کیوں پریشان دل دیکھتے - برائے اصلاح

صابرہ امین

لائبریرین
معزز استادِ محترم الف عین ،
محمد خلیل الرحمٰن ، سید عاطف علی
@محمّد احسن سمیع :راحل:بھائ

آداب
آپ سے اصلاح و راہنمائ کی درخواست ہے ۔ ۔


کیوں پریشان دل دیکھتے
ہم تمھارا بدل دیکھتے

تم میں دیدہءِ بینا نہیں
کیسے جذبہءِ دل دیکھتے

ہاتھ دیکھا ہمارا عبث
کاش بیتاب دل دیکھتے

سچی الفت، کرم اور وفا
کیسے تم سنگدل دیکھتے

ہم کو گھائل تو کر ہی دیا
اب تڑپتا یہ دل دیکھتے

عشق کا زور کم ہو چلا
تم اسے معتدل دیکھتے

دل تو مرحوم کب کا ہوا
اس کا نعم البدل دیکھتے
 

الف عین

لائبریرین
قافیہ تو تقریباً سب ہی بھاگے جا رہے ہیں غزل سے صابرہ!
بدل اور نعم البدل وغیرہ میں د پر زبر ہے، دل کی د میں زیر! معتدل درست ہے البتہ اس اعتبار سے
اگر یہ قوافی رکھے بھی جائیں تو دل کو ردیف بنانا ہو گا
جذبۂ فاعلن کے وزن پر ہے، مفعول، جذبائے، نہیں
غزل پھر کہو بیتا
 

صابرہ امین

لائبریرین
قافیہ تو تقریباً سب ہی بھاگے جا رہے ہیں غزل سے صابرہ!
بدل اور نعم البدل وغیرہ میں د پر زبر ہے، دل کی د میں زیر! معتدل درست ہے البتہ اس اعتبار سے
اگر یہ قوافی رکھے بھی جائیں تو دل کو ردیف بنانا ہو گا
جذبۂ فاعلن کے وزن پر ہے، مفعول، جذبائے، نہیں
غزل پھر کہو بیتا
جی بہتر ۔ ۔ کوشش کرتی ہوں ۔ ۔
 

صابرہ امین

لائبریرین
قافیہ تو تقریباً سب ہی بھاگے جا رہے ہیں غزل سے صابرہ!
بدل اور نعم البدل وغیرہ میں د پر زبر ہے، دل کی د میں زیر! معتدل درست ہے البتہ اس اعتبار سے
اگر یہ قوافی رکھے بھی جائیں تو دل کو ردیف بنانا ہو گا
جذبۂ فاعلن کے وزن پر ہے، مفعول، جذبائے، نہیں
غزل پھر کہو بیتا
آداب
ایک بات سمجھنی تھی کہ اگر مطلع میں قافیے "مندمل" اور "دل " ہوں تو باقی قوافی
ساحل
قاتل
معتدل
سنگ دل
غافل
مشکل
متصل ہو سکتے ہیں یا نہیں۔ شکریہ
 
آداب
ایک بات سمجھنی تھی کہ اگر مطلع میں قافیے "مندمل" اور "دل " ہوں تو باقی قوافی
ساحل
قاتل
معتدل
سنگ دل
غافل
مشکل
متصل ہو سکتے ہیں یا نہیں۔ شکریہ
جی ہاں ۔ یہ تمام الفاظ ہم قافیہ ہیں ۔
ایک مختصر سی بات یہ سمجھ لیجئے کہ قافیے کی سادہ ترین شکل " ایک حرف اور اس سے ماقبل کی حرکت" ہے ۔ مندرجہ بالا تمام قوافی میں "ل" اور اس سے پہلے "زیر" موجود ہے سو یہ تمام الفاظ ہم قافیہ ہوئے ۔ اگر"ل" سے پہلے زیر کے بجائے کوئی اور حرکت موجود ہو تو وہ لفظ ان الفاظ کا قافیہ نہیں ہوسکتا مثلاً ہلچل ، بادل ، بلبل وغیرہ ۔ سمجھنے کے لئے ایک اور مثال دیکھئے : نور ، ضرور ، عبور ، صور ، حور یہ سب ہم قافیہ ہیں لیکن چور ، شور اور غور ان الفاظ کا قافیہ نہیں ہوسکتے کہ ان کے آخر میں "واؤ" تو موجود ہے لیکن واؤ سے ماقبل کی حرکت مختلف ہے ۔ بس یہ بات یاد رکھئے کہ : قافیے کی سادہ ترین شکل " ایک حرف اور اس سے ماقبل کی حرکت" ہے ۔ یہ دو عناصر ہی الفاظ کو ہم قافیہ بناتے ہیں ۔
قافیے کی اور پیچیدہ قسمیں بھی ہیں لیکن فی الحال آپ کے سوال کا جواب اس بات میں دیدیا گیا ہے ۔
 

