کیا یورپ کی ترقی مذہب کو ترک کرنے کی مرہون منت ہے؟

لگتا ہے کٹ پیسٹ ورلڈ آرڈر ہے، آپ کو ان نکات کی بنیادات کی سمجھ، مجھے نظر نہیں آتی بھائی
معذرت کے ساتھ، دل آزاری مقصد نہیں
 
آخری تدوین:
لگتا ہے کٹ پیسٹ ورلڈ آرڈر ہے، آپ کو ان نکات کی بنیادات کی سمجھ، مجھے نظر نہیں آتی بھائی
موجودہ بحث سے قطع نظر، ہمیں تو لگتا تھا کہ کٹ اینڈ پیسٹ اِز دی آرڈر آف دی ڈے لیکن آپ نے نئی جہت نکال لی ہے۔ کٹ اینڈ پیسٹ اِز دی نیو ورلڈ آرڈر! بہت خوب ہے۔
 
یورپ کی ترقی سود سے ہے جو کہ حرام ہے۔
یورپ یا جو بھی ترقی یافتہ اقوام ہیں ان کی ترقی سود سے ہے یہ نا دل مانتا ہے نا دماغ۔ جو بات سمجھ میں آتی ہے وہ شاید ان کے وہ اخلاق ہیں جو وہ اقوام کاروبار یا پیشہ ورانہ زندگی میں روا رکھے ہوئے ہیں
 
یورپ یا جو بھی ترقی یافتہ اقوام ہیں ان کی ترقی سود سے ہے یہ نا دل مانتا ہے نا دماغ۔ جو بات سمجھ میں آتی ہے وہ شاید ان کے وہ اخلاق ہیں جو وہ اقوام کاروبار یا پیشہ ورانہ زندگی میں روا رکھے ہوئے ہیں
منافع کا وہ حصہ جو ٹیکس کی مد میں اداکرنا ہو، اس حصہ کو کھا جانا ، سود کھاجانا ہے۔ مغربی اقوام یہ منافع کا حصہ نہیں کھاتی ہیں

لہذاان کی ترقی اسی والے سود کی مدد سے دولت کی گردش کی بنیاد پر ہے

اس کے لئے بنیادی تعاریف پر نظرثانی ضروری ہے
 
آخری تدوین:

جاسم محمد

محفلین
منافع کا وہ حصہ جو ٹیکس کی مد میں اداکرنا ہو، اس حصہ کو کھا جانا ، سود کھاجانا ہے۔ مغربی اقوام یہ منافع کا حصہ نہیں کھاتی ہیں

لہذاان کی ترقی اسی والے سود کی مدد سے دولت کی گردش کی بنیاد پر ہے

اس کے لئے بنیادی تعاریف پر نظرثانی ضروری ہے
گو کہ بعض مغربی ممالک میں بھی ٹیکس کی شرح بہت کم ہے البتہ مسلم ممالک میں تو اس حوالہ سے بہت برا حال ہے۔
 

سید رافع

محفلین
اس وقت مسئلہ یہ ہے کہ دائیں اور بازوں کے سیاسی دھڑوں میں فرق اور نظریاتی اختلاف بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔ جب دائیں بازو کی جماعتیں اقتدار میں آتی ہیں تو بائیں بازو والے ان کے ساتھ کوئی تعاون نہیں کرتے۔ اور جب بائیں بازو والے اقتدار میں ہوں تو دائیں بازو والے تعاون نہیں کرتے۔ اس واضح تضاد کیساتھ باہمی اشتراک اور سوچ کہیں پیدا ہوگی؟

معاہدوں کی شکل میں یہ سوچ پیدا ہو سکتی ہے جیسا کہ میثاق مدینہ۔ موجودہ سیاست دانوں اور حکمرانوں کی یہ سب سے بڑی غفلت ہے کہ "نیو ورلڈ آرڈر" جیسا کوئی معاہدہ سامنے نہیں لا رہے۔
 

