کیسی دوری ہے کہ بس جاں سے قریں رہتی ہے

کیسی دوری ہے کہ بس جاں سے قریں رہتی ہے
تذکرہ میرا، مری بات کہیں رہتی ہے

کس کی خاموش نواؤں پہ فدا ہے عالم؟
آسماں رقص میں گردش میں زمیں رہتی ہے

رونقِ بزمِ خیال اپنی جگہ ہے لیکن
دل میں خلوت سی کوئی گوشہ نشیں رہتی ہے

کم نہیں فضل جو سجدے میں گراتا ہے اسے
سجدۂ شکر میں ساجد کی جبیں رہتی ہے

طاقِ نسیاں کا پتا بھول نہ جائے مجھ کو
یاد پڑتا ہے تری یاد وہیں رہتی ہے

موت کا خوف تو ہے موت کے آ جانے تک
موت بس تا نفسِ باز پسیں رہتی ہے

فکر کی لوح پہ لکھتا ہوں جو لکھنا چاہوں
کائنات ایک مرے زیرِ نگیں رہتی ہے
 
آخری تدوین:

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
واہ ! بہت خوب ریحان بھائی ۔ اچھی غزل ہے!

طاقِ نسیاں کا پتا بھول نہ جائے مجھ کو
یاد پڑتا ہے تری یاد وہیں رہتی ہے

کیا بات ہے! کیا سلیقے سے کہا ہے ! بہت خوب!
 
واہ ! بہت خوب ریحان بھائی ۔ اچھی غزل ہے!

طاقِ نسیاں کا پتا بھول نہ جائے مجھ کو
یاد پڑتا ہے تری یاد وہیں رہتی ہے

کیا بات ہے! کیا سلیقے سے کہا ہے ! بہت خوب!
حوصلہ افزائی پر بہت شکرگزار ہوں ظہیر بھائی۔
عمدہ غزل ہے قریشی صاحب، آپ کی شاعری ماشاءاللہ نکھرتی جا رہی ہے۔
سپاسگزار ہوں وارث صاحب۔
 
آخری تدوین:
کیسی دوری ہے کہ بس جاں سے قریں رہتی ہے
تذکرہ میرا، مری بات کہیں رہتی ہے

کس کی خاموش نواؤں پہ فدا ہے عالم؟
آسماں رقص میں گردش میں زمیں رہتی ہے

رونقِ بزمِ خیال اپنی جگہ ہے لیکن
دل میں خلوت سی کوئی گوشہ نشیں رہتی ہے

کم نہیں فضل جو سجدے میں گراتا ہے اسے
سجدۂ شکر میں ساجد کی جبیں رہتی ہے

طاقِ نسیاں کا پتا بھول نہ جائے مجھ کو
یاد پڑتا ہے تری یاد وہیں رہتی ہے

موت کا خوف تو ہے موت کے آ جانے تک
موت بس تا نفسِ باز پسیں رہتی ہے

فکر کی لوح پہ لکھتا ہوں جو لکھنا چاہوں
کائنات ایک مرے زیرِ نگیں رہتی ہے
واہ۔ لاجواب ریحان بھائی
 
Top