صابرہ امین

لائبریرین
جی ہاں ۔ یہ تمام الفاظ ہم قافیہ ہیں ۔
ایک مختصر سی بات یہ سمجھ لیجئے کہ قافیے کی سادہ ترین شکل " ایک حرف اور اس سے ماقبل کی حرکت" ہے ۔ مندرجہ بالا تمام قوافی میں "ل" اور اس سے پہلے "زیر" موجود ہے سو یہ تمام الفاظ ہم قافیہ ہوئے ۔ اگر"ل" سے پہلے زیر کے بجائے کوئی اور حرکت موجود ہو تو وہ لفظ ان الفاظ کا قافیہ نہیں ہوسکتا مثلاً ہلچل ، بادل ، بلبل وغیرہ ۔ سمجھنے کے لئے ایک اور مثال دیکھئے : نور ، ضرور ، عبور ، صور ، حور یہ سب ہم قافیہ ہیں لیکن چور ، شور اور غور ان الفاظ کا قافیہ نہیں ہوسکتے کہ ان کے آخر میں "واؤ" تو موجود ہے لیکن واؤ سے ماقبل کی حرکت مختلف ہے ۔ بس یہ بات یاد رکھئے کہ : قافیے کی سادہ ترین شکل " ایک حرف اور اس سے ماقبل کی حرکت" ہے ۔ یہ دو عناصر ہی الفاظ کو ہم قافیہ بناتے ہیں ۔
قافیے کی اور پیچیدہ قسمیں بھی ہیں لیکن فی الحال آپ کے سوال کا جواب اس بات میں دیدیا گیا ہے ۔
آداب
بے حد شکریہ۔ ۔ ۔ :)
 

صابرہ امین

لائبریرین
معزز استادِ محترم الف عین ،
محمد خلیل الرحمٰن ، سید عاطف علی
@محمّد احسن سمیع :راحل:بھائ

آداب
آپ سب سے کی اصلا ح گذارش ہے ۔ ۔ ۔امید ہے اب بہتری آئی ہو گی ۔ ۔

زخم گر مندمل دیکھتے
کیوں پریشان دل دیکھتے

کیسے تم دل مرا لے اڑے
خود کو بس غافل دیکھتے

ہم کو گھائل تو کر ہی دیا
اب تڑپتا یہ دل دیکھتے

تم میں دیدہءِ بینا نہیں
کیسے تم قاتل دیکھتے

بے بسی سے یہ حالت ہے اب
پیار کو مشکل دیکھتے

سچی الفت، کرم اور وفا
کیسے تم سنگدل دیکھتے

ڈوب جاتے اگر ہم تو کیا
تم تو بس ساحل دیکھتے

یا

تم مگر ساحل دیکھتے

بات ہونٹوں پہ سب کے ہے جو
ہم اسے رازِ دل دیکھتے

اپنی رسوائیوں میں تمھیں
ہر طرح شامِل دیکھتے

راستہ ناپتے رہ گئے
کیسے ہم منزل دیکھتے

جگ ہنسائی ہوئی اس لیئے
تم ہمیں مضمحل دیکھتے

کیا ملا ہے ہمیں عشق میں
بے کسی مستقل دیکھتے

دل تو مرحوم کب کا ہوا
کیوں اسے متصل دیکھتے

ہم تو ہارے مگر اب تمہیں
جیت کے قابل دیکھتے

عشق کا زور کم ہو چلا
تم اسے معتدل دیکھتے

جب بھی ہو پیار کی بات اب
سب ہمیں مشتعل دیکھتے
 
آخری تدوین:

الف عین

لائبریرین
بیٹا بحر کے ارکان ہین فاعلن تین بار، قافیے کی جگہ مکمل فاعلن ہونا چاہیے یعنی
سنگ دل، معتدل، مندمل،( پرے)شان دل، مستقل سارے درست ہیں۔ لیکن عافل، ساحل، قابل، منزل، شامل علط ہو گئے ہیں غور کرو تو سمجھ میں آ جائے گا ۔ دل، مل سے پہلے الفاظ کا سٹرکچر دیکھو۔ ان دو حروف سے پہلے کے حرف میں الف نہیں آ سکتا کہ اسے متحرک بنا دیتا ہے، یہاں صرف ساکن حرف یا زیر زبر والے حروف آ سکتے ہیں جنہیں گرایا جا سکتا ہے
 

صابرہ امین

لائبریرین
بیٹا بحر کے ارکان ہین فاعلن تین بار، قافیے کی جگہ مکمل فاعلن ہونا چاہیے یعنی
سنگ دل، معتدل، مندمل،( پرے)شان دل، مستقل سارے درست ہیں۔ لیکن عافل، ساحل، قابل، منزل، شامل علط ہو گئے ہیں غور کرو تو سمجھ میں آ جائے گا ۔ دل، مل سے پہلے الفاظ کا سٹرکچر دیکھو۔ ان دو حروف سے پہلے کے حرف میں الف نہیں آ سکتا کہ اسے متحرک بنا دیتا ہے، یہاں صرف ساکن حرف یا زیر زبر والے حروف آ سکتے ہیں جنہیں گرایا جا سکتا ہے
آداب
یہ سب تو نئی باتیں ہیں میرے لیئے ۔ ۔ یعنی تمام قافیوں کا وزن بھی ایک سا ہونا چاہیئے ۔ ۔ !!o_Oo_O
ابھی تک تو جو بھی لکھا پتہ نہیں کیسے صحیح ہو گیا ۔ ۔ :unsure:
سچ کہوں تو تمام باتیں ٹھیک سے سمجھنے کے لیئے مجھے یقیناً وقت درکار ہو گا ۔ ۔ ایسا کرتی ہوں قافیہ سے متعلق جتنی چیزیں ہیں وہ پڑھ لیتی ہوں ۔ ۔ بار بار ۔ ۔ جو سمجھ نہیں آئے گا تو پھر آپ سے پوچھ لیتی ہوں وہ نکتہ ۔ ۔

بہت بہت شکریہ ۔ ۔ تہہ دل سے ۔ ۔ :):)
 
آداب
یہ سب تو نئی باتیں ہیں میرے لیئے ۔ ۔ یعنی تمام قافیوں کا وزن بھی ایک سا ہونا چاہیئے ۔ ۔ !!o_Oo_O
ابھی تک تو جو بھی لکھا پتہ نہیں کیسے صحیح ہو گیا ۔ ۔ :unsure:
سچ کہوں تو تمام باتیں ٹھیک سے سمجھنے کے لیئے مجھے یقیناً وقت درکار ہو گا ۔ ۔ ایسا کرتی ہوں قافیہ سے متعلق جتنی چیزیں ہیں وہ پڑھ لیتی ہوں ۔ ۔ بار بار ۔ ۔ جو سمجھ نہیں آئے گا تو پھر آپ سے پوچھ لیتی ہوں وہ نکتہ ۔ ۔

بہت بہت شکریہ ۔ ۔ تہہ دل سے ۔ ۔ :):)
نہیں، قافیوں کا وزن ایک ہونا مطلقا ضروری نہیں. یہاں استاد محترم کا فرمانا یہ ہے کہ اس بحر میں آپ کی زمین کی ساخت ایسی ہے کہ دل، ساحل، شامل وغیرہ وزن میں پورے نہیں آسکتے.
مثال لے لئے نیچے دی گئی تقطیع دیکھیے. تسہیل تفہیم کے لیے اراکین کے ہجے الگ الگ لکھ رہا ہوں.

