کم عمری کی شادی پر پابندی کا بل سینیٹ سے منظور، جماعت اسلامی اور جے یو آئی کا احتجاج

جاسم محمد نے 'آج کی خبر' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اپریل 29, 2019

لڑی کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
  1. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    18,578
    جی درست ہے۔ اس حوالہ سے میں دھاگہ میں پہلے بھی بیان کر چکا ہوں:
     
  2. فرقان احمد

    فرقان احمد محفلین

    مراسلے:
    10,062
    دراصل، اصل مسئلہ عمر کے 'حتمی' تعین کا ہے۔ دیکھا جائے تو بلوغت کی عمر ہی وہ عمر شمار ہو سکتی ہے جب شادی ہو سکتی ہے۔ چونکہ بلوغت کی کوئی متعین عمر نہیں ہوتی ہے اور اس میں تفاوت پایا جاتا ہے، اس لیے فطرت کا تقاضا ہے کہ اس حوالے سے 'حتمی' عمر کا تعین نہ کیا جاتا اور اسلام کی تعلیمات بھی اسی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ ہماری دانست میں، یہ استثنائی معاملات ہیں اور انہیں نہ چھیڑا جاتا تو مناسب تھا۔ تاہم، ایک بات ضرور ہے کہ اگر اسلام کی آڑ لے کر اس بہانے کسی معاشرتی برائی کو فروغ دیا جا رہا ہو تو اس کا قلع قمع کرنے کے لیے علمائے کرام کو خود میدان میں آنا چاہیے تھا۔ سندھ کے بعض علاقوں میں یہ رجحان پایا جاتا ہے اور یہ تشویش ناک بات ہے ۔۔۔! ا معاشرتی برائی کے حوالے سے قانون سازی کی جا سکتی ہے۔ تاہم، اس معاشرتی برائی کی آڑ لے کر شادی کے حوالے سے کسی 'حتمی' عمر کا تعین کرنا بھی درست عمل نہیں ہے اور بالخصوص، اس طرح سے، کہ اسے باقاعدہ جرم تصور کیا جانے لگے۔ یہاں، یہ مجوزہ قانون اسلام کی تعلیمات سے متصادم معلوم ہوتا ہے ۔۔۔ اس لیے اس معاملے کو اسلامی نظریات کونسل میں بھیجا جانا چاہیے تھا اور انہیں بھی اس حوالے سے اپنی سفارشات پیش کرنی چاہئیں تھیں، اگر یہ معاملہ ان کے سامنے رکھا گیا تھا، تو ۔۔۔!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • متفق متفق × 2
  3. فے کاف

    فے کاف محفلین

    مراسلے:
    161
    ایک سوال
    بالغ ہونے کے بعد مذہب نے شادی پر عمر کی قید نہیں لگائی، اب ایک مسلمان ملک کی پارلیمنٹ اکثریت کے ساتھ شادی کی کم سے کم عمر کا قانون بنا دے تو کیا یہ اسلام کے خلاف ہو گا؟

    یہ سوال اس لیے ذہن میں آیا کہ اسلام نے ایک سے زیادہ شادی پر پابندی نہیں لگائی اور زیادہ سے زیادہ شادیوں کی حد چار مقرر کی ہے۔
    اب پاکستان میں مرد کو دوسری شادی کے لیے پہلی بیوی سے قانونا اجازت لینا پڑتی ہے۔ ملائشیا میں تو باقاعدہ عدالت کو مطمئن کرنا پرٹا ہے۔ کیا اس طرح کے قانون اسلام کے خلاف ہوں گے؟
     
  4. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    18,578
    کیونکہ ۹ سے ۱۵ سال جنسی بلوغت کی عمر ہونے کے باوجود قانون کی نظر میں کم سنی کی عمر ہی ہے۔ اس چھوٹی عمر کے بچے اس قابل نہیں ہوتے کہ اپنے روز مرہ کے فیصلے خود سے کر سکیں۔ کجا یہ کہ اپنے جیون ساتھی کا فیصلہ!
     
