یونیورسٹی سے ایل ایل بی کے امتحانات میں گولڈ میڈل بھی حاصل کیا۔ 3 سال بعد یوسف سلیم نے سول جج کا امتحان دیا اور پہلے نمبر پر رہے لیکن نابینا ہونے کی وجہ سے انٹرویو میں رہ گئے۔ سال بعد یوسف سلیم نے سول جج کا امتحان دیا اور ساڑھے چھ ہزار امیدواروں میں پہلے نمبر پر رہے لیکن نابینا ہونے کی وجہ سے انٹرویو میں رہ گئے۔
    تاہم چیف جسٹس میاں ثاقب نثارنے لاہور ہائیکورٹ کو یوسف سلیم کا انٹرویو دوبارہ لینے کا حکم دے دیا۔یاد رہے کہ نابینا وکیل سلیم کو سیلیکشن کمیٹی نے سول جج کے عہدے کے لیے مسترد کردیا تھا۔راولپنڈی کے سینئر وکلا نے سلیم یوسف کو مقدمات کی سماعت کے دوران مختلف آبزرویشنز پر ستائش کا اظہار کرتے ہوئے انہیں عدلیہ میں بہترین اضافہ قرار دیا ہے۔
    ان کی چار میں سے دو بہنیں بھی نابینا ہیں۔
     
    آخری تدوین: ‏نومبر 24, 2018
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. اکمل زیدی

    اکمل زیدی محفلین

    مراسلے:
    3,994
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Question
    [​IMG]
    محمد عاقب کراچی کے علاقے منظور کالونی کا رہائشی ہے۔ عمر 24سال ہے مگر قد نہایت چھوٹا ہے جبکہ ہاتھ پاوٴں بھی غیر معمولی طور پر چھوٹے اور قدرتی طور پر مڑے ہوئے ہیں۔

    عاقب کہتا ہے کہ وہ ایک ایسی ’پر اسرار بیماری‘ میں مبتلا ہے جس کا کم ازکم پاکستان میں کوئی علاج نہیں ۔ اس کے سات بہن بھائی ہیں جن میں سے اس سمیت تین بھائی پیدائشی طور پر اسی ’پراسرار بیماری‘ میں مبتلا ہیں۔

    اس تمام صورتحال کے باوجود عاقب با ہمت اور حوصلے سے معذوری کو شکست دے رہا ہے۔ وہ اپنے ایک بھائی کے ساتھ پنکچر لگانے کا کام کرتا ہے۔ ساتھ ساتھ جانوروں کا چارہ بھی بیچتا ہے اور دونوں دکانوں کا حساب کتاب بھی وہ خود ہی سنبھالتا ہے۔

    عاقب کرنسی نوٹ گن لیتا ہے، جانوروں کا چارہ بھی تول لیتا ہے۔ وہ موبائل بھی استعمال کرتا ہے اور اس کے سارے فیچرز سے بھی آگاہ ہے۔ عاقب کا کہنا ہے کہ اگرچہ وہ دوسرے تعلیم یافتہ افراد کی طرح پڑھا لکھا نہیں ہے لیکن اسے خود پر فخر ہے۔ وہ ان ہزاروں لاکھوں افراد سے بہتر ہے کہ جو اپنی معذوری کے آگے مایوس ہوجاتے ہیں اور پھر بھیک مانگنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
     
    • زبردست زبردست × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  5. اکمل زیدی

