محمد عبدالرؤوف

  1. Khursheed

    ایک نظم میں منظر نگاری

    مسکراتے ہوئے سُرخ ہونٹوں تلے جگمگائے ترے موتیوں کی دمک جب میں تھک ہار کے پاس آیا ترے ہار بانہوں کے ڈالے گلے میں مرے اپنے ہاتھوں مرے بال بکھرا دیے گدگدائے تری چوڑیوں کی کھنک مسکراتے ہوئےسرخ ہونٹوں تلے۔۔۔۔۔ اک مصور کی جیسے ہو تصویر تم یا ہو جنت سے اتری کوئی حور تم میری مشتاق نظروں سے شرماؤ تم...
Top