مجھ سے کسی نے آج محبّت سے بات کی

الف عین
عظیم
شکیل احمد خان23
محمد عبدالرؤوف
------------
مجھ سے کسی نے آج محبّت سے بات کی
میں نے بھی اس کے ساتھ ملاحت سے بات کی
---------
سر کو جھکا کے بات میں کرتا نہیں کبھی
کی جس کسی سے بات متانت سے بات کی
----------
کرتا ہوں تجھ سے پیار میں اس نے کہا مجھے
اس نے یہ میرے ساتھ وضاحت سے بات کی
----------
تجھ سے بچھڑ کے آج بھی پچھتا رہا ہوں میں
اس نے نظر جھکا کے ندامت سے بات کی
------------یا
نظریں جکی ہوئیں تھیں ِ ندامت سے بات کی
-----------
فرعون میرے دیس کی مسند پہ آ گئے
سمجھا ہیں سب حقیر ِحقارت سے بات کی
---------
اخلاق میرا آپ سے ہرگز چھپا نہیں
کی جب کسی سے بات شرافت سے بات کی
---------
ارشد کبھی بھی آپ سے نفرت نہ کر سکا
اس نے سدا ہی آپ سے الفت سے بات کی
---------یا
ارشد کبھی کسی سے محبّت نہ کر سکا
-------یا
ارشد کو اس جہان میں چاہت نہ مل سکی
پھر بھی کسی کے ساتھ نہ نفرت سے بات کی
------------
 
سر کو جھکا کے بات میں کرتا نہیں کبھی
کی جس کسی سے بات متانت سے بات کی
آپ خود سوچیں سر ہمیشہ عاجزی اور متانت سے ہی خم کیا جاتا ہے ۔ آپ کو کہنا چاہیے :سرتان کر تو میں نہیں کرتا کسی سے بات یا کچھ اور۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔پہلے میں نے پہلے مصرعے کے نہیں کو نہیں دیکھا تھا
اب جب دیکھ لیا ہے تو پھر متانت دوسرے مصرعے کا درست ہے
 
آخری تدوین:

عظیم

محفلین
مجھ سے کسی نے آج محبّت سے بات کی
میں نے بھی اس کے ساتھ ملاحت سے بات کی
---------
سو میں نے اس کے ساتھ۔۔۔ کیسا رہے گا؟


سر کو جھکا کے بات میں کرتا نہیں کبھی
کی جس کسی سے بات متانت سے بات کی
----------
کبھی کی جگہ اگر 'مگر' لایا جائے؟
دوسرے میں 'جس کسی' زبان کے اعتبار سے پسند نہیں آ رہا
کی جب بھی میں نے بات.... کیا جا سکتا ہے، ملاحت سے بات کرنا اور متانت سے بات کرنا کے بارے میں میں کچھ کہنے سے قاصر ہوں، ہلکا سا شک محسوس ہو رہا ہے کہ کیا یہ درست رہے گا یا نہیں


کرتا ہوں تجھ سے پیار میں اس نے کہا مجھے
اس نے یہ میرے ساتھ وضاحت سے بات کی
----------
جب اس نے کہا مجھے
میرے خیال میں ٹھیک رہے گا


تجھ سے بچھڑ کے آج بھی پچھتا رہا ہوں میں
اس نے نظر جھکا کے ندامت سے بات کی
------------یا
نظریں جکی ہوئیں تھیں ِ ندامت سے بات کی
-----------
دوسرا مصرع کے دونوں متبادل سوٹ نہیں کر رہے، کسی اور انداز سے کہنے کی ضرورت ہے


فرعون میرے دیس کی مسند پہ آ گئے
سمجھا ہیں سب حقیر ِحقارت سے بات کی
---------
مسند پر آ گئے
دوسرا مصرع شاید ٹائپو ہے کوئی، کس کے ساتھ حقارت سے بات کی اور کن سب کو حقیر سمجھا جا رہا ہے یہ بات بھی واضح نہیں ہے۔


اخلاق میرا آپ سے ہرگز چھپا نہیں
کی جب کسی سے بات شرافت سے بات کی
---------
یہ اچھا شعر ہے ماشاء اللہ
پہلےمیں کچھ رد و بدل کر لیں، آپ سے کی جگہ اگر کسی طرح 'کسی سے' اور چھپا کی جگہ 'چھپا ہوا' لے آئیں تو بہت خوب ہو، ورنہ کسی اور طرح بھی کوشش کی جا سکتی ہے


