کھانے پینے کے آداب فراموش کیوں ہو گئے؟

محمداحمد نے 'روز مرہ کے معمولات سے' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مارچ 21, 2019

  1. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    22,862
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    اس موضوع پر بات کرنے کے لئے ہم نے الگ لڑی بنا لی ہے۔

     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 5
    • زبردست زبردست × 2
  2. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    22,862
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    اب تو یہ عالم ہے کہ کچھ بدتمیز بچے ڈبل روٹی کا بیچ کا حصہ کھا جاتے ہیں اور کنارے چھوڑ دیتے ہیں۔

    پزا کے اطراف کی موٹی ڈو (روٹی) نہیں کھاتے بلکہ بیچ بیچ کا کھا لیتےہیں۔

    دستر خوان پر بیٹھتے ہیں تو اچھی اچھی چیزیں نکال لیتے ہیں اور دال سبزی کی طرف دیکھتے بھی نہیں ہیں۔

    ڈش میں سے براہ راست بوٹی کو ہڈی سے جدا کرکے نکال لیتے ہیں اور ہڈی ڈش میں ہی پڑی رہتی ہے۔

    شادیوں میں کچھ لوگ صرف بوٹیاں ہی کھاتے ہیں اور روٹی کو ہاتھ نہیں لگاتے۔ کچھ لوگ میٹھے میں سے میوے نکال کر کھا جاتے ہیں اور نہ جانے کیا کیا۔
     
    • متفق متفق × 5
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  3. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,694
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    اکیسویں صدی میں اٹھارویں صدی کے ادب و آداب تو کبھی نہیں چلیں گے۔ ادب و آداب ہونے چاہئیں لیکن ان کو جدید طور سے "لکھنے" کی ضرورت ہے۔
     
    • متفق متفق × 5
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  4. سید عمران

    سید عمران محفلین

    مراسلے:
    13,997
    جھنڈا:
    Pakistan
    بہت پہلے اندرا گاندھی کا ایک انٹرویو دیکھا تھا۔۔۔
    ایک بات یاد رہ گئی۔۔۔
    کہتی ہیں کہ ہم نے اپنے گھر میں سادگی رکھی ہے۔۔۔
    کھانے پر جو بھی آجائے کھانا ہے۔۔۔
    سوال ہی نہیں کوئی یہ کہہ سکے کہ مجھے یہ چیز پسند نہیں!!!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  5. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,694
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    مثال کے طور پر ایک مقولہ تھا کہ "شرفا بازار میں کھڑے ہو کر (یا بیٹھ کر) نہیں کھاتے"، یہ دہلی و لکھنؤ مرحوم کی ایک دو صدیوں پرانی ثقافت کے لیے درست ہوگا لیکن آج اس پر عمل کریں تو کھانے پینے کے کاروبار سے منسلک آدھے افراد بے روزگار ہو جائیں گے۔
     
    • پر مزاح پر مزاح × 6
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • متفق متفق × 1
  6. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    22,862
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    بلاشبہ !

    اس لڑی کو بنانے میں ایسی ہی سوچ کارفرما ہے کہ کم از کم گفتگو کا آغاز تو ہو اس سلسلے میں۔ :)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
  7. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,694
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    اس فیملی کے کھانے کی ایک اور روایت مشہور تھی کہ کھانے کی میز پر بات ہمیشہ ہندی میں ہوتی تھی چاہے کچھ ہو جائے۔

    لیکن آپ کی بات سے ایک واقعہ جو مجھے یاد آ گیا جو اندرا گاندھی کے چھوٹے بیٹے سنجے گاندھی اور بڑی بہو سونیا گاندھی، دونوں کے سوانح نگاروں نے لکھا ہے کہ ایک بار سونیا گاندھی سنجے گاندھی کے لیے آملیٹ بنا کر لائی (کچن کا زیادہ کام سونیا کرتی تھی) تو سنجے کو وہ پسند نہیں آیا اور اس نے سارے خاندان (اندرا گاندھی، بڑے بھائی راجیو گاندھی، بڑی بھابھی سونیا گاندھی اور اپنی بیوی مانیکا گاندھی) کی موجودگی پلیٹ اٹھا کر فرش پر دے ماری۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جیسے مرضی سخت ادب و آداب ہوں گھر میں ایک آدھ بندہ ایسا بھی ضرور ہوتا ہے۔ :)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 5
    • پر مزاح پر مزاح × 3
  8. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    22,862
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    ہاہاہاہا۔۔۔!

