جاسمن

مدیر
ہمارے والدین، بڑے خاص طور پہ ہمارے دادا،دادی،نانا، نانی وغیرہ ہمارے لئے بہت خاص لوگ ہوتے ہیں۔ ہم نہ صرف یہ کہ اپنے بڑوں سے محبت کرتے ہیں بلکہ ہماری زندگی میں اُن کا بہت عمل دخل ہوتا ہے۔ زندگی کی قدریں اور اصول ہم اُن ہی لیتے ہیں۔ وہ ہمارے لئے رول ماڈل ہوتے ہیں۔
آئیے یہاں ہم اپنے بڑوں کا ذکر کریں گے۔ اُن کے لئے ہم کیا کرتے ہیں۔ اُن کا کیسے خیال رکھتے ہیں۔ اُن سے متعلق وہ کون سی خواہشات ہیں جو ہم پوری کرنا چاہتے ہیں۔ ہمارے بڑوں کی وہ کون سی باتیں ہیں جو ہمیں بہت پسند ہیں اور ہم نے اپنی شخصیت میں شامل کی ہیں۔۔۔۔وغیرہ وغیرہ۔ اگر ہمیں اپنے بڑوں سے کوئی شکایت بھی ہے تو وہ بھی ہم شریک کریں گے کہ شاید اُس کا کوئی حل بھی اِدھر ہی مل جائے۔
اِس طرح یہ بھی ہوسکے گا کہ ہمیں اپنی کوتاہیوں کا علم ہوجائے اور ہم تدارک کرنے کی پوزیشن میں آجائیں۔۔۔ اور کسی کو بہت اچھا کرتے دیکھ کر ہمیں تحریک بھی ملے گی ان شاءاللہ۔۔
 

جاسمن

مدیر
رات بھاگی گئی امی جی کو دیکھنے۔ پتہ چلا تھا کہ رو رہی ہیں۔ راستہ میں دعائیں مانگتے گئی۔
رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا
شکر کہ وہ آرام سے بیٹھی تھیں۔ واک پہ نہیں جاتیں کہ طبیعت خراب ہوجاتی ہے۔ بہانہ سے لے کے چلی کہ دراوزہ تک تو مجھے چھوڑنے چلیں۔ پھر تھوڑا سا باہر بھی لے گئی۔ ہم کچھ دیر باتیں کرتے رہے ۔ حسبِ معمول میں نے امی جی کے ماتھے پہ پیار کیا،گلے لگایا اور رخصت ہوئی۔
 

اکمل زیدی

محفلین
اگر ہمیں اپنے بڑوں سے کوئی شکایت بھی ہے تو وہ بھی ہم شریک کریں گے
بہت بہترین موضوع کا آغاز کیا ہے ۔۔۔مگر اس کا کیا ۔۔جو میں نے اقتباس لیا ہے کہ ان بڑوں میں والدین بھی یقیناؐ شامل ہونگے مگر ۔۔۔ والدین کو تو "اف" تک کرنے کی اجازت نہیں دے رہا خدا چہ جائیکہ شکایات۔۔۔ ؟ یہ بس تھوڑا سا کلیئر کردیں۔۔۔باقی عمدہ سلسلہ رہے گا یہ ۔ ۔ ۔
اور اگر میں سمجھ پایا ہوں تو وہ شکایات بھی محبت بھری ہونگی کے دوا ٹائم پر نہیں لیتیں--لیتے یا اپنا خیال نہیں کرتیں ۔۔یا --کرتے۔۔۔؟
 

مہر نگار

محفلین
بہت خوب و بہت نیک سلسلہ کا آغاز ۔۔۔ قابل تحسین۔۔ جاسمن آپکے لئے ڈھیروں دعائیں۔۔ بہت پیاری سوچ ماشااللہ۔۔

