ظلم کا دور ہے آواز اٹھاؤں کیسے؟

الف عین
عظیم
شکیل احمد خان23
محمد عبدالرؤوف
-----------
ظلم کا دور ہے آواز اٹھاؤں کیسے؟
سامنے جبر کے میں سر کو جھکاؤں کیسے؟
--------
میں ہوں آزاد اگر بات میں مانوں ان کی
گر مخالف ہوں تو پھر جان بچاؤں کیسے؟
------------
ظلم کرنے سے محبّت نہیں پیدا ہوتی
بات ظالم کو یہ اپنی میں سناؤں کیسے؟
-------
ہم نے اپنوں نے کئے ظلم ہیں غیروں جیسے
گھر کی باتیں ہیں یہ غیروں کو بتاؤں کیسے؟
-----------
جو حفاظت پہ تھے مامور ِلٹیرے نکلے
دکھ کی باتیں ہیں زمانے کو بتاؤں کیسے؟
------یا
داستاں غم کی زمانے کو سناؤں کیسے؟
---------
بے گناہی کو مری جرم بنایا تم نے
جو مرا بوجھ نہیں اس کو اٹھاؤں کیسے؟
------
بے یقینی ہئ مرے دیس میں پھیلی ہر سُو
دل کی حالت میں تجھے یار بتاؤں کیسے؟
----------
دل ہے سرشار ترے پیار میں ارشد اب تک
یاد آتی ہے تری تجھ کو بھلاؤں کیسے؟
------------
 

عظیم

محفلین
ظلم کا دور ہے آواز اٹھاؤں کیسے؟
سامنے جبر کے میں سر کو جھکاؤں کیسے؟
--------
دو لختی کا احساس ہوتا ہے مجھے، دوسرے میں کچھ تبدیلی کے ساتھ دور کیا جا سکتا ہے
مثلاً
سامنے جبر کے میں سر بھی... ۔

میں ہوں آزاد اگر بات میں مانوں ان کی
گر مخالف ہوں تو پھر جان بچاؤں کیسے؟
------------
پہلے میں وضاحت کی کمی لگتی ہے، 'ان کی' سے واضح نہیں ہوا کہ کن کی


ظلم کرنے سے محبّت نہیں پیدا ہوتی
بات ظالم کو یہ اپنی میں سناؤں کیسے؟
-------
یہ بھی پہلا مصرع واضح نہیں، مکمل بیان نہیں ہے
آپس میں محبت نہیں پیدا ہوتی اور محبت پھلتی پھولتی نہیں، اس طرح کا کچھ بیان ہونا چاہیے تھا۔
دوسرا مصرع عدم روانی شکار لگتا ہے، مزید یہ کہ 'سناؤں' ایسا لگتا ہے کہ جیسے قافیہ استعمال میں لانے کی کوشش ہے


ہم نے اپنوں نے کئے ظلم ہیں غیروں جیسے
گھر کی باتیں ہیں یہ غیروں کو بتاؤں کیسے؟
-----------
پہلے میں ٹائپو ہے یہ تو ظاہر ہے، غیروں جیسے ظلم سے یہ صاف ظاہر نہیں ہو رہا کہ جو غیروں پر ظلم کیے جاتے ہیں وہ اپنوں پر کیے ہیں
دوسرے میں شتر گربہ در آیا ہے
مکمل شعر دوبارہ کہنے کی ضرورت ہے


جو حفاظت پہ تھے مامور ِلٹیرے نکلے
دکھ کی باتیں ہیں زمانے کو بتاؤں کیسے؟
------یا
داستاں غم کی زمانے کو سناؤں کیسے؟
---------
پہلا مصرع خوب
دوسرے دونوں ربط پیدا نہیں کر سکے


بے گناہی کو مری جرم بنایا تم نے
جو مرا بوجھ نہیں اس کو اٹھاؤں کیسے؟
------
جرم بنایا کچھ کھٹک رہا ہے، جرم سمجھا وغیرہ لے آئیں کسی طرح
دوسرا
بوجھ میرا جو نہیں ہے وہ....
بہتر ہو گا


بے یقینی ہئ مرے دیس میں پھیلی ہر سُو
دل کی حالت میں تجھے یار بتاؤں کیسے؟
----------
پہلے میں ہے یا ہی ہے؟ ہے سے کچھ مکمل ہوتا محسوس ہوتا ہے بیان
دوسرا وہی بات کہ ربط پیدا نہیں ہوا۔ دو لختی ہے


دل ہے سرشار ترے پیار میں ارشد اب تک
یاد آتی ہے تری تجھ کو بھلاؤں کیسے؟
سرشار کے ساتھ مجھے 'سے' بہتر معلوم ہوتا ہے، یعنی تیرے پیار سے سرشار ہے نہ کہ پیار میں سرشار ہے
دوسرے میں بھی بہتر روانی کے لیے
تیری یادوں کو میں اس دل سے بھلاؤں کیسے
 
Top