ناصر کاظمی گئے دنوں کا سراغ لیکر کہاں سے آیا کدھر گیا وہ - ناصر کاظمی

فاروقی نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اگست 29, 2008

  1. محسن وقار علی

    محسن وقار علی محفلین

    مراسلے:
    12,013
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    گئے دنوں کا سراغ لے کر کدھر سے آیا کدھر گیا وہ
    عجیب مانوس اجنبی تھا مجھے تو حیران کر گیا وہ

    بس ایک موتی سی چھب دکھا کر بس ایک میٹھی سی دھن سنا کر
    ستارۂ شام بن کے آیا برنگِ خوابِ سحر گیا وہ

    خوشی کی رت ہو کہ غم کا موسم نظر اُسے ڈھونڈتی ہے ہردم
    وہ بوئے گل تھا کہ نغمۂ جاں مرے تو دل میں اتر گیا وہ

    نہ اب وہ یادوں کا چڑھتا دریا نہ فرصتوں کی اداس برکھا
    یونہی ذرا کسک ہے دل میں جو زخم گہرا تھا بھر گیا وہ

    کچھ اب سنبھلنے لگی ہے جاں بھی بدل چلا دورِ آسماں بھی
    جو رات بھاری تھی ٹل گئی ہے جو دن کڑا تھا گزر گیا وہ

    بس ایک منزل ہے بوالہوس کی ہزار رستے ہیں اہلِ دل کے
    یہی تو ہے فرق مجھ میں اس میں گزر گیا میں ٹھہر گیا وہ

    شکستہ پا راہ میں کھڑا ہوں گئے دنوں کو بلا رہا ہوں
    جو قافلہ میرا ہمسفر تھا مثالِ گردِ سفر گیا وہ

    مرا تو خوں ہو گیا ہے پانی ستمگروں کی پلک نہ بھیگی
    جو نالہ اٹھا تھا رات دِل سے نہ جانے کیوں بے اثر گیا وہ

    وہ میکدے کو جگانے والا وہ رات کی نیند اڑانے والا
    یہ آج کیا اس کے جی میں آئی کہ شام ہوتے ہی گھر گیا وہ

    وہ ہجر کی رات کا ستارہ وہ ہم نفس ہم سخن ہمارا
    سدا رہے اس کا نام پیارا سنا ہے کل رات مر گیا وہ

    وہ جس کے شانے پہ ہاتھ رکھ کر سفر کیا تو نے منزلوں کا
    تری گلی سے نہ جانے کیوں آج سر جھکائے گزر گیا وہ

    وہ رات کا بے نوا مسافر وہ تیرا شاعر وہ تیرا ناصر
    تری گلی تک تو ہم نے دیکھا پھر نہ جانے کدھر گیا وہ​
     
    • زبردست زبردست × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. شیزان

    شیزان لائبریرین

    مراسلے:
    6,469
    موڈ:
    Cool
    نہ اب وہ یادوں کا چڑھتا دریا، نہ فرصتوں کی اداس برکھا
    یونہی ذرا سی کسک ہے دل میں، جو زخم گہرا تھا بھر گیا وہ


    بہترین۔۔۔ زبردست۔۔ کیا بات ہے ناصر کاظمی کی
     
  3. فرخ خان

    فرخ خان محفلین

    مراسلے:
    7
    جھنڈا:
    Canada
    موڈ:
    InLove
    بہت عمدہ غزل ہے۔۔۔۔۔۔ شکریہ
     
  4. RAZIQ SHAD

    RAZIQ SHAD محفلین

    مراسلے:
    148
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Daring
    وہ رات کا بے نوا مسافر، وہ تیرا شاعر وہ تیرا ناصر
    تری گلی تک تو ہم نے دیکھا، تھا پھر نہ جانے کدھر گیا وہ

    تیری کو تری کر لیجئے اور دیکھا کے بعد تھا کا اضافہ کر لیجئے
    تھا پھر نہ جانے کدھر گیا وہ
     
  5. RAZIQ SHAD

    RAZIQ SHAD محفلین

    مراسلے:
    148
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Daring
    مَفاعلاتن مَفاعلاتن مَفاعلاتن مَفاعلاتن

