جاسمن

مدیر
جاسمن جی !!!!
اتنا پیارا لکھتی ہیں تو خود کتنی پیاری ہوں گی سچ میں نے بہت ہی موہنی سی تصویر ذہین میں بنا لی ہے ایسا لگتا ہے کہ آپ سے کو بہت ہی پہلے سے ایک رشتہ ہے کہاں رہ گیے ہیں وہ لوگ جو بالکل جینوئین ہیں ۔ آپ بالکل ایسی ہیں جیسا لکھتی ہیں سچے لوگ بڑے عنقا ہوگئے ہین ۔الللہ بہت ساری خوشیاں دے چاہنے والوں کو سلامت رکھے ۔قابل فخر ہین وہ والدین جنکی آپ اولاد ہین آفرین ہے انکی تربیت پر ۔بہت اچھا لگا آپ سے بات کرکے ۔۔۔۔ پروردگار اپنی حفظ و امان میں آپکو اور وابستہ پیارے پیارے رشتو ں کو آمین الہی آمین

اللہ جی!
اتنی شرمندگی ہو رہی ہے۔
ساری تعریفیں صرف اللہ رب العالمین کے لیے ہیں۔ ہمارے اندر ساری اچھائیاں اسی کی عطا ہیں اور اس کا شکر ہے کہ ہماری برائیاں لوگوں سے چھپائے رکھتا ہے۔ ہمارے عیب کھولنے پہ آئے تو پوری کائنات میں امان نہ ملے۔
اللہ ہم سب کو معاف کرے۔ اپنی نظروں میں چھوٹا اور دوسروں کی نگاہوں میں بڑا بنائے۔ آپ کے میرے بارے میں گمان پورے کرے اور دعائیں قبول فرمائے۔ یہ سب دعائیں آپ کے لیے بھی قبول فرمائے۔ آمین!
ثم آمین!
 

سیما علی

لائبریرین
اللہ جی!
اتنی شرمندگی ہو رہی ہے۔
ساری تعریفیں صرف اللہ رب العالمین کے لیے ہیں۔ ہمارے اندر ساری اچھائیاں اسی کی عطا ہیں اور اس کا شکر ہے کہ ہماری برائیاں لوگوں سے چھپائے رکھتا ہے۔ ہمارے عیب کھولنے پہ آئے تو پوری کائنات میں امان نہ ملے۔
اللہ ہم سب کو معاف کرے۔ اپنی نظروں میں چھوٹا اور دوسروں کی نگاہوں میں بڑا بنائے۔ آپ کے میرے بارے میں گمان پورے کرے اور دعائیں قبول فرمائے۔ یہ سب دعائیں آپ کے لیے بھی قبول فرمائے۔ آمین!
ثم آمین!
مجھے یقین ہے کہ میرا گمان بالکل سچ ہے آپ ہیں ہی اتنی اچھی جسکا دل اتنا اچھا ہے سوچ اتنی اچھی بہت ڈھیر سارا پیار انشاء کبھی موقع ملا تو ضرور ملاقات ہو گی ویسے آپ لوگوں کی محفل میں سارے در نایاب ہیں ۔ اللہ سلامت رکھے امی کی خدمت میں میرا سلام ضرور عرض کر دیجے گا۔۔اللہ انکا سایہ سلامت رکھے آمین :redheart::redheart::redheart::redheart::redheart:
 

سین خے

محفلین
جاسمن جی !!!!
اتنا پیارا لکھتی ہیں تو خود کتنی پیاری ہوں گی۔ سچ میں نے بہت ہی موہنی سی تصویر ذہن میں بنا لی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ آپ سے بہت ہی پہلے سے ایک رشتہ ہے۔ کہاں رہ گیے ہیں وہ لوگ جو بالکل جینوئین ہیں ۔ آپ بالکل ایسی ہیں جیسا لکھتی ہیں۔ سچے لوگ بڑے عنقا ہوگئے ہیں۔اللہ بہت ساری خوشیاں دے۔ چاہنے والوں کو سلامت رکھے ۔قابل فخر ہیں وہ والدین جنکی آپ اولاد ہیں۔ آفرین ہے انکی تربیت پر ۔بہت اچھا لگا آپ سے بات کرکے ۔۔۔۔ پروردگار اپنے حفظ و امان میں رکھے آپکو اور وابستہ پیارے پیارے رشتوں کو۔ آمین! الہی آمین