    ایک آدھ کی خیر ہے لیکن اب تو عمومی تربیت بھی اکثر گھرانوں میں مفقود ہوتی جا رہی ہے۔ :)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • متفق متفق × 1
  9. سید ذیشان

    سید ذیشان محفلین

    مراسلے:
    7,370
    موڈ:
    Asleep
    دوسرا پیراگراف تو کسی نواب کی حویلی کا منظر پیش کر رہا ہے۔

    گاوں وغیرہ میں تو بہت مختصر سے پیتل کے برتن ہوتے اور اکثر گھروں میں تو الگ پلیٹوں کا رواج ہی نہیں تھا۔ تمام گھر والے ایک تھال میں سے کھاتے تھے۔ کھانے کے آداب کا البتہ خیال رکھا جاتا تھا۔ میز پر کھانا، الگ پلیٹوں کا استعمال، چمچ سے کھانا وغیرہ تو حال ہی میں متعارف ہوئے ہیں اور اس کا تعلق urbanization سے بھی کسی حد تک ہے۔ :)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
    • متفق متفق × 1
  10. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    38,881
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Bookworm
    جب ایسی باتیں پڑھتا ہوں کہ فلاں چیز پاکستانی معاشرت سے مفقود ہو گئی ہے تو فیصلہ نہیں کر پاتا کہ یہ ناسٹالجیا ہے یا پاکستانی معاشرے میں پچھلے بیس پچیس سال میں تبدیلی۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  11. سید ذیشان

    سید ذیشان محفلین

    مراسلے:
    7,370
    موڈ:
    Asleep
    تبدیلی۔

    میرا بچپن ایک گاوں میں گزرا ہے اور یہ تبدیلیاں میں خود اپنی آنکھوں سے دیکھ چکا ہوں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • متفق متفق × 2
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  12. نیرنگ خیال

    نیرنگ خیال لائبریرین

    مراسلے:
    18,532
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Dunce
    دونوں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • معلوماتی معلوماتی × 1
    • متفق متفق × 1
  13. فرحت کیانی

    فرحت کیانی لائبریرین

    مراسلے:
    11,079
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Confused
    انتہائی معلوماتی ریٹنگ۔
     
    • پر مزاح پر مزاح × 2
  14. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    38,881
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Bookworm
    نواب بھی فراموش ہوئے یا نہیں؟
     
  15. محمد عدنان اکبری نقیبی

    محمد عدنان اکبری نقیبی لائبریرین

    مراسلے:
    18,888
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    ایسا ہوتے ہم نے نہیں دیکھا ۔اس کی یہ وجہ بھی ہوسکتی ہے کہ ڈبل روٹی کے کنارے سخت ہوتے ہوں ۔بچوں کے مسوڑے نرم ہوتے ہیں ۔انھیں چبھانے میں تکلیف ہوتی ہو ۔
    اس کی بھی یہی وجہ نظر آتی ہے یا ہوسکتی ہے ۔
    شاید اس میں کوئی حرج بھی نہیں ، جب پسندیدہ ڈش دسترخوان پر ہو تو انسان اس ہی کو ترجی دے گا ۔
    یہ طریقہ تو بہت غیر مناسب ہے ۔ایسا کرنے والےکو شائستہ انداز میں ٹوکا جاسکتا ہے ۔
    یہ تو سراسر بد اخلاقی اور بیہودگی ہے ۔ اس کے علاوہ بھی کئی قابل مذمت فعل دیکھنے میں آتے ہیں مگر وہ کہ تبلیغ تو سب کرتے ہیں پر عمل میں صفر ہیں ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  16. سید ذیشان

    سید ذیشان محفلین

    مراسلے:
    7,370
    موڈ:
    Asleep
    پرانے نوابوں کی جگہ اب اور نواب آ گئے ہیں۔
     
    • پر مزاح پر مزاح × 2
  17. نیرنگ خیال

    نیرنگ خیال لائبریرین

    مراسلے:
    18,532
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Dunce
    اس کا حل ذہین حضرات نے یہ نکالا ہے کہ وہ دکان پر ہی خریدتے وقت ڈبل روٹی کے کنارے کٹوا دیتے ہیں۔ یوں کنارے چھوڑنے والا کام گھر والے کرنے سے بچ جاتے ہیں۔

    اس کا حل یہ ہے کہ نیویارکر سٹائل کے پزے ٹرائے کیے جائیں۔ امید ہے یہ مسئلہ بھی حل ہوجاوے گا۔ مین ہٹن بائٹ از بیسٹ ود تھن کریسٹ۔۔۔ اوسم ڈیوڈ۔۔۔ ;)

