کون تھیں ؟ کہاں چلی گئیں؟؟

سید ابرار

محفلین
مقصود شھید علیہ الرحمۃ

مقصود شھید علیہ الرحمۃ بھی ان افراد میں شامل ہیں ، جنھوں‌ نے لال مسجد سانحہ میں جام شھادت نوش کیا ہے ، مقصود شھید کا تعلق صحافی برادری سے تھا ، اور یہ معروف ہفت روزہ ”القلم آن لائن “ کے ادارتی عملہ میں شامل تھے ، زیر نظر مضمون
القلم آن لائن “ ہی سے لیا گیا ہے جو ان کے ساتھی نوید مسعود ھاشمی نے تحریر کیا ہے



 

سید ابرار

محفلین
ابھی ”انصاف “ زندہ ہے !!!

لال مسجد آپریشن کے ثبوت ضائع کرنا ثابت ہو گیاتو ڈپٹی کمشنر جیل جاسکتے ہیں،چیف جسٹس

اسلام آباد(نمائندہ جنگ) سپریم کورٹ نے لال مسجد آپریشن کے دوران گرفتارافراد کے مقدمات کی سماعت کیلئے24گھنٹوں میں خصوصی جج مقرر کرنے اورروزانہ کی بنیاد پرسماعت کی ہدایت کی ہے جبکہ ڈسٹرکٹ سیشن جج اسلام آباد کوگرفتارافراد کی ضمانتوں کی فوری سماعت کا حکم دیاہے
۔چیف جسٹس آف پاکستان افتخارمحمد چوہدری نے لال مسجد آپریشن کے ازخود مقدمہ کی سماعت کے دوران ڈپٹی کمشنراسلام آباد چوہدری محمد علی کی سرزنش کرتے ہوئے کہا : سنا ہے کہ جامعہ حفصہ کی عمارت کوگرادیا گیاہے اورتمام ثبوت ضائع کردیئے گئے ہیں اگرثابت ہوگیا توتم جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچ سکتے ہو۔تم لوگ نوکریاں بچانے میں لگے ہوئے ہو،کچھ خدا کا خوف ہے تم میں، یہ زندگی بڑی مختصر ہے اللہ رحم کرے ایک آیت کی بے حرمتی بھی ہوجائے توتمہیں معلوم ہے کہ شاید تم اس دروازے سے باہربھی نہ جاسکو،زندگی کاکوئی بھروسہ نہیں ہے ایک شخص کہتاہے کہ نعش میرے بچے کی نہیں ہے اورتم زبردستی کسی اورکی نعش اسے تھما رہے ہو لوگ کدھر جائیں کچھ معلوم ہی نہیں، کہاں ہے کرائسس سیل، افسروں کی فوج یہاں پرآ جاتی ہے لیکن کسی کوکچھ پتہ ہی نہیں ہرسماعت پرنئی نئی کہانیاں سنانے آجاتے ہیں۔
چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری کی سربراہی میں جسٹس سردارمحمد رضاخان، جسٹس فقیرمحمد کھوکھراورجسٹس ایم جاوید بٹرپرمشتمل چاررکنی لارجر بنچ نے مقدمہ کی سماعت کی توڈپٹی اٹارنی جنرل راجہ محمد ارشاد نے گرفتار ،لاپتہ اور نعشوں کے ڈی این اے ٹیسٹ کے حوالے سے رپورٹ پیش کی۔ اس موقع پرعدالت گرفتار شدگان اور شہداء کے لواحقین سے بھری ہوئی تھی جبکہ ضلعی انتظامیہ، پولیس اور وزارت داخلہ کے متعلقہ افسران بھی عدالت میں موجود تھے۔ فاضل چیف جسٹس نے سرکاری رپورٹوں کونت نئی کہانیاں قراردیتے ہوئے کہاکہ وہ ان کہانیوں سے تنگ آچکے ہیں۔آئندہ سماعت سے ذاتی طورپر عدالت میں حاضرہوکررپورٹ پیش کیا کریں۔
انہوں نے ڈپٹی کمشنرکومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ ملک پرمصیبت آئی ہوئی ہے اسے حل کریں کچھ باتیں ملک کے مفاد میں ہوتی ہیں اورکچھ نہیں ہوتیں۔ڈپٹی اٹارنی جنرل نے اس موقع پربتایا کہ انسداد دہشتگردی کی راولپنڈی میں واقع خصوصی عدالت کے جج سخی محمد کہوٹ ان کے تمام مقدمات کی سماعت کررہے ہیں تاہم وہ26اگست تک چھٹیوں پر ہیں اسلئے ان کی جگہ ایک اورجوڈیشل آفیسرکوتعینات کیا گیا ہے جس نے تاحال چارج نہیں سنبھالا جس پرفاضل چیف جسٹس نے حکم دیا کہ چوبیس گھنٹوں کے اندراندر اس عدالت میں دوسراخصوصی جج مقرر کریں جوروزانہ کی بنیاد پرانکے مقدموں کی فوری سماعت کرے۔
فاضل چیف جسٹس نے حکم جاری کیا کہ وفاقی سیکرٹری داخلہ خود سارے معاملات کا چارج سنبھالیں متعلقہ لوگوں سے ملاقاتیں کریں اورآئندہ تاریخ سماعت سے باقاعدگی سے عدالت کی معاونت کریں، اس موقع پرڈپٹی کمشنرنے فاضل عدالت سے استدعاکی کہ وہ کچھ چیزیں ان کیمرہ بیان کرنا چاہتے ہیں جس پرفاضل چیف جسٹس نے حکم دیا کہ وہ اس حوالے سے تحریری رپورٹ رجسٹرارآفس میں جمع کرائیں۔ غلام محمد نامی شخص نے فاضل عدالت میں ٹائم میگزین کی کاپی پیش کرتے ہوئے بتایا کہ اس میں چھپی تصویر سے بھی ثابت ہوتاہے کہ اس کا بیٹا سرنڈرکرنے والوں میں پہلے نمبر پرتھا لیکن اب انتظامیہ اس سے ڈی این اے ٹیسٹ کیلئے خون مانگ رہی ہے اسے خطرہ ہے کہ اس کے بیٹے کوزندہ پکڑ کربعد میں ماردیا گیا جس پرفاضل بنچ نے وفاقی سیکرٹری داخلہ سے رپورٹ طلب کرلی۔ریحانہ نامی خاتون ، محمد اشرف ، فضل الرحمن اختراعظم نامی افراد نے بھی اپنے لاپتہ اور جاں بحق ہونے والے بچوں اور بچیوں کے حوالے سے عدالت کو اپنے اپنے موقف سے آگاہ کیا۔امامہ اورعائشہ نامی لڑکیوں نے فاضل عدالت کوبتایاکہ انہیں نامعلوم افراد انتہائی سنگین دھمکیاں دے رہے ہیں جس پرایس ایس پی کوانہیں تحفظ فراہم کرنے کا حکم دیا گیا ۔