سید رافع

محفلین
6:141 آتُواْ حَقَّهُ يَوْمَ حَصَادِهِ
ٹیکس اسی دن ادا کردو جس دن کماؤ

معلوم ہوتا ہے کہ آپکے آبائی علاقوں میں کاشکاری کی جاتی ہے۔ یہ تو عشر (کھیتی باڑی پر ٹیکس) کی آیت کی ہے۔ کیا آپ ہندو کاشتکاروں کے سامنے قرآن ٹیکس کے لیے پیش کریں گے جو لیا ہی صرف مسلمانوں سے جاتا ہے؟ کیا آپ ٹرمپ سے کہیں گے کہ اپنے علاقوں کے کسانوں سے عشر جمع کر کے ورلڈ کئیر میں جمع کرائیں؟ کیا آپ چین و روس کے کمیونسٹوں کو سورہ انعام دکھا کر کھیتی باڑی پر ٹیکس جمع کرنے کو کہیں گے؟

ظاہر ہے آپ 7 ارب کی آبادی سے کہیں گے کہ کیونکہ کسان فصلوں کی تیاری پر دنیا کے دیگر لوگوں کے بنائے وسائل بھی استعمال کرتے ہیں چنانچہ ان پر دو اعشاریہ پانچ فیصد ہر فصل پر ٹیکس ہے یا سال ختم ہونے پر جو رقم بچی اس پر دو اعشاریہ پانچ فیصد ٹیکس ہے۔
 

سید رافع

محفلین
یورپ یا جو بھی ترقی یافتہ اقوام ہیں ان کی ترقی سود سے ہے یہ نا دل مانتا ہے نا دماغ۔ جو بات سمجھ میں آتی ہے وہ شاید ان کے وہ اخلاق ہیں جو وہ اقوام کاروبار یا پیشہ ورانہ زندگی میں روا رکھے ہوئے ہیں

آپ سے درخواست ہے کہ آپ کچھ مضامین پندرہویں صدی کے یورپ کے پیش کریں اور پھر کچھ مضامین سولہویں صدی کے یورپ کے پیش کریں۔ آپ دیکھیں گے عقلیات و سود ہی دو چیزیں ہیں جن پر یورپ کی ترقی ہوئی۔ آج سے 400 سال قبل یعنی سولہویں صدی تک چرچ کی غلط کاریاں سائنسدانوں اور عام لوگوں کے خلاف بے حد و حساب تھیں۔

Calvin allowed the charging of modest interest rates on loans

It became more important in later, partly secularized forms of Calvinism and became the starting-point of Max Weber's theory about the rise of capitalism

آپ اس لڑی کے شروع میں دی گئی کتاب ہی پڑھ لیں یا پھر یہاں دیکھیں۔
 

سید رافع

محفلین
لگتا ہے کٹ پیسٹ ورلڈ آرڈر ہے، آپ کو ان نکات کی بنیادات کی سمجھ، مجھے نظر نہیں آتی بھائی
معذرت کے ساتھ، دل آزاری مقصد نہیں

بھائی پرسوں رات کو میں نے یہ ورلڈ آرڈر لکھا ہے۔ اصل میں آپکو اس بات میں دشواری پیش آئے کہ اب دنیا کی ذمہ داری آپ کے کندھوں پر ہے کہ اسکو احسن طریقے سے عدل سے چلائیں۔ دوسری بات جو آپ کو گراں لگے کہ قرآن کو درمیان میں نہیں لانا ہے کیونکہ آپ امام مہدی علیہ السلام کی طرح عین قرآن نہیں۔ سو نہ ہی ان کی طرح مضطرب لوگوں کو مطمئن کر سکیں گے کہ وہ مومنین بن کر آپ کے ساتھ جہاد کریں اور نہ ہی اللہ کی رضا کی خاطر پوری حیاء کے ساتھ کفار سے لڑ سکیں گے کہ جیسا رسول اللہ ﷺ اور جناب علی کرم اللہ وجہ لڑتے تھے۔ یوں آپ دنیا کو عدل سے بھر دیں۔ یہ جن کا بوجھ ہے وہ علیہ السلام ہی اٹھائیں گے۔

سو درمیانی درجہ میں آپ یہ چاہیں گے کہ دنیا کا انتظام آپ اپنے ہاتھ میں لیں جہاں عقل کی بنیاد پر دنیا کے انتظام کو سادہ کرنے کی کوشش کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو عدل مل سکے۔
 

سید رافع

محفلین
موجودہ بحث سے قطع نظر، ہمیں تو لگتا تھا کہ کٹ اینڈ پیسٹ اِز دی آرڈر آف دی ڈے لیکن آپ نے نئی جہت نکال لی ہے۔ کٹ اینڈ پیسٹ اِز دی نیو ورلڈ آرڈر! بہت خوب ہے۔

