گزرتے موسموں کی یاد کو زنجیر کر لیتے --- آصف شفیع

گزرتے موسموں کی یاد کو زنجیر کر لیتے
اگر ہم روز و شب کی ڈائری تحریر کر لیتے

محبت نفرتوں کے دور میں ایسے نہ کم ہوتی
اگر کچھ لوگ ہی کردار کی تعمیر کر لیتے

نہیں ہے دکھ بچھڑنے کا مگر دل میں یہ حسرت ہے
تمہارا پھول سا چہرہ تو ہم تصویر کر لیتے

ہمارے پیار کا قصہ سناتا ہرکس و ناکس
ہم اپنے اس فسانے کی اگر تشہیر کر لیتے

تمہارے یوں‌بچھڑنے کا مداوا ہو بھی سکتا تھا
ذرا جو تم ٹھہر جاتے کوئی تدبیر کر لیتے

ہماری خواہشوں کی خودبخود تکمیل ہو جاتی
ہم اپنی ذات کو آصف اگر تسخیر کر لیتے
(آصف شفیع)
 

محمد وارث

لائبریرین
شکریہ عمران صاحب، آصف شفیع صاحب کی خوبصورت غزل شیئر کرنے کیلیے!

ہماری خواہشوں کی خودبخود تکمیل ہو جاتی
ہم اپنی ذات کو آصف اگر تسخیر کر لیتے

واہ واہ واہ، لا جواب
 

ایم اے راجا

محفلین
ہماری خواہشوں کی خودبخود تکمیل ہو جاتی
ہم اپنی ذات کو آصف اگر تسخیر کر لیتے

واہ واہ لاجواب، واہ واہ

عمران صاحب شکریہ آصف صاحب کی اس خوبصورت غزل کے لیئے۔
 

مغزل

محفلین
ہماری خواہشوں کی خودبخود تکمیل ہو جاتی
ہم اپنی ذات کو آصف اگر تسخیر کر لیتے

واہ واہ واہ ، سبحان اللہ ، بہت شکریہ عمران شناور صاحب پیش کرنے کو ، آصف صاحب خوبصورت شعر پر مبارکباد
 
Top