ربط یہ ہے

:):):):):)
 

سید ابرار

محفلین
سپریم کورٹ کے حکم پر اڈیالہ جیل سے لال مسجد کے21 طلبہ کی رہائی

راولپنڈی................لال مسجد کے اکیس طلبا کو رات گئے اڈیالہ جیل سے رہا کر دیا گیا ہے جبکہ مولانا عبد العزیز کی صاحبزادی اسما ء دعا کی رہائی کے لئے احکامات لے کر ٹیم کو سملی ڈیم ریسٹ ہاؤس روانہ کر دیا گیا ہے۔ مولانا عبد العزیز کی اہلیہ نے درخواست کی ہے کہ اسما ء کو رات کی بجائے اب صبح رہا کیا جائے۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل راجہ ارشاد نے سپریم کورٹ کے احکامات پر مولانا عبدالعزیز کی چھوٹی صاحب زادی اسما ء دعا اور اکیس طلبہ کی رہائی کے لئے ڈی سی اسلام آباد چودھری محمد علی کو ریلیز آرڈر تیار کرکے اڈیالہ جیل بھجوانے کی ہدایت کی ۔ انہوں نے جیل حکام کو بھی ٹیلی فون پر ہدایات دیں ، مگر تحریری احکامات ملنے کے باوجود طلبہ جمعے کے روز رہا نہیں کیا جا سکا۔ جیل حکام نے بتایا کہ حکم نامہ ملنے کے بعد ضروری قانونی کارروائی کے فوری بعد طلبا کو رہا کر دیا گیا تاہم قانونی تقاضے پورے کرنے کے باعث رہائی میں تاخیر ہوئی۔ مولانا عبد العزیز کی ہمشیرہ جمیلہ نے انتظامیہ سے درخواست کی کہ سملی ڈیم ریسٹ ہاؤس کا راستہ خطرناک ہے اور وہ چاہتی ہیں کہ مولانا عبد العزیز کی بیٹی کو رات کے بجائے اب صبح ہی رہا کیا جائے۔ رہائی کے منتظر طلبہ کے والدین اور رشتے دار گذشتہ روز شام سے ہی اڈیالہ جیل پہنچنا شروع ہو گئے تھے،