تم تو بس ساحل دیکھتے

فا ع لن ... ہم تُ بس
فا ع لن ... سا حل

دیکھیے، دوسرے رکن کے عِ مقابل ساحل کا "حل" آرہا ہے، جس کی وجہ سے مصرعہ ناقص الوزن ہورہا ہے. عِ کیونکہ چھوٹی آواز ہے، اس لیے اس کے مقابل کوئی چھوٹی آواز ہی آ سکتی ہے.
 

صابرہ امین

لائبریرین
نہیں، قافیوں کا وزن ایک ہونا مطلقا ضروری نہیں. یہاں استاد محترم کا فرمانا یہ ہے کہ اس بحر میں آپ کی زمین کی ساخت ایسی ہے کہ دل، ساحل، شامل وغیرہ وزن میں پورے نہیں آسکتے.
مثال لے لئے نیچے دی گئی تقطیع دیکھیے. تسہیل تفہیم کے لیے اراکین کے ہجے الگ الگ لکھ رہا ہوں.



فا ع لن ... ہم تُ بس
فا ع لن ... سا حل

دیکھیے، دوسرے رکن کے عِ مقابل ساحل کا "حل" آرہا ہے، جس کی وجہ سے مصرعہ ناقص الوزن ہورہا ہے. عِ کیونکہ چھوٹی آواز ہے، اس لیے اس کے مقابل کوئی چھوٹی آواز ہی آ سکتی ہے.
جی میں سمجھ نہ پائی اس لیئے کچھ پریشان ہوئی کہ یہ سب پڑھنے سے کیسے رہ گیا ۔ ۔ ۔
کچھ چھوٹی بحروں پر طبع آزمائی کی تھی کہ آسانی ہو مگر اب لگا کہ چھوٹی بحر میں خیالات سمونا مشکل ہے بہ نسبت درمیانی اور لمبی بحروں کے ۔ ۔
میں دوبارہ کوشش کرتی ہوں ورنہ انہی قوافی کا بڑی بحر میں استعمال کرتی ہوں ۔ ۔
آپ کی بروقت رہنمائی کا شکریہ ۔ ۔
 

صابرہ امین

لائبریرین
بیٹا بحر کے ارکان ہین فاعلن تین بار، قافیے کی جگہ مکمل فاعلن ہونا چاہیے یعنی
سنگ دل، معتدل، مندمل،( پرے)شان دل، مستقل سارے درست ہیں۔ لیکن عافل، ساحل، قابل، منزل، شامل علط ہو گئے ہیں غور کرو تو سمجھ میں آ جائے گا ۔ دل، مل سے پہلے الفاظ کا سٹرکچر دیکھو۔ ان دو حروف سے پہلے کے حرف میں الف نہیں آ سکتا کہ اسے متحرک بنا دیتا ہے، یہاں صرف ساکن حرف یا زیر زبر والے حروف آ سکتے ہیں جنہیں گرایا جا سکتا ہے
آداب
جی اب سمجھ آیا ٹھیک طرح سے ۔ شکریہ:)
 

صابرہ امین

لائبریرین
معزز استادِ محترم الف عین ،
محمد خلیل الرحمٰن ، سید عاطف علی
@محمّد احسن سمیع :راحل:بھائ

آداب
آپ کی ہدایات کی روشنی میں کافی دیر ایک ایک شعر پراپنی سمجھ کے مطابق غوروخوض کیا ہے ۔ امید کرتی ہوں اب عروضی خامیاں نہیں ہوں گی ۔ ۔ آپ سے اصلاح و رہنمائی کی درخواست ہے ۔ ۔