انکو یقین نہیں آرہا کہ اب اپنے لرزتے ہاتھوں سے کٹ اینڈ پیسٹ چھوڑ کر ہزار سال بعد ان کے ذمے 7 ارب انسانوں کا صدر بننا آ گیا ہے۔ :)
 

سید رافع

محفلین
آخری تدوین:

سید رافع

محفلین
منافع کا وہ حصہ جو ٹیکس کی مد میں اداکرنا ہو، اس حصہ کو کھا جانا ، سود کھاجانا ہے۔ مغربی اقوام یہ منافع کا حصہ نہیں کھاتی ہیں

لہذاان کی ترقی اسی والے سود کی مدد سے دولت کی گردش کی بنیاد پر ہے

اس کے لئے بنیادی تعاریف پر نظرثانی ضروری ہے

نیو ورلڈ آرڈر آف پیس کے تحت تو یہ تعریف بنتی ہے:

سود:
قرض شدہ رقم پر اصل سے کچھ بھی زائد طلب کرنا سود ہے۔ جس طرح کا بھی سود ہے وہ جرم ہے۔

ٹیکس:
سال گزرنے پر حکومت کو رقم ادا کرنا، اگر سال گزرنے کے بعد بھی ایک مخصوص نصاب سے زائد رقم موجود ہے۔ رقم نہیں تو ٹیکس نہیں۔

عشر:
فصلوں پر ٹیکس۔


گو کہ بعض مغربی ممالک میں بھی ٹیکس کی شرح بہت کم ہے البتہ مسلم ممالک میں تو اس حوالہ سے بہت برا حال ہے۔

یورپ میں 1980 تک ٪60 ٹیکس تھا۔ اب ٪50 فیصد سے کم ہوا ہے۔ ابھی میں پچھلے دنوں جرمنی میں تھا اور وہاں قریباًً ٪40 فیصد ٹیکس دے رہا تھا۔

478px-Payroll_and_income_tax_by_country.png


Tax rates in Europe - Wikipedia


امریکہ کا بھی یہی حال ہے:

800px-Median_household_income_and_taxes.png

Taxation in the United States - Wikipedia

پاکستان میں شرح ٹیکس 20 فیصد کے قریب ہے۔
https://en.wikipedia.org/wiki/Taxation_in_the_United_States
 

سید رافع

محفلین
میرے خیال میں یہ ہے "نیو ورلڈ آرڈر آف پیس"۔


نیو ورلڈ آرڈر آف پیس


1- آج سے دنیا کے تمام انسان برابر ہیں۔ نہ ہی کالے کو گورے پر کوئی فوقیت ہے اور نہ ہی گورے کو کالے پر کوئی برتری۔ تمام انسانوں کی جان اور مال محترم ہے اور دنیا ہر انسان کی حفاظت کے لیے اسکے ساتھ کھڑی ہے۔

2- آج سے یونائنٹڈ نیشنز کا چیرمین دنیا کا صدر ہو گا۔

3- آج سے تمام سودی کاروبار جرم ہے۔ اب ورلڈ بینک ورلڈ چیرٹی کہلائے گا۔ دنیا کے تمام بینک اب چیرٹی کہلائیں گے اور ضرورتمند انسانوں کو قرض دیں گے۔

4- آج سے تمام انشورنس کا کاروبار جرم ہے۔ اب انشورنس کمپنیاں ورلڈ کئیر کہلائیں گی اور یہ ادارہ دنیا بھر کے حادثوں سے متاثرہ لوگوں کی مدد کرے گا۔

5- آج سے ماہانہ 10، 20، 30 یا 40 فیصد سیلری ٹیکس اور ہر طرح کا ٹیکس منسوخ کیا جاتا ہے سوائے دو اعشاریہ پانچ فیصد ٹیکس اس رقم پر جو سال کے آخر یعنی دسمبر 31 کو بچ جائے۔ یہ رقم ورلڈ چیرٹی اور ورلڈ کئیر کے تحت جمع کیا جائے گا۔

6- آج سے تمام جیلوں کو لائبریری میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ قتل کے بدلے میں قتل ہے الا یہ کہ مقتول کے وارث کچھ رقم لے کر قاتل کو معاف کریں۔