روزنامہ ”جنگ

:):):):):)
 

سید ابرار

محفلین
جامعہ حفصہ کی طالبہ نادیہ حسن کی داستان !

کربلائے لال مسجد

نوید مسعود ہاشمی

میں پولی کلینک میں کھڑا تھا موبائل کی گھنٹی بجی میں نے موبائل آن کیا تو دوسری طرف کسی بچی کی آواز تھی آپ انکل ہاشمی بول رہے ہیں.... جی کہئے میں بول رہا ہوں آپ کون ہیں....؟ انکل میں کربلائے لال مسجد سے نادیہ حسن بول رہی ہوں، یہ سنتے ہی مجھے جیسے کرنٹ لگا میں نے فوراً موبائل سیٹ کان اور کندھے کے درمیان پھنسا کر کاغذ قلم سنبھال لیا، جی بیٹا آپ کیا کہنا چاہ رہی ہیں؟ انکل میری عمر 15 سال ہے میں نے جامعہ حفصہ میں 2سال میں قرآن پاک حفظ کیا تھا اور اب سال سوئم کی طالبہ ہوں گزشتہ 6دن سے میں نے ایک لقمہ بھی نہیں کھایا، ہمارے اساتذہ ، طالبات بہنیں اور طلباءبھائی سب بھوکے پیاسے شہادت کا بڑے شوق سے انتظار کر رہے ہیں ،

بیٹا آپ باہر کیوں نہیں آ جاتے؟.... انکل جامعہ حفصہ ہماری مادر علمی ہے، ہم اپنا گھر چھوڑ کر باہر کیوں آئیں؟ 6 دنوں سے ہم پر مارٹر گولے ، گولیوں اور آنسو گیس کے شیلوں کی بارش ہو رہی ہے ۔ ہمارے طالب علم بھائیوں اور طالبات کے جسم کٹ کٹ کر گر رہے ہیں، بیت اﷲ کی بیٹی لال مسجد کے منبر و محراب اور گنبدوں کو بموں سے اڑا دیا گیا، مسجد کا صحن، مسجد کا برآمدہ، مسجد کا احاطہ مسجد کا ہال تڑپتے ہوئے زخمیوں کے لاشوں اور خون سے بھرا ہوا ہے.... قرآن پاک کے نسخے احادیث رسول ﷺ کے ذخیرے ، گولیوں سے چھلنی چھلنی بکھرے پڑے ہیں، بچی بولتی چلی جا رہی تھی،​

بیٹا سنا ہے کہ آپ کو اندر لال مسجد انتظامیہ والوں نے یرغمال بنایا ہوا ہے؟ آپ کی طرح سینکڑوں دیگر طالبات اور بچے بھی یرغمال ہیں؟ میں نے جلدی سے سوالات اکٹھے کر دئےے، انکل یہ سارا حکومت کا جھوٹا پروپیگنڈہ ہے، میں اور میرے ساتھ دیگر 7 سو طالبات اپنی مرضی اور رضائے الٰہی کے حصول کےلئے ، شہادت کی تمنا لئے ہوئے کربلا ئے لال مسجد میں موجود ہیں.... ہمیں کسی نے نہیں روکا....اصل میں ہم نے نعرہ لگایا تھا شریعت یا شہادت کا، شرعی نظام تو ہماری کوششوں سے آ نہیں سکا.... لہٰذا ہم شہادت کو قبول کر لیں گیں۔ اور ہمیں یقین ہے کہ ہمارے خون کو دیکھ کر ہمارے مسلمان بھائی ضرور آئیں گے اور پاکستان میں اسلامی انقلاب آ کر رہے گا، ہمیشہ انقلاب خون مانگتا ہے، 1947ءمیں جب پاکستان بن رہا تھا، اس وقت بھی خون بہا تھا، جوانوں کا، بوڑھوں کا یا بچوں کا اور خواتین کا، کیا جن کاتحریک پاکستان میں خون گرا تھا کیا وہ ناکام کہلائے تھے؟