زخم گر مندمل دیکھتے
کیوں پریشان دل دیکھتے

کیا ملا ہے ہمیں عشق میں
بے کسی مستقل دیکھتے

اس کی چاہت جو دل میں ہے اب
یا
اس کی چاہت کو ہم ذہن سے
روح میں منتقل دیکھتے

ہاتھ دیکھا ہمارا عبث
کاش بےتاب دل دیکھتے

تم نے گھائل ہمیں کر دیا
کیوں نہ یوں مضمحل دیکھتے

جگ ہنسائی ہوئی اس لیئے
تم ہمیں منفعل دیکھتے

سچی الفت، کرم اور وفا
کیسے تم سنگدل دیکھتے

تم نے دل کی جو سب سے کہی
ہم اسے رازِ دل دیکھتے

اپنی رسوائیوں میں تمھیں
جابجا، مستقل دیکھتے

راستہ ڈھونڈھتے ہی رہے
کیسے ہم منزل دیکھتے

ہائے ہم بھی تمہیں عشق میں
کچھ نہ کچھ نرم دل دیکھتے

دل تو مرحوم کب کا ہوا
کیوں اسے متصل دیکھتے

عشق کا زور کم ہو چلا
تم ہمیں معتدل دیکھتے

جب بھی ہو پیار کی بات اب
سب ہمیں مشتعل دیکھتے
 
آخری تدوین:

الف عین

لائبریرین
قافیہ تو درست ہو گیا صرف ایک منزل کو چھوڑ کر، وہ شعر نکال ہی دو۔ اب محض انداز بیان کی کچھ اغلاط ہیں جو ردیف دیکھتے کے ساتھ گرامر مناسب نہ ہونے کی وجہ سے واقع ہو رہی ہیں یا فاعل واضح نہیں ہوا ہے کہ کون دیکھتے؟ ہم یا آپ؟ ذرا خود ہی غور کر کے دیکھو تو سمجھ سکتی ہو کہ کیا گڑبڑ ہے شعر میں! روائز کرلو ایک بار مزید تو پھر تفصیل سے دیکھتا ہوں
 

صابرہ امین

لائبریرین
قافیہ تو درست ہو گیا صرف ایک منزل کو چھوڑ کر، وہ شعر نکال ہی دو۔ اب محض انداز بیان کی کچھ اغلاط ہیں جو ردیف دیکھتے کے ساتھ گرامر مناسب نہ ہونے کی وجہ سے واقع ہو رہی ہیں یا فاعل واضح نہیں ہوا ہے کہ کون دیکھتے؟ ہم یا آپ؟ ذرا خود ہی غور کر کے دیکھو تو سمجھ سکتی ہو کہ کیا گڑبڑ ہے شعر میں! روائز کرلو ایک بار مزید تو پھر تفصیل سے دیکھتا ہوں
جی بہتر ۔ ۔ ۔دوبارہ دیکھتی ہوں ۔ ۔ شکریہ
 

صابرہ امین

لائبریرین
جگ ہنسائی جو ہوتی اگر
تم ہمیں منفعل دیکھتے

میری الفت، کرم اور وفا
کیسے تم سنگدل دیکھتے

تم نہ دل کی کسی سے کہو
ہم اسے رازِ دل دیکھتے

اپنی رسوائیوں میں تمھیں
جابجا، مستقل دیکھتے

دل تو مرحوم کب کا ہوا
کیوں اسے متصل دیکھتے
یا

عشق میں دربدر میرا دل
کیوں اسے متصل دیکھتے
یا

دل مرا ہو چکا ہے فنا
کیوں اسے متصل دیکھتے


عشق کا زور کم ہو چلا
تم ہمیں معتدل دیکھتے
یا

میری چاہت کا بھرتے جو دم
پھر ہمیں معتدل دیکھتے
یا
ہم جو عاشق نہ ہوتے اگر
تم ہمیں معتدل دیکھتے

جب بھی ہو پیار کی بات اب
سب ہمیں مشتعل دیکھتے
 
آخری تدوین:

الف عین

لائبریرین
متصل کن معنوں میں؟ بمعنی ملا ہوا، جڑا ہوا؟ مگر ردیف کے ساتھ جم نہیں رہا، اس قافیے کو ہی نکال دو
معتدل والے اشعار میں پہلا شعر درست ہے
باقی اشعار درست لگتے ہیں
 
بسم اللہ الرحمن الرحیم
محترمہ بے تاب دل والا شعر کیوں نکال دیا ہے میری نظر میں یہ شعر ذرا سی تبدیلی سے غزل کا سب سے اچھا شعر بن سکتا ہے
 
آخری تدوین:

صابرہ امین

لائبریرین
آخری تدوین:
Top