ارشد کبھی بھی آپ سے نفرت نہ کر سکا
اس نے سدا ہی آپ سے الفت سے بات کی
---------یا
ارشد کبھی کسی سے محبّت نہ کر سکا
-------یا
ارشد کو اس جہان میں چاہت نہ مل سکی
پھر بھی کسی کے ساتھ نہ نفرت سے بات کی
------------
پہلا متبادل ہی ٹھیک ہے، نفرت اور الفت والا۔ صرف 'کبھی بھی' میں جیسا بابا ( الف عین ) فرماتے ہیں کہ 'بھی' کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ دوسرے میں بھی اگر 'سدا ہی' کی جگہ ہمیشہ لے آئیں تو جو 'ہی' بھرتی کا محسوس ہو رہا ہے مجھے اس سے بھی بچا جا سکے
 

الف عین

لائبریرین
ملاحت سے بات کس طرح کی جا سکتی ہے؟ ہاں، متانت سے کی جاسکتی ہے۔ ارشد بھائی نے ردیف ذرا ٹیڑھی منتخب کی ہے۔
 

الف عین

لائبریرین
سر کو جھکا کے بات میں کرتا نہیں کبھی
کی جس کسی سے بات متانت سے بات کی
----------
متانت سے بات کرنا درست محاورہ ہے لیکن سر جھکانے سے کچھ ربط نہیں بنتا
کرتا ہوں تجھ سے پیار میں اس نے کہا مجھے
اس نے یہ میرے ساتھ وضاحت سے بات کی
----------
دوسرا مصرع سیدھا ربط نہیں رکھتا۔ ہاں، یوں ہو تو بات بنتی ہے
اب پہلی بار اس نے قبولا کہ پیار ہے
آج اس نے....
پہلا مصرع عارضی طور پر مثال کے طور پر دے رہا ہوں، اچھا نہیں
تجھ سے بچھڑ کے آج بھی پچھتا رہا ہوں میں
اس نے نظر جھکا کے ندامت سے بات کی
------------یا
نظریں جکی ہوئیں تھیں ِ ندامت سے بات کی
-----------
پہلا متبادل بہتر ہے
باقی اشعار کے بارے میں عظیم سے متفق ہوں
 
الف عین
عظیم
شکیل احمد خان23
---------
(اصلاح)
--------
خائف ہوا جہان سے ہرگز کبھی نہ میں
کی جس کسی سے بات متانت سے بات کی
----------
تجھ سے مجھے ہے پیار یہ اس نے کہا مجھے
اس نے یہ میرے ساتھ وضاحت سے بات کی
----------عظیم بھائی ( جب ) بحر میں فٹ نہیں ہوتا
سارے جہاں کے روبرو اخلاق ہے مرا
کی جب کسی سے بات شرافت سے بات کی
---------
کیسے خبیص لوگ ہیں مسند پہ آ گئے
کی جب کسی سے بات ِحقارت سے بات کی
---------
ارشد کبھی جو آپ سے نفرت نہ کر سکا
اس نے ہمیشہ آپ سے الفت سے بات کی
---------
 

الف عین

لائبریرین
خائف ہوا جہان سے ہرگز کبھی نہ میں
کی جس کسی سے بات متانت سے بات کی
----------
خائف ہونے کا بھی متانت سے ربط نہیں جمتا
تجھ سے مجھے ہے پیار یہ اس نے کہا مجھے
اس نے یہ میرے ساتھ وضاحت سے بات کی
----------عظیم بھائی ( جب ) بحر میں فٹ نہیں ہوتا
دوسرے مصرعے کو اس طرح کریں تو مطلب نکلتا ہے
آج اس نے پہلی بار وضاحت....
سارے جہاں کے روبرو اخلاق ہے مرا
کی جب کسی سے بات شرافت سے بات کی
---------
پچھلا مصرع بہتر تھا
کیسے خبیص لوگ ہیں مسند پہ آ گئے
کی جب کسی سے بات ِحقارت سے بات کی
---------
کس نے حقارت کا مظاہرہ کیا، یہ واضح نہیں
ارشد کبھی جو آپ سے نفرت نہ کر سکا
اس نے ہمیشہ آپ سے الفت سے بات کی
ٹھیک
 
Top