    اکمل زیدی محفلین

    مراسلے:
    3,994
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Question
    [​IMG]
    آخری اشاعت: بدھ 25 جمادی الاول 1438ه۔ - 22 فروری 2017م KSA 08:06 - GMT 05:06
    ہاتھ پاؤں سے معذور مصری بچہ بوتلوں سے مدد لینے پر مجبور
    زیاد محمد کے علاج پر 30 لاکھ مصری پونڈ کی لاگت پر والدین پریشان
    بدھ 25 جمادی الاول 1438ه۔ - 22 فروری 2017م
    [​IMG]
    مصر میں ایک گیارہ سالہ بچہ پیدائشی طور پر دونوں بازوں اور ٹانگوں سے محروم ہونے کے باعث حقیقی معنوں میں ایک المیے سے دوچار ہے، مگر اس نے زندگی جینے کے لیے اپنی معذوری کو رکاوٹ نہیں بننے دیا۔ اس نے یہ مشکل چیلنج بھی قبول کرتے ہوئے ایک ایسا حل نکالا ہے جس کی مدد سے وہ نہ صرف خود کھانا کھا سکتا ہے بلکہ وہ لکھنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

    العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق گیارہ سالہ زیاد محمد احمد محمد مشرقی گورنری کے بنی صدر قصبے کا رہائشی ہے۔ وہ پیدائشی دونوں ہاتھوں اور دونوں پاؤں کے بغیر پیدا ہوا۔ مگر اس معذوری کے علی الرغم وہ کسی کی معاونت کے بغیر خود سے کھا پی سکتا ہے۔ معذور بچے کے والد نے اس کے لیے ایک ایسا حل نکالا ہے۔ اس نے پلاسٹک کی خالی بوتلوں کو اس کے کندھوں کے ساتھ اس طرح جوڑا کہ ان کی مدد سے بچہ چمچ کے ذریعے کھانا کھا سکتا ہے۔
    [​IMG]
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
  6. جاسمن

    جاسمن مدیر

    مراسلے:
    12,659
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    اللہ ان سب کے لیے آسانیاں پیدا کرے۔ آمین!
    خاص طور پہ زیاد محمد کے لیے اللہ بہت اچھا انتظام کرے۔ آمین!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  7. جاسمن

    جاسمن مدیر

    مراسلے:
    12,659
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    سرمد طارق
    [​IMG]
    پاکستان کے پہلے معذور ایتھلیٹ اور کہانی گو تھے۔ اور انہوں نے کھیل کی دنیا میں بہت سے ریکارڈ قائم کیے ۔

    حالات زندگی
    سرمد طارق 17 دسمبر 1975ء میں پیدا ہوئے۔ 15 برس کی عمر میں سوئمنگ کرتے ہوئے ایک ڈائیونگ حادثے میں سرمد طارق دونوں بازو اور دونوں ٹانگوں سے معذور ہو گئے تھے۔ اور تمام زندگی وہیل چئیر پر گزری۔ اسی وجہ سے ان کے عزیز و اقارب ان کو ’چیئرمین‘ کے نام سے پکارتے تھے۔

    اعزازات اور ریکارڈ
    انہیں 2005 میں پاکستان کے پہلے لاہور میراتھن میں واحد وہیل چیئر ایتھلیٹ ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔
    سنہ 2005 میں آئی این جی نیو یارک شہر میراتھن میں پاکستان کی نمائندگی کی اور تمغا حاصل کیا۔
    سرمد نے معذور افراد کی جانب سے بغیر رکے سب سے لمبے فاصلے تک گاڑی چلانے کا بھی ریکارڈ قائم کیا جب انہوں نے 33 گھنٹے مسلسل گاڑی چلائی اور خیبر سے کراچی تک کا 1847 کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا۔
    وفات
    سرمد طارق طویل علالت کے بعد 30 اپریل 2014 کو وہ انتقال کر گئے۔
    سرمد طارق - آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا
    چیئرمین‘ کے نام سے مشہور سرمد شادی شدہ تھے اور اسلام آباد میں رہتے تھے ۔

    سرمد کئی بیماریوں میں مبتلا تھے۔ گزشتہ کئی مہینوں سے ان کی حالت خراب تھی اور ان کا علاج جاری تھا۔

    اپنے آخری بلاگ میں سرمد طارق نے لکھا ’اے اللہ میں اس وقت اتنی بیماریوں میں مبتلا ہوں کہ ایک آدمی اتنی بیماریوں کا تلفظ بھی نہیں جانتا ہو گا۔