7- آج سے زنا اور شراب کی حوصلہ شکنی اور نکاح کی تعریف کی جائے گی۔

8- آج سے دنیا کی تمام فوجیں ملا کر ایک کی جاتی ہیں اور ورلڈ ملٹری بنائی جاتی ہے جو باغیوں کی سرکوبی کرے گی۔

9- آج سے دنیا کی تمام پولیس ملا کر ایک کی جاتی ہے اور ورلڈ پولیس بنائی جاتی ہے جو مجرموں کو پکڑے گی۔

10- آج سے دنیا بھر ویزا کا خاتمہ کیا جاتا ہے۔ جو شخص دنیا میں جہاں رہنا چاہے رہ سکتا ہے اور اسے وہی حقوق حاصل ہوں گے جو دنیا کے ہر شہری کو۔

11- آج سے دنیا کی تمام عدالتیں ایک کی جاتی ہیں اور وہ ایک ہی قانون کے تحت دنیا کے انسانوں کے مقدمات کے فیصلے کریں گی۔



نیو ورلڈ آرڈر آف پیس (برعکس ورژن)
نیو ورلڈ آرڈر آف پیس کیونکہ عقلی ہے۔ سو اسکی بنیادات کو اسکی برعکس شکل بنا کر بھی جانچا جا سکتا ہے:

1- آج سے سلامتی کونسل، جی8، نیٹو کے ممالک دنیا کے دیگر انسانوں سے برتر ہیں۔ کالے انسان گورے سے کمتر ہیں اور گورے کو کالے پر ہر قسم کی برتری حاصل ہے۔ تمام انسانوں سے بڑھ کر جان اور مال ان ممالک میں رہنے والوں کا محترم ہے جن کا تذکرہ اوپر کیا گیا۔ دنیا کے ہر انسان کو انکی حفاظت کے لیے انکے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔

2- آج سے یونائنٹڈ نیشنز کے چیرمین کاکردار ان ممالک کے ماتحت ہو گا جنکا تذکرہ اوپر کیا گیا۔

3- آج سے تمام سودی کاروبار عام ہے۔ اب ورلڈ بینک ورلڈ دنیا کے کسی ملک کو قرضہ دیکر سود حاصل کرنے کا پورا اخلاقی جواز رکھتا ہے چاہے اس ملک کے لوگوں کی جو حالت ہو۔ دنیا کے تمام بینک اب ضرورتمند انسانوں کو قرض دیں گے اور ایک یقینی سود کو حاصل کریں گے۔ سود نہ حاصل ہونے کی صورت میں یا اصل رقم نہ حاصل ہونے کی صورت میں وہ ان لوگوں کی جائیداد، رقم، زیور یا رہن شدہ چیزوں کو ضبط کریں گے۔

4- آج سے تمام انشورنس کا عام ہے۔ اب انشورنس کمپنیاں دنیا بھر کے حادثوں سے متاثرہ لوگوں کی مدد کے بہانے ماہانہ پریمیم کا جوا یا گیمبل کریں گی۔

5- آج سے ماہانہ 50 فیصد سیلری ٹیکس شروع کیا جاتا ہے۔ دنیا کے لوگ اپنی محنت کی کمائی کا 50 فیصد ان چند مردوں کے ہاتھوں میں دے دیں گے جو ان کے لیے میڈیکل اور تعلیم کا بندوبست کریں گے۔ اسکے علاوہ وہ اس رقم کو جنگوں میں خرچ کریں گے۔

6- آج سے تمام جیلوں کو بے فیصلہ قیدیوں کے بھرنے کی جگہ بنایا جاتا ہے۔

7- آج سے زنا اور شراب کی حوصلہ افزائی کی جائے گی اور شادی کی پابندی اور بچوں کی پیدائش کو روکا جائے گا۔

8- آج سے دنیا کی تمام فوجیں ایکدوسرے کی جاسوسی کریں گی، خوف کی فضا مسلسل برقرار رکھیں گی تاکہ قوم کے جمع شدہ ٹیکس سے ہتھیار خریدے جائیں۔ وہ سمندروں، زمینوں، پہاڑوں ہر جگی قابض رہیں گی۔

9- آج سے دنیا کی تمام پولیس کے الگ الگ ہو گی۔ مجرموں کو حوصلہ دیا جائے گا کہ وہ جرم کر کے ایک ملک کی پولیس سے اگر بچ جائیں تو دوسرے ملک کی پولیس کو پتہ ہی نہ چلے۔ یوں مجرم ملکوں ملکوں گردش کرتے رہیں۔