1953ء، 1974ءاور 1977ءکی تحریک ختم نبوت اور تحریک نظام مصطفیٰ میں بھی ہزاروں مسلمانوں کا خون گرا تھا، آپ ان قتل ہونے والوں کو شہید کہتے ہیں، انکل.... پاکستان میں جان بوجھ کر فحاشی عریانی اور بے حیائی کو فروغ دیا جا رہا تھا، اسلام کا مذاق اڑایا جا رہا تھا.... ان حالات میں ہمارے استاد محترم مولانا عبدالعزیز نے ایک طاغوتی نظام کو چیلنج کرتے ہوئے اسلامی نظام کے نفاذ کا مطالبہ کر کے کونسی غلطی کر دی تھی؟

میں نے کہا بچی، آپ کے استاذ مولانا عبدالعزیز تو برقعہ پہن کر فرار ہو رہے تھے؟....
ابھی میرا جملہ مکمل بھی نہیں ہوا تھا کہ وہ بچی چیخ پڑی انکل افسوس آپ بھی حکومتی پروپیگنڈے کا شکار ہو گئے، انکل مولانا عبدالعزیز کی بیوی، ان کا ایک بیٹا، ایک بیٹی، 80 سال کی بوڑھی ماں، سگا بھائی، بھابھی، بہنیں،بہنوں کے بچے ، سب لال مسجد میں موجود ہیں کیا وہ تنہا اپنی جان بچانے کےلئے نکلے تھے نہیں انکل نہیں.... زمینی حقیقت تو یہ ہے کہ ہمارے ولی صفت استاذکو دھوکے کے ساتھ مذاکرات کے بہانے باہر بلوا کر گرفتار کر کے پھر ٹیلی ویژن چینل پر لا کر ان کی تذلیل کی گئی، انکل ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر تبصرے اور تجزےے کرنے بہت آسان ہیں لیکن برستی ہوئی گولیوں میں بیٹھ کر اپنے مو ¿قف پر قائم رہنا بہت مشکل ہوا کرتا ہے.... آپ زیادہ سے زیادہ یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ انہوں نے حکومتی یقین دہانی پر اعتماد کر کے غلطی کی تھی، لیکن آپ ان کے اخلاص، للّٰہیت ، تقویٰ اور جہاد کامل پر انگلی نہیں اٹھا سکتے،