میں تو سمجھی تھی آپ اور جاسمن سس پہلے سے ایک دوسرے کو جانتی ہیں کیونکہ جب آپ یہاں آئی تھیں تو اپنا نام کیفیت نامے میں لکھ رہی تھیں۔ تو جاسمن سس نے بھی اپنے کیفیت نامے میں آپکا نام لکھا تھا۔ میں سمجھی تھی جاسمن سس شائد آپ کو جانتی ہیں تو آپکو ویلکم کر رہی ہیں فورم پر :)
 

اسرار اظمی

محفلین
جب زمین تنگ ہوجائے تو دستک آسمان پر دینا پڑتی ھے
سچے دل سے حالتِ اضطرار میں مانگی گئی دعا آسمان پہ دستک ہی تو ہے
 

تبسم

محفلین
بہت عمدہ عنوان ہے اس لڑی کا مجھے سب کے بڑوں کے بارے میں پرھ کر بہت اچھا لگا.
روز آتی رہوں گی سیکھنے کے لیے۔
 
مدیر کی آخری تدوین:

رباب واسطی

محفلین
تنہا ہونا یہ نہیں ہوتا کہ آپ کے پاس کوئی نہیں ہے
اصل میں تنہا ہونا تو یہ ہوتا ہے کہ آپ کے آس پاس بہت سے لوگ موجود ہوں مگر پھر بھی آپ اُن لوگوں کے درمیاں خود کو اکیلا اور تنہا محسوس کریں اور یہ احساس انسان کو کبھی کبھی بہت افسردہ کر دیتا ہے اور وہ خود کو زیادہ تنہا محسوس کرنے لگتا ہے
 

رباب واسطی

محفلین
انسان (مرد ہویا عورت) جب اپنی خوبصورتی ، ذہانت، مال و متاع ، آزادی کا غیر شرعی استعمال شروع کردیتا ہے تو بدقسمتی ، بد نامی ،بے سکونی اس کا مقدر بن جاتی ہے
کیونکہ ہر بلندی کے ساتھ پستی کا دروازہ بھی کھلتا ہے ، اور قابل غور بات یہ ہوتی ہے کہ اس پستی کے دروازے کی طرف ہماری بے لگام خواہشات ہمیں اتنے پیار سے دھکیل دیتیں ہیں کہ ہمیں اندازہ بھی نہیں ہو پاتا لحاظہ جب بھی آپ کسی بھی نعمت سے نوازے جائیں عقل کی آنکھ کھلی رکھیں
 

جاسمن

مدیر
ماموں جان کا آخری دور چل رہا تھا۔ جب موقع ملتا، جاتی، جو خدمت ممکن ہوتی ،کرتی۔ کبھی ڈانٹتی ، کبھی کچھ کھلاتی۔ بغیر بتائے باہر نکل جاتے۔ گر پڑتے۔ راستہ بھول جاتے۔ ہم سب انھیں ڈھونڈتے پھرتے۔ آخر میں باہر نہیں نکل سکتے تھے۔ زیادہ چلا نہیں جاتا تھا۔ میں ان کی آسان زندگی اور آسان موت کی دعائیں کرتی تھی۔ واش روم جاتے گر پڑتے تھے۔ واکر، چھڑی سب کچھ تھا لیکن ضدی تھے، کچھ نہیں لیتے تھے۔ کئی بار واش روم میں گرے۔ پھر کہہ کہہ کے پیمپر لگانا شروع کیا۔
"یہ تو کھاتے نہیں کچھ۔۔۔۔"
میں جاتی تو پیار پیار سے کافی کچھ کھلا دیتی۔ کبھی ایک کیلا۔ ایک چمچ شہد۔ تھوڑی سی دہی۔ آدھی روٹی۔ آدھا گلاس دودھ۔۔۔ گھر والوں کو یہی نصیحت کر کے آتی۔ ایک دن پہلے اسی طرح ان کی خدمت کر کے آئی ۔ باتیں کرتی رہی ان سے۔ دباتی رہی۔
اگلے دن شام کو گئی۔ تھوڑا سا دلیہ شہد ڈال کے،کچھ دیر بعد ایک کیلا کھلایا۔ پانی پلایا۔کپڑے بدلوائے لڑکے سے۔ گود میں ان کا سر رکھ کے بیٹھی رہی۔ دانت صاف کیے۔ گیلے کپڑے سے چہرہ صاف کیا۔ کلمہ پڑھتی رہی۔۔۔ ماموں جی کلمہ پڑھیں۔ ساتھ رونا بھی آ رہا ہو لیکن خود کو خوب قابو کیا۔ بول تو نہیں رہے تھے لیکن اللہ سے گمان ہے کہ کلمہ پڑھ لیا ہو گا۔ پھر لگا کہ اب نہیں ہیں۔ سانس محسوس کی۔ آنکھیں بند کیں۔ منہ کو بند کرنے کے لیے دوپٹہ باندھا۔ ڈاکٹر نے آ کر تصدیق کر دی۔ تب تک پاؤں کے انگوٹھے بندھوا چکی تھی۔
انا للہ وانا الیہ راجعون۔
 