    پچھلے ماہ ہی مجھے دو بار ایمرجنسی میں ہسپتال لے جایا گیا جہاں میرا بلڈ پریشر 50/20 تک گرا اور پھر 200/140 تک جا پہنچا۔‘

    اپنے بلاگ میں انہوں نے مزید لکھا ’اتنی تکالیف سہنے کے بعد بھی میں شکایت نہیں کر رہا اور ہر وقت ہنستا مسکراتا رہتا ہوں۔‘

    سرمد طارق نے 23 سال کی عمر میں ایک سافٹ ویئر کمپنی میں ملاممت اختیار کی تھی۔

    پاکستان کے پہلے معذور ایتھلیٹ، کہانی گو سرمد طارق انتقال کرگئے
     
    آخری تدوین: ‏اپریل 30, 2019
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
  8. محمد عدنان اکبری نقیبی

    محمد عدنان اکبری نقیبی محفلین

    مراسلے:
    17,947
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    پہاڑ کی چوٹی کی طر ف دیکھنا اور اس چوٹی پر چڑھنے کے بارے میں سوچنا بہت سے لوگوں کے لیے پریشان کُن ہوتا ہے، لیکن اگر کوئی نابینا انسان پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ جائے تو یہ ایک حیران کُن بات ہے۔

    [​IMG]
    45 سالہ زرینہ حسن پاکستان کی ایک نابینا ڈاکٹر ہونے کے ساتھ ساتھ کوہِ پیما اور مصورہ بھی ہیں۔ انہوں نے اسلام آباد کی مارگلہ کی پہاڑیوں کے علاوہ ہنزہ اور اسکردو کے پہاڑوں کو بھی سر کیا ہے۔
    زرینہ حسن نے امپیریل کالج سے سالماتی حیاتیات(Molecular Biology) اور وائرسوں کے پیتھالوجی (Viruses Of Pathology ) میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی ، ڈاکٹر ہونے کے ساتھ زرینہ حسن تین بچوں کی والدہ بھی ہیں۔
    2015 میں گلوکوما (Glaucoma) کے مرض کی وجہ سے زرینہ حسن بینائی سے محروم ہوگئی تھیں لیکن انہوں نے اپنی محرومی کو اپنی کمزوری بنانے کے بجائے اپنی طاقت بنایا۔
    زرینہ حسن نے نابینا ہونے کے باوجود ایسے ایسے کام کیے جو ہربینا اور نابینا کے لیے مثال ہیں، انہوں نے اپنی زندگی کے ہر شوق کو پورا کیا۔
    انہوں نے پہاڑ پر چڑھنے کے ساتھ ساتھ پینٹنگ کے فن کو بھی برقرار رکھا، زرینہ حسن کا کہنا ہے کہ ’بےشک میں اپنی آنکھوں سے دنیا کے خوبصورت رنگ نہیں دیکھ سکتی، لیکن پینٹنگ کر کے میں اپنے دِل کی آنکھوں سے زندگی کے ہر اس حسین منظر کو دیکھ سکتی ہوں جو باقی سب لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں۔‘
    زرینہ حسن نے کہا کہ ’مجھے یہ ٹیلنٹ میرے خُدا کی طرف سے ملا ہے۔‘
    ڈاکٹر زرینہ حسن نے بتایا کہ یہ سب کچھ میرے ساتھ 10 سال پہلے ہوا، جب مجھے میری بائیں آنکھ سے نظر آنا بند ہوگیا تھا، تشخیص کے بعد معلوم ہوا کہ مجھے گلوکوما (Glaucoma) کا مرض ہے، لیکن 2015 میں میری دائیں آنکھ کی بینائی بھی چلی گئی اور اس طرح میں دونوں آنکھوں کی بینائی سے محروم ہوگئی۔
    انہوں نے مزید کہا کہ ایک عورت کے لیے ضروری ہے کہ وہ کسی قسم کے حالات میں بھی ہار نہ مانے، وہ ایک بیٹی، بیوی اور ماں ہوتی ہے اسے اپنے ہر فرض کو باخوبی نبھانا چاہیے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • غمناک غمناک × 1
  9. جاسمن