بیٹا آپ بار بار ”کربلائے لال مسجد “ کیوں کہہ رہی ہیں....؟میرا اگلا سوال تھا.... انکل کربلا میں کیا ہوا تھا.... جس وقت سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کربلا میں تشریف لے جا رہے تھے، کیا بڑے بڑے صحابہؓ نے انہیں وہاں جانے سے منع نہیں کیا تھا؟ صحابہؓ کے منع کرنے کے باوجود وہ نہیں رکے، وہ کربلا پہنچے، پھر شمر اور ابن زیاد کی فوج نے انہیں جانثاروں سمیت گھیر لیا، ان کا پانی بند کر دیا گیا، ان کے خیموں پر تیروں کی بارش کر دی گئی، انکل کیا آج وہی کیفیت نہیں ہے، مولانا عبدالعزیز اور جامعہ حفصہؓ کی طالبات کے مو ¿قف کی پاکستان کے تمام علماءنے حمایت کی مگر طریقہ کار سے اختلاف کر کے مولانا عبدالعزیز کو سمجھانے کی کوشش کی... مگر وہ اپنی روش سے باز نہ آئے اور سختی کے ساتھ پاکستان میں اسلامی نظام کے نفاذ کا مطالبہ کرتے رہے، یہاں تک کہ ان کے طلباءنے جذبات میں آ کر فحاشی کے خلاف بعض غیر قانونی اقدامات بھی کئے، لیکن اس کا مطلب یہ کہاں نکلتا ہے کہ لال مسجد کے طلباءاور جامعہ حفصہؓ کی طالبات کو گولیوں اور بموں سے اڑا دیا جائے، انکل جو چودہ سو سال پہلے کربلا میں ہوا تھا وہی منظر لال مسجد اور جامعہ حفصہؓ میں دوبارہ دیکھا جا سکتا ہے اگر کربلا والے اپنے جسموں کے ٹکڑے کروا کر کامیاب ٹھہرے تھے تو ہم بھی اپنے جسموں کے ٹکڑے کروا کر سرخرو ہونگے، میں نے پھر التجا کی بیٹی آپ صبر، حوصلے اور تدبر سے کام لو اپنے اساتذہ کو قائل کرو!
اس نے میری بات بیچ میں ہی کاٹ دی، انکل آپ اپنے قیمتی مشورے اپنے پاس ہی رکھئے ، آپ ٹھہرے دانشور، سکالر، کالم نگار لیکن ہم تو مجنوں، دیوانے شہادت کے متوالے ہیں، ہم جیسے دیوانوں کو آپ جیسے دانشور سمجھانے کے نام پر کفریہ طاقتوں کے سامنے سر جھکانے کے سبق پڑھاتے ہی رہتے ہیں....

بچی فون بند کرنا چاہ رہی تھی اور میری کوشش تھی کہ فون بند نہ ہونے پائے، اسلئے کہ یہ لمحات شاید پھر کبھی میسر نہ ہونے پائیں گے، میں نے پھر التجا کی، میری بیٹی فون بند نہیں کرنا، اور یہ تم نے کیا کہہ دیا کفریہ طاقتوں کے سامنے واقعی سر نہیں جھکانا چاہئے مگر یہ تو پاکستان کی فوج ہے، وہ بولی انکل، لال مسجد کی اینٹ سے اینٹ بجانے والے، جامعہ حفصہؓ کو کھنڈرات میں تبدیل کرنے والے، قرآن پاک کے نسخوں کو گولیوں سے چھلنی کرنے والے، ہمارے استاذ کو مذاکرات کے بہانے بلا کر ان کو گرفتار کر کے ان کی تذلیل کرنے والے پاکستان کے فوجی نہیں ہو سکتے، ہمیں یقین ہے کہ یہ سب کچھ امریکہ کے ایماءپر کیا جا رہا ہے، اس لئے ہم کبھی طاغوت کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے، انکل چودہ سو سال پہلے کربلا میں، شہر بانوؓ سیدہ زینبؓ اور حضرت صغریٰ روتی تھیں، تڑپتی تھیں،آج لال مسجد میں سیدہ فاطمہؓ و زینبؓ کی روحانی بیٹیاں مرجائیں گی مگر اپنے مو قف سے پیچھے نہیں ہٹیں گی.
پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا، مگر یہاں روشن خیالی کے یہودی ایجنڈے کو پروان چڑھانے کی کوششیں کی گئیں، میراتھن ریس میں عورتوں کو نیکریں پہنا کر بھگایا گیا، بسنت میں سینکڑوں معصوم بچوں کا خون بہا کر اسے پاکستانی تہذیب قرار دیا گیا.... مساج سینٹر، اور نائٹ کلب کھول کر وہاں حوا زادیوں کوپامال کیا جانا روشن خیالی کی معراج سمجھا گیا۔ کیبلز کے ذریعے گھر گھر فحاشی اور عریانی کو پہنچایا گیا، ملک میں زناءکو عام کرنے کی کوشش کی گئی۔
انکل ہمارے استاذ محترم مولانا عبدالعزیز نے ملک میں طاغوت کے نظام کے مقابلے میں اسلامی نظام کا خاکہ پیش کر کے کوئی اتنا بڑا جرم نہیں کیا تھا، کہ لال مسجد اور جامعہ حفصہؓ کو مارٹر گولوں سے تباہ کر دیا جاتا، انکل آپ کو قسم ہے پروردگار کی ذات کی، آپ میرے یہ الفاظ ضرور لکھیں گے، ”ہم بیٹیاں ہیں سیدہ عائشہؓ کی.... ہم بیٹیاں ہیں، سیدہ خولہؓ و خنساءکی، ہمارے برقعوں کو تضحیک کا نشانہ بنانے والے شیطان کے پجاریو، ہم تو شہید ہو کر رب کے دربار میں پہنچ جائیں گی، مگر تم ہمیں گرفتار کرنے کےلئے ترستے رہو گے، تم تڑپتے رہو گے کہ چند سو برقعہ والیوں نے تمہارے طاغوتی نظام کا چیلنج کر کے تمہارے منہ پر ایسا تھپڑ رسید کیا ہے کہ جسے تم مدتوں بھلا نہ پا ؤ گے....“ اسکے ساتھ ہی دوسری طرف خاموشی چھا گئی.... میں چیخ پڑا ہیلو....ہیلو.... لیکن دوسری طرف سکوت گہرا سکوت.... میں نے پھر چیختے ہوئے کہا....ہیلو....ہیلو.... لیکن ایسے لگتا تھا کہ جیسے دوسری طرف سے لائن کٹ گئی ہے.... میری آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے،
میں ابھی اسلام کی اس بیٹی کے ساتھ بہت سی باتیں کرنا چاہتا تھا، میں اس سے پوچھنا چاہتا تھا، کہ بیٹی تم نے اتنا مضبوط عزم و یقین کہاں سے حاصل کیا؟ تمہیں گولیوں اور بموں کی بارش سے خوف محسوس کیوں نہیں ہوتا.... آنسو گیس کے بدبودار طوفان نے تمہارے معصوم قلب و ذہن کو متاثر کیوں نہیں کیا.... ؟میں اس سے پوچھنا چاہتا تھا کہ آج جب کہ وردی اور پیٹی کے رعب سے بڑے بڑے جغادریوں کا پتہ پانی ہو جاتا ہے .... تمہارا نازک سا دل اس رعب میں کیوں نہیں آ رہا.... لیکن میرے یہ سوال تشنہ ہی رہ گئے اور دوسری طرف لائن بے جان ہو چکی تھی.... کاش کہ اسلام کی یہ بیٹی اپنی دوسری سینکڑوں بہنوں اور بھائیوں سمیت سلامت رہے.... اور اپنی آنکھوں سے دیکھ لے کہ اس کے انکل نے اس کے سارے الفاظ اپنے کالم میں سمو دیئے ہیں۔​
........٭٭