آخری تدوین:

محمد عبدالرؤوف

لائبریرین
ماموں جان کا آخری دور چل رہا تھا۔ جب موقع ملتا، جاتی، جو خدمت ممکن ہوتی ،کرتی۔ کبھی ڈانٹتی ، کبھی کچھ کھلاتی۔ بغیر بتائے باہر نکل جاتے۔ گر پڑتے۔ راستہ بھول جاتے۔ ہم سب انھیں ڈھونڈتے پھرتے۔ آخر میں باہر نہیں نکل سکتے تھے۔ زیادہ چلا نہیں جاتا تھا۔ میں ان کی آسان زندگی اور آسان موت کی دعائیں کرتی تھی۔ واش روم جاتے گر پڑتے تھے۔ واکر، چھڑی سب کچھ تھا لیکن ضدی تھے، کچھ نہیں لیتے تھے۔ کئی بار واش روم میں گرے۔ پھر کہہ کہہ کے پیمپر لگانا شروع کیا۔
یہ تو کھاتے نہیں کچھ۔۔۔۔
میں جاتی تو پیار پیار سے کافی کچھ کھلا دیتی۔ کبھی ایک کیلا۔ ایک چمچ شہد۔ تھوڑی سی دہی۔ آدھی روٹی۔ آدھا گلاس دودھ۔۔۔ گھر والوں کو یہی نصیحت کر کے آتی۔ ایک دن پہلے اسی طرح ان کی خدمت کر کے آئی ۔ باتیں کرتی رہی ان سے۔ دباتی رہی۔
اگلے دن شام کو گئی۔ تھوڑا سا دلیہ شہد ڈال کے،کچھ دیر بعد ایک کیلا کھلایا۔ پانی پلایا۔کپڑے بدلوائے لڑکے سے۔ گود میں ان کا سر رکھ کے بیٹھی رہی۔ دانت صاف کیے۔ گیلے کپڑے سے چہرہ صاف کیا۔ کلمہ پڑھتی رہی۔۔۔ ماموں جی کلمہ پڑھیں۔ ساتھ رونا بھی آ رہا ہو لیکن خود کو خوب قابو کیا۔ بول تو نہیں رہے تھے لیکن اللہ سے گمان ہے کہ کلمہ پڑھ لیا ہو گا۔ پھر لگا کہ اب نہیں ہیں۔ سانس محسوس کی۔ آنکھیں بند کیں۔ منہ کو بند کرنے کے لیے دوپٹہ باندھا۔ ڈاکٹر نے آ کر تصدیق کر دی۔ تب تک پاؤں کے انگوٹھے بندھوا چکی تھی۔
انا للہ وانا الیہ راجعون۔
آہ۔۔۔ کیا وقت ہوتا ہے جب اپنے پیاروں کی موت کی دعا کرنی پڑ جاتی ہے۔ 😔😔
 
مدیر کی آخری تدوین:

سیما علی

لائبریرین
ماموں جی کلمہ پڑھیں۔ ساتھ رونا بھی آ رہا ہو لیکن خود کو خوب قابو کیا۔ بول تو نہیں رہے تھے لیکن اللہ سے گمان ہے کہ کلمہ پڑھ لیا ہو گا۔
بس بٹیا یہ وقت کٹھن ترین ہے جب اپنے پیاروں کو اس حال میں دیکھنا سب سے صبر آزما ہے !!
 