    جاسمن مدیر

    مراسلے:
    12,659
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    معذوروں کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے والا ‘ شفیق الرحمان
    11.02.2016
    [​IMG]
    پاکستان میں معذور افراد کے لیے خدمات سر انجام دینے والوں میں ایک بڑا نام محمد شفیق الرحمان کا بھی ہے۔ لاہور شہر میں پیدا ہونے والے شفیق الرحمان نے جب ہوش سنبھالا تو انہیں پتہ چلا کہ وہ چلنے پھرنے کی صلاحیت سے محروم ہے۔
    انتالیس سالہ محمد شفیق الرحمان کو اُن کے بچپن میں پولیو کی جو دوا دی گئی تھی اس کی میعاد ختم ہو چکی تھی۔ اسی وجہ سے دوا کا اثر نہ ہو سکا اور وہ معذوری کا شکار ہو گئے۔ وہ کہتے ہیں، ’’خواہش کے باوجود مجھے عام سکول میں داخل نہیں کروایا گیا۔ میرے والدین کا خیال تھا کہ وہاں بچے میرا مذاق اڑائیں گے اور یوں مجھ میں اعتماد پیدا نہیں ہو سکے گا۔ اس سکول میں، میں رینگ رینگ کر چلتا تھا، میں نے کبھی آسمان نہیں دیکھا تھا۔ مجھے سکول کے برآمدوں میں چلتی ہوئی اپنی ٹیچر کے جوتے اور گھٹنے ہی نظر آتے تھے۔ میں معذوری کی وجہ سے لوگوں کے چہرےآسانی سے نہیں دیکھ پاتا تھا۔"

    ماضی کو یاد کرتے ہوئے شفیق کا کہنا تھا، ’’ایک مرتبہ ہمارے سکول میں ایک غیر ملکی خاتون آئیں۔ انہوں نے پیار سے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور پھر پنے ہاتھوں کو ٹشو پیپر سے اچھی طرح صاف کر لیا۔ مجھے یہ اچھا نہیں لگا۔ یہی وہ لمحہ تھا جب میں نے یہ فیصلہ کیا کہ میں نہ صرف اپنی بلکہ دوسرے معذور افراد کی معذوری کو ان کی مجبوری نہیں بننے دوں گا۔‘‘

    شفیق الرحمان نے اپنے دیگر معذور دوستوں کو اکھٹا کیا اور مائل سٹون سوسائٹی فار دی سپیشل پرسنز کی بنیاد رکھی۔ لاہور کے لارنس گارڈن میں موجود قائد اعظم لائبریری کے سامنے والے باغیچے کا ایک درخت ان دوستوں کی ملاقات کا مقام طے پایا۔ وہ بتاتے ہیں کہ روزانہ میٹنگز ہونے لگیں اور ایک دن ایک بڑے میاں پاس سے گزرے۔ انہوں نے بہت سارے سپیشل پرسنز کو باتیں کرتے دیکھا تو وہ بھی اس محفل میں چلے آئے۔ انہوں نے تنظیم کو رجسٹر کرانے کا مشورہ دیا۔’’ ایک دن پتہ چلا کہ معذور دوستوں کی محفل میں درد دل کے ساتھ شریک ہونے والے یہ بڑے میاں پاکستان کی قومی اسمبلی کے اسپیکر اور کچھ عرصہ بعد میں نگران وزیر اعظم بن گئے۔ یہ معراج خالد تھے انہوں نے معذورو لوگوں کی بہتری کے لیے ہمارا کافی ساتھ دیا۔‘‘