  5. فے کاف

    فے کاف محفلین

    مراسلے:
    161
    گڈ پوائنٹ
     
  6. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    18,578
    کوئی قباحت نہیں ہے۔ قانون میں اگر شادی کی کم سے کم عمر تین سال کم کر کے ۱۵ سال کر دی جاتی ہے تو اس میں اسلامی معاشرے اور بچوں کے حقوق دونوں کی بقا ہے۔
    البتہ یہ جنسی بلوغت کی عمر شادی کی عمر والا ڈرامہ اب بند ہو جانا چاہیے۔
     
  7. فرقان احمد

    فرقان احمد محفلین

    مراسلے:
    10,062
    کیے جائیں جزو کو کُل پر منطبق ۔۔۔! :) اصل مسئلہ تاخیر سے شادی بنا ہوا ہے ۔۔۔! یہ بات مت بھولیے گا ۔۔۔! پندرہ برس میں کس کی شادی ہوتی ہے فی زمانہ ۔۔۔! :) نان ایشو کو ایشو بنا لیا گیا ہے اور جو اصل ایشوز ہیں، اُن پر ہماری توجہ ہی نہیں ہے ۔۔۔!
     
    • متفق متفق × 2
  8. فے کاف

    فے کاف محفلین

    مراسلے:
    161
    اتنی بار جزو کو کل کرنے کے بعد لڑی کے قُل پڑھ لینے چاہیے۔
     
    • پر مزاح پر مزاح × 2
  9. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    18,578
    قانون بنانے کا مقصد معاشرہ میں غلط پریکٹس کو روکنا ہے۔ کم یا زیادہ موضوع بحث نہیں۔ اگر ملک میں ایک شادی بھی کم سنی کی عمر میں کروائی جاتی ہے تو یہ بچوں کے حقوق کے منافی ہے۔ جس کا سدباب ضروری ہے۔
    قانون میں شادی یا باہم رضامندی کی عمر میں حد مقرر کرنے کا مقصد بچوں کے حقوق کا تحفظ ہے۔ اسے مغربی، مشرقی، شمالی، جنوبی، یہود و ہنود، قادیانی سازش کے پیرائے میں نہ دیکھا جائے۔ بچے سب کے سانجھے ہوتے ہیں :)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  10. فے کاف

    فے کاف محفلین

    مراسلے:
    161
    اگر کوئی بچہ "کم عمری" میں شادی کی خواہش ظاہر کرے تو قانون کیسے مدد کرے گا؟
     
  11. فرقان احمد

    فرقان احمد محفلین

    مراسلے:
    10,062
    ارے تو قانون بنائیے نا، کس نے روکا ہے آپ کو؟ تاہم، اسلامی قوانین سے متصادم بل بنانا غلط ہے۔ اگر آپ اس حوالے سے اٹھارہ برس کی عمر مقرر کرتے ہیں اور اس کی خلاف ورزی پر آپ سزا مقرر کریں گے تو اعتراض تو ہو گا کیونکہ اسلام میں نکاح کی عمر مقرر نہیں کی گئی ہے اور بلوغت کو ہی یہ عمر شمار کیا گیا ہے۔ آپ علمائے کرام کی مشاورت سے اس عمر کو اٹھارہ برس کی بجائے پندرہ برس کر سکتے ہیں (اگر اسلامی نظریاتی کونسل ایسی کوئی سفارش کرتی ہے یا علمائے کرام اجتہاد کا سہارا لیتے ہیں) تو پھر، اُس قانون میں کسی استثنائی صورت کا ذکر بھی ہو سکتا ہے، تاہم اس کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل سے مشاورت کی جانی چاہیے کہ یہ معاملہ صرف قانون کا نہیں ہے، اسلام سے بھی متعلقہ ہے۔ آپ ایسے افراد کو قید بھی کریں گے، سزا بھی دیں گے جو اس نئے قانون کی خلاف ورزی کریں گے تو پہلے ذرا مزید سوچ بچار کر لیں ۔۔۔!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  12. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    18,578
    یہ تمام قوانین اسلامی شریعت کے منافی ہیں۔ اسی لئے جمہوریت اور شریعت ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ شریعت اللہ کا قانون ہے جبکہ جمہوریت اکثریت کا قانون۔
     
