گو ذرا سی بات پر برسوں کے یارانے گئے - خاطر غزنوی

فرخ منظور

لائبریرین
گو ذرا سی بات پر برسوں کے یارانے گئے
لیکن اتنا تو ہوا کچھ لوگ پہچانے گئے

میں اسے شہرت کہوں یا اپنی رسوائی کہوں
مجھ سے پہلے اس گلی میں میرے افسانے گئے

یوں تو وہ میری رگِ جاں سے بھی تھے نزدیک تر
آنسوؤں کی دھند میں لیکن نہ پہچانے گئے

وحشتیں کچھ اس طرح اپنا مقدر ہو گئیں
ہم جہاں پہنچے، ہمارے ساتھ ویرانے گئے

اب بھی ان یادوں کی خوشبو ذہن میں محفوظ ہے
بارہا ہم جن سے گلزاروں کو مہکانے گئے

کیا قیامت ہے کہ خاطر کشتۂ شب بھی تھے ہم
صبح بھی آئی تو مجرم ہم ہی گردانے گئے

(خاطر غزنوی)
 

جیہ

لائبریرین
واہ فرخ جی کیا بات ہے۔ شکریہ اتنی اچھی غزل شیئر کرنے کا

کیا آپ نے یہ غزل امانت علی خان کی آواز میں سنی ہے؟
 
میری پسندیدہ غزلوں میں سے ہے۔ بہت اچھی غزل ہے۔ دو اغلاط ہیں اس میں درست فرما دیں۔

یوں تو وہ میری رگِ جاں سے بھی تھے نزدیک تر
آنسوؤں کی دھند میں لیکن نہ پہچانے گئے

اب بھی ان یادوں کی خوشبو ذہن میں محفوظ ہے
بارہا ہم جن سے گلزاروں کو مہکانے گئے
 

فرخ منظور

لائبریرین
میری پسندیدہ غزلوں میں سے ہے۔ بہت اچھی غزل ہے۔ دو اغلاط ہیں اس میں درست فرما دیں۔

یوں تو وہ میری رگِ جاں سے بھی تھے نزدیک تر
آنسوؤں کی دھند میں لیکن نہ پہچانے گئے

اب بھی ان یادوں کی خوشبو ذہن میں محفوظ ہے
بارہا ہم جن سے گلزاروں کو مہکانے گئے

شکریہ تصحیح کے لئے۔ ٹائپ کر کے دوبارہ میں نے غزل دیکھی ہی نہیں اور نہ ہی کسی اور نے نشاندہی کی۔ :)
 

طارق شاہ

محفلین
غزل
خاطرغزنوی

گو ذرا سی بات پر برسوں کے یارانے گئے
لیکن اتنا تو ہوا، کچھ لوگ پہچانے گئے

میں اِسے شہرت کہوں یا اپنی رُسوائی کہوں
مجھ سے پہلے اُس گلی میں، میرے افسانے گئے

یوں تو وہ، میری رگِ جاں سے بھی تھے نزدیک تر
آنسوؤں کی دُھند میں، لیکن نہ پہچانے گئے

وحشتیں، کچھ اِس طرح اپنا مُقدّر ہو گئیں !
ہم جہاں پہنچے، ہمارے ساتھ ویرانے گئے

اب بھی اُن یادوں کی خوشبو ذہن میں محفوظ ہے
بارہا، ہم جن سے گلزاروں کو مہکانے گئے

کیا قیامت ہے کہ خاطر کشتۂ شب بھی تھے ہم
صبح بھی آئی تو مجرم، ہم ہی گردانے گئے

خاطرغزنوی
 

سید زبیر

محفلین
وحشتیں، کچھ اِس طرح اپنا مُقدّر ہو گئیں !
ہم جہاں پہنچے، ہمارے ساتھ ویرانے گئے
بہت عمدہ انتخاب ۔۔ بہت اعلیٰ
 

نایاب

لائبریرین
واہہہہہہہہہہہ
کیا قیامت ہے کہ خاطر کشتۂ شب بھی تھے ہم
صبح بھی آئی تو مجرم، ہم ہی گردانے گئے
 