رباب واسطی

محفلین
ماموں جان کا آخری دور چل رہا تھا۔ جب موقع ملتا، جاتی، جو خدمت ممکن ہوتی ،کرتی۔ کبھی ڈانٹتی ، کبھی کچھ کھلاتی۔ بغیر بتائے باہر نکل جاتے۔ گر پڑتے۔ راستہ بھول جاتے۔ ہم سب انھیں ڈھونڈتے پھرتے۔ آخر میں باہر نہیں نکل سکتے تھے۔ زیادہ چلا نہیں جاتا تھا۔ میں ان کی آسان زندگی اور آسان موت کی دعائیں کرتی تھی۔ واش روم جاتے گر پڑتے تھے۔ واکر، چھڑی سب کچھ تھا لیکن ضدی تھے، کچھ نہیں لیتے تھے۔ کئی بار واش روم میں گرے۔ پھر کہہ کہہ کے پیمپر لگانا شروع کیا۔
"یہ تو کھاتے نہیں کچھ۔۔۔۔"
میں جاتی تو پیار پیار سے کافی کچھ کھلا دیتی۔ کبھی ایک کیلا۔ ایک چمچ شہد۔ تھوڑی سی دہی۔ آدھی روٹی۔ آدھا گلاس دودھ۔۔۔ گھر والوں کو یہی نصیحت کر کے آتی۔ ایک دن پہلے اسی طرح ان کی خدمت کر کے آئی ۔ باتیں کرتی رہی ان سے۔ دباتی رہی۔
اگلے دن شام کو گئی۔ تھوڑا سا دلیہ شہد ڈال کے،کچھ دیر بعد ایک کیلا کھلایا۔ پانی پلایا۔کپڑے بدلوائے لڑکے سے۔ گود میں ان کا سر رکھ کے بیٹھی رہی۔ دانت صاف کیے۔ گیلے کپڑے سے چہرہ صاف کیا۔ کلمہ پڑھتی رہی۔۔۔ ماموں جی کلمہ پڑھیں۔ ساتھ رونا بھی آ رہا ہو لیکن خود کو خوب قابو کیا۔ بول تو نہیں رہے تھے لیکن اللہ سے گمان ہے کہ کلمہ پڑھ لیا ہو گا۔ پھر لگا کہ اب نہیں ہیں۔ سانس محسوس کی۔ آنکھیں بند کیں۔ منہ کو بند کرنے کے لیے دوپٹہ باندھا۔ ڈاکٹر نے آ کر تصدیق کر دی۔ تب تک پاؤں کے انگوٹھے بندھوا چکی تھی۔
انا للہ وانا الیہ راجعون۔
انا للہ وانا الیہ راجعون
 
ماموں جان کا آخری دور چل رہا تھا۔ جب موقع ملتا، جاتی، جو خدمت ممکن ہوتی ،کرتی۔ کبھی ڈانٹتی ، کبھی کچھ کھلاتی۔ بغیر بتائے باہر نکل جاتے۔ گر پڑتے۔ راستہ بھول جاتے۔ ہم سب انھیں ڈھونڈتے پھرتے۔ آخر میں باہر نہیں نکل سکتے تھے۔ زیادہ چلا نہیں جاتا تھا۔ میں ان کی آسان زندگی اور آسان موت کی دعائیں کرتی تھی۔ واش روم جاتے گر پڑتے تھے۔ واکر، چھڑی سب کچھ تھا لیکن ضدی تھے، کچھ نہیں لیتے تھے۔ کئی بار واش روم میں گرے۔ پھر کہہ کہہ کے پیمپر لگانا شروع کیا۔
"یہ تو کھاتے نہیں کچھ۔۔۔۔"
میں جاتی تو پیار پیار سے کافی کچھ کھلا دیتی۔ کبھی ایک کیلا۔ ایک چمچ شہد۔ تھوڑی سی دہی۔ آدھی روٹی۔ آدھا گلاس دودھ۔۔۔ گھر والوں کو یہی نصیحت کر کے آتی۔ ایک دن پہلے اسی طرح ان کی خدمت کر کے آئی ۔ باتیں کرتی رہی ان سے۔ دباتی رہی۔
اگلے دن شام کو گئی۔ تھوڑا سا دلیہ شہد ڈال کے،کچھ دیر بعد ایک کیلا کھلایا۔ پانی پلایا۔کپڑے بدلوائے لڑکے سے۔ گود میں ان کا سر رکھ کے بیٹھی رہی۔ دانت صاف کیے۔ گیلے کپڑے سے چہرہ صاف کیا۔ کلمہ پڑھتی رہی۔۔۔ ماموں جی کلمہ پڑھیں۔ ساتھ رونا بھی آ رہا ہو لیکن خود کو خوب قابو کیا۔ بول تو نہیں رہے تھے لیکن اللہ سے گمان ہے کہ کلمہ پڑھ لیا ہو گا۔ پھر لگا کہ اب نہیں ہیں۔ سانس محسوس کی۔ آنکھیں بند کیں۔ منہ کو بند کرنے کے لیے دوپٹہ باندھا۔ ڈاکٹر نے آ کر تصدیق کر دی۔ تب تک پاؤں کے انگوٹھے بندھوا چکی تھی۔
انا للہ وانا الیہ راجعون۔
اِنّا لِلّٰهِ وَاِنّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْن
اللہ کریم دائمی مغفرت فرمائیں۔آمین
 
Top