کم عمری کی شادی پر پابندی کا بل سینیٹ سے منظور، جماعت اسلامی اور جے یو آئی کا احتجاج

جاسم محمد نے 'آج کی خبر' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اپریل 29, 2019

لڑی کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
  1. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    24,520
    فطرت بلاشبہ اٹل ہے۔ البتہ عوام کو بہتر آگاہی اور حکومت کی طرف سے سخت قانون سازی کافی حد تک معاشرتی بگاڑ کو لگام دینے میں سودمند ثابت ہوتی ہے۔
    میری دانست میں قومی اسمبلی نے شادی کی کم ترین عمر ۱۸ سال لاگو کر کے بہترین قانون سازی کی ہے۔ اب اس کے صحیح معنوں میں عمل درآمد کے لئے عوامی آگاہی مہم بھی چلانی پڑے گی۔
     
  2. عبدالقیوم چوہدری

    عبدالقیوم چوہدری محفلین

    مراسلے:
    18,330
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    روحانی مرشد میاں محمدؔ بخش صاحب کا ایک شعر یاد آ گیا ہے۔ پڑھیے اور سر دھنیے۔ :)
    جو دکان دے اندر ہووے، اوہو دیوے وچارہ
    تے کتھوں دیوے لعل محؔمد، کوئلے ویچن والا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
  3. فلسفی

    فلسفی محفلین

    مراسلے:
    2,584
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    اینج دی گل اے، اینج دی گل اے :)
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  4. ابن جمال

    ابن جمال محفلین

    مراسلے:
    468
    آپ کی اس طویل تحقیق کا مختصر جواب یہ ہے کہ جن معاشروں میں یاجن ممالک میں شادی کرنے کی عمر لیٹ رکھی گئی ہے، وہاں ناجائز جنسی تعلقات کاتناسب کیاہے،اورجن معاشروں میں جلدی شادی کی جاتی ہے، وہاں جنسی جرائم کا گراف کیاہے،اسے بھی دیکھ لیجئے گا،اس سے پتہ چلے گاکہ لیٹ عمر کی شادی اور ناجائز جنسی تعلقات میں کیا کنکشن ہے،اصل مسئلہ ہمارے یہاں یہ ہے کہ شادی کو بوجھل اورناجائز جنسی تعلقات کو آسان بنانے کی کوشش کی جارہی ہے، حالانکہ ضرورت اس بات کی تھی کہ شادی کو آسان بنایاجاتااورناجائز جنسی تعلقات شاذونادر معاملے ہوتے لیکن معاملہ اس کے برعکس ہے،پوری کوشش اس کی ہوتی ہے کہ شادی کو اتنامشکل بنادیاجائے کہ اس کی طرف وہی جائے جس کو جان ودل عزیز نہ ہو اورجس کو وہ اس کی گلی میں جائے ہی کیوں؟
    اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کاارشاد ہے کہ تین چیزوں میں تاخیر نہیں کرنی چاہئے، جنازہ جب تیار ہو،نماز کا جب وقت ہوجائے اور جب لڑکے یالڑکیاں شادی کے لائق ہوجائیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  5. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    24,520
    اس سے تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ اسلام میں شادی کا مطلب جنسی تعلق قائم کرنے سے زیادہ نہیں ہے۔ اگر ایسا ہے تو پھر میں شریعت سے متفق ہوں کہ جنسی بلوغت کی عمر ہی شادی کی کم سے کم عمر ہونی چاہئے۔
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
    • غیر متفق غیر متفق × 1
  6. سید عمران

    سید عمران محفلین

    مراسلے:
    13,882
    جھنڈا:
    Pakistan
    خوب بے وقوف بنایا عوام کو!!!
    :applause::applause::applause:
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  7. سید عمران

    سید عمران محفلین

    مراسلے:
    13,882
    جھنڈا:
    Pakistan
    کیا یہ فتویٰ شادی سے متعلق اسلام کی تمام تعلیم و تربیت کا حاصل ہے؟؟؟
     
  8. سید عمران

    سید عمران محفلین

    مراسلے:
    13,882
    جھنڈا:
    Pakistan
    بلکہ آپ ان مغرب پرستوں سے یہ پوچھیں کہ اب وہاں شادی اور بغیر شادی کے جنسی تعلقات قائم کرنے کی شرح کیا ہے؟؟؟
     
    • متفق متفق × 1
  9. فے کاف

    فے کاف محفلین

    مراسلے:
    161
    مغرب میں گو کہ قانون میں بلوغت کی عمر اٹھارہ سال ہے، لیکن فزیکلی بلوغت بہت پہلے شروع ہو جاتی ہے۔ اب قانون کچھ بھی کہے، اٹھارہ سال کی عمر سے پہلے جو کچھ ہو وہ اگر قانون کی نظر میں نہ آئے تو سب ٹھیک ہے۔
    ہمارا سوشل سیٹ اپ اور مذہبی بیک گراؤنڈ ویسٹ سے بہت مختلف ہے۔ ہو بہو ہر معاملے میں ویسٹ کا کاپی نہیں کیا جاسکتا۔
     
    • متفق متفق × 1
  10. فے کاف

    فے کاف محفلین

    مراسلے:
    161
    یہ بہت عجیب لاجک ہے۔ اگر اسلام کی شادی کے بارے میں ساری تعلیم صرف یہ حدیث ہوتی تو آپ کی بات ٹھیک تھی۔ لیکن ایسا بالکل نہیں ہے۔
     
