الف عین
اشرف علی
شاہد شاہنواز
محمد عبدالرؤوف
سید عاطف علی
----------
کمزور پا کے مجھ کو دنیا ستا رہی ہے
پچھلا حساب اپنا ایسے چکا رہی ہے
--------
چلنا نہیں ہے مجھ کو دنیا کے راستے پر
رستے پہ اپنے لیکن مجھ کو چلا رہی ہے
----------
بیتی ہے رات کیسی چاہے نہ تم بتاؤ
چہرے کی یہ اداسی سب کچھ بتا رہی ہے
------------
دنیا کی ماننے پر مجبور ہو گیا ہوں
حالات میرے ایسے دنیا بنا رہی ہے
--------------
انسان رب کو دیکھے یہ تو نہیں ہے ممکن
قدرت خدا کی لیکن جلوے دکھا رہی ہے
---------
اپنا مجھے بنا لے میری ہے یہ تمنّا
دل میں مرے خدا سے یہ ہی دعا رہی ہے
--------
میرا کریم رب ہے بخشے گا سب خطائیں
دنیا پکڑ سے رب کی مجھ کو ڈرا رہی ہے
---------
اپنا گدا بنا کے رکھے خدا ہمیشہ
ہر دم یہی تمنّا اہلِ وفا رہی ہے
-----------
رب کو نہیں گوارا تذلیل ہو تمہاری
کتنے گنہ تمہارے قدرت چھپا رہی ہے
-----------
مہلت بہت ہی کم ہے نیکی کے کام کر لو
پونجی ہے عمر کی جو گھٹتی ہی جا رہی ہے
-----------
جانا یوں دور رب سے ہرگز نہیں مناسب
رحمت خدا کی ارشد تجھ کو بُلا رہی ہے
-----------
 
آخری تدوین:

الف عین

لائبریرین
الف عین
اشرف علی
شاہد شاہنواز
محمد عبدالرؤوف
سید عاطف علی
----------
کمزور پا کے مجھ کو دنیا ستا رہی ہے
پچھلا حساب اپنا ایسے چکا رہی ہے
--------
اور کوئی نہیں آیا اب تک؟
واضح نہیں کہ پچھلا حساب کون سا ہے
چلنا نہیں ہے مجھ کو دنیا کے راستے پر
رستے پہ اپنے لیکن مجھ کو چلا رہی ہے
----------
کون چلا رہی ہے؟ دنیا کا رول تو پچھلے جملے میں مکمل ہو چکا
اگر دنیا ہی فاعل مانا جائے تو پہلا مصرع مطابقت نہیں رکھتا، "چلنا نہیں چاہیے "ہونا تھا
بیتی ہے رات کیسی چاہے نہ تم بتاؤ
چہرے کی یہ اداسی سب کچھ بتا رہی ہے
------------
ٹھیک
دنیا کی ماننے پر مجبور ہو گیا ہوں
حالات میرے ایسے دنیا بنا رہی ہے
--------------
دوسرے مصرعے میں ایسے کی جگہ" کچھ یوں" بہتر ہو گا۔ "ایسے" مجھے کئی بار درست نہیں لگا
انسان رب کو دیکھے یہ تو نہیں ہے ممکن
قدرت خدا کی لیکن جلوے دکھا رہی ہے
---------
درست
اپنا مجھے بنا لے میری ہے یہ تمنّا
دل میں مرے خدا سے یہ ہی دعا رہی ہے
--------
یہ ہی؟ یہی درست ہے جو یہاں آ ہی نہیں سکتا
اپنا کون بنا لے؟ واضح نہیں
میرا کریم رب ہے بخشے گا سب خطائیں
دنیا پکڑ سے رب کی مجھ کو ڈرا رہی ہے
---------
رب دونوں مصرعوں میں دہرایا جانا پسندیدہ نہیں
میرا رب کریم ہے، کہنا بہتر ہے، جیسے کریم صاحب کا کوئی غلام کہہ رہا ہے!
رب میرا مہرباں ہے...
دنیا پکڑ سے اس کی.....
اپنا گدا بنا کے رکھے خدا ہمیشہ
ہر دم یہی تمنّا اہلِ وفا رہی ہے

اہل وفا بے معنی ہے، خطاب بغیر حرف ندا کے درست نہیں
-----------
رب کو نہیں گوارا تذلیل ہو تمہاری
کتنے گنہ تمہارے قدرت چھپا رہی ہے
-----------
ہر ایک سے بہتر امید رکھنا شرعاً بہتر ہے، یوں نہیں کہ دوسروں کو گنہگار برملا کہا جائے، تمہاری کی جگہ ہماری کہا جائے
مہلت بہت ہی کم ہے نیکی کے کام کر لو
پونجی ہے عمر کی جو گھٹتی ہی جا رہی ہے
-----------
تھوڑی دو لختی محسوس ہوتی ہے
جانا یوں دور رب سے ہرگز نہیں مناسب
رحمت خدا کی ارشد تجھ کو بُلا رہی ہے
-----------
ٹھیک
 
الف عین
(اصلاح)
----------
کمزور پا کے مجھ کو دنیا ستا رہی ہے
ایسے حساب اپنا مجھ سے چکا رہی ہے
------------
چلنا میں چاہتا ہوں اللہ کے راستے پر
رستے پہ مجھ کو اپنے دنیا چلا رہی ہے
---------
اپنا مجھے بنا کر رکھے خدا ہمیشہ
ہر دم مرے لبوں پر رب سے دعا رہی ہے
---------
رب مہرباں ہے میرا بخشے گا سب خطائیں
-------یا
اپنے کرم سے میری بخشے گا رب خطائیں
دنیا پکڑ سے اس کی مجھ کو ڈرا رہی ہے
--------
پہلے کہ موت آئے کچھ نیکیاں کما لو
پونجی حیات کی اب گھٹتی ہی جا رہی ہے
-------
 

الف عین

لائبریرین
باقی تو ٹھیک ہو گئے لیکن مطلع میں اب بھی وہی بات ہے جس کا لکھا تھا۔
ڈرا رہی ہے والے شعر میں بھی پہلا متبادل ہی بہتر ہے
 
Top