میر کیسی وفا و اُلفت، کھاتے عبث ہو قسمیں ۔ میر تقی میر

فرخ منظور نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏دسمبر 20, 2012

  1. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,666
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    کیسی وفا و اُلفت، کھاتے عبث ہو قسمیں
    مدت ہوئی اٹھا دیں تم نے یہ ساری رسمیں

    ساون تو اب کے ایسا برسا نہیں، جو کہیے
    روتا رہا ہوں میں ہی دن رات اس برس میں

    گھبرا کے یوں لگے ہے سینے میں دل تڑپنے
    جیسے اسیرِ تازہ بے تاب ہو قفس میں

    جاں کاہ ایسے نالے لوہے سے تو نہ ہوویں
    بے تاب دل کسو کا رکھا ہے کیا جرس میں

    اب لاغری سے دے ہیں ساری رگیں دکھائی
    پر عشق بھر رہا ہے اک آگ میری نس میں

    اے ابر! ہم بھی برسوں روتے پھرا کیے ہیں
    دریا بندھے پڑے ہیں وادی کے خار و خس میں

    کیا میر بس کرے ہے اب زاری آہ شب کی
    دل آ گیا ہے اُس کا ظالم کسو کے بس میں

    (میر تقی میر)
     
    • زبردست زبردست × 3
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. شیزان

    شیزان لائبریرین

    مراسلے:
    6,469
    موڈ:
    Cool
    بہت اچھے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,666
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    بہت شکریہ قیصرانی بھائی!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  5. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,666
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    بہت شکریہ جناب!
     

اس صفحے کی تشہیر