گو کہ اب ہم اپنے دادا دادی، نانا نانی اور والدین کے سائہ شفقت سے محروم ہو چکے ہیں بلکہ بزرگانِ خاندان تقریباً سبھی ہمیں داغِ مفارقت دے چکے ہیں۔۔ بس اک خالہ جو ہم سے بہت دور انڈیا میں ہیں۔۔حیات ہیں۔۔ خیر
ہمیں اپنے والدین کی بہت ساری باتیں ایسی لگتی ہیں کہ انھیں اپنی زندگی میں شامل رکھنا چاہئے اور ہم اسکی کوشش بھی کرتے ہیں اور کچھ کوشش کے بغیر خود بہ خود بھی شامل ہو گیئ ہیں۔۔ جس میں سے ایک یہ دعا ہے کہ جسے ہم ہر اک چھوٹے بڑے کو بات بات پر دےتے ہیں۔۔ جیتے رہو خوش رہو، جیتی رہئے خوش رہئے، جیتے رہیں خوش رہیں۔۔
باقی آئندہ۔
 

جاسمن

مدیر
بہت بہترین موضوع کا آغاز کیا ہے ۔۔۔مگر اس کا کیا ۔۔جو میں نے اقتباس لیا ہے کہ ان بڑوں میں والدین بھی یقیناؐ شامل ہونگے مگر ۔۔۔ والدین کو تو "اف" تک کرنے کی اجازت نہیں دے رہا خدا چہ جائیکہ شکایات۔۔۔ ؟ یہ بس تھوڑا سا کلیئر کردیں۔۔۔باقی عمدہ سلسلہ رہے گا یہ ۔ ۔ ۔
اور اگر میں سمجھ پایا ہوں تو وہ شکایات بھی محبت بھری ہونگی کے دوا ٹائم پر نہیں لیتیں--لیتے یا اپنا خیال نہیں کرتیں ۔۔یا --کرتے۔۔۔؟
ایسا ہی ہے اکمل۔
میری امی جی آج کل بلڈ پریشر کی دوا نہیں لے رہیں۔۔۔کل انہیں خوب ڈانٹ پلائی۔:)
مجھے لگتا ہے کہ اس عمر میں انہیں پیار کے ساتھ شفقت کی بھی ضرورت ہے۔
ایک بار میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ میں اپنی امی جی کی امی بن گئی ہوں۔
 

جاسمن

مدیر
جیتے رہو خوش رہو، جیتی رہئے خوش رہئے، جیتے رہیں خوش رہیں۔۔
ماشاءاللہ۔ بہت پیاری دعا اپنائی ہے۔ اللہ ہم سب کو دعائیں مانگنے،دینے اور لینے کی توفیق اور آسانی عطا فرمائے۔ امین!

اب ہم اپنے دادا دادی، نانا نانی اور والدین کے سائہ شفقت سے محروم ہو چکے ہیں بلکہ بزرگانِ خاندان تقریباً سبھی ہمیں داغِ مفارقت دے چکے ہیں
اللہ سب پہلے اور بعد میں جانے والوں کی مغفرت فرمائے۔ جنت الفردوس میں جگہ دے۔ اُن کی قبروں کو روشن،ہوادار،کشادہ اور ٹھنڈا رکھے۔ اُن میں جنت کی کھڑکیاں کھول دے اور لواحقین کو اُن کے لئے صدقۂ جاریہ بنائے۔ اُن کا والی وارث ہو،اُنہیں خوشیاں اور آسانیاں عطا فرمائے۔ آمین!

بس اک خالہ جو ہم سے بہت دور انڈیا میں ہیں
اللہ انہیں زندگی اور صحتِ کاملہ عطا فرمائے۔ چلتے ہاتھ پاؤں رکھے۔کسی کا محتاج نہ کرے۔ آمین!
 

مہر نگار

محفلین
ماشاءاللہ۔ بہت پیاری دعا اپنائی ہے۔ اللہ ہم سب کو دعائیں مانگنے،دینے اور لینے کی توفیق اور آسانی عطا فرمائے۔ امین!



اللہ سب پہلے اور بعد میں جانے والوں کی مغفرت فرمائے۔ جنت الفردوس میں جگہ دے۔ اُن کی قبروں کو روشن،ہوادار،کشادہ اور ٹھنڈا رکھے۔ اُن میں جنت کی کھڑکیاں کھول دے اور لواحقین کو اُن کے لئے صدقۂ جاریہ بنائے۔ اُن کا والی وارث ہو،اُنہیں خوشیاں اور آسانیاں عطا فرمائے۔ آمین!

اللہ انہیں زندگی اور صحتِ کاملہ عطا فرمائے۔ چلتے ہاتھ پاؤں رکھے۔کسی کا محتاج نہ کرے۔ آمین!
آمین اللھمہ آمین
جزاک اللہ خیراً کثیرا جاسمن جیتی رہیں خوش رہیں
 

مہر نگار

محفلین
ہمارے والد صاحب رات کے کھانے پر ماہنامہ 'ھدیٰ' سے کوئ واقعہ ضرور سناتے تھے ۔ (بچپن سے لے کر بڑے ہونے تک)
اللہ تعالیٰ انکے درجات بلند کرے۔ آمین
 
میری خوش قسمتی ہے کہ اپنے قریب ایسے لوگوں کو بھی پایا ہے کہ جنھوں نے واقعی کبھی اف تک نہ کہا اپنے والدین کو۔ اور والدین کی خدمت کا وہ معیار دکھایا کہ جسے آئیڈیل کہا جا سکتا ہے۔
ایک ہماری سب سے چھوٹی خالہ کہ جنھوں نے اپنی ساس کی اور اپنی والدہ یعنی ہماری نانی کی خدمت میں انتہاء کر دی۔ دونوں نے اپنی زندگی کے آخری کچھ سال بیڈ پر گزارے۔ اور ایسی کیفیت میں گزارے کہ کسی کی پہچان نہیں تھی۔ خالہ کو ہر طرح کی بری بھلی سننی پڑتی، مگر مجال ہے کہ کبھی اس بات پر ان کے ماتھے پر شکن بھی دیکھی ہو۔ ہمارے ماموؤں نے کئی دفعہ نانی کو اپنے گھر لے جانے کی کوشش کی، مگر انھوں نے ضد کر کے اپنے ساتھ رکھا۔ نانی کی نقل و حرکت بھی خود کروانی پڑتی تھی۔ پانی کپڑے میں بھگو بھگو کر ان کے منہ میں ٹپکانا۔ صفائی وغیرہ کا انتظام۔
اور ایسا بھی نہیں کہ اپنے شوہر اور بچوں کی جانب سے کبھی کوئی غفلت کی ہو۔ ہمارے خالو نے بھی کمال اخلاص کے ساتھ ان کو سپورٹ کیا۔
اللہ تعالیٰ دونوں کو اجرِ عظیم عطا فرمائے۔ آمین۔
 
ہمارے نانا کے ایک دوست کہ جنھوں نے دادا اور نانا کے ساتھ ہی ہجرت کی تھی، ان کا آپس کا تعلق ایسا ہی تھا کہ جیسے بھائی ہوں۔ ان کو رعشہ کی بیماری ہو گئی تھی۔ ان کے اکلوتے بیٹے نے جس طرح ان کو اس بیماری میں سہارا دیا اور ان کی خدمت کی، وہ اپنی مثال آپ ہے۔
اپنے پیروں پر ان کے پیر رکھ کر باتھ روم وغیرہ لے جاتے تھے۔ بہت آہستہ بولتے تھے، اور ان کی بات صرف وہی سمجھ سکتے تھے۔ دفتر بھی ہوتے تھے تو گھر سے کال آنے پر گھر پہنچ جاتے تھے، اور ان کی ضرورت پوری کر کے دفتر۔ مجال ہے کہ کبھی ان کے ماتھے پر شکن دیکھی ہو۔
اللہ تعالیٰ ان کو اجرِ عظیم عطا فرمائے۔ آمین
 

اکمل زیدی

محفلین
واقعی۔۔بزرگوں کی بڑی اہمیت ہے ہوتی ہے لائف میں ۔۔اگر سمجھا جائے ورنہ تو بعد میں وہ لوگ بھی تسلیم کرتے ہیں جو زندگی میں انہیں اہمیت نہیں دیتے۔۔کہ ہاں واقعی وہ ہوتے تو۔۔۔۔۔۔۔پوری عمر گذار کر وہ اس پوزیشن میں ہوتے ہیں کہ اب ان کے سامنے جو نسل ہے اس کی رہنمائی کی جائے ۔۔مگر نہیں بھئ۔۔۔ہمیں تو اپنی زندگی خود گذارنی ہے پھر اپنی غلطیوں اور غلط فیصلوں کو اپنا تجربہ کہہ کر خود کو مطمئن کرتے ہیں۔۔۔مگر جو خوشنصیب ہوتے ہیں وہ بہرحال ان مشوروں کو اہمیت دے کر اپنی زندگی آسان کرتے ہیں۔۔۔کاش ان کی اہمیت ان کی زندگی میں ہی سمجھ آجائے۔۔۔:(
 

اکمل زیدی

محفلین
میری خوش قسمتی میرا ٹائم اپنے والد کے ساتھ زیادہ گذرا بہ نسبت اپنے دوسرے بھائیوں کے ۔۔میں" ابو کا چمچہ" کے نام سے مشہور تھا جسے یاد کر کے میں آج بھی خوشی محسوس کرتا ہوں۔۔۔ایک دو باتیں تو بہت یاد آتی ہیں ان کی ایک تو وہ کہا کرتے تھے کے جب مشورو تم سے مانگا جائے جب دیا کرو خود سے نہیں۔۔۔دوسرے قطعہ رحمی کبھی نہیں کرنا جو قطع تعلق کرلے اس سے تعلق جوڑے رکھنے کی کوشش کرتے رہنا ۔۔پھر شعر پڑھا کرتے تھے ۔۔۔پورا شعر تو یاد نہیں ایک مصرع یاد ہے ۔۔۔۔۔۔" نظروں میں رہو اور دل میں اترنا سیکھو"۔۔۔ اور ایک شعر تھا کے ۔۔۔ لمحوں کی بوند بوند سے خوشیاں کشید کر--اور محرومیوں کی لاش پہ ہر روز عید کر۔۔۔
میرے والد کراچی کے مشہور و معروف سوزخوان بھی تھے "ایک" دنیا جانتی ہے انہیں۔۔۔
 
آخری تدوین:

جاسمن

مدیر
میرے ماموں بے اولاد ہیں۔ اب خاصے ضعیف ہیں اور عملی زندگی میں اب کچھ نہیں کر سکتے۔ بہت مشکل سے ہم اپنے پاس لانے اور رکھنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
پرسوں کہہ رہے تھے کہ کلثوم نواز فوت ہو گئ ہے تو میں نے لاہور جانا ہے۔
میں نے سمجھا کہ بس ایسے ہی کہہ رہے ہیں۔ شام کو امی جی کا فون آیا کہ وہ گھر سے نکلے ہیں اور گھر والے سمجھتے رہے کہ مارکیٹ اکثر جاتے رہتے ہیں تو مارکیٹ ہی گئے ہوں گے۔ لیکن وہ واپس نہیں آئے۔
رات تک پتہ چل گیا کہ کسی جاننے والے کے پاس ہیں۔ انہیں کہا کہ اپنے پاس روکے رکھیں۔
خالہ زاد کی بات بھی نہیں مانی۔
امی جی تین دن پہلے گر پڑی تھیں۔وہ بھی بھائی کے ساتھ لینے نہیں جا سکتی تھیں۔ اور میرے علاوہ کوئی نہیں لا سکتا تھا۔
چھٹی کی اور انہیں لینے پنچی۔ پتہ چلا سٹیشن پہ ہیں۔ بتانے والے کو وہیں رکنے کو کہا۔ لیکن نجانے کیسے وہ پھر غائب ہو گئے۔ پھر کئی لوگوں کو ڈھونڈنے پہ لگایا اور آخرکار سٹیشن کے قریب انھیں جا پکڑا۔
ٹکٹ کٹا چکے تھے لاہور کا اور خیبر میل سے جا رہے تھے۔ کچھ سچ کچھ جھوٹ بول کے گاڑی میں بٹھایا بڑی مشکل سے۔
راستے میں سمجھاتی رہی کہ کبھی اکیلے نہیں جانا کہیں بھی خاص طور پہ لاہور۔ یا کوئی لے کے جائے گا یا کوئی لینے آئے گا۔
گھر چھوڑ کے کہہ کے آئی کہ اب میں بڑی ہوں اور بڑوں کا کہنا مانتے ہیں۔
یہ سوچ کے ہی خوفزدہ ہوجاتے ہیں کہ اگر لاہور چلے جاتے تو۔۔۔۔
وہ تو ٹی وی جمعہ کو جنازے کے بارے میں ساری معلومات لے کے پوری منصوبہ بندی کر کے جارہے تھے۔
دل تو میرا چاہتا تھا کہ لے جاوں۔۔۔۔پر بندہ کدھر کدھر پورا پڑے۔
 

جاسمن

مدیر
آج عجیب سی بات ہوئی۔ رات بہت دیر سے نیند آئی۔ لیکن صبح کے الارم پہ آنکھ کھُل گئی۔ پھر خود کو تسلّی دیتے سونے کی کوشش کی کہ نیند پوری کرلوں لیکن پھر نیند نہ آئی۔
نماز وغیرہ سے فارغ ہوکر پھر سونے کی کوشش کی اور اللہ سے کہا کہ چھ یا ساڑھے چھ جگا دیں تاکہ امی جی کو سیر پہ لے جا سکوں۔ لیکن نیند نہ آئی۔امی جی کو فون کیا اور ان کے پاس گئی۔ انھیں تھوڑی دور سیر کرائی۔ گھر جا کے نیم گرم پانی پلایا ۔ انھیں تھوڑا دبایا۔ باتیں کیں اور اجازت لے کے آگئی۔
یقین مانیں آج کا دن گذرنے میں نہیں آرہا۔ وقت میں اس قدر برکت۔
ماشاءاللہ۔
 

ام اویس

محفلین
میرے والد صاحب کافی ضعیف ہوچکے ہیں ساری عمر پڑھنے پڑھانے کا شغف رہا اب بھی جب ملنے جاتی ہوں تفسیر القرآن کا کوئی ٹاپک تبصرے کے لیے چُن رکھتے ہیں دیکھتے ہی کہیں گے باجی میں آپ کا انتظار کر رہا تھا ۔ یہ دیکھو یہاں الله تعالی کا کیا فرمان ہے
میں ان کے بستر پر بیٹھ کر ان کی ٹانگیں دبانے لگتی ہوں اور پھر ایک لمبی بات چیت کا آغاز ہوجاتا ہے جس میں رفتہ رفتہ ہر آنے والا شامل ہوتا جاتا ہے ۔ بھائی بھتیجے ، بھابھی وغیرہ
 

ام اویس

محفلین
میرے ابا جان کو پڑھنے سے بہت دلچسپی ہے ۔ ریٹائر منٹ کے بعد تو بس وہ ہیں اور ان کی کتابیں اور تفاسیر ۔ بس نماز کے لیے یا کھانے کے لیے اٹھتے ہیں باقی سارا وقت آرام سے کبھی بیٹھ کر اور کبھی لیٹ کر پڑھتے رہتے ہیں ۔ ہم بہن بھائی بھی ان کے لیے کتاب ہی خریدتے ہیں ۔
یوں تو انہوں نے اردو کی تمام مشہور تفاسیر کا مطالعہ کر رکھا ہے لیکن ان کی پسندیدہ تفسیر تفہیم القرآن ہے۔
ایک بار مکمل کرتے ہیں پھر سے پڑھنا شروع کر دیتے ہیں ۔ جب بھی بات کریں گے کہیں گے مولانا مودودی صاحب نے بہت زبردست تفسیر لکھی ہے آج کے حالات کے عین مطابق ہے
یوں تو میری والدہ ( الله کریم ان سے شفقت کا معاملہ فرمائیں ) بھی پڑھنے پڑھانے سے دلچسپی رکھتی تھیں ۔ اچھا پر سکون دور تھا ۔ دنیا گھر کے افراد ، رشتہ داروں ، محلہ داروں اور زیادہ سے زیادہ اپنے شہر یا قصبے تک محدود تھی ۔ ایک دوسرے سے خیر خواہی اور لحاظ و مروت کے جذبات تھے ۔ بچپن میں سکول سے واپس گھر آتے تو اکثر دیکھتے امی جان کے پاس کوئی محلہ دار یا رشتہ دار خاتون بیٹھی ہوتیں سلائی یا بنائی کا کام ہورہا ہوتا ۔ کبھی تفسیر ابن کثیر پڑھ کر سنا رہی ہوتیں یا پھر حور یا زیب النساء رسالے کا کوئی افسانہ سنائی دیتا
بچوں کو دیکھتے ہی سب سمیٹ سماٹ کر اپنے اپنے گھر کی راہ لیتیں ۔
 

عرفان سعید

محفلین
میرے ابا جان کو پڑھنے سے بہت دلچسپی ہے ۔ ریٹائر منٹ کے بعد تو بس وہ ہیں اور ان کی کتابیں اور تفاسیر ۔ بس نماز کے لیے یا کھانے کے لیے اٹھتے ہیں باقی سارا وقت آرام سے کبھی بیٹھ کر اور کبھی لیٹ کر پڑھتے رہتے ہیں ۔ ہم بہن بھائی بھی ان کے لیے کتاب ہی خریدتے ہیں ۔
یوں تو انہوں نے اردو کی تمام مشہور تفاسیر کا مطالعہ کر رکھا ہے لیکن ان کی پسندیدہ تفسیر تفہیم القرآن ہے۔
ایک بار مکمل کرتے ہیں پھر سے پڑھنا شروع کر دیتے ہیں ۔ جب بھی بات کریں گے کہیں گے مولانا مودودی صاحب نے بہت زبردست تفسیر لکھی ہے آج کے حالات کے عین مطابق ہے
یوں تو میری والدہ ( الله کریم ان سے شفقت کا معاملہ فرمائیں ) بھی پڑھنے پڑھانے سے دلچسپی رکھتی تھیں ۔ اچھا پر سکون دور تھا ۔ دنیا گھر کے افراد ، رشتہ داروں ، محلہ داروں اور زیادہ سے زیادہ اپنے شہر یا قصبے تک محدود تھی ۔ ایک دوسرے سے خیر خواہی اور لحاظ و مروت کے جذبات تھے ۔ بچپن میں سکول سے واپس گھر آتے تو اکثر دیکھتے امی جان کے پاس کوئی محلہ دار یا رشتہ دار خاتون بیٹھی ہوتیں سلائی یا بنائی کا کام ہورہا ہوتا ۔ کبھی تفسیر ابن کثیر پڑھ کر سنا رہی ہوتیں یا پھر حور یا زیب النساء رسالے کا کوئی افسانہ سنائی دیتا
بچوں کو دیکھتے ہی سب سمیٹ سماٹ کر اپنے اپنے گھر کی راہ لیتیں ۔
ماشاءاللہ!
تفسیر سے آپ کا خصوصی شغف یے، کبھی آپ نے تدبر القران کا بغور مطالعہ کیا ہے؟
 
Top