ماھنامہ ” آب حیات
 

اجمل

محفلین
میرے علم کے مطابق اس خبر میں کوئی مبالغہ آمیزی نہیں ۔ جامعہ حفصہ کی 3500 طالبات میں 600 سے زائد ایسی طالبات بھی تھیں جو اکتوبر 2005 کے زلزلہ میں اپنے خاندان میں سے اکیلی زندہ بچی تھیں وہ سب آگ لگانے والے اور ہائی ایکسپلوسِو گولوں سے جل گئیں یا ٹکڑے ٹکڑے ہو گئیں ۔ان کو پوچھنے والا بھی کوئی نہیں جس سے حکومت کے اس قتلِ عام پر پردہ پڑا ہوا ہے ۔
سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اگر حکومت کے مطابق 100 سے کم لوگ لال مسجد اور جامعہ حفصہ میں ہلاک ہوئے تو فوجی آپریشن ختم ہونے کے بعد چار دن حکومت کے مقرر کردہ 400 مزدور لال مسجد اور جامعہ حفصہ میں کیا کرتے رہے؟
 

ساجداقبال

محفلین
1100245664-1.jpg

1100245664-2.gif
 

زینب

محفلین
زلزلے اور لال مسجد کی ایسی ہزاروں کہانیاں ھیں جو ہماری سماعتوں تک بھی نہں پہنچ پائیں۔۔۔اور جن کو پڑھ کر سن کررونگٹے کھڑے ھو جاتے ھیں۔۔۔۔۔اللہ سب کو صپر عطا کرے۔۔۔۔۔۔۔۔
 
Top