ہمارے نجی تعلیمی ادارے ، تعلیم کے فروغ کے لئے کتنے مددگار ہیں؟

محمداحمد نے 'تعلیم و تدریس' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جنوری 9, 2021

  1. ثمین زارا

    ثمین زارا محفلین

    مراسلے:
    674
    صرف اور صرف قانون کی عمل داری یقینی بن جائے تو سب ٹیکس دیں گے ۔ چور ہی جب چوکیدار ہو تو کیا کیجیے ۔ ان کو چار پانچ سو سال بھی دے دیجیے انہوں نے کچھ نہیں کرنا ۔ اگر عمران خان نے بھی کچھ نہ کیا تو قوم اس کو کبھی معاف نہ کرے گی ۔
     
    • زبردست زبردست × 1
  2. ثمین زارا

    ثمین زارا محفلین

    مراسلے:
    674
    یہ سب باتیں سب کو معلوم ہیں پھر بھی سمجھنے کی کوئی کوشش کیوں نہیں کرتے۔ میری سمجھ سے باہر ہے ۔
     
    آخری تدوین: ‏جنوری 13, 2021
    • زبردست زبردست × 1
  3. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    209,638
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    ثمین زارا جی عوام تو کھوتہ بریانی یا دو سو روپے فی کس پر بڑے آرام سے راضی ہو جاتے ہیں، پھر وڈیروں کو ٹیکس دینے کی کیا ضرورت ہے۔
     
    • زبردست زبردست × 2
  4. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    209,638
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    کیونکہ اوپر سے نیچے تک سب جانتے ہیں اور کاغذی خانہ پوری کے لیے برائے نام ٹیکس دے کر اپنے آپ کو ٹیکس دیندگان میں شامل کر لیتے ہیں۔
    اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ عوام میں یہ شعور اجاگر ہو جائے کہ خود سے ٹیکس دیں تو یہ شعور پاکستان عوام میں قیامت تک نہیں آ سکتا۔

    مزید یہ کہ ہمارے ملک کا ٹیکس کا نظام بھی کچھ خاص قابل قدر نہیں، اس میں بہت سے لوپ ہول ہیں۔
     
    • زبردست زبردست × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  5. ثمین زارا

    ثمین زارا محفلین

    مراسلے:
    674
    جی ٹھیک کہا ۔ اس لیے تمام لوگوں نے اپنے لیے عمدہ اسکولز، کالجز، یونیورسٹیز، کلبز سے لے کر ہسپتال تک بنا لیے ہیں جہاں مجبوری میں عام عوام بھی اپنا پیسہ خرچ کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے ۔ یہ عمران خان کو اسی لیے تو مل کر ہٹانا چاہتے ہیں کہ ان کو اپنا مستقبل تاریک نظر آرہا ہے ۔ کہاں پی پی پی کہاں نون لیگ کہاں مولوی اور کہاں یہ قربتیں ۔ اللہ کی شان دیکھیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
  6. ثمین زارا

    ثمین زارا محفلین

    مراسلے:
    674
    اوکے میم ، دوبارہ تمام مراسلے پڑھ کر جلد جواب دینے کی کوشش کرتی ہوں کہ ایسا کیوں لکھا تھا ۔
     
    • زبردست زبردست × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  7. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    26,631
    آوے کا آوا بگڑا ہوا ہے۔ یہ بات سو فیصد درست ہے۔ ناروے ہر سال اپنا ۵۰ فیصد ٹیکس ڈائرکٹ ٹیکسیشن سے حاصل کرتا ہے۔ جبکہ صرف ۲۵ فیصد ٹیکس ان ڈائرکٹ ٹیکسیشن سے آتا ہے۔ اور پھر اسی حساب سے بجٹ کا سب سے بڑا حصہ عوام کی فلاح بہبود یعنی سوشل ویلفیر پر خرچ ہوتا ہے:
    آمدن ۲۰۲۰
    [​IMG]
    اخراجات ۲۰۲۰
    [​IMG]
    اس کے مقابلہ میں پاکستان اپنے بجٹ کا قریبا آدھا حصہ پچھلی حکومتوں کے چڑھائے ہوئے قرضے اتارنے میں صرف کر رہا ہے۔ یہی عوام ڈائرکٹ ٹیکس دینا شروع کر دے تو حکومت کے پاس عوام کی فلاح بہبود کیلئے بھی وسائل وافر مقدار میں موجود ہوں گے۔ یوں ٹیکس دینا ہر شہری کی انفرادی ذمہ داری ہے۔ حکومت اپنا پورا زور لگا کر بھی ٹیکس اکٹھا نہیں کر سکتی ہے اگر شہریوں کی ذہنیت ٹیکس دینے کے خلاف ہو۔ نتیجتا ہر حکومت باہر سے مزید قرضے لے گی، نوٹ چھاپے گی، ان ڈائرکٹ ٹیکس بڑھائے گی جس سے کبھی بھی عوام خوشحال نہیں ہو سکتی۔
    [​IMG]
    [​IMG]
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  8. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    209,638
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    صرف پی پی پی ٹولہ اور ن لیگ ٹولہ اپنی تمام دولت غیر ممالک سے پاکستان لے آئیں، بھلے ہی حکومت کو نہ دیں، لیکن اپنی دولت پاکستانی بنکوں میں جمع کروا دیں، تو ملک کا آدھا قرضہ تو بڑے آرام سے اتر جائے گا۔
     
    • زبردست زبردست × 1
  9. ثمین زارا

    ثمین زارا محفلین

    مراسلے:
    674
    بھئی ناروے میں انڈائیریکٹ ٹیکسیشن ٹھیک معلوم ہوتی ہے کہ تمام لوگ ہی خوشحال ہیں ۔ یہ ایک فلاحی ریاست ہے جس میں عوام کی فلاح و بہبود پر ان کا پیسہ ایمانداری سے خرچ کیا جاتا ہے ۔ یعنی ان کا پیسا بالآخر ان کے ہی کام آتا ہے ۔ جبکہ پاکستان میں ایک عام غریب انسان پیٹ کاٹ کر یہ ٹیکسز دیتا ہے اور اس کا پیسہ کرپشن کی نظر ہو جاتا ہے اور وہ غریب سے غریب تر ہو تا جاتا ہے جو کہ ظلم ہے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1

اس صفحے کی تشہیر