    اس جملے میں جو آپ کا تعصب دال سبزی کے بارے میں چھپا ہے وہ قابل دید ہے۔ سدھر جاؤ مسلمانو۔۔۔۔ یعنی کہ دال سبزی کو اچھوں کو فہرست نکال باہر کیا۔۔۔ ظالمو۔۔۔ :grin::grin:

    یہ تو اس بات کی نشانی ہے کہ گوشت بہت اچھا پکا ہوا ہے اور بالکل نرم ہو چکا ہے۔ واہ واہ۔۔۔

    ہو سکتا ہے ڈاکٹر نے گندم منع کی ہو۔۔۔ آپ مانیں یا نہ بہرحال ایک دور تھا کہ آدم کو گندم منع تھی۔ :devil3:
    میٹھے سے میوے نکال کر کھانا البتہ بری بات ہے۔ اوپر اوپر سے چوگا چاگی کی بات الگ ہے۔ :rollingonthefloor:
     
    • پر مزاح پر مزاح × 6
    • زبردست زبردست × 1
  18. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    38,881
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Bookworm
    گلوٹن سینسٹویٹی؟
     
    • متفق متفق × 1
  19. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,694
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    اس پر ایک ذاتی واقعہ یاد آ گیا۔ شادی کے شروع کے دن تھے، سسرال گیا تو ساس مرحومہ نے کہا کہ آج نجانے کتنے برس کے بعد کچن میں گئی ہوں اور خاص تمھارے لیے اپنے ہاتھوں سے فیرنی بنائی ہے۔ بڑے برادرِ نسبتی نے شکایت کی کہ امی سے کئی سالوں سے کہہ رہا ہوں کہ اپنے ہاتھ کی فیرنی کھلائیں لیکن آج تمھاری وجہ سے نصیب ہو رہی ہے۔ خیر، مہمان تھا، سب سے پہلے مجھے ہی پیش کی گئی، میں نے پہلا چمچ منہ میں رکھا اور پھر اس بات کے جواب میں کہ کیسی لگی تعریفیں کرتا رہا اور کھاتا رہا۔ دو چار منٹ کے بعد شور پڑ گیا کہ فیرنی میں چینی کی جگہ نمک ہے۔ اللہ جنت نصیب کرے ساس مرحومہ آخری وقت تک اس بات کو یاد کر کے اپنے داماد کی "شرافت" کی داد دیتی تھیں۔ :)
     
    • پر مزاح پر مزاح × 9
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • زبردست زبردست × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  20. فرحت کیانی

    فرحت کیانی لائبریرین

    مراسلے:
    11,079
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Confused
    بہت اچھا کیا۔
    اصل میں پہلے والدین کے پاس وقت بھی ہوتا تھا اور سوچ بھی۔
    میں اگر اپنے بچپن اور اب کا موازنہ کروں تو
    ۔ والدین کے پاس وقت ہوتا تھا۔ صبح اور دوپہر کو اگرچہ تمام لوگوں کے کھانے کے اوقات بوجوہ مختلف ہوتے تھے لیکن ہر گھر میں یہی رواج دیکھا کہ جتنے لوگ موجود ہیں ، انھیں اکھٹے ہی کھانا کھانا ہے۔ رات کا کھانا سب کا اکھٹے کھانا ایک قسم کا لازمی ہوا کرتا تھا۔ اسی کھانے میں بچوں کی بہت سی عادتوں کی اصلاح ہو جایا کرتی تھی۔
    ۔اب والدین کے اپنے پاس وقت نہیں ہے۔ ایک ہی وقت میں گھر میں موجود ہوتے ہوئے بھی کسی کا موڈ نہیں تو کوئی کسی اور کام میں مصروف ہے تو دسترخوان پڑا رہتا ہے اور کھانا انتظار کرتا رہتا ہے۔ تربیت کا وقت ہی نہیں ہے۔
    ۔ کچھ گھروں میں ابھی بھی اور پہلے بھی کھانا کھانا ایک مکمل کام ہوتا ہے/تھا۔ اس وقت باقی سب کام چھوڑ دیے جاتے تھے۔
    - اب ہم ٹی وی، موبائل فون و ٹیب دیکھتے کھانا کھاتے ہیں۔ بچوں کو بتانے یا ٹوکنے کا وقت ہی نہیں ملتا۔
    اگرچہ وقت کے ساتھ ساتھ کسی بھی کام کے آداب میں کچھ نہ کچھ تبدیلی تو آتی ہے لیکن بنیادی چیز یعنی تمیز و تہذیب ہر دور میں اہم رہی ہے اور رہے گی۔ ہمیں چیزوں کو نئے سرے سے مرتب کرنے اور ان پر عمل کرنے و کروانے کی ضرورت ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • متفق متفق × 3

اس صفحے کی تشہیر