10- آج سے دنیا بھر میں ویزا کی سختیاں اور بڑھائی جاتیں ہیں۔ جو شخص دنیا میں جس شہر میں پیدا ہوا ہے وہ اسی شہر میں رہ سکتا ہے۔ سو نیویارک کا شہری بوسٹن و کیلی فورنیا نہیں جا سکتا اور لندن کا شہری مانچسٹر بلا ویزا نہیں جا سکتا۔

11- آج سے دنیا کی تمام عدالتیں الگ الگ کی جاتی ہیں تاکہ انسانیت جرائم اور سزا کے متعلق ہمیشہ پیچیدگی کا شکار رہے۔ ہر ہر ملک کا قانون دان نئے سرے سے جرم اور سزا کے درمیان ربط سمجھنے کے لیے محنت کرتا رہے اور انسان تقسیم رہیں، جرائم پنپتے رہیں۔
 

سید رافع

محفلین
آپ کو ان نکات کی بنیادات کی سمجھ، مجھے نظر نہیں آتی بھائی

7 ارب انسانوں پر عقلی اعتبار سے کس کو صدر ہونا چاہیے؟

ایک بنیادی بات یہ ہے کہ عقلی اعتبار سے یو این کا صدر یا دنیا کا صدر کون ہو گا؟ 7 ارب انسانوں پر عقلی اعتبار سے کس کو صدر ہونا چاہیے؟

اس سے قبل فوجوں کو ایک کرنا پڑے گا۔ 250 ممالک کی فوج کے سربراہوں میں سے کسی ایک کو ورلڈ ملٹری کا سربراہ مقرر کیا جائے گا۔ یہ تمام "نیو ورلڈ آرڈر آف پیس" کے حلف یافتہ ہوں گے۔

سو یکم جنوری 2021: دنیا کی فوجیں ایک کرنے کا دن۔ انڈیا اور پاکستان کی فوج ایک ہو گئی ہے۔ 250 ممالک کی فوج ایک ہو گئی ہے۔ فوج کا مقصد "نیو ورلڈ آرڈر آف پیس" کے باغیوں کی سرکوبی کرنا ہے۔ دنیا کی اکثریت اس بات پر متفق ہو چکی ہے کہ یہ آرڈر انتہائی عادلانہ ہے اور اس سے انسان انسان کی غلامی سے آزاد ہو گا۔ ممالک صرف قبائل، افراد اور گروہوں کی پہچان کا ذریعہ ہوں گے۔ مثلاً وہ چینی ہے، وہ ہندوستانی ہے، وہ پاکستانی ہے۔ وہ امریکی یا یورپی ہے۔ لیکن انسان اس بات پر متفق ہوگئے ہیں کہ ممالک شناخت کے لیے ہیں لیکن ہم سب ایک ہیں۔ ہمارے مسائل ایک ہیں۔ ہمارے وسائل ایک ہیں۔

دنیا کے ممالک میں پائے جانے والے 7 ارب لوگوں میں موجود دانشور اپنے اپنے خطوں میں سامنے آئیں گے۔ ہر ایک ارب انسانوں میں سے ایک لاکھ دانشور سامنے آئیں گے جو کہ عقلی علم کی معراج پر ہوں گے۔ یہ تمام "نیو ورلڈ آرڈر آف پیس" کے حلف یافتہ ہوں گے۔ یہ 7 لاکھ انسان 70 ہزار لوگوں کو منتخب کریں گے جو انسانوں کی زندگیاں عدل سے بھر دینے کے شدید خواہشمند ہوں گے۔ یہ 70 ہزار 700، اور 700 سو 7 لوگوں کو منتخب کریں گے۔ بلا آخر 7 میں سے 1 شخص کو دنیا کے 7 ارب انسانوں کا صدر منتخب کیا جائے گا۔

کیونکہ "نیو ورلڈ آرڈر آف پیس" کے تحت زیادہ تر دولت دنیا کے انسانوں کے پاس ہو گی اور دولت کے سودی ارتکاز کو جرم بنا دیا جائے گا سو صدر کے عہدے کی وہی شخص خواہش کرے گا جس کا دل مال و دولت کے لالچ سے خالی ہو۔
 
Top