    وہ رات کا بے نوا مسافر، وہ تیرا شاعر وہ تیرا ناصر​
    تری گلی تک تو ہم نے دیکھا، تھا پھر نہ جانے کدھر گیا وہ
    تھا پھر نہ جانے کدھر گیا وہ
    تھا کا اضافہ کر لیجئے
     
  6. RAZIQ SHAD

    RAZIQ SHAD محفلین

    مراسلے:
    148
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Daring
    گئے دنوں کا سراغ لے کر کدھر سے آیا کدھر گیا وہ
    عجیب مانوس اجنبی تھا مجھے تو حیران کر گیا وہ

    کدھر سے آیا کدھر گیا وہ
     
    • متفق متفق × 1
  7. ابن توقیر

    ابن توقیر محفلین

    مراسلے:
    3,587
    جو رات بھاری تھی ٹل گئی ہے
    بدل چلا رنگ آسمان بھی
    ریختہ نے بھی "رنگ آسمان" کی جگہ "دور آسماں" لکھا ہے۔اس طرح کی ٹائپو غلطیوں سے اکثر مزا کرکرا ہوجاتا ہے۔میرے جیسے طالب علم کے لیے فیصلہ کرنا مشکل ہوجاتا ہے کسے درست مانا جائے۔اس طرح کی صورتحال میں،میں اکثر اصل کتاب کی طرف رخ کرتا ہوں پر افسوس ناصر کاظمی کو بے انتہا پسند کرنے کے باوجود اس کے وقت میرے پاس ان کی شاعری کی کوئی کتاب نہیں ہے۔دن کو موقع ملا تو پہلی فرصت میں یہ کام کرنا ہے۔
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  8. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    7,817
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
  9. امیر حمزہ

    امیر حمزہ محفلین

    مراسلے:
    26
    جھنڈا:
    Pakistan
    گئے دنوں کا سُراغ لے کر کہاں سے آیا کِدھر گیا وہ
    عجیب مانوس اجنبی تھا مجھے تو حیران کر گیا وہ

    بس ایک موتی سی چَھب دکھا کر بس ایک میٹھی سی دُھن سنا کر
    ستارہءِ شام بن کے آیا برنگِ خوابِ سحر گیا وہ

    خوشی کی رُت ہو کہ غم کا موسم نظر اسے ڈھونڈتی ہے ہر دم
    وہ بُوئے گل تھا کہ نغمہءِ جاں مرے تو دل میں اتر گیا وہ

    نہ اب وہ یادوں کا چڑھتا دریا نہ فرصتوں کی اداس برکھا
    یونہی ذرا سی کسک ہے دل میں جو ذخم گہرا تھا بھر گیا وہ

    کچھ اب سنبھلنے لگی ہے جاں بھی بدل چلا دور آسماں بھی
    جو رات بھاری تھی ٹل گئی ہے جو دن کڑا تھا گزر گیا وہ

    بس ایک منزل ہے بوالہوس کی ہزار رستے ہیں اہلِ دل کے
    یہی تو ہے فرق مجھ میں اس میں گزر گیا میں ٹھہر گیا وہ

    شکستہ پا راہ میں کھڑا ہوں گئے دنوں کو بلا رہا ہوں!
    جو قافلہ میرا ہم سفر تھا مثالِ گردِ سفر گیا وہ

    مرا تو خوں ہو گیا ہے پانی ستمگروں کی پلک نہ بھیگی
    جو نالہ اٹّھا تھا رات دل سے نہ جانے کیوں بے اثر گیا وہ

    وہ میکدے کو جگانے والا وہ رات کی نیند اڑانے والا
    یہ آج کیا اس کے جی میں آئی کہ شام ہوتے ہی گھر گیا وہ

    وہ ہجر کی رات کا ستارہ وہ ہم نفس ہم سخن ہمارا
    سدا رہے اس کا نام پیارا سنا ہے کل رات مر گیا وہ

    وہ جس کے شانے پہ ہاتھ رکھ کر سفر کیا تونے منزلوں کا
    تری گلی سے نہ جانے کیوں آج سر جھکائے گزر گیا وہ

    وہ رات کا بے نوا مسافر وہ تیرا شاعر وہ تیرا ناصر
    تری گلی تک تو ہم نے دیکھا پھر نہ جانے کدھر گیا وہ

    ناصر کاظمی
     

اس صفحے کی تشہیر