    مائل سٹون سوسائٹی فار دی سپیشل پرسنز پیرالائزڈ لوگوں کو مددگار فراہم کرتا ہے اور وہ لوگ جو معذوری کی وجہ سے زیادہ ہل جل نہیں سکتے، انہیں الیکٹرانک وہیل چئیرز مہیا کرتا ہے۔ شفیق کا ادارہ جاپان اور ترقی یافتہ ملکوں کے فلاحی اداروں کی مدد سے استعمال شدہ الیکٹرانک وہیل چیئرز حاصل کرتا ہے اور ان کی مرمت کے بعد مستحق لوگوں کو فراہم کرتا ہے، اب تک ان کا ادارہ 70 افراد کو ایسی وھیل چیئرز مہیا کر چکا ہے، اس ادارے کی کوشش ہے کہ اگلے سال تک سستی الیکٹرانک وہیل چئیرز کی پاکستان میں تیاری شروع ہو سکے۔ یہ ادارہ پاکستان بیت المال کی مدد سے 85 ہزار مینوئل وھیل چیرز بھی تقسیم کر چکا ہے۔
    [​IMG]

    شفیق اپنے ساتھیوں کی مدد سے عوامی مقامات کو معذور افراد کے لیئے قابل رسائی بنانے کے منصوبے پر بھی کام کر رہے ہیں، ان کی کوششوں سے لاہور ڈیویلپمنٹ اتھارٹی نے نئے بلڈنگ رولز بنائے ہیں اب تمام نئے منصوبوں میں معذور افراد کے لیئے رستہ رکھا جائے گا۔ اسی طرح سٹیٹ بنک آف پاکستان نے بھی اس بات کی منظوری دے دی ہے کہ آئندہ پاکستان میں بننے والے ہر بنک میں معذور افراد کے یئے رستہ رکھا جانا ضروری ہوگا۔ ان کی کوششوں سے پنجاب اسمبلی اور لاہور ھائی کورٹ کو معذور افراد کے لیئے قابل رسائی بنایا جا چکا ہے۔ ان کا ادارہ معذور لوگوں کی آگاہی اور تربیت کے لیئے بھی خدمات سرانجام دے رہا ہے۔

    مائل سٹون نامی غیر سرکاری تنظیم کے صدر شفیق نے اردو میں ایم اے کرنے کے بعد کمپیوٹر کی تعلیم حاصل کی۔ بعدازاں وہ فیلو شپ کورس کے لیے ایک سکالرشپ پر جاپان چلے گئے۔ انہوں نے جاپان میں سپیشل پرسنز کی بہتری کے لیے موجود ماڈلز کو دیکھا اور پاکستان آکر پھر سے اپنے دوستوں کے ساتھ فلاحی کاموں میں مصروف ہو گئے۔ شفیق ا لرحمان جنیوا میں قائم ورلڈ کانگرس آف ہیومن رائٹس میں معذور افراد کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ انہیں وہیل چیئر کرکٹ کے بانی ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ چار بچوں کے والد شفیق اپنے آپ کو معذور نہیں سمجھتے وہ ایک خوش و خرم زندگی گزار رہے ہیں۔ وہ دوسروں کو بھی اپنے آپ سے پیار کرنے اور اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کا درس دیتے ہیں۔
    [​IMG]
    شفیق الرحمان کہتے ہیں کہ ہر انسان میں کوئی نہ کوئی ڈس ایبلیٹی ہوتی ہے۔کوئی بھی سو فی صد پرفیکٹ نہیں ہوتا۔ ان کے بقول سپیشل پرسنز کا ایک خاص لائف سٹائل ہوتا ہے انہیں تعصب کا نشانہ نہیں بنانا چاہیے۔ ان کے بقول کسی کی معذوری کو اس کا نام بنا دینا بہت ناانصافی ہے۔ اس لیے جب کسی معذور شخص کے نام کے ساتھ گونگا یا بہرا لگایا جاتا ہے تو انہیں بہت تکلیف ہوتی ہے۔ ’’پاکستان بھر میں ہمارے 1800 ارکان ہیں، ہم 152 فلاحی تنظیموں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ ہم معذور لوگوں کو پاؤں پر کھڑے ہونا سکھاتے ہیں، یوں سمجھیے ہم انہیں مچھلی نہیں دیتے بلکہ مچھلی پکڑنا سکھاتے ہیں۔‘‘ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ وہ عطیات، امداد یا خیرات نہیں لیتے۔ بلکہ پروفیشنل کنسلٹنسی فراہم کرتے ہیں اور مختلف عمارتوں کی رسائی کا آڈٹ کرتے ہیں۔ اس سے حاصل ہونے والی آمدنی سے شفیق اور ان کے ساتھی اپنی تنظیم چلا رہے ہیں۔