طارق شاہ

محفلین
کبھی کبھی واقع ایسا ہوتا ہے ۔۔۔
وحشتیں، کچھ اِس طرح اپنا مُقدّر ہو گئیں !
ہم جہاں پہنچے، ہمارے ساتھ ویرانے گئے
بہت عمدہ انتخاب ۔۔ بہت اعلیٰ
واہہہہہہہہہہہ
کیا قیامت ہے کہ خاطر کشتۂ شب بھی تھے ہم
صبح بھی آئی تو مجرم، ہم ہی گردانے گئے
(بلال اعظم ،عاطف بٹ، اور صائمہ شاہ صاحبہ )

آپ سب کی اس پذیرائیِ انتخاب، اور غزل پر اظہارِ خیال کے لئے دلی تشکّر!
خوشی ہوئی جو انتخاب آپ احباب کو پسند آیا
بہت خوش رہیں
 

عاطف بٹ

محفلین
یوں تو وہ، میری رگِ جاں سے بھی تھے نزدیک تر
آنسوؤں کی دُھند میں، لیکن نہ پہچانے گئے

واہ، بہت ہی خوبصورت غزل ہے۔
 

کاشفی

محفلین
خوبصورت غزل شیئر کرنے کے لیئے بہت شکریہ فرخ منظور صاحب! اور طارق شاہ صاحب! خوش رہیئے۔۔
ایک اضافی شعر کے ساتھ مکمل غزل شیئر کرنے کی جسارت کررہا ہوں قبول فرمائے۔۔
غزل
(خاطر غزنوی)
گو ذرا سی بات پر برسوں کے یارانے گئے
لیکن اتنا تو ہوا کچھ لوگ پہچانے گئے

گرمیء محفل فقط اک نعرہء مستانہ ہے
اور وہ خوش ہیں کہ اس محفل سے دیوانے گئے


میں اسے شہرت کہوں یا اپنی رسوائی کہوں
مجھ سے پہلے اس گلی میں میرے افسانے گئے


یوں تو وہ میری رگِ جاں سے بھی تھے نزدیک تر
آنسوؤں کی دھند میں لیکن نہ پہچانے گئے


وحشتیں کچھ اس طرح اپنا مقدر ہو گئیں
ہم جہاں پہنچے، ہمارے ساتھ ویرانے گئے


اب بھی ان یادوں کی خوشبو ذہن میں محفوظ ہے
بارہا ہم جن سے گلزاروں کو مہکانے گئے


کیا قیامت ہے کہ خاطر کشتۂ شب بھی تھے ہم
صبح بھی آئی تو مجرم ہم ہی گردانے گئے
 

کاشفی

محفلین
تعارفِ شاعر:
محمدابراہیم بیگ نام اور خاطر تخلص ہے۔۱۹۲۵ء میں پشاور میں پید اہوئے۔تعلیم ایم اے (اردو)، ڈپلوما چینی زبان، آنرز (پشتو) ، سرٹیفکیٹ روسی زبان۔ریڈیو پاکستان پشاور سے منسلک رہے۔ کئی اخباروں اور رسالوں کے اڈیٹر رہے۔ پشاور یونیورسٹی میں چینی زبان کے استاد کی حیثیت سے تدریسی فرائض انجام دیتے رہے۔ ان کی تصانیف اور تالیفات کے چند نام یہ ہیں: ’سرحد کی رومانی کہانیاں‘، ’سرحد کے رومان‘(لوک کہانیاں)، ’رزم نامہ‘(رزمیہ نظم)، ’جدید نظمیں‘(انتخاب)، ’ننھی منی نظمیں‘(بچوں کی نظمیں)، ’خوش حال خاں خٹک کا کلام‘(اردو ترجمہ)، ’مرزا محمود سرحدی۔ شخصیت وفن‘، ’خواب در خواب‘(شعری مجموعہ)۔ وہ ۷؍جولائی ۲۰۰۸ء کو پشاور میں انتقال کرگئے۔
بحوالۂ: پیمانۂ غزل (جلد دوم)، محمد شمس الحق، صفحہ:172
 
Top