  13. فے کاف

    فے کاف محفلین

    مراسلے:
    161
    بہت عجیب و غریب بات کی آپ نے۔
    اسلام تو اپنے اجتماعی معاملات کو باہمی مشورے سے چلانے کا کہتا ہے۔ جمہوریت شریعت کے منافی کیسے ہو گئی؟
     
  14. عبدالقیوم چوہدری

    عبدالقیوم چوہدری محفلین

    مراسلے:
    17,497
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    نکاح کی رجسٹریشن، دوسری شادی کی اجازت وغیرہ پر بنے ہوئے عائلی قوانین پر علماء کی رائے مختلف ہے۔
    https://iri.aiou.edu.pk/indexing/wp-content/uploads/2016/08/06-muslim-aailee-qawaneen.pdf
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  15. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    18,578
    اس حوالہ سے اسلامی نظریاتی کونسل کا مؤقف پہلے بھی آچکا ہے کہ شادی و نکاح کے معاملہ میں عمر کی حد لگانا خلاف شریعت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پارلیمان نے اس بار علما کرام سے مشاورت ضروری نہیں سمجھی۔ بلکہ جمہوریت کو شریعت پر تقویت دی ہے۔
     
  16. عبدالقیوم چوہدری

    عبدالقیوم چوہدری محفلین

    مراسلے:
    17,497
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    کچھ معاملات خالص انتظامی ہوتے ہیں اور اس کے لیے بہرحال قانون سازی کی ضرورت رہتی ہے۔
     
    • متفق متفق × 1
  17. فرقان احمد

    فرقان احمد محفلین

    مراسلے:
    10,062
    دراصل، یہ معاملہ اعلیٰ عدلیہ میں ہی جائے گا پھر ۔۔۔! :) زیادہ امکان یہی ہے کہ پارلیمان کے منظور شدہ بل کو قانونی شکل دے دی جائے گی تاہم معاملہ لمبا کھنچے گا ۔۔۔! یہ قانون بن گیا تو پھر اس میں شاید ترمیم ہی ہو سکے گی؛ اسے ختم کرنا آسان نہ ہو گا ۔۔۔!
     
  18. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    18,578
    جب پارلیمان کی اکثریت (پکے مسلمان) شادی و نکاح کی کم سے کم عمر لگانے کے حق میں ہو اور مذہبی یا دقیانوسی طبقہ (خالص مسلمان) اسے خلاف شریعت قرار دے رہا ہو۔ ایسے میں عوام کو تو یہی تاثر جائے گا کہ شریعت و جمہوریت ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔
     
    آخری تدوین: ‏مئی 2, 2019
  19. فرقان احمد

    فرقان احمد محفلین

    مراسلے:
    10,062
    کیا ہر معاملے کے حوالے سے ایسا ہو گا؟ :) آپ سے ایک بات کہی تھی کہ جزو کو کُل پر منطبق کرنے سے آپ کی مرادیں بر نہیں آ سکتی ہیں ۔۔۔! :) یوں بھی، یہ قریب قریب ایک اجتہادی مسئلہ ہی ہے اور ممکن ہے کہ پارلیمان مستقبل میں اپنی رائے سے رجوع کر لے۔ قوانین میں ترامیم کا سلسلہ چلتا رہتا ہے ۔۔۔!
     
  20. عبدالقیوم چوہدری

    عبدالقیوم چوہدری محفلین

    مراسلے:
    17,497
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    جاسم صاحب کے دونوں مراسلے پڑھیے اور :dancing::dancing::dancing:۔
    :)
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
لڑی کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

اس صفحے کی تشہیر