    شفیق الرحمان کو دکھ ہے کہ جس طرح سیاست بوڑھے سیاست دانوں کو ریٹائر کر دیتی ہے اسی طرح پاکستانی معاشرہ بھی معذور لوگوں کو نظر انداز کر دیتا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے ایک معروف کارکن اسرار شاہ جب دہشت گردی کے ایک واقعہ میں معذور ہوگئے تو ان کی اپنی پارٹی نے انہیں فراموش کر دیا۔ ان کے بقول پاکستان کے سرکاری افسروں کو ڈس ایبلیٹی سے منسلک مسائل کا پتہ تک نہیں ہے، ’’میں دعوٰی کرتا ہوں کہ کوئی بیوروکریٹ مجھے بتا دے کہ وہیل چیئر والے ایک شخص کو کموڈ پر کیسے منتقل کیا جا سکتا ہے۔ یہ میٹرو بس اور اورنج ٹرین سمیت جتنے بڑے بڑے پراجیکٹس بنائے جا رہے ہیں ان میں وہیل چیئر والوں کے لیے راستہ کیوں نہیں بنایا جاتا۔ ہماری کنسٹرکشن کا یہ حال ہے کہ ہم مسجدوں، بینکوں اور ریستورانوں میں صرف اس لیے نہیں جا سکتے کہ وہاں ہمارے لیے کوئی راستہ ہی نہیں بنایا جاتا۔‘‘ وہ کہتے ہیں کہ پاکستان نے معذور افراد کے حوالے سے اقوام متحدہ کے کنونشن پر دستخط کیے تھے لیکن اس بارے میں ملکی صورتحال کی رپورٹ ابھی تک جمع نہیں کروائی جاسکی ہے۔

    شفیق ا لرحمان بتاتے ہیں کہ عالمی اعداوشمار کے مطابق دنیا بھر میں 10 سے 15 فی صد لوگ معذوری کا شکار ہیں صرف پاکستان میں ڈس ایبل لوگوں کو قومی ترقی کے عمل میں شامل نہ کیے جانے کی وجہ سے ایک ملین ڈالر روزانہ کا نقصان ہو رہا ہے۔ پاکستان میں کوئی ایسا سرکاری محکمہ نہیں ہے، جو خاص طور پر پاکستان کی معذورآبادی کی فلاح و بہبود کے لیے کام کر رہا ہو۔ ان کے مطابق پاکستان میں معذور افراد کی بہبود کے لیے ایک خصوصی کمیشن بنایا جانا چاہیے۔ وہ کہتے ہیں کہ معذورافراد اور ان کے گھر والوں کی تربیت کے لیے اقدامات کرنے چاہییں اور جو شخص پیرالائز ہو جاتے ہیں ان کی بہتری اور ان کو جدید وہیل چیئر فراہم کرنے کے لیے بھی اقدامات کیے جانے چاہییں۔’’پاکستان کے معذور افراد پاکستان کی ترقی میں بہت اچھا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگرآپ کو ان کی صلاحیتوں پر یقین نہ آئے تو صرف اولمپکس کے مقابلوں یا دیگر کھیلوں کے نتائج کو ایک نظر دیکھ لیں، معذور افراد کی کامیابیاں کم نہیں ہیں۔
    ’معذوروں کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے والا ‘ شفیق الرحمان | DW | 11.02.2016
     
    • زبردست زبردست × 1

اس صفحے کی تشہیر