    • متفق متفق × 1
  11. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    24,520
    ایسا نہیں ہے۔ مغرب میں باہم رضا مندی کی عمر سے کم جنسی تعلق قائم کرنے والوں کو سخت سزائیں سنائی جاتی ہے۔ برطانیہ کے مختلف شہروں میں حال ہی میں تارکین وطنوں کے متعدد جنسی گینگز کو مقامی کم سن لڑکیاں استعمال کرنے کے جرم میں بیسیوں سال قید ہوئی ہے۔ یہ گرفتاریاں اور سزائیں ان لوگوں کے لئے لمحہ فکریا ہے جو یہ پروپگنڈہ کرتے نہیں تھکتے کہ مغربی معاشرے مادر پدر آزاد ہوتے ہیں۔
    [​IMG]
     
  12. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    24,520
    متفق۔ کم سن بچوں کے ساتھ جنسی تعلق کو حلال کرنے کیلئے شادی کروا دینا اس سے زیادہ عجیب لاجک ہے۔ بچوں کی جنسی بلوغت کی آڑ میں ان کے ساتھ شادی کسی صورت حلال نہیں ہو سکتی۔ جب تک وہ اس پختہ عمر کو نہ پہنچ جائیں کہ اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنے کے قابل ہوں۔ قانون نے یہ عمر ۱۸ سال رکھی ہے۔
     
    آخری تدوین: ‏مئی 2, 2019
  13. فرقان احمد

    فرقان احمد محفلین

    مراسلے:
    10,183
    اسلام میں شادی کا مطلب جنسی تعلق قائم کرنے سے کہیں زیادہ ہے، آپ کو ایسا کس نے کہا ہے کہ اسلام میں شادی کا مطلب محض جنسی تعلقات قائم کرنا ہے، اور آپ کے پاس اس بات کی کیا دلیل ہے؟ مزید یہ کہ، بلوغت کی عمر میں پہنچنے کے بعد شادی ہو سکتی ہے۔ بلوغت کی عمر کا تعین کیا جائے یا نہ کیا جائے، یہ ایک اجتہادی مسئلہ ہے۔ علمائے کرام کی اکثریت بلوغت کی عمر کا حتمی تعین نہ کرنے کو مناسب خیال کرتی ہے۔ کسی معاملے میں اجتہاد کرتے ہوئے بھی بہت سی باتوں کو مدنظر رکھنا پڑتا ہے حتیٰ کہ استثنائی معاملات کو بھی پیش نظر رکھا جاتا ہے۔
     
    • متفق متفق × 2
  14. فے کاف

    فے کاف محفلین

    مراسلے:
    161
    یہ قانون کی نظر میں آیا اور مزید یہ کہ یہ جرائم پیشہ گینگ تھے۔ واقعی سزا وار تھے۔
    پرابلم وہاں ہو گا جہاں لڑکا لڑکی اٹھارہ سال سے کم ہوں گے اور آپ کے مطابق "معصومانہ رومانس" کرتے ہوئے بہک جائیں گے۔
     
  15. فے کاف

    فے کاف محفلین

    مراسلے:
    161
    سمجھ نہیں آئی۔
    کسی مذہب میں بھی بچوں کے ساتھ شادی کی کوئی اجازت نہیں ہے۔
     
  16. سید عمران

    سید عمران محفلین

    مراسلے:
    13,882
    جھنڈا:
    Pakistan
    خدا کے قانون پر انسان کے قانون کو ترجیح دینے کی کوئی خاص لاجک؟؟؟
     
  17. عبدالقیوم چوہدری

    عبدالقیوم چوہدری محفلین

    مراسلے:
    18,330
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    [​IMG] [​IMG] [​IMG]
     
    • معلوماتی معلوماتی × 3
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  18. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    24,520
    یعنی جو بچیاں ۹ سال اور جو بچے ۱۲ سال کی عمر میں جنسی بلوغت حاصل کر لیں ان کی شادی اسلامی شریعت کے مطابق جائز ہو جائے گی۔ یہی تو وہ معاشرتی بگاڑ ہے جس کی روک تھام کیلئے نیا قانون لایا گیا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • نا پسندیدہ نا پسندیدہ × 1
  19. سید عمران

    سید عمران محفلین

    مراسلے:
    13,882
    جھنڈا:
    Pakistan
    چلیں جی لگے ہاتھوں اعداد و شمار بھی مارکیٹ میں آگئے!!!
     
  20. فے کاف

    فے کاف محفلین

    مراسلے:
    161
    زیادہ صحیح بات یہ ہوگی کہ بالغ ہونے کے بعد مذہب نے شادی پر عمر کی قید نہیں لگائی۔ اب اگر انسان کسی سوشل سیٹ اپ یا کسی اور وجہ سے یہ پابندی لگانا چاہتے ہیں تو ملک کی پارلیمنٹ قانون سازی کر سکتی ہے۔ اور عمر کی حد مقرر کر سکتی ہے۔ انسان جب بھی قانون بنائیں گے تو پازیٹو اور نیگٹو دونوں پہلو سامنے آئیں گے۔ دونوں کو دیکھتے ہوئے قانون بنانا چاہیے۔
     
لڑی کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

اس صفحے کی تشہیر