ہر شے سے بڑھ کے جس کی وفاؤں کی چاہ کی

بہت خوب فن ہے راجا صاحب ، کبھی ہنسائیں کبھی رلائیں
بہت خوب
ہر شے سے بڑھ کے جس کی وفاوں کی چاہ کی
آخر اسی نے زندگی میری تباہ کی
حوصلہ افزائی کے لئے شکریہ زبیر بھیا!
کبھی ہنسنا، کبھی رونا، یہی تو زندگی کے رنگ ہیں۔
 
انسانیت کے جسم پہ ہر روز زخم نو
ہر روز گونجتی ہے صدا آہ آہ کی
واہ واہ کیا خوب شعر ہے:great:
حوصلہ افزائی کے لئے شکریہ یوسف بھیا!
مجھے پتہ ہے دوست حضرات تو میرے سنجیدہ کلام پر ہاتھ ذرا کم ہی صاف کرتے ہیں اس لئے آپ سب کی تفریح کے لئے ایک شعر پیشِ خدمت ہے
سید شہزاد ناصر بھیا، محمد خلیل الرحمٰن بھیا، محمد اسامہ سَرسَری بھیا آپ بھی ملاحظہ فرمائیں:

شوہر کے تن بدن پہ ہے ہر روز زخمِ نو
ہر روز گونجتی ہے صدا آہ آہ کی
 
بہت عمدہ! جناب امجد علی راجا صاحب۔
رسماً ’’ہمزہ + واو‘‘ کو یوں لکھتے ہیں: ’’ ؤ ‘‘ ۔۔۔ وفاؤں، آؤ، سناؤں، وغیرہ۔
حوصلہ افزائی کے لئے شکریہ استادِ محترم!
کی بورڈ سے ناواقفی کی وجہ سے "ؤ" کو "ئو" لکھنے کی غلطی مسلسل کر رہا تھا، آپ کی نشاندہی پر "ؤ" کھوج ہی لیا :cool:
 
حوصلہ افزائی کے لئے شکریہ استادِ محترم!
دعا کیجئے کے اللہ رب العزت میری تحریر میں اتنی برکت عطا فرما دیں کہ ہر شعر پسند کرنے کے لائق ہو جائے۔ اور استادِ محترم الف عین اور استادِ محترم محمد یعقوب آسی خوشی سے سب کو بتا سکیں کہ یہ لڑکا ہمارا شاگر ہے۔
("لڑکا" خود کو خوش کرنے کے لئے لکھا ہے ;))
 

الشفاء

لائبریرین
چاہت بھری ادا نہ سہی، بے رخی سہی
صد شکر اس نے ہم پہ بھی اپنی نگاہ کی
جب بھی گزر ہوا ترے دلشاد شہر سے
آنکھوں سے خاک چوم لی ہر ایک راہ کی
بے مثل شاہکار پہ کٹوا دیئے ہیں ہاتھ
ہائے یہ شان منصفی عالم پناہ کی
آتی نہیں ہے راس ہمیں جانتے ہیں ہم
پھر بھی وفا سبھی سے کی اور بے پناہ کی

واہ۔ بہت خوب کہا راجا صاحب۔۔۔
خوش رہیں۔۔۔
 
بہت خوب۔۔۔ ۔زبردست۔۔۔ ۔۔

بے مثل شاہکار پہ کٹوا دیئے ہیں ہاتھ
ہائے یہ شان منصفی عالم پناہ کی
انسانیت کے جسم پہ ہر روز زخم نو
ہر روز گونجتی ہے صدا آہ آہ کی
آتی نہیں ہے راس ہمیں جانتے ہیں ہم
پھر بھی وفا سبھی سے کی اور بے پناہ کی
شکریہ مانو باجی
میں تو سمجھتا تھا کہ آپ صرف مزاحیہ شاعری ہی پسند کرتی ہیں، اسی لئے تو ٹیگ بھی نہیں کیا، بھلا ہو محسن وقار علی بھیا کا کہ آپ کو مدعو کردیا۔ شکریہ وقار بھیا!
 
کچھ دن سے دل و دماغ یکسو نہیں تھا ایسے میں فوری طور پر تبصرہ نہ کر سکا کہ انصاف بھی کر پاؤں گا کہ نہیں خیر جگر لخت لخت کو مجتمع کر کے جو کچھ محسوس کیا حاضر ہے​

حوصلہ افزائی کے لئے شکریہ شہزاد ناصر بھیا!
آپ کے محسوسات نے تو غزل کا لطف ہی دوبالا کردیا بھیا جانی۔
اللہ میرے پیارے بھیا کی ہر وہ مشکل حل فرمادے جو دل و دماغ کو یکسو ہونے میں رکاوٹ بنے، آمین۔
 
نجانے کیوں مگر نوٹی فی کیشن ہی نہیں ملا ٹیگ کا۔

امجد علی راجہ بھائی کمال لکھا ہے اور آپ کی باقی غزلوں سے کچھ منفرد لگی ہے۔
بلاشبہ ایک بہت ہی حسین کاوش، جو دل کو لگی ہے۔
لاجواب
ڈھیرں داد

آپ کی داد اور حوصلہ افزائی کے لئے شکرگزار ہوں بلال اعظم بھیا!
 
شکریہ مانو باجی
میں تو سمجھتا تھا کہ آپ صرف مزاحیہ شاعری ہی پسند کرتی ہیں، اسی لئے تو ٹیگ بھی نہیں کیا، بھلا ہو محسن وقار علی بھیا کا کہ آپ کو مدعو کردیا۔ شکریہ وقار بھیا!
ایکچوئلی میں نے عائشہ عزیز کو مدعو کیا تھا
میں اسے "مانو بچے" کہتا ہوں
 
بدلا ہوا انداز اچھا لگا ۔
مبارکباد
خیرمبارک اصلاحی بھیا!
نوجوانی میں یہی جملہ میں نے "کسی" سے کہا تھا، پھر جو "اس" کا انداز بدلا؟ آج تک "اس" کی شکل نہیں دیکھ سکا :cry:
تمام نوجوان ساتھی نوٹ فرما لیں کہ یہ جملہ "اس" سے بھول کر بھی